افسیوں
سوال: افسیوں پہلے باب پہلی آیت ، جو کہ افسیوں کے نام لکھا گیا خط تھا کیا یہ حقیقت میں افسیوں کو لکھا گیا تھا؟
جواب: یہ حقیقتا اس علاقہ میں موجود کلیسیاؤں کے لیۓ تھا، لیکن چند ابتدائی مسودوں میں الفاظ " افسس میں " موجود نہیں ہیں – یہ شہادت موجود ہے کہ الفاظ " افسس میں " بعد میں شامل کۓ گۓ تھے:
1 – چسٹربیٹی іі ، صفحہ نمبر 46 ، دورانیہ 100 سے 150 بعد از مسیح ، میں ان دو الفاظ میں کوئی خلا یا خالی جگہ نہیں ہے –
اس مسودہ میں گلتیوں ، فلپیوں ، کلسیوں ، 1 تھسلنیکیوں ، 1 اور 2 کرنتھیوں بھی شامل ہیں ، اور ہر ایک معاملہ میں شہر کا اظہار وہی ہوتا ہے جہاں اس کو ہونا چاہیے ( جبکہ اس میں رومیوں کے چند حصے ہیں ، لیکن اس میں رومیوں 1 سے 4 تک کا حصہ نہیں ہے –
2 – الیگزینڈرین ویٹی کنس مسودہ جات میں جن کی کتابت 325 سے 350 بعد از مسیح کا دور ہے اور نسٹیس مسودہ جو کہ 340 سے 350 بعد از مسیح میں لکھا گیا دونوں میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں –
3 – ابتدائی مصنفین جن کے پاس " افسس میں " جیسے الفاظ نہیں ہیں وہ ٹرٹولین ( جو 207 بعد از مسیح میں لکھا گیا ) اور اورجن ( جس کی کتابت 225 سے 254 بعد از مسیح میں ہوئی )تاہم ، اورجن افسیوں 1 باب کی 4 آیت کا حوالہ دیتا ہے جو یوں کہتا ہے کہ یہ اس خط میں سے ہے جو افسیوں کو لکھا گیا جس کا ذکر اس نے اپنی کتاب " دی پرنسپل " کے باب 5 اس کی 4 آیت صفحہ نمبر 342 میں کہا ہے –
4 – اگر پولس نے یہ خط محض افسیوں کو لکھا تھا ، تو اس شخص سے توقع کی جائیگی کہ وہ ان میں سے کسی ایسے شخص کو ضرور سلام دعا بھیجے گا جن کے دوران اس نے تین سال کا عرصہ بسر کیا ہو ، مگر وہاں ایسا کوئی نہیں ہے ،
5 – اورجن اور جے روم نے ہا کہ ان کے پاس موجود مسودہجات بہترین نہیں ہے جن میں " افسس میں " نہیں تھا ، اگرچے جے روم ، کلیسیائن کی تحریروں کی فہرست بناتے ہوۓ کہتا ہے کہ پولس نے ایک خط افسیوں کو لکھا تھا " جے روم اور جے نیڈس ( 485 سے 492 بعد از مسیح ) 5 باب )
شہادت ہے کہ " افسس میں " حقیقی اصلی الفاظ ہین
1 – ابتدائی مصنف اگنٹیس ، افسیوں کے نام خط میں اس کے 12 باب جس کو 110 تا 117 بعد از مسیح میں لکھا گیا کہتاہے کہ پولس اپنے خط مین افسیوں کا ذکر کرتا ہے
2 – کیے گۓ الفاظ " افسس میں" سنٹیکٹس اور ویٹی کنیس دونوں مسودوں میں بعد میں کسی اور ہاتھ کے ذریعے سے لکھواۓ گۓ –
3 – الیگزنیڈرس ( 450 بعد از مسیح ) کلاروموٹنس ( 615 سو میں ) اور باز نٹیسن کتاب مقدس میں " افسیوں میں " موجود ہے
4 – کلیسیا کروسٹم اعلی ( 392 سے 40 بعد از مسیح ) اس کو اپنی تفسیر میں رکھتا ہے ، کروسٹم کی تفسیریں براۓ راست کلام سے بحوالہ ہیں –
نتیجہ : چاہے الفاظ ' افسس میں " چند مسودہ جات سے نکالے گۓ تھے ، جیسا کہ چسٹر بیٹی іі جو کہ 100 سے 105 بعد از مسیح سے پہلے کا تھا ، یا اس کو چند مسودہ جات میں 117 بعد او مسیح سے پہلے میں شامل کیا گیا ہو ، یہ کلام مقدس میں ایک ابتدائی جداگانہ مثال ہے جہاں پر عقیدہ کی بنیاد رکھنا بھی نہایت مشکل بات ہے
سوال: افسیوں 1 باب کی 3 ، 17 آیت اور 1 پطرس 1 باب کی 3 آیت میں کیا خدا باپ یسوع کا باپ ہے ؟
جواب: تثلیث میں جی ہاں ایسا ہی ہے ، عبرانیوں 1 باب کی 9 آیت لفظ "خدا کے بہت سارے معنی بتاتا ہے جب یہ یوں کہتی ہے " اسی سبب سے خدا یعنی تیرے خدا نے تجھے مسح کیا " کسی کو بھی قطرت اور کردار کے درمیان امتیاو کرنا چاہیے – تثلیث میں سارے تین خا ہی ہیں ، لیکن تثلیث کے درمیان خدا کا کردار سب سے اعلی ہے جب وہ یسوع کا خدا ہے ، بیٹا باپ سے کم تر نہیں ہے ، لیکن اس کا کردار باپ کے ماتحت ہے
سوال: اےسیوں 1 باب کی 4 آیت میں ، خدا ہم کو کیسے جنتا ہے ؟
جواب: کچھ لوگوں ا خیال ہے کہ خدا کسی بھی چناؤ یا بنائی عالم کے وقت سے مقررہ کردا باتوں کو قائم کرنے سے پہلے ہی سب کو جانتا تھا ، دوسرے لوگوں کا یقین یہ ہے کہ اس نے اپنے پہلے سے جاننے والے علم کا استعمال کرنے سے پہلے ہی ہر چیز کو مقرر کر دیا ہے صرف دو ہی ایسی آیات ہیں جن میں خدا کی پیش آگاہی اور ہمارا مقرر کیا جانا ایک ہی آیت میں ہے
رومیوں : 8 باب ک 29 آیت " کیونکہ جنکو اس نے پہلے سے جانا انکو پہلے ہی سے مقرر بھی کیا "
1 پطرس 1 باب کی 2 آیت : علم سابق کے مطابق چناؤ ان آیات میں پہلے سے مقرر کیا جنا علم سابق سے بعد میں ہے ، یسوع کی مصلوبیت سے یہ حکم کا لعدم ہو جاتا ہے
اعمال : 2 باب 23 آیت " جب وہ " یسوع " خدا کے مقررہ انتظام اون علم سابق کے موافق پکڑوایا گیا "
تاہم بائبل کی کوئی بھی آیت یوں نہین کہتی کہ خدا کو کسی ایک سے پہلے دوسری بات کو رکھنا مکمل طور پر رکھنا ہے
مختصر یہ ہے کہ خدا جس طرح سے بھی چاہے وہ ہم کو چن سکتا ہے ، ہمیں ضرور یہ علم ہے کہ خدا نے اس بات کو آشکارہ کیا کہ وہ منصف ہے ، سخی ہے ، اور کچھ بھی بغیر کسی وجہ کے نہیں کرتا ، تاہم ایسا نہیں لگتا ہے کہ خدا اپنی ہر ایک کام کی وجوہات ہمیں بتانے کا پابند ہے –
سوال: افسیوں 1 باب کی 4 اور 5 آیت کیا سب کچھ پہلے ہی سے مقرر ہے ؟
جواب: جو کچھ موجود ہے یہ پہلے ہی سے مقرر ہے ، حتی کہ خدا کی حقیقت ہمیں خدا کے مکمل کنٹرول کے بغیر ہمیں انتخاب کرنے کی آزادی دیتی ہے ، جو کچھ خدا چاہتا اور جانتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، اور یہ اس کے منصوبہ کا ایک حصہ ہے ، تاہم وہ لوگوں کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہے وہ خاص طور پر ان بری باتوں کر کونے کی خواہش نہیں رکھتا جن کا ذکر یرمیاہ 5 باب کی 28 آیت میں ، 8 باب کی 19 آیت میں ، 12 باب کی 8 آیت میں اور حزقی ایل 8 باب کی 6 ایت میں کرتا ہے )
جیسا کہ فرانس سیفلر نے " بیسویں صدی کے آخر پر کلیسیا میں کہا : " ہم خدا کو جلال دے سکتے ہیں اور دونوں پرانا اور نیا عہدنامہ کہتا ہے کہ ہم خدا افسردہ بھی کر سکتے ہیں ، یہ ایک زبردست بات ہے " ( خدا کے لوگوں کے لۓ زبور ، صفحہ نمبر 364 میں ) مزید معلومات کے لۓ اگلا سوال دیکھیں –
سوال: افسیون 1 باب کی 4 اور آیت ، کیا مسیحی لوگوں کو پہلے سے مقرر کۓ جانے پر ایمان رکھنا چاہیے ؟
جواب: ایک دفعہ میرے نہایت ہی نجات یافتہ مسیحی دوست نے مجھے بتایا کہ وہ پہلے سے مقرر کۓ جانے پر یقین رکھتا ہے ، مجھے جاننے کا اتفاق ہوا کہ وہ باقاعدگی سے اپنی بائبل کا مطالعہ کیا کرتا تھا ، اگرہ مجھے تسلیم کرنا چاہیے کہ میں شک مین اس وقت پڑ گیا جب اس نے یہ نہایت ہی احمقانہ بیان دیا –
افسیوں 1 باب کی 5 آیت اور دوسری آیات ظاہر کرتی ہیں کہ ایک مسیحی کے لیۓ پہلے سے مقرر کۓ جانے پر ایمان لانا اختیاری نہیں ہے ، خدا سے زیادہ کسی اور پر ایمان رکھنا کہ وہ خدا سے زیادہ مقدس ہے اختیاری ہے ، اب لوگوں سے پہلے مقرر کۓ جانے کی بابت ساری سچائیاں اور اغلاط پر یقین رکھ سکتے ہیں ، مگر کلام بائبل مقدس میں بالکل صاف فرماتا ہے ، خدا نہ صرف ہمارے پیدا ہونے سے پہلے سب کچھ جانتا ہے بلکہ وہ ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہماری منزل کی بابت بھی جانتا ہے ، پہلے سے مقرر کا جانا
کلیونسٹ عقیدہ نہیں ہے ، بلکہ یہ بائبل کی تعلیم ہے اس بات سے بالا تر ہو کر کہ آیا کوئی مسیحی اپنے آپ کو کلیونسٹ کہلواۓ یا نہ کہلواۓ ، یا ارمانی ، ایمان رکھتا ہے کہ کل سابق علم خدا جس نے ہمین پیدا ہونے سے پہلے ہی چن لیا یقینا آپ کے علم الہی کا حصہ ہے –
سوال: افسیوں 1 باب کی 4 سے 5 آیت ، خدا کس طرح پہلے سے مقرر کیۓ جانے کو نبھاتا ہے ؟
جواب: یہاں ر چند ایسی باتیں ہیں جن کو کلام مقدس ظاہر کر چکا ہے –
1 – خدا اپنی خوشنودی کے موافق کام کر سکتا ہے ، خدا کی حاکمیت میں مکمل طور پر ہر چیز پر ہے ، اور خدا کی مرضی کے باہر کچھ بھی نہیں ہوتا ہے ( ایوب 1 باب کی 12 آیت ' یعقوب 4 باب کی 15 آیت )
2 – خدا اپنی خوشنودی کے لیۓ کام کر سکتا ہے وہ اپنی خواہش کے مطابق ہر ایک واقعہ کو براہ راست اور واضح طور پر قابو کرتا ہے ( یسعیاہ 14 باب کی 24 ، 27 آیت ، 43 باب کی 13 آیت 55 باب کی 11 ؛ یوحنا 10 باب کی 20 آیت ؛ عبرانیوں 6 باب کی 17 آیت )
3 – خدا اپنی خوشنودی کے مطابق کام کر سکتا ہے اس نے چند واقعات کو براہ راست اور واضح طور پر نہیں چنا ہے
( یرمیاہ 5 باب کی 29 آیت ، 8 باب کی 19 آیت ، 12 باب 8 آیت ؛ حزقی ایل 8 باب کی 6 آیت )
4 – خدا اپنی حوشنودی کے موافق کام کر سکتا ہے ہر ایک واقعہ حتی کہ وہ واقعات بھی جن کی اجازت ہوئی اور جو قابو میں نہ تھے وہ بھی اس کے حتقی ارادہ میں سماے گۓ ہیں –(افسیوں 1 باب کی 11 آیت ؛امثال 16 باب کی 4 ، 33 آیت ؛ رومیوں 11 باب کی 36 آیت ؛ 1 کرنتھیوں 8 باب کی 6 آیت ؛مکاشفہ 4 باب کی 11 آیت )
سوال: افسیوں 1 باب کی 4 اور 5 آیت میں ، پہلے سے مقرر کۓ جانے کی بابت چند ناقص تصوارات کیا ہیں ؟
جواب: افسیوں 1 باب کی 4 آیت ، جب یہ یوں کہتی ہے کہ خدا نے پہلے ہی سے ہم کو مقرر کیا ہے ، اور پھر جب ہم کلام مقدس کی مستندیت پر یقین رکھتے ہیں ، ہمیں ایمان رکھنا پڑتا ہے کہ خدا نے ہمیں پہلے ہی سے چن لیا ہے ہم آزاد مرضی کو بھی رکھتے ہیں جو کہ نہایت ہی مناسب ہے شاید آپ کو پہلے سے ہی مقرن کیۓ جانے کی باب مشکل کا سامنا ہے تو بھی اس کی بابت چند غلط تصورات کی تعلیم دی جا رہی ہے میں آپ کے ساتھ چار مضمون بانٹوں گا جو کہ مدد گار ثابت ہونگے -
حدا یقین کے ساتھ مستقبل کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے ، لیکن اس کا علم ہماری آزاد مرضی یا ہمارے علم کو کم اور روک نہیں سکتا ہے ، ہم نہیں کہہ سکتے ہیں " خدا کو معلوم ہے کہ میں یہ کرنے جا رہا ہوں ، پس میرے پاس کوئی چناؤ نہیں تھا ، مجھے ایسا کرنا ہی پڑتا تھا ، اعمال 2 باب کی 23 آیت یسوع مسیح خدا کے مقررہ انتظام اور علم سابق کے موافق یہودیوں کے ہاتھوں پکڑوایا گیا ، پھر جن لوگوں نے مسیح کو مصلوب کا وہ گناہ کے سزاوار ہوۓ یوحنا 19 باب کی 11 آيت ) یہاں پر ایک مثال ہے وہ جارج واشنکٹن کی 2 سال پہلے دوباۓ دلوائیر پار کرنے کی بابت پڑھ سکتا ہے ، ہمارے کتاب سے محض نزدیکی علم نے جارج واشنگٹن کو ایسے کرنے پر مجبور نہیں کیا ، فرض کیجیے ہم وقت کی اس مشین کے 400 سال پیچھے چلے جاتے ہیں اور اپنے ساتھ کتاب کو لے لیتے ہین ، ہم نے پھر بھی کچھ ایسا نہیں کیا کہ جارج واشنکٹن کو کچھ کرنے پر مجبور کر پائیں ، خدا وقت کی اس قید سے باہر ہے ( ططس 1 باب 2 آیت ) اور جیسا کہ اس کے اندر اور اس کا علم سابق نے ہمیں کچھ بھی کرنے پر مجبور نہیں کیا ،
دو آیات میں ہمارے لیۓ خدا کا سابق علم اس کے پہلے سے مقرر کیۓ جانے کے منصوبہ کا آغاز کرتا ہے یہ دونوں آیات ایک ہی وقت اس کا ھکر کرتی ہیں ( رومیوں 8 باب کی 29 آیت ؛ 1 پطرس 1 باب کی 2 آیت )
کلیونسٹ والوں کا رجحان ان کو پس پست ڈالنے کا ہوتا ہے خدا ہر ایک کو چنتا ہے جس کو چنتا ہے ، اور پھر جب وہ سب کچھ جانتا ہے ، ارمینز یہ کہنے کے عادی ہیں کہ خدا نے وقت کے آغاو سے پہلے ہی اپنے علم سابق کی بنیاد پر چناؤ کیا ، تاہم اگر خدا واقعی وقت کی قید سے باہر ہے ، تو پھر یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں ہو سکتی ہیں –
خدا قادر مطلق ہمارا آزاد مرضی کو رد نہیں کرتا ہے ، اگرچہ کلیونسٹ روایتی انداز میں کچھ اور کہتے ہیں ، کچھ ایسا ہوا جو خدا کی سوچ سے باہر رہا تھا " جیسا کہ یرمیاہ 32 باب کی 35 آیت میں شیر خواروں کی قربانیاں ، اور حزقی ایل 13 باب کی 19 آیت اور وہ لوگ مر گۓ جن کو مرنا نہیں چاہیے ، کچھ ایسا ہوتا ہے جو خدا کو افسردہ کرتا ہے تو بھی دوسری جانب ، سب کچھ ملکر خدا کے منصوبے کے مطابق کام کرتی ہیں – ( افسیوں 1 باب کی 11 آیت ) آپ ان دو نظریات کے درمیان کیسے مفاہمت پیدا کرتے ہیں ؟ اختیار اقتدار کے تصور سے ؟ حدا ہر ایک چیز پر قادر ہے ، ٹھیک اس طرح کہ کچھ بھی اس کو افسردہ نہیں کر سکتا اور ہم سب مشینی انسان ہیں ، تاہم خدا جو سب کچھ کر سکتا ہے ، بظاہر اپنے اقتدار کے چناؤ کو ایک وقت کے لیۓ اور حدود میں حاکمیت بناتا ہے ، بالکل ایسے ہی ہمارے پاس خدا کی وفاداری کرنے یا نہ کرنے کے چناؤ کی قابلیت ہے ، بظاہر تو خدا نے انسان کو نہایت ہی اعلی عزت دی ، اسے اپنی شبیہ پر بنایا اور اس نے لوگوں کو یوں بنایا کہ وہ آزاد مرضی سے خدا سے محبت رکھیں ، خدا نے انسان کو نہایت ہی اعلی بنایا کہ وہ لوگوں کو اپنے آپ کو رد کرنے اور ان کے چناؤ کے نتائج سے دوچار ہونے کی اجازت دیتا ہے –
آزاد مرضی کیا ہے ؟ مارٹن لوتھر نے ایک مکمل کتاب لکھی ہے " آزادنہ مرضی کی غلامی جس میں اس نے کہا کہ آزاد مرضی ایک جھوٹی تعلیم ہے ، لوتھر یہاں پر اہم بات کو بھول گیا ، کیونکہ اس نے بائبل سے ہٹ کر غیر متعدل چیزوں کو شامل کیا ، ہم مرضی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جو کہ گناہ کی غلامی ہے ( جب یو لوتھر اتفاق کرے گا ) لیکن ہم آزادنہ مرضی رکھتے ہیں کہ ابھی بھی ہم مدد کے لیۓ چیخ و پکار کریں، ایک نشے کا عادی اپنی عادت سے باز آنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لیکن وہ لڑکھڑاۓ ہوۓ ہسپتال تک پہنچ سکتا ہے اور زمین پر گر کر وہ یہ کہہ سکتا ہے " میری مدد " کرو ، کچھ لوگ غیر جانبداری ، بغیر غلامی یعنی آزادن مرضی ( جوکہ کلام مقدس سے نہیں ہے ) اور جو ہمارے پاس ہے جس کو بعد میں مختار کار کہا جاتا ہے کے درمیان امتیاز کرینگے ، دوسرے لوگ ، خاص کر ابتدائی کلیسیا ، کے مسیحی لوگ بائبل کے تصور کا حوالہ دینے کے لیۓ اصطلاح آزادنہ مرضی کو استعمال کرتے ہیں –
مختصر یہ ہے کہ خدا ہمیں پہلے ہی سے مقرر کر دیتا ہے اور ہم بھی آزادنہ مرضی مکمل سمجھ و بوجھ کے ساتھ رکھتے ہیں ، وقت کے شروع ہونے سے پہلے ، خدا کا چناؤ کہ کون آسمان پر جاے گا اندھیرے میں یا غیر مربوط نہیں ہے ، بلکہ ہماری زندگیوں کا ہر ایک دن خداکی کتاب میں لکھا ہوا ہے ( زبور 139 کی 16 آیت ) کہ اس نے ہم کو چنا ہے –
سوال: افسیوں 1 باب کی 4 سے 5 آیت ، جبکہ ہم نجات کے لیے پہلے ہی خدا کی خوشنودی اور مرضی کے موافق مقرر کیۓ جاتے ہیں ، ان کے لیے خدا کی خوشنودی اور مرضی کیا ہے جو پہلے ہی سے جنم کے لیۓ مقرر کیے گے ہیں ؟
جواب: صورت حال بالکل ویسی ہی ہے کہ جب جارج واشنگٹن کے دوست کو بغاوت کے نتیجہ میں موت کی سزا کا جرم وار پھرایا گیا واشنگٹن کو اپنے دوست سے نہایت محبت تھی اور وہ اسے مرتے ہوۓ دیکھنا نہیں چاہتا تھا ، تو بھی جارج واشنگٹن انصاف کو پورا ہوتے ہوۓ بھی دیکھنا چاہتا تھا اس نے کوئی بھی مداخلت کرنے کی کوشش نہ کی جو اس شخص نے اپنے انتخابات کے نتیجہ میں سزا کا موجب ٹھرا
سوال:افسیوں 1 باب 4 سے 13 آیات وقت کے آغاز سے قبل خدانے علم سابق سے معلوم کیا کہ کون نجات یافتہ بنے گا اور کون نہیں تو پھر کیوں اس کو ہمیں یسوع مسیح کے توسط سے اپنے فرزند ہونے کے لیے پہلے ہی اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اضافی بات معلوم ہوتی ہے میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب کہ اس کو معلوم ہے کہ ایسا ہونے لگا ہے (کیونکہ وہ وقت سے باہر ہے) اس لیے اس کو پہلے سے مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ اس کو پہلے مقرر نہ کرتا تو کیا یہ صورت حال کہیں اور بھی ہو چکی ہوتی کیوں علم سابق ہی کافی نہیں ہے؟ شاید میری پریشانی یہ ہے کہ میں خدا کے کلام کے موافق پہلے سے مقرر کیے جانے کی سمجھ سےواقف ہو گیا ہوں– امید کرتا ہوں کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں کہاں اس تصویر کو سمجھنے میں مشکل محسوس کر رہا ہوں ؟
جواب: خدا کے ہمارے چناؤ کے کم از کم تین پہلو ہیں –
1 – آخرکار چناؤ ان پر ہے جو نجات یانتہ خدا سے تعلق رکتھے ہیں نہ کہ ہمارے ساتھ
2- خدا سب چیزوں سے کام لے کر ان کے لیے بھلائی کرتا ہے جو پہلے سے مقرر کیے گۓ ہیں ( دیکھیں رومیوں 8 باب کی 28 آیات ) باالفاظ دیگر ہماری زندگیاں فردوس کے لیے تیاری کا عمل ہیں
3 – خدا آسمان پر بھی ہمارے لیے جگہ تیار کرتا ہے یسوع نے کہا کہ اس کے باپ کے پاس بہت سارے مکان ہیں آسمان پر کوئی بھی گھر خالی نہیں ہے اور خدا کی طرف سے ان کے لیے بناۓ ہوۓ گھر کو حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی شخص ناکام نہیں ہوگا -
کسی نے یہ تمثیل دی شاید آسمان کے دروازوں پردو عبارتیں لکھی ہوئیں ہیں اس کے باہر یوں لکھا ہوا ہے "جو کوئی بھی جاۓ گا" اور اندر یہ لکھا ہوا یہ "خوش آمدید" تم کو بنائی عالم کی بنیاد سے چن لیا گیا تھا-
بس ایک طرف کلیونسٹ کی مانند مت بنو جو کہتے ہیں کہ جب خدا چناؤ کرتا ہے تو ہمارا کردار محض مردہ ہوجاتا ہے بالکل ایک کٹ پتلی کی طرح دوسری حانب ان ارمینز کی طرح مت بنو اور مت سوچو کہ ہم چناؤ کرتے ہیں اور خدا کا کردار محض ایک ساکن منصف کی طرح ہے – روح القدس گرم جوشی سے لوگوں کی زندگیوں میں کام کرتا ہے اور باپ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے یا پھر کوئی بھی نجات یافتہ نہیں بنے گا لوگوں کے چناؤ کی مرضی علم الہی کی ایک اصطلاح ہے اور خدا کا چناؤ ان کے چناؤ کا استحال ہے اس کو "باہم مربوط" کہا جاتا ہے – خدا کے علم سابق پر لوگ دلیل دے سکتے ہیں کی بنیاد صرف علم سابق پر ہے یا خدا پہلے سب کچھ مقرر کرتا ہے اور بعد میں ان کی پیش آگاہی رکھتاہے دو جگہوں میں جہاں پر یہ دونوں الفاظ لوگوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں پہلے علم سابق ہے - تاہم ، یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ خدا کو سب کو ایک کرنے سے پہلے دوسرے کام کے لیے روکا جاتا ہے دائمی خدا کے تناظر سے یہ دونوں ایک ہی وقت میں ممکن ہو سکتے ہیں
سوال : افسیوں 1 باب 4 سے 5 آیات آزاد مرضی پر کلیونسٹ کی چند مفید درکتیں کیا ہیں ؟
جواب: اگرچہ میں کلیونسٹ نہیں ہوں مگر میں چند کلیونسٹ کی جانب سے چند تصورات کے اٹھاۓ جانے کی تعریف کر سکتا ہوں یہ ذکر کرنا لازم کہ دوسرے کلیونسٹ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں راز: لورین بوٹنر وضاحت کرتا ہے ہم خود مختار ہیں ( مگر آزاد مرضی نہیں رکھتے ) جیسے مچھلی آزادی سے شیشے کہ ہنڈے میں تیر سکتی ہے " پہلے سے مقرر کیا جانا اور خودمختار عطیم ہیکل کے دو جڑواں ستون ہیں ، جو بادلوں سے اوپر ملتے ہیں جہاں پر انسانی بصیرت نہیں دیکھ سکتی ہے یا پھر ، ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے سے مقرر کیا جانا اور خود مختار دو مساوی لکیریں ہین ؛ اور کلیونسٹ اس قابل نہین ہو سکتے کہ وہ ان کو آپس میں ملائیں ، ارمانی ان کو آپس میں نہیں ٹکرا سکتے ہیں ( صفحہ 222 )
آزاد خیال فرمان : چارلس ہیج از تھیولوجیکل سمیزی پرنٹس نے کہا ، "خدا کبھی بھی پولو کا فرمان نہیں دیتا ، یا لوگوں سے وہ بات نہیں کرواتا جس سے وہ منع فرماتا ہے وہ کر سکتا ہے جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کرتا ہے کہ جس کو وہ منع فرماتا ہے اس کی اجازت دیتا ہے ، جبکہ گناہ کرنا منع ہے ( کرٹ ڈنیل کی ڈی سرشن صفحہ نمبر 230 )
آر سی سپرول خدا کے چناؤ میں صفحہ نمبر 97 میں لکھتا ہے " خدا " اس تناظر میں گرے ہوۓ کو مقرر کیا کہ وہ اس کو چننے کی اجازت دے ، نہ کہ اس صورت میں کہ وہ اس کو جبرا کرے " اتفاق راۓ : لوئس برک ہاف کہتا ہے ، " اتفاق راۓ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ مقدس طاقت کا ویر ماتحت طاقتوں سے تعاون کام کرنے سے پہلے متعین کیۓ گے آئین کے موافق ان سے عمل کروانا اور ٹھیک ٹھیک طور پر جیسے وہ کرتے ہیں عمل کروانا ہے ، کرٹ ڈنیل مزید ( صفحہ 201 ) میں فرماتا ہے " وہ فطرت کی چیووں کے اندر درمیان میں اور نیچے میں کام کرتا ہے –
منحصر فرمان : خدانے ہر ایک فرمان براہ راست آزادنہ طور پر جاری نہین کیا ، جیسا کہ ڈبلیو ڈی سمتھ اور چارلس ہوج بیان کرتے ہیں اچھائی کے کام برے شخصوں سے برے کام پیدا کر سکتے ہیں ، برے اعمال خدا کی طرف سے نہیں ہیں ، تاہم وہ اپنے منصوبے میں ان کا سبب بنتا ہے ، جیسے ایک کائناتی فلم بنانے والا ، خدا نے بہت سارے خاص واقعات کو طاہر پورے طور پر ہونے دیا ، بہت سارے ٹیکس کا جائوہ لینے کے بعد اس نے اس ٹیک کو لیا جس سے اسے بہت زیادہ خوشی ہوئی اگر ہم اپنی منشا کے مطابق ویڈیو فلیمز میں اضافہ یا کمی کرنے کے قابلیت رکھتے ہیں ، تو کیا خدا ایسا نہیں کر سکتا ؟
جوابی عمل: اوپر بیان کیردہ وضاحتوں کو ایک کرتے ہوۓ یہ مندرجہ ذیل آوادی اور خود مختاری کا غیر کلیونسٹ حل ہے ، ہم خدا کے ہر کام کو جاننے کی امید واثق نہیں ہو سکتے ( جیسے بونسٹرکی مسٹری ) لیکن ہم بائبل کے عام اصل مفہوم سے بغیر کسی آیت کی تفصیلات کو رد کۓ سیکھ سکتے ہیں جو کہ متوازن ظاہر ہوتا ہے – خدا کے پاس ایک فرمان مرضی ( پنک کے فرمان کی طرح ) آزاد خیال مرضی ( ہوج کے فرمان کی طرح ) اور حکمیہ مرصی ( مٹلا سب کو خدا تابعداری کرنا ہے ) خدا کی مرضی بہت سارے معاملات میں ہماری مرضی پر اثر انداز ہے ( جیسے برک ہافز کونکورینس ) جس کہ پھیلاؤ خدا کی خواہش کے مطابق ہے ، شاید خدا کے فرمان میں سب سے شاندار فرامن آزادی کی پیمائش ہے جس کے ساتھ لین دین کا حساب بھی ہے ، جبکہ خدا بدی کرنے کا براہ راست خواہش یا فرمان دیتا ، تو بھی وہ اپنے مقاصد کو پورے کرنے کے لیۓ اپنے منصوبے کے مطابق بدی کو بطور ایک طفیلی ہستی ہونے کی اجازت دیتا ہے ( منحصر فرمان کی طرح ) جس میں ایسے لوگ شامل ہیں جو آزادی کے ساتھ اس سے محبت رکھنے کا چناؤ کرتے ہیں –
تمام کلیونسٹ کو جو کچھ کلیونسٹ فرانس شیفر نے کتاب بیسوی صدی کے آخر پر کلیسیا میں کہا ہے غور کرنا چاہیے :" ہم خدا ک جلال دے سکتے ہیں ، پرانا اور نیا عہدنامہ دونون کہتے ہیں کہ ہم حتی کہ خدا کو افسردہ بھی کر سکتے ہیں ، یہ نہایت ہی ہولناک بات ہے ( خدا کے لوگوں کے لیۓ زبور صفحہ نمبر 364 )
جیسا کہ یسوع نے متی 23 باب کی 27 آیت میں کہا ( اے یروشلم ! اے یرشلم ! تو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گۓ انکو سنگسار کرتا ہے 1 کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کر لوں مگر تم نے نہ چاہا ! "
خدا ہماری مرضی سے افسردہ ہو سکتا ہے –
سوال: افسیوں 1 باب کی 7 آیت ، بائبل خون پر کیوں اس قدر زیادہ زور کیوں دیتی ہے ؟
جواب: کیونکہ یسوع کا خون بہت اہم ہے اکس کا خون ہمارے لیے بیش بہا ہے کیونکہ مسیح نے اپنے سرخ خون کو صلیب پر بہا کر ہمارے گناہوں کا کفارہ دیا اور لوگوں کے لیۓ آسمان پرجانے کا راستہ بنایا –
سوال: افسیوں 1 باب کی 11 آیت اور امثال 16 باب کی 4 اور 33 آیت ، کس طرح سب چیزوں کا آپس میں ملکر کام کرنا خدا کی مرضی کے ارادہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ؟
جواب: جبکہ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح خدا اپنے جلال کے لیے اچھی چیزوں کا استعمال کر سکتا ہے اور حدا بری چیووں کے استعمال پر معورت خواہ بھی نہیں ہوتا ہے اس کا جواب پیدائش 45 باب کی 8 آیت میں مزید معلومات کے لیے دیکھ سکتے ہیں یہاں پر چند ایسے طریقے ہیں جس سے خدا بدی کو استعمال کر سکتا ہے –
1 – ایک خاص اور بیرونی کام کی تکمیل کرنا ( پیدائش 45 باب کی 8 آیت ، اعمال 2 باب کی 23 آیت )
2 – دوسروں کو خبردار کرنا ( لوقا 13 باب کی 15 آیت)
3 – باطنی دل کی تبدیلی کو پورا کرنا ( قضاۃ 3 باب کی 7 اور 8 آیت وغیرہ )
4 – دوسری بدی کو ختم کرنے کے مقصد سے ( حبقوق 1 باب )
5 – ہمارے ایمان کو پاک کرنا ( 1 پطرس 1 باب 6 سے 7 آیت)
6 – گناہ میں مرنے میں ہماری مدد کرنا ( 1 پطرس 4 باب کی 1 ایت )
7 – ہمارے ایمان کا امتحان لینا یا استفامت پیدا کرتا ( یعقوب 1 باب 2 سے 4 آیت )
8 – اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے ( کلسیوں 1 باب کی 24 آیت )
9 – غیر ایمانداروں کے لیے نشان ہونا (فلپیوں 1 باب کی 28 آیت ، یوحنا 9 باب کی 1 آیت )
10 – مسیحی ہونے کے ناطے چلتے جانا ہے ( 2 تیمتھیس 3 باب کی 12 آیت ؛ فلپیوں 1 باب کی 29 آیت )
11 – اپنی زندگی کی قدر شیطان اور دوسروں کو دکھانا ( ایوب )
12 – بعض اوقات ہم اور کوئی وجوہات نہیں دیکھ سکتے ماسواۓ کہ ہماری استقامت خدا کو جلال دیتی ہے ( دیکھیں ایوب 1 باب 8 سے 12 آیت ؛ 2 باب کی 2 سے 6 آیت )
سوال: افسیوں 1 باب کی 13 آیت ، جب ہم نے انجیل کو سنا تب سے ہم مسیح میں شامل ہیں ، افسیوں 1 باب کی 4 آیت کی تعلیم کے موافق ہم کس طرح وقت سے شروع ہونے سے پہلے میں شامل تھے ، اور افسیوں کی 4 آیت اور عبرانیوں 9 باب کی 29 آیت کے مطابق کیسے مستقبل میں شامل ہیں ؟
جواب: بائبل موثر طور پر اس امر کو بیان کرتی ہے کہ خدا وقت سے باہر اور وقت کے درمیان ہے وقت سے باہر ( دائمی ) خدا کے لیے ، جواب یہ تینوں ہی ہیں : ماصی ، حال اور مستقبل ،چوک سوین ڈل نے نجات کے پہلو پر بات کرتے ہوۓ ایک شاندار بائبل مطالعہ کی کتاب لکھی ہے جس میں ان تینوں پہلوؤں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے –
ماضی علم سابق اور پہلے سے مقرر کیے جانے کے پہلو وقت کے آغاز سے پہلے ، خدا نے ہمارے تمام ایام کو اختتام کو آغاز ہی سے جانا ( زبور 139 کی 16 آیت ؛ یسعیاہ 44 کی 7 آیت ؛ افسیوں 1 باب کی 4 آیت : ططس 1 باب کی 2 آیت )
موجودہ واقعہ کے پہلو:
جب ہم نے خدا کے کلام کی سچائی سنی ، اور خداوند کو پکارا ( رومیوں 10 باب کی 9 سے 10 آیت ) ہم نئی مخلوق بن گۓ ہیں ( 1 کرنتھیوں 5 باب کی 17 آیت ) عبرانیوں 4 باب کی 2 آیت اور اعمال 10 باب کی 44 آیت بھی موجودہ پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے –
حال جاری کے پہلو:
جیسا کہ ہم اپنی زندگیوں میں کے کام کرتے ہیں جو کہ ہم میں ہے تو خدا ہماری زندگیوں کو تبدیل کرنے کے عمل میں ہوتا ہے فلپیوں 2 باب کی 12 اور 13 آیت ؛ 1 پطرس 2 باب کی 2 آیت ؛ عبرانیوں 3 باب کی 14 آیت ؛ 4 باب کی 11 آیت ؛ 16 باب کی 11 آیت
مستقبل کی امید کے پہلو:
ہم اپنی نجات کی پکمیل کے لیے خواہش کرتے ہیں ( عبرانیوں 9 باب کی 15 اور 28 آیت ؛ رومیوں 8 باب کی 23 سے 25 آیت ؛ 1 پطرس 1 باب کی 4 سے 5 اور 9 اور 13 آیت ؛ 1 کرنتھیوں 15 باب کی 50 سے 53 آیت ؛2 کرنتھیوں 5 باب کی 5 آیت )
سوال:افسیوں 1 باب کی 14 آیت اور 2 کرنتھیوں 1 باب کی 22 آیت ، جبکہ روح القدس سے ہم پر مہر ہو چکی ہے اور ہم بیغانہ میں روح القدس کو ہمارے دلوں میں دیا ، تو کچھ لوگ پھر کیوں بھٹک جاتے ہیں ؟
جواب: مسیحی ہونا آسان بات نہیں ہے لوگوں کے کرنے کی بہت ساری وجوہات ہیں-
1 – کچھ لوگ کبھی کبھی پہلے مرحلہ میں سچے مسیحی نہیں بنے تھے ( 1 یوحنا 2 باب کی 18 اور 19 آیت : اعمال 8 باب کی 19 سے 23 آیت )
1 ( الف) وہ دوسروں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں ( متی 7 باب کی 15 آیت : 24 باب کی 11 آیت )
1 (ب ) وہ اپنے آپ کو بھی جھوٹی مذہبی تبدیلی سے بیوقوف بنا سکتے ہیں ( متی 7 باب کی 21 سے 23 آیت )
2 – کچھ حقیقی سچی گر جاتے ہیں مگر وہ واپس آ جاتے ہیں سچے مسیحی ، ہمیشہ قائم رہیں گے –
3 – حقیقی مسیحی اس بات پر متفق نہیں ہوتے کہ آیا ایک سچا مسیحی گر سکتا ہے اور پھر اٹھ نہیں سکتا اور ہمیشہ جنم کے لیۓ سزاوار ہوتا ہے ، کچھ آیات ظاہر کرتی ہے بشمول عبرانیوں 6 باب کی 4 سے 9 آیت ؛ 10 باب کی 26 سے 32 آیت ؛ 2 پطرس 2 باب کی 17 سے 22 آیت کہ مسیحی گر سکتے ہیں ، کچھ ایماندار ایسی آیات کو ظاہر کرتے ہیں کہ حقیقی مسیحی ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور اپنی نجات کو کبھی بھی نہیں کھوتے ہیں ( 1 یوحنا 5 باب کی 13 سے 14 آیت ؛ رومیوں 8 باب کی 29 سے 39 آیت ؛ یوحنا 10 باب کی 28 سے 29 آیت )
سوال: افسیوں 5 باب کی 17 آیت ، افسیوں کو حکمت اور مکاشفہ کی روح دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ، جبکہ تمام ایماندار رومیوں 8 باب کی 9 سے 11 آیت کے مطابق پہلے ہی اپنے اندر روح القدس رکھتے ہیں ؟
جواب: تمام سچے مسیحی لوگوں کے پاس روحالقدس ہے ، لیکن خدا ابھی تک حقیقی مسیحوں کو روحالقدس سے بھرنے کا حکم دیتا ہے اس میں حکمت اور مکاشفہ سے بھرنا شامل ہے
سوال: افسیوں 1 باب کی 20 آیت ، عبرانیوں 8 باب کی 2 آیت ، 10 باب کی 12 آیت ؛ اعمال 2 باب کی 25 آیت ؛ 17 باب کی 56 آیت وغیرہ وغیرہ یسوع کیسے خدا کے داہنے ہاتھ کی طرف ہے ؟
جواب: داہنے طرف ہونا ایک اصطلاح تھی جو کہ اعلی ظرف مہمان کی عزت دینے کی جگہ کو اجاگر کرتی ہے جیسا کہ زبور 110 کی آیت ظاہر کرتی ہے
سوال: افسیوں 1 باب کی 21 اور 22 آیت میں ، جبکہ مسیح سب چیزوں سے بلند ہے ، کیا وہ خدا باپ سے بھی بلند ہے ؟
جواب:1 کرنتھیوں 15 باب کی 26 سے 28 آیات زور دیتے ہوۓ اس کا جواب دیتی ہیں کہ مسیح سب سے بلہند ہے ۔ مکر اس میں خدا کی ذات سے بلند ہونا نہیں ہے-
سوال: افسیوں 1 باب کی 23 آیت ، جیسا کہ کلیسیا مسیح کا بدن اور اس کی معموری ہے ، کیا مسیحی لوگوں کی عزت و تعطیم اسی طرح سے کرنی چاہیے جیسا کہ کیتھولک ماس عشاۓ ربانی کے عناصرکی تعظیم و تکریم کرتے ہیں؟
جواب: نہیں محض لوگوں کی ستائش کرنا ، جیسے روٹی اور مۓ ای ستائش نہیں کی جاتی ہے ، صرف اور صرف خدا کی ستائش کرو-
سوال: افسیوں 1 باب کی 23 آیت ، کیا کسی طرح سے کلیسیا کو تثلیث کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے ؟
جواب: نہیں ، ہماری موجودہ اور آنے والی وندگی کا دارومدار خدا پر ہے ، وہ ہمارے ساتھ بہت ساری چیزیں بانٹتا ہے ، اور تمام ایماندار ( مرد اور عورتیں ) خدا نہیں ہوں گے اور نہ پرستش کے قابل ہونگے-
سوال: افسیوں 2 باب کی 1 اور 5 آیت " ہم اپنی خطاؤں میں کیسے مردہ ہیں ؟
جواب: ہم سب کم از کم تین طرح سے تو مردہ ہیں ؛ عدالتی طور پر ، روحانی اعتبار سے اور تھوڑے بہت جسمانی طردہ پن سے
عدالتی لحاظ سے : ایک لحاظ سے ہم پہلے ہی مردہ ہیں کہ ایک سزا یافتہ مجرم کو وقت کے مطابق اگلے روز سزاۓ موت دی جائیگی یہ بالکل ایسے ہی اچھی معلوم دیتی ہے – جیسےکہ موت اس سوال کو کلیسیوؤں 2 باب کی 13 آیت میں بھی دیکھیں-
روحانی اعتبار سے : جبکہ غیر ایماندار ابھی کچھ اچھائیوں کر سکتے ہین ( متی 7 باب کی 10 سے 11 آیت ؛ لوقا 6 باب کی 32 سے 34 آیت ) ہماری روحانی مردہ پن اس قدر مکمل ہے کہ کوئی بھی خدا پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ اسے کھینچ نہیں لاتا ( یوحنا 6 باب کی 44 آیت ) اور جب تک روح القدس اس غیر ایماندار کی زندگی میں کام نہیں کر لیتا ، مزید براں ، مسیحی ہونے کے ناطے ، ہماری نجات کے لیے مسیح کی ابھی بھی ضرورت ہے ( یہوادہ 24 ی رومیوں 8 باب کی 29 سے 39 آیت ) خدا کے جاری کام کی تعریف ہو!
جسمانی موت : تیسرا ذریعہ یہ ہے کہ ہم فانی حالت میں بیمار ہیں ، اور یہ ہر بار ہم بیمار ہونے کے بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں اور یہی واحد موت کا التوا ہے –
سوال: افسیوں 2 باب کی 2 آیت ہوا کا حاکم کون ہے ، اور وہ کیوں حکمرانی کر رہا ہے؟
جواب: ہوا کا حاکم شیطان ہے ، جب سے انسان گرا ہے شیطان دنیا کا شہزداہ ہے ( یوحنا 16 باب کی 11 آیت ، ) اگرچے وہ بادشاہ نہیں ہے ، شیطان اس دور کا خدا ہے ( 2 کرنتھیوں 4 باب کی 3 آیت ) اور ہوا کا حاکم ہے ، پوری دنیا بدکار کی حکومت تلے ہے ( یوحنا 5 باب 19 آیت ) جیسا کہ برنباس کا خط اس بات کو لکھتا ہے ( 100 بعد از مسیح ) بے شک ( خدا ) یعنی خداوند ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے – لیکن شیطان اس بدی کے دور کا شہزادہ ہے ( 18 باب ) مزید معلومات کے لیے تفصیلات رومیوں 8 باب کی 19 سے 22 آیت
سوال: افسیوں 2 باب کی 3 آیت ہم تمام کیوں غضب کے فرزند ہیں ؟
جواب: پہلی بات ہم دو وجوہات کی بناء پر خدا کے غصب کے فرزند ہیں اور پھر دو شر طیں –
دو وجوہات یہ ہیں کہ ہم نے کیا کیا ، اور ہم کیا ہیں ہم نے کیا کیا ، رومیوں 3 باب کی 23 آیت یوں کہتی ہے کہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہوۓ ، ہو کون ہیں ، رومیوں 3 باب کی 10 سے 20 آیت یوں کہتی ہے سب گمراہ ہوۓ اور سب نکمے ہیں ، خدا سے دور ہو کر کوئی بھلائی نہیں کر سکتا ہے –
دو ایسی باتیں اور بھی ہیں جو کہ غیر ایمانداروں پر مزید غضب کو نہیں ڈالتی ہیں-
خاندان میں سے کسی کا گناہ : حزقی ایہ 18 باب ؛ استثنا 24 باب کی 16 آیت کے مطابق اولاد اپنے والدین کے گناہ کی |( اباؤ اجداد ) سزاوار نہیں ہے – ایسا ممکن ہے کہ اولاد لعنت اور برے نتائج سے دو چار ہو ، لیکن جہنم میں مبتلا کوئی بھی شخص یہ نہیں کہے گہ کہ " اس جگہ آنے میں میری کوئی غلطی نہیں ہے ، مجھے ایسا ہی بنایا گیا تھا "
غیرارادی گناہ : جہاں شریعیت نہیں ہوتی وہاں گناہ کو شمار نہیں کیا جاتا ہے ( رومیوں 4 باب کی 15 آیت ؛ 5 باب کی 13 آیت ) اگرچے شریعیت سے بے علمی ہمیشہ بے قصور نہیں بناتی ہے بلکہ جب ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ ہم نےغیر ارادی طور پر قانون کو توڑا ہے ، اور ہم ایسا کرنے پر پچھتا تے نہیں ہیں تو پھر ہم ثابت کرتے ہیں کہ کہ ہم نے خدا کی شریعیت کو جان بوجھ کر توڑا ہے اگر ہمیں اس کا علم ہو چکا ہے –
نان اگٹیسنن مسیحی عقیدہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ خدا ہر پیدا ہونے والے بچے سے نہایت ہی ناراض ہے ، اور ان گناہ آلود بچوں کو جہنم میں اس واحد وجہ سے اذیت دینا چاہتا ہے کہ اس نے ان کو کناہ آلودہ فطرت میں پیدا ہونے کے لیے آدم کی نسل سے چنا ہے –
تاہم جب کسی کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کناہگار ہے اور تبدیل ہونا نہیں چاہتا ، تو وہ اس بنا پر سزا کے لائق ہیں کہ وہ خدا کو اپنے آپ میں تبدیلی کرنے کا موقع نہیں دیتے وہ گناہ آلود فطرت کے ساتھ پیدا ہونے کے سبب سے ملزم نہیں ٹھرتے بلکہ وہ اس لیے عدالت میں لاۓ جا سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ابتدائی حالت کو تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی –
سوال: افسیوں 2 باب 3 آیت اور رومیوں 9 باب کی 22 آیت ، کیا سب غضب کے فرزند ہیں ، یا رومیوں 9 باب کی 22 آیت کے مطابق چند ہی غضب کے فرزند ہیں ؟
جواب: اگلی آیت بھی افسیوں 2 باب کی 4 آیت اس کا جواب دیتی ہے ، تمام ( بشماول پولس ) خدا کے غضب کے ( موجودہ اور مستقبل کے آخذ) فرزند ہیں ، لیکن بہترے تبدیل ہوۓ اور خدا کی نظر میں مزید وہ اس کے غضب کے فرزند نہیں ہیں –
سوال: افسیوں 2 باب ک 5 سے 8 آیت ، کیا ہم صرف فضل ہی سے نجات یافتہ بنتے ہیں ، یا یعقوب 2 باب کی 14 سے 24 آیت کے مطابق ایمان جمع اعمال کے توسط سے نجات پاتے ہیں؟
جواب: افسیوں کی زبان جامع ہے :" اور تم نے ایمان ہی کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجاب ملی ہے اور یہ تمھاری طرف سے نہیں ہے بلکہ حدا کی بخشش ہے ، اور نہ ہی اعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فحر نہ کرے ، کیونکہ ہم سب کاریگری اور مسیح یسوع میں ان کے نیک اعمال کے وسیلے مخلوق ہوۓ --------" ان درجہ ذیل نکات پر غور کیجیۓ
1 – یہ خدا کے فضل سے ہے کہ ہماری وجہ سے
2 – ایمان کے وسیلہ سے نہ کہ ہماری اپنی قابلیت یا جسم کی بناوٹ سے
3- خدا کی بخشش ہے نہ کہ ہمارے اعمال
4 – ہمیں اچھے اعمال کرنے کے لیۓ ( نجات یافتہ ) پیدا کیا گیا تھا
جیسا کہ ایک انڈین مسیحی نے کہا ، ہم خدمت کے توسط سے نجات نہیں پاتے بلکہ خدمت کرنے کے لیے نجات پاتے ہیں
اس کو مختصر طور پر بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے ، افسیوں 2 باب ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں سچے ایمان ہی کے وسیلہ سے فضل سے نجات ملی ہے اور یعقوب 2 باب ظاہر کرتا ہے کہ سچا ایمان اکیلا نہیں ہوتا ، بلکہ اس کا اظہار ہمارے ایمال سے ہوتا ہے ، گلتیوں 5 باب کی 6 ایت کہتی ہے کہ" ایمان محبت کی راہ سے اثر کرتا ہے " اگلا سوال بھی دیکھیں اور یعقوب 2 باب کی 14 سے 25 آیت پر بات چیت کریں-
سوال: افسیوں 2 باب کی 5 سے 8 ایت ، کس طرح فضل ایمان اور اعمال تعامل رکھتے ہیں؟
جواب: کوئی یہ پوچھ کر کہ نجات کے چند بنیادی پہلوؤں کو دیکھ سکتا ہے ، کون ، کیا ، کیسے ، کس لیے ، اور کیوں ، کون خدا نے ہمیں نجات دی
خاص کر ہم نہیں یا خدا جمع ہم ( افسیوں 2 باب 8 آیت 2 تیمتھیس 1 باب کی 9 آیت )
کیا : ہمارے ایمان کے وسیلہ سے خدا کے فضل ہی سے نجات ملی ( عبرانیوں 4 باب کی 2 آیت ؛ افسیوں 2 باب کی 8 آیت ) خاص طور پر ہمارے اعمال یا کوئی اور چیز نہیں کہ ہم فخر کر سکتے ہوں ( افسیوں 2 باب کی 8 سے 9 آیت )
کیسے دی گئی : خدا کا فضل یسوع کا ہمارے کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر جان دینے کے توسط سے حاصل ہوا ( رومیوں 2 باب کی 17 آیت ؛ 1 یوحنا 2 باب کی 2 آیت ) اور اسے ہمارے گناہوں کا معاوضہ دینا پڑا ( متی 20 باب کی 28 آیت ؛ مرقس 10 باب کی 45 آیت ؛ 1 تیمتھیس 2 باب کی 6 آیت عبرانیوں 9 باب کی 15 آیت )
کیسے حا صل کی گئی: ضرور ہے کہ خدا کا فضل ہمارے ایمان کے ساتھ جڑا ہوا ہو( عبرانیوں 4 باب کی 2 آیت ؛ رومیوں 10 باب کی 10 آیت ) حتی کہ فخر کرنے کے لیے ہمارا ایمان کچھ بھی نہیں ہے ، بلکہ یہ روح القدس کے وسیلہ سے خدا ہی سے حاصل ہوتا ہے ( افسیوں 2 باب کی 8 آیت ، یوحنا 16 باب کی 8 سے 11 آیت )
کس لیے : اچھے اعمال کرنا ( افسیوں 2 باب کی 10 آیت ) اور کیونکہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے ( یوحنا 3 باب کی 16 آیت اور وہ ہم پر اپنی شفقت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے ( افسیوں 2 باب کی 7 آیت )
کیوں : بہت ساری ، ان میں سے چند ہیں : اس کی بادشاہی کے اظہار کے لیے ( افسیوں 2 باب کی 10 آیت ) کیونکہ اس نے دنیا سے محبت رکھی ہے ( یوحنا 3 باب کی 16 آیت ) ؛ اپنے ارادہ اور فضل کے موافق ، نہ کہ اس کے سبب سے جو ہم نے سرانجام دی (2 تیمتھیس 1 باب کی 9 آیت )
جب ہر بات چیت کے لیے دیکھیں افسیوں1 باب کی 13 آیت میں سوال ہے
سوال: افسیوں 2 باب کی 5 سے 8 آیت ، نجات کے اہم بڑے پہلو کون سے ہیں؟
جواب: یہاں پر ایک طریقہ کارفرما ہے جس کے توسط سے نجات کو دیکھا جاتا ہے ؛
1 – خدا ہمیں بلا استحقاق فضل دیتا ہے ( افسیوں 2 باب کی 8 سے 10 آیت ؛ ططس 3 باب کی 4 ، 7 آیت )
2 – لازم ہے کہ ہم ایمان لائیں اور توبہ کریں ( افسیوں 1 باب کی 13 آیت ، رومیوں 10 باب کی 9 سے 11 آیت )
3 خدا کا روح ہم میں بستا ہے ( رومیوں 8 باب کی 9 سے 11 آیت ی یوحنا 14 باب کی 15 سے 18 آیت ؛ 1 یوحنا 3 باب کی 24 آیت ؛ افسیوں 2 باب کی 22 آیت ؛ ططس 3 باب 6 آیت
4 – ایمان بغیر تبدیل شدہ زندگی کے اعمال کے مردہ ہے ، یعقوب 2 باب 14 سے 20 آیت ؛ 1 یوحنا 2 باب 6 سے 15 آیت ؛ 3 باب کی 5 ، 6 ، 9 آیت ، ططس 2 باب کی 11 ، 14 آیت ؛ 1 کرنتھیوں 6 باب کی 9 سے 11 آیت اور 19 آیت
5 – خدا اپنے چنے ہوۓ لوگوں کو قائم رکھتا ہے ، یوحنا 10 باب 28 سے 29 آیت ؛ رومیوں 8 باب 28 سے 29 آیت ؛ افسیوں 1 باب 13 ، 14 آیت
سوال: افسیوں 2 باب کی 6 آیت میں ، کیا مسیح کا اس کے تخت کے دہنے طرف بیٹھنے کا وعدہ اس کا مسیح کے ساتھ زمین پر ہزار سالہ بادشاہی کرنے یا بعد میں ابدیت میں بادشاہی کرنے کا اشارہ ہے ؟
جواب: یہ دونوں کی طرف اشارہ ہے ، تاہم ، افسیوں 2 باب کی 6 آیت کہتی ہے کہ ہم آسمانی سلطنت میں ' مسیح کے ساتھ ہوں گے ، جب کہ اس کس ابتدائی معنی غالبہ ابدیت ہی ہے سب سے بڑھ کہ یہ کہ خدا کی تمجید ہو کر ہم ہمیشہ مسیح کے ساتھ ہوں گے –
سوال: افسیوں 2 باب کی 9 آیت میں ، "یہ " میں اسم ضمیر کیا کہتا ہے کیا خدا کی بخشش پچھلے کی جانب حوالہ ہے ؟
جواب: کچھ لوگ اسے فضل کہتے ہیں اور کچھ " ایمان " تاہم گرائمر کی رو سے دونوں یا مونث ہیں ،اور " یا " گرائمر کی رو سے غیر متعین ہس تاہم زیادہ تر امکان یہی ہے کہ " یہ " تمہیدی فقرا کی طرف اشارہ ہے جو کہ نجات کے مکمل تصور کی بابت بات کرتا ہے –
سوال: افسیوں 2 باب کی 12 – 13 آیت ، پوانے عہدنامے کے ادوار میں ، کیا سب غیر اسرائیلی شہری جنم کے سزاوار تھے کیا ان کا نجات یافتہ بننے کا کوئی موقع نہ تھا ؟
جواب: نہیں ، ابرہام اور اضحاق اسرائیلی نہ تھے ، اور انہون نے ظاہر کیا کہ خدا اپنی خوشی کے موافق اپنے آپ کو ظاہر کر سکتا ہے جب موسی کو شریعیت دی گئی – مو آب اور روت اسرائیلی نہیں تھے مگر پھر بھی انہوں نے نجات پائی ، تاہم ، جو بھی نجات یافتہ بنتے ہیں ، حتی کہ پرانے عہدنامے کے ادوار میں بھی ، وہ بھی یسوع مسیح میں نجات پاتے تھے ( 1 کرنتھیوں 10 باب 4 آیت : 1 یوحنا 2 باب 2 آیت ، عبرانیوں 2 باب کی 9 آیت ، 1 تیمتھیس 2 باب 6 آیت ) جب تک ایک شخص یسوع کی حقیقت کا انکار کرتا ہے ، یوحنا 8 باب کی 24 آیت اور اعمال 2 باب کی 37 سے 40 آیت ظاہر کرتی ہے کہ ان کے نجات یافتہ بننے کا کوئی امکان نہیں ہے –
سوال: افسیوں 2 باب کی 15 آیت ، یسوع نے دو میں سے ایک کیسے بنا دیا؟
جواب: خدا کی نگاہ میں ی؛ہودی اور غیر قوم ہونے کے باوجود ، اب اس کی کلیسیا میں صرف اور صرف مسیحی ہیں
سوال: افسیوں 2 باب کی 16 سے 18 آیت میں ، یہاں یہ " دونوں " کون ہیں ؟
جواب: دونوں یہاں پر یہودی اور غیر یہودی لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو سب یسوع مسیح کے توسط سے خدا تک رسائی رکھتے ہیں برابر ہیں-
سوال: افسیوں 2 باب کی 20 سے 21 آیت ، جبکہ کلیسیا کی تعمیر رسولوں اور نبیوں پر ہوئی ، کیا آج بھی ہمیں نبیوں اور رسولوں کی ضرورت ہے ؟
جواب: ہمیں ان کی فی نفسہ ضرورت نہیں ہے لیکن ہمیں آج کے لیۓ ان کے کلامات کی ضرورت ہے اسی لیے کلام مقدس مسیحوں کے لیے نہایت ضروری ہے –
سوال: افسیوں 2 باب کی 20 سے 21 میں ، جبکہ یسوع کونے کے سرے کا پتھر ہے ، کیا ہمین خدا کی موجودہ کلیسیا کو چلانے کے لیۓ ایسے شخص کی صرورت ہے جو یسوع مسیح کی نمائندگی کے سکے ؟
جواب: کچھ لوگ اس کو زور دے کر کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں زمین پر پادری کی صرورت ہے یہ چند بری چیزوں کو کم کرنے کے لیے فائدہ مند ہو گی-
1 – مسلمہ کلیسائی؛ عقائد کے خلاف عقیدہ
2 - روحانی جھوٹے مذاہب کے ساتھ شامل نہ ہونا-
3 – خدا کے علاوہ دوسروں کو نذرانے دینا –
4 – عقلی ٹھراؤ ( کوپرنکس ، گلیلیو)
5 – حقیقی مسیحوں کی اھیت اور ان کا قتل
6 – عام طور پر لوگوں کو اذیت اور ان کو قتل کرنا
7 – دنیاوی حکمرانوں کو شریعی بنانا
یہ دوجہ ذیل باتوں میں بہتری کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا
1 – دنیا کے لیے اک اخلاقی چمکتی ہوئی مثال بننا
2 – کلام مقدس کے مزید مطالعہ کے لیے حوصلہ افزائی
3 – مسیحی اتحاد ( جس میں مسیحوں کو اذیت دینا شامل نہ ہو )
مغربی یورپین مسیحوں نے ایک ہزار سال تک اس کی کوشش کی ؛ اس تجربہ کو " کیتھولک کلیسیا " کہا جاتا ہے ، کیتھولک کلیسیا کے تجربہ سے جو ایک اچھی بات حاصل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیھ سکتے ہیں اور مسیح کی پیروی کو چھوڑنے کے خطرات کو دیکھ سکتے ہیں جس کی بابت 2 کرنتھیوں 11 باب کی 2 سے 4 آیت دیتی ہے –
ایک شک کرنے والا انسان ( چندراکر بات کرنا ) دلیل دے سکتا ہے کہ تمام کیتھولک کلیسیا محض ایک اکثریت ہے جو جان بوجھ کر 1 تمیتھس 4 باب کی 1 سے 5 آیت کو پورا کرتی ہے اس جھوٹی بات کا جواب دینا میں کیتھولک کلیسیا پر چھوڑوں گا-
سوال: افسیوں 2 باب کی 20 سے 21 آیت میں ، کس طرح کلیسیاکی تعمیر رسولوں اور نبیوں کی نیوپر ہے جس میں یسوع مسیح کونے کے سرے کا پتھر ہے –
جواب: مسیح کلیسیا کا واحد حقیقی سر ہے ہمارے خدا کے علم کی بنیاد پرانے عہدنامے کے نبیوں کی اور نۓ عہدنامہ کے رسولوں ( اور ان کے کاتبین ) کی تعلیم پر ہے –
سوال: افسیوں 2 باب 21 آیت ، سجی کلیسیا کہاں ہو سکتی ہے ؟
جواب: ضروری نہیں ہے کہ جہاں پر دنیا سچی کلیسیا کو تلاش کرے وہ وہی ہو ، جب تک کوئی شخص محض انسان کو تلاش کر رہا ہے کہ وہ سچی کلیسیا کا سر ہے تو وہ اسے نہیں دیکھے گا سچی کلیسیا کا سر یسوع مسیح بطور کونے کے سرے کا پتھر ہے ( افسیوں 2 باب کی 20 آیت ) سچی کلیسیا نہ تو پتھر پر اور نہ ہی اینٹ پر تعمیر ہوتی ہے ، بلکہ یہ ایمانداروں پر ہوتی ہے ( 1 پطرس 2 باب کی 5 آیت ) اس طرح سچی کلیسیا ان تمام ایمانداروں پر مشتمل ہے جو مختلف کلیساؤں میں سے ہیں اور یسوع مسیح پر ان کا ایمان ہے ،جب سچی کلیسا کی بات کی جاتی ہے ، تو پھر ہم فتح مند کلیسا کی بابت کر سکتے ہیں ( یا وہ ایماندار ہیں جو اب آسمان پر ہیں )
اور " جنگجو کلیسیا " کی بابت بات کر سکتے ہیں ( یہ وہ ایماندار ہیں جو زمین پر آج بھی ایمان کو سنجھالے ہوتے ہیں )
بدقسمتی سے ، بعض اوقات مسیحی اپنے فرقے میں ہوتے ہوۓ بہت زیادہ پریشان ہو سکتے ہیں وہ اس بات کو بھول گۓ تھے جب میں ین سوچتا ہوں کہ ایک مسیحی ایسے ہو سکتا ہے ، میں اس سے پوچھتا ہوں کہ اس کا کس فرقہ سے تعلق ہے تب وہ کہتا ہے میرا تعلق " ایکس واۓ زیڈ " ہے میں اسے بتاتا ہوں " کیا تمھارے خیال میں آسمان پر ایکس واۓ ذیڈ ہیں – آسمان پر بیپٹسٹ بھی نہیں ہیں اور میرا اتفاق بیپٹسٹ کلیسیا میں جانے کا تہوار رہتا ہے باوجود اس کے کہ آسمان میں مسیحی ایکس وائی ذیڈ ہیں، اور آسمان پر مسیحی بیپٹسٹ ہیں ، مگر ہم سب آسمان پر صرف یسوع کے وسیلہ سے ہیں نہ کہ کسی تنظیم کے – ایک جھوٹ ، کہ تنظیم مسیح کے ساتھ شخصی تعلق رکھنے سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ، ایسا آلہ کار ہے جو مورمن اور یہواہ وٹنس والے گرجہ گھر جانے والوں کو اپنی جھوٹی انجیل کی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں –
دوسری جانب ، میں ایسا ہرگز نہیں کہہ رہا کہ اجتماع اور تنظیمی طور پر اکٹھا ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ، عبرانیوں 10 باب کی 25 آیت ہمیں حکم دیتی ہے کہ اکٹھے ہونے باز مت آؤ کچھ ایسے طریق عمل ہیں جن کو میں نے کہا ہے لوگ علم الہائی سے برباد ہو سکتے ہیں ، لیکن جب تک وہ ابتدائی باتوں میں درست ہیں ( جیسا کہ 1 کرنتھیوں 15 باب کی 1 سے 4 آیت ہمیں خبردار کرتی ہے ) اور یسوع کو جانتے ہیں ، تو سب مسیحوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنا ہے جیسا کہ مسیح نے تمھیں قبول کیا ہے ( رومیوں 15 باب کی 7 آیت ) حقیقی مسیحی سبت کی بابت خیالات پر تفرقے میں ہو سکتے ہین ( رومیوں 14 باب 5 ) یا کھانے کے معاملے پر رومیوں 14 باب 2 سے 3 آیت ) وہ اس سے بڑھ کر اور بھی زیادہ سنجیدہ باتیں کر سکتے ہیں ، جیسا کہ ایک غیر اخلاقی شخص کو اپنے درمیان برداشت کر سکتے ہین ( مکاشفہ 2 باب 20 آیت ) یا ایک ایسے شخص کو جو اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ رہتا ہو ( 1 کرنتھیوں 5 باب 1 آیت ) وہ قانونی اعتبار سے سنجیدہ مسائل میں پھنساۓ جا سکتے ہیں ( گلتیوں 3 باب کی 1 آیت ) حتی کہ حکم عدولی کرنے والے مسیحی خدا کے اصول کے تلے پھر بھی مسیحی ہی وہتے ہیں –
سوال: افسیوں 3 باب 1 آیت ، پولس نے ایسا کیوں کہا کہ وہ روم کی بجاۓ مسیح یسوع کا قیدی ہے ؟
جواب: پولس بہتر طور پر اس بات کو سمجھ سکتا تھا کہ رومی سپاہی اس کی نگرانی کر رہے ہیں اور وہ دیکھ سکتا تھا کہ اس کی فوری قید کی وجہ روم کی بدکاری ہے ، لیکن پولس اس کو بڑے تناظر میں دیکھ رہا تھا ، اور اس نے دیکھا کہ آخرکار اس کا قید کو برداشت کرنا ہمارے نجات دہندہ یسوع مسیح کے جلال کے لیے ہے جب آپ ناخوشگوار حالات کو دیکھتے ہیں ، چاہے یہ اھیت ہویا محض اس گرائی ہوئی دنیا میں برداشت کیا جانا جو آپ کو رد کرتی ہو ، کیا آپ کا نکتہ فوری وجہ پر مرکوز ہوتا ہے یا آپ آخرکار یسوع کو جلال دینے کا منصوبہ بناتے ہیں ؟
سوال: افسیوں 3 باب کی 3 آیت پولس کے لفظ بھید کیوں استعمال کیا ، جب وہاں پر غیر مسیحی مذاہب کا بھید تھا؟
جواب: یہاں پر بھید کو ایک خاص چیو سمجھا جا سکتا ہے ، ایک ایسا راز جس کا تجربہ ہونا چاہیے ، نہ کہ صرف عوام کو سنایا گیا ہو ، پولس نے اس کو بت پرستوں کے مذاہب میں استعمال کیۓ گۓ معنی میں لیا ہے ، اور غالبا جان بوجھ کر اس نے اصطلاح کو استعمال کیا ہے یعنی ان کی دی جانے والی تعلیم سے موازنہ کرانے کے لیے-
سوال: افسیوں 3 باب کی 4 سے 6 آیت ، جب کہ قدیم قوموں نے مسیح کی بابت کچھ نہ سنا ، تو کس طرح پرانے عہدنامے کے دور میں کوئی نجات پاتا تھا ؟
جواب: جی ہاں بنیادی طور پر ، یہ وہ نہیں ہے جو ہم سنتے ، یقین کرتے یا کام کرتے جو ہمیں نجات دیتا ہے ،حتی کہ یہ انجیل بھی ایسی نہیں ہے جو ہمیں نجات دیتی ہے ، یہ خدا ہے جو ہمیں نجات دیتا ہے ، خدا ہر اس شخص کو نجات دیتا ہے جس کو وہ نجات دینا چاہتا ہے ، لیکن ہم کو معلوم ہے کہ خدا رحیم ہے ،تو پھر بھی وہ انصاف کرنے والا اور مقدس خدا ہے ،
سوال:افسیوں 3 باب کی 8 آیت ، کس طرح پولس تمام رسولوں سے چھوٹا ہے ؟
جواب: پولس ایسا سوچنے کی دو وجوہات بیان کرتا تھا ،
1 – غیر فطری پیدائش ( وقت سے پہلے ) 1 کرنتھیوں 15 باب 7 آیت )
2 – زیادہ اہم باب ، پولس خدا کی کلیسیا کو اذیت دیا کرتا تھا –( 1 کرنتھیوں 15 باب کی 8 آیت ؛ 1 تیمتھیس 1 باب 13 آیت )
وہ اس سے بڑھ کر یہ تھا یعنی ایک قاتل سے مشنری بنا -
سوال: افسیوں 3 بب 8 آیت ، جبکہ مسیح کی دولت بے قیاس ہے پولس ہمیں افسیوں 3 باب کی 17 سے 19 آیت میں مسیح کی محبت کی انتہا سے کیوں آشنا کروانا چاہتا ہے ؟
جواب: افسیوں 3 باب کی 18 سے 20 آیت میں اس کا جواب مل جاتا ہے ، مسیح کی دولت بے قیاس ہے ، لیکن ہمارے پاس تجربہ پانے کا ایک لطف اندوز کام ہے ( نہ ختم ہونے والا ) کہ خدا کی محبت ہمارے لیے کس قدر عظیم ہے –
یہاں پر یونانی لفظ دلچسپ ہے ؛ اس کا حقیقی مطلب یہاں پر " قدموں کے نشانات سے بھی پہنچ سے باہر ہے " کا ہے ہم ٹھیک طور پر تلاش نہیں کر سکتے کہ خدا کی محبت ہمارے لیے کس قدر ہے اور کیوں کر ہے ، مگر ہم اس حقیقت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں کہ وہ ایسی محبت ہم سے رکھتا ہے
سوال: افسیوں 3 باب کی 9 آیت ، یہاں پر بھید کیا ہے ؟
جواب: افسیوں 3 باب کی 10 – 11 آیت اس کا جواب دیتی ہے ، یسوع مسیح کا کلیسیا کا آغاز کرنا بھید ہے ، یہاں پر بھید کا مطلب ایک راز ہے جو کہ موجودہ وقت تک ظاہر نہ ہوا تھا –
سوال: افسیوں 4 باب کی 3 آیت ، کیا پولس ایک تنظیم جیسا کیتھولک ، گریک آرتھیوڈکس ، مارمنس ، مقامی کلیسیا یا بین الاقوامی مسیحی کلیسیائیں اور دوسری کلیسیائیں جتنی بھی تعلیم دیتی ہیں میں اتحاد بی بابت بات کر رہا ہے ؟
جواب: یہ خاص آیت " روح کی یگانگت " کی بات کرتی ہے نہ کہ تنظیمی اتحاد کی ، یہ یوں بھی کہتی ہے کہ ہمیں روح کی یکانگت میں قائم رہنا چاہیے ، نہ کہ اپنے آپ میں رہنے کی کوشش کرنی چاہیے ، پس یہ خاص آیت تنظیموں کی بابت کچھ بھی ثابت نہیں کرتی ہے ، وسیع تر معاملہ میں ، آیا کہ تنظیمی اتحاد مطلوبہ ہو – اگلا سوال دیکھیں-
سوال: افسیوں 4 باب کی 3 آیت ، کیا تنظیمی اتحاد کچھ ایسا ہے جس کی خواہش امانداروں کو کرنی چاہیے؟
جواب: حقیقی مسیحوں کا اس پر اتفاق نہیں ہے –
نہیں کچھ پروٹسٹنٹ کہتے ہیں نہ تو اہم ہے اور نہ ہی خطرناک اور جب یہ زیادہ اہم بن جاتا ہے تو پھر سچائی سے خدا کی پیروی کرو ، جیسا کہ تاریخ نے اس کو بدقسمتی سے مگر نتیجتا ظاہر کیا ہے –
جی ہاں ، کیتھولک ، آرتوڈیکس ، مقاقی کلیسیا اور دوسرے پروٹسٹنٹ کہتے ہیں کہ تنظیمی اتحاد مطلوب ہے –
قطع نطر ، بائبل کے تمام ذی شعور طالب علموں کو ان نکات پر اتفاق کرنا چاہیے –
1 – بائبل روح کی يگانگت کا اور یسوع کے شاگردوں کے اتحاد کا ذکر کرتی ہے ، لیکن یہ ایک بار بھی یہ نہیں کہتی کہ اتحاد ان میں ہو جو ایمان کا انکار کرتے ہیں ، اسے رد کرتے ہیں یا واضع طور پر اس سے کنارہ کشی کرتے ہیں –
2 – کوئی بھی مسیح کامل نہیں ہے ، نہ ہی تقدیس میں اور نہ ہی تعلیم میں ،ہمیں بھیڑیوں سے بچنا ہے اور بدعتوں سے دور رہنا ہے –
3 – عام طور پر ان لوگوں کے ساتھ با مقاصد اتحاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جو آپ کو قتل کرنا چاہتے ہوں یہ آپ کو جلانا چاہتے ہوں –
4 – ہمیں ان تمام باتوں کو ختم کرنا چاہیے جو مسیحوں کے درمیان باعث تقسیم ہے اور بالکل ویسے ہی ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے جیسے مسیح نے ہمیں قبول کیا ہے ( رومیوں 15 باب کی 7 آیت )
5 – اتحاد جس کا مرکز یسوع مسیح نہیں ہے وہ مطلوبہ اتحاد نہیں ہے اور ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے-
سوال: افسیوں 4 باب 4 آیت ، جبکہ بدن ایک ہی ہے ، تو پھر کیوں کر بہت ساری کلیسائیں ہیں ؟
جواب: اس کی کم از کم چار اہم وجوہات ہیں
1 – بالکل ایسے چھوٹے چھوٹے اختلافات جو کہ کسی مسلمان میں ، ملیا نہ بدھ مت میں ، دی ڈٹنیک ہندھو اور بھائیا کے دو فرقوں میں ، اور مذاہب میں موجود ہین ، اسی طرح مسیحی بھی ثانوی پہلوؤں پر متفق نہیں ہیں ، مثال کے طور پر ، پولس اور سیلاس کے درمیان یوحنا مرقس کو اپنے ساتھ لے جانے میں اتفاق نہ تھا گویا بعد میں ان کے درمیان مفاہمت ہو گئی تھی ، ( اعمال 15 باب 36 سے 41 آیت ؛ کلسیوں 4 باب کی 10 آیت ؛ 2 تیمتھیس 4 باب کی 11 آیت )
2 – اضافہ کئی سالوں سے ، مرقس میں موجود فرسیوں کی مانند بہتوں نے چاہا کہ وہ اپنی پیچیدہ روایات کو مسیحت میں شامل کریں – عام طور پر ہت سارے کہتے ہیں کہ آپ کو بائبل کے ساتھ ساتھ روایات کی پیروی بھی کرنی چاہیے جس کو خدا کے کلام کے مساوی اس میں رکھا جاتا ہے ، بائبل کی مسیحت صرف یہ ہے کہ جو کچھ خدا بائبل میں فرماتا ہے اس کی پیروی کرنا ہے اور انسان ہونے کے ناطے انسانی روایات کو جاننا-
3 – مسیحت سے نکال دیا جانا پہلے ہی 2 تیمتھیس 3 باب کی 5 آیت میں بتایا گیا ہے کہ آخری دنوں میں کچھ ایسے ہوں گے جو دین داری کی وضع تو رکھیوں گے مگر اس کے اّر کو قبول نہ کریں گے ، بہت ساری " آزاد خیال " کلیسائيں خدا کی تعلیم کو نکال رہتی ہیں ہمیں یہ کہتے ہوۓ کہ خدا جسمانی معجزات نہیں کر سکتا ، اور فردوس اور جہنم نہیں ہے ، اس کے باوجود وہ مسیحی ہونے کا دعوی کرتے ہیں-
4 – گمراہی : جیسا کہ اعمال 20 باب 29 اور 30 آیت میں نبوت کی گئی ہے کہ روحانی " بھیڑیا " جو شاگردوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کو انسانوں کے بناۓ ہوۓ مذہب کی پیروی پر عمل کرنے کو کہتے ہیں اور یسوع کی پیروی کرنے کا دعوی کرتے ہیں بہتوں کے پاس بائبل کے ساتھ ایک اپنی اضافی کتاب بھی ہے ان بری چیزوں کے بارے میں پیشن گئی 1 تیمتھیس 4 باب کی 1 سے 5 آیت ، 2 پطرس 2 باب کی 1 سے 3 آیت اور یہوداہ 1 باب 8 سے 19 آیت –
سوال: افسیوں 4 باب کی 5 آیت ، کیا یہ پانی کا بپتسمہ ہے یا روح القدس کا ؟
جواب: یہ دونوں میں ایک ہو سکتا ہے تاہم ، مگر اس کو روح القدس کا بپتسمہ کا اشارہ دینا بعید از قیاس ہے ، جبکہ تین حلقے باپ ، بیٹا ، اور روح القدس کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ اس حلقے میں بیٹے کی طرف اشارہ ہے –
سوال:افسیوں 4 باب کی 6 آیت اور افسیوں 1 باب کی 23 آیت میں ، اگرچہ ہر ایک چیز کو ہر طرح سے پورا کرتا ہے ، تو کیا وحدت الوجود کا نظریہ درست ہے جو کہتا ہے کہ ہر ایک چیز خدا کا حصہ ہے -؟
جواب: نہیں ، مثلا کوڑے کا دھیر خدا نہیں ہے ، اور ایک کافر کے رسالہ کے ورق جو کہ وجود کا انکار کرتے ہیں خدا نہیں ہے ہمیں خالق کی بجاۓ خلق کی ہوئی اشیاء کی پرستش کرنا روا نہیں ہے ( رومیوں 1 باب ، 23 اور 25 آیت ) بلکہ جیسے کلسیوں 1 باب 17 آیت ظاہر کرتی ہے کہ سب چیزیں اسی میں قائم ہیں-
سوال: افسیوں 4 باب کی 8 آیت ، پولس نے ایسا کیوں کہا کہ خدا نے انسانوں کو نعمتیں دی ہیں ، جبکہ زبور 68 کی 18 آیت کہتی ہے خدا نے لوگوں سے ہدیۓ وصول کیۓ؟
جواب: مسیحوں کے دو مختلف نظریات ہیں –
نقال علطی : ہو سکتا ہے زبور 68 کی 18 آیت میں حقیقی لفظ دینا ہو جب کہ مسور اٹیک ٹیکسٹ اور یونانی ترگلمز میں " حاصل " کرنا ہے اور ارامک ترگلمر زبان میں اور سرٹیک پسٹہ میں " دینا " ہے – مزید براں پورے زبور میں ، سواۓ اس ایک آیت کے جو کچھ خدا دوسروں کو دیتا ہے کی بابت بات کی جاتی ہے
عمومی خلاصہ : پولس کسی آیت کا حوالہ نہیں دے رہا تھا ، لیکن وہ پورے زبور 68 کو تکریر کر رہا ہے –
ایک اور طریقہ سے : جان کری سوسٹم نے ( ہو ملیز اون افیشین 369 بعد از مسیح ) میں کہا کہ بنیادی طور پر اس میں کوئی فرق نہیں ہے خدا لوگوں کو چیزیں دینے اور لینے کا کام کرتا ہے ، نجات کا جائزہ لیتے ہوۓ کہ خدا نے اپنے اوپر ہماری سزا کو لیا ، یا ہمیں نجات دی دراصل ایک چیز کی دو رخوں کو دیکھنا ہے –
سوال: افسیوں 4 باب کی 9 آیت اور اعمال 2 باب کی 27 آیت ، اس نے مرنے کے بعد کیا یسوع جہنم میں گیا تھا کہ نہیں؟
جواب: جبکہ چھوٹا فقرا " یسوع عالم پاتال میں اتر گیا " رسولوں کے عقیدے کے موافق لکھا گیا ہے ( اکیلین 390 بعد از مسیح سے ) بائبل بھی اس کو واضح انداز میں بیان نہیں کرتی ہے – یہاں پر بائبل یوں کہتی ہے
افسیوں 4 باب 9 آیت کہتی ہے کہ وہ زمین کے نیچے کے علاقہ علاقہ میں اتر گیا-
زبور 16 کی 10 آیت یوں کہتی ہے " پاتال " جس کا مطلب قبر ہے اعمال 2 باب 27 اور 28 آیت زبور 16 باب کی 10 آیت کا حوالہ دیتی ہے تو یسوع کو عالم ارواح میں نہ چھوڑے گا ( مردوں کے درمیان )
1 پطرس 3 باب کی 19 آیت یسوع نے قیدی روحوں میں منادی کی ( یہودی مذہب کے خیال کے مطابق جس کو1 hcon E 22 باب اور دوسری تحریروں میں لکھا گیا ہے کہ مردے دو جگہوں پر جاتے ہیں ۔ راستباز جنت الفردوس میں اور بدکار قید میں-
1 پطرس 4 باب کی 6 آیت میں ذکر ہے کہ ان مردوں میں انجیل یی منادی کی گئی ، مزید معلومات کے لیے اس بحث کو 1 پطرس 4 باب کی 6 آیت میں دیکھیں-
سوال: افسیوں 4 باب 9 آیت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یسوع زمین میں اتر گیا ، بجاۓ اس کے کہ وہ قبر میں اتر گیا؟
جواب: اس پیرے کے تین کے موافق تین نظریات ہیں زمین میں اتر جانا ( پہلو بہ پہلو کی مضاف ) موت میں اتر جانا ( مشابہت کے مضاف ) زمین کے نیچے کے علاقہ میں اتر جانا جو کہ زمین سے تعلق رکھتا ہے ( مکلیتی کے مضاف )
سوال: افسیوں 4 باب 11 آیت کیا اس کا مطلب " کلیسائی پادری بطور ایک رہنما رہا ہے" بحیثیت ایک کردار ، پادری یا استادوں کے دو کردار ہیں ؟
جواب: یونانی لفظ іaK کی فہرست میں پادری اور استاد میں فرق ہے ،اس یونانی لفظ کا مطلب " اور / بلکہ " ہے ، اور اس پیرے میں یہ کوئی ایک ہو سکتا ہے ، جیسا کہ انگریزی کے موافق ،اب پادری ضرور تعلیم دیتے ہیں (ططس 1 باب 9 آیت ؛ تیمتھیس 5 باب کی 2 ، 17 آیت ) پس یہاں پر یکجا کردار ہے ،حقیقی سوال یہ ہے آیا بائبل ان استادوں کے اس کردار کی حمایت کرتی ہے جو پادری نہیں ہیں- جواب ہاں میں ہے جس کی کم از کم چار وجوہات ہیں – تفنس نے یہودیوں کو گواہی دی ، ان کو کلام مقدس کے جامع علم کے ساتھ تعلیم دی ، اگرچہ اعمال اس کو واحد ڈیکن بیان کرتی ہے
الف) پولس نے استاد اپلوس کو حکم دیا حتی کہ اپلوس پادری حتی کہ وہ پادری نہ تھے –
ب) ایک ایلڈر جس کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ تعلیم دینے کے قابل ہے ( 1 تیمتھیس 5 باب 2 آیت ) جو زور دیتی ہے کہ وہ ایلڈر بننے سے پہلے تعلیم دے رہے تھے
ج) در حقیقت ، کلسیوں 3 باب کی 16 آیت میں عام مسیحوں کو حکم ملتا ہے کہ وہ تعلیم دیں اور ایک دوسرے کو تنبہیہ کریں
سوال: افسیوں 4 باب کی 11 آیت ، جبکہ آج بھی پادری اور رسول ہیں ، کیا آج نبی اور رسول بھی ہیں ؟
جواب: افسیوں 4 باب کی 11 آیت کلیسیاء کے اہم حلقوں کی بغیر خاکہ کشی کرتے ہوۓ جو کہ موجودہ دور تک پھیلی ہوئی ہے اور نہیں بھی کی طرف اشارہ کرتی ہے ، نہیں ، لوک رسولوں کے نۓ عہدنامہ کے حلقے کے ساتھ اور نبیوں کے پرانے عہدنامہ کے حلقے کے ساتھ نہیں ہیں جو آج چل پھر رہے ہیں-
سوال: افسیوں 4 باب کی 26 آیت ، غصہ کرنا گناہ ہے ، جبکہ یسوع اور پولس نے غصہ کیا ؟
جواب: بہات سارے معاملات میں غصہ کرنا گناہ نہیں ہے – تاہم ، افسیوں 4 باب کی 26 آیت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا غصہ میں رہنا اور کینہ رکھنا گناہ ہے اگر سورج کے غروب ہونے تک آپ کا غصہ رہتا ہے ، تو آپ زیادہ عرصہ تک غصہ میں رہتے ہیں –
سوال: افسیوں 4 باب کی 26 آیت ، کیا غصہ میں رہنا گناہ ہے ؟ خدا جب لوگوں اور بدروحوں کو آگ کی جھیل میں ڈالتے ہیں تو وہ غصہ میں رہنا ظاہر کرتا ہے
جواب: اس کا جواب دینے میں تین نکات قابل غور ہیں
1 – ہمیں پرستش میں یا خدا کے بلاۓ جانے میں حسد اور غصے میں نہیں رہنا ہے ، لیکن خدا جو کچھ اپنے خادموں کو کرنے کو کہتا ہے –خود اس کو کرنے پر مجبور نہیں ہے-
2 – خدا لا محدود ہے ، اور وہ مختلف چیزوں کو ایک ہی وقت میں محسوس کر سکتا ہے وہ ایک ہی وقت میں کسی بدکار پر غصہ کر سکتا ہے اور اسی وقت پر اپنے فرزند سے خوش ہو سکتا ہے وہ ایک ہی وقت میں ایسا کر سکتا ہے کیوں کہ وہ خدا ہے
3 – کلام مقدس یہ نہیں بتاتا کہ آیا خدا ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ غصہ میں رہے گا –
خدا با لکل بھی ان لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا جو اس کا انتخاب کۓ بغیر وندگی بسر کرتے ہیں-
سوال: افسیوں 4 باب 28 آیت ،مسیحی ایسی جگہوں پر نوکری کیوں کرتے ہیں جہاں پر انہیں ہاتھ سے کام نہیں کرنا پڑتا ؟
جواب: اس بات کا مطلب حلال روزی کمانا ہے ، متواتر مجرمانہ سرگرمی کے علاوہ ، آج کل بہت ساری رقم کو رشوت متانی اور ناجائز سیاست اور غیر قانونی کاروباری سے اکٹھا کرنا خوش قسمتی؛ سمجھا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ( شائد پہلے کے دور ہمارے دور سے مختلف نہیں تھے ) تاہم جیسے یسوع نے محصول لینے والے متی سے محبت کی ، یسوع آج بھی بدعنوان لوگوں کو چاہتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے توبہ کریں یسوع، کے پاس آئیں اور اپنے مظلوم لوگوں کو ادائیگی کریں
سوال: افسیوں 4 باب 29 آیت کیوں مسیحوں کو لعنت نہیں کرنی چاہیے؟
جواب: محض اس لیے کیونکہ بائبل ایسا کرنے کو نہیں کہتی ہے یعقوب 3 باب کی 10 – 12 آیت کہتی ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ لعنت اور خدا کی تعریف ایک ہی سر سے نکلتی ہے – اور یہ جھی سچ ہے کہ پطرس نے لعنت کی جب اس نے مسیح کا انکار کیا ، اس کےبعد پطرس رویا اور اپنے گناہ پر پچھتایا-
سوال: افسیوں 5 باب کی 11 آیت ، جبکہ مسیحوں کا تاریکی کے کاموں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا کیا مسیحی وکیلوں کو اپنے ان موکلوں کا دفاع کرنا چاہیے جنہیں معلوم ہو کہ وہ قصور وار ہیں؟
جواب: عام طور پر ایک کرامینل ڈیفنس وکیل ہونے کے ناطے آپ کے لیے اس صورت حال میں روزی کمانا مشکل ہو جاتا ہے اگر آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے ہیں ، سچائی کو سہارہ دیں اور اپنے موکلوں کا دفاع کرنے سے انکار کریں جس کےبارے میں آپ کو معلوم ہو کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں ، ایک مسیحی کرامینل وکیل ہونے کے ناطے آپ کو یہی کرنا ہو گا تاہم حتی کہ وہ لوگ جو مجرمانہ استدعا رکھتے ہیں اور ان کو انصاف کی صرورت ہوتی ہے اور وہ تھوڑی سزا کے لیے دلیل دیتے ہیں- دراصل تمام مسیحوں کو اس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ جھوٹ بولنا اور کسی شخص کو معلوم ظاہر کرنا جبکہ وہ حقیقت میں مجرم ہے تو ایک مسیحی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے-
سوال: افسیوں 5 باب 14 آیت ، ہر آیت پہلے کیا کہی گئی تھی ؟
جواب: ٹھیک طور پر یہی الفاظ پرانے عہدنامے میں نہیں تھے ،۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جس میں پہلے جو بیان کیا گیا ہو ، یہ شاعرانہ آیت غالبا ابتدائی مسیحی زبور سے لی گئی تھی جیسے کہ پولوس اپنی ابتدائی پڑنے والوں کو پہچان کرواتا ہے –
سوال: افسیوں 5 باب کی 18 آیت میں حقیقت میں شراب میں متوالے ہونے میں کیا خرابی ہے ؟
جواب: ایک وجہ ہے اور یہی ایک وجہ کافی ہے : خدا ہمیں حکم دیتا ہے کہ شراب میں متوالے مت بنو اکثر لوگ اپنی خوشی کے لیے ، اپنے غموں کو بھلانے کے لیۓ یا پھر عادی ہونے کی صورت میں شراب پیتے ہیں – اس وجہ سے کہ جب انہیں پینے کے لیے شراب نہیں ملتی تو وہ بہت برا محسوس کرتے ہیں- ایک مسیحی کو قابو سےباہر نہیں ہونا چاہیے یا اسے مرد یا عورت کو اپنے اوپر کنٹرول رکھنا چاہیے – ایسے نقصانات میں جسم کو نقصان پہنچتا ہے یہ آپ کے تعلقات کو خراب کر سکتی ہے اپنی نوکری کو برقرار رکھنے پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور یا آپ کے روپے پیسے پر اثر انداز ہو سکتی ہے –
سوال: کیا افسیوں 5 باب کی 18 آیت ایک بار لوح سے معمور ہونا ہے یا متواتر ہوتے رہنا کا حوالہ ہے ؟
جواب: یونانی فعل حال یہاں پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک دفعہ معمور ہونا نہیں ہے بلکہ بار بار معمور ہونا ہے –
سوال: افسیوں 5 باب کی 22 آیت ، کیوں بیویوں کو اپنے شوہروں کی تابعداری ہونا چاہیے؟
جواب: اس کے دو متلازم جوابات ہیں
1 – اگر ایک بیوی خدا کی تابعداری کرنا چاہتی ہے تو جو کچھ یہاں پر حکم دیا گیا ہے اس کی تابعداری کرنا ہو گی ، بیویوں کو اپنے خاوندوں کی وفاداری ہونا چاہیے ، چاہے اس کا شوہر مسیحی ہو یا نہ ہو ، تاہم ، یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بیویاں اپنے خاوندوں کی اس وقت تابعدار نہ ہوں جب ان کے شوہر کی مرضی اور خدا کی خواہشات میں تضاد ہو ، اس معاملہ میں ، انہیں خدا کی پیروی کرنی چاہیں جو کہ اعلی اختیار رکھتا ہے
2 – بیویوں کا اپنے شوہروں کی تابعداری کرنا مسیحی ازدواج کی کہانی کا اختتام نہیں ہے ، شوہروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں سے ایسے محبت رکھیں جیسے مسیحی نے ان کے ساتھ رکھی ( افسیوں 5 باب کی 25 آیت ) افسیوں 5 باب 21 آیت کے مطابق سب کو حکم ہے کہ وہ مسیح میں ایک دوسرے کے تابع رہیں –
سوال: افسیوں 5 باب 22 آیت کیا یہ سچ ہے کہ بائبل بھی کھل کر اس بیان کی وضاحت نہیں کرتی کہ بیویوں کو اپنے شوہروں سے محبت رکھنا ہے ؟
جواب: یہ ایک جھوٹا بیان ہے جو میں نے سنا ہے بائبل فرماتی ہے ططس 2 باب 4 آیت کہ عورتوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہروں سے محبت رکھیں
سوال: افسیوں 5 باب کی 32 آیت ، کیوں بیویوں کو چاہیں کہ وہ اپنے شوہروں کی عزت کریں؟
جواب: انہیں ایسا کرنا چاہیے اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہے سواۓ اس کے کہ خدا اس کا حکم دی؛تا ہے تاہم ، ہم بہت ساری وجوہات دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے لیۓ یہ بہتر کیوں ہے کہ خدا کو یہ حکم دینا پڑا ، بحیحّیت شوہر کے میں بیوی کی عوت کرتا ہوں ، اس بات سے بچوں کو اپنے والد کی تابعداری اور عزت کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے جب ان کی ماں اپنے شوہر کی عزت کرتی ہے اس لیۓ اور شوہروں اور بیویوں کے یہ لازم ہے کہ وہ ایک دوسرےپر بچوں کی موجودگی میں تنقید مت کریں – اور جس طریقے سے آپ توقع نہیں رکھتے بچے آپ کو دیکھتے اور آپ کی بے خبری میں اپ کے رویہ کو نمونہ بناتے ہیں- ایک بار اچانک میں نے اپنے بچوں کو خاندان کی صورت میں سنا ایک بڑی بہن کا کردار ادا کر رہی تھی ، اور دوسری چھوٹی بہن کا ، ایک ماں بنی ہوئی تھی اور دوسری خاوند –
سوال: افسیوں 6 باب کی 1 آیت جب کہ بچوں کو اپنے والدین کی تابعداری کرنی چاہیے اور اگر والدین بچوں کو یہ کہے کہ وہ مسیحی عقیدے کو چھوڑ دیں تو پھر ؟
جواب: اس کے جواب کے دو اہم نکات ہیں:
غیر ایماندار والدین بھی : افسیوں 6 باب کی 1 آیت ہرگو ایسا نہیں کہتی کہ جو والدین مسیحی ہیں صرف ان ہی کی تابعداری کرو بلکہ والدین کی عزت ان کے ایمان سے قطع نظر ہو کر کرو –
صرف خداوند میں: افسیوں 6 باب کی 1 آیت میں پولس زور دے کر اس بیان کو مضبوطی دیتا ہے کہ خداوند میں اپنے والدین کی تابعداری کرو ہمیں والدین اور حکومت کے اختیار کی اس حد تک تابعداری کرنا چاہیے جب تک وہ خداکے کلام سے متصادم نہ ہوں –
جیسا کہ ایک تاریخی نوٹ یعنی یہ جواب بنیای طور پر جان کری سوسٹم کا ہے جس نے اس کو ہو میلنر اون افیشین 396 بعد از مسیح
سوال: افسیوں 6 باب 1 ، 4 آیت ، بچوں کے لیۓ یونانی لفظ میں عمر کی حد کیا ہے ؟
جواب: عمر کی حد کوئی نہیں ہے ، جیسا کہ یونانی لفظ کا حقیقی مطلب " اولاد " ہے نہ کہ جوان شیر خوار
سوال: افسیوں 6 باب کی 2 آیت میں ، پولس نے یہ کیوں کہا تھا " پہلا حکم " یہی ہے جبکہ دراصل دس احکام میں پانچواں حکم ہے ؟
جواب: اس چھوٹے فقرے میں " پہلا حکم " لفظ " دی " یونانی زبان میں نہین ہے پہلے کا مطلب ابتدائی ، اور یہ ابتدائی احکامات میں سے ایک ہے ، بے شک ، یہ حکم بھی پہلا ہے کہ چھوٹے بچے سیکھیں-
سوال: افسیوں 6 باب کی 3 آیت ، کیا آیت کا ترجمہ " ملک میں " یا " زمین پر " ہونا چاہیے؟
جواب: پولس خروج 20 باب کی 12 آیت اور استثنا 5 باب کی 16 آیت سے حوالوں کو بیان کر رہا ہے عبرانی اور یونانی میں ( بشمول تورایت کا یونانی متن مع اسفار محرفہ ) تمام تینوں آیات میں ترجمہ " زمین " یا " ملک " بھی ہو سکتا ہے – تاہم ، دونوں خروج 20 باب کی 12 آیت اور استثنا 5 باب کی 16 آیت کہتی ہیں ---- تیری عمر اس ملک میں میں جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے دراز ہو – اسطرح ، متن ملک کنعان ہے نہ کہ " زمین " جبکہ پولس کہہ رہا ہے کہ وہ پہلے حکم کا حوالہ دے رہا ہے کہ دونوں معنی لینے کی اجازت ہے مگر ابتدائی مطلب " ملک" ہے –
سوال: افسیوں 6 باب کی 3 آیت ، خروج 20 باب 12 آیت اور استثنا 5 باب 16 آیت ، حقیقت میں یہاں وعدہ کیا ہے ؟
جواب: مسیحی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ وعدہ ایک طرح سے نہیں بلکہ چار طرح سے سچا ہے
مشترکہ طور پر : جیسا کہ پچھلے سوال کاجواب ظاہر کرتا ہے کہ پرانے عہدنامے کا وعدہ حقیقت میں کیا گیا تھا تاکہ لوگ ملک کنعان میں بغیر جلا وطنی کے لمبے عرصہ تک رہ سکیں- اس کو مزید یوں عام کیا جا سکتا ہے یعنی مشترکہ اصول مغربی تاریخ پر زیادہ نگاہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مسیحت اس خطے میں مضبوط رہی ہے تو یقینا بچوں کو اپنے والدین سے سیکھنا چاہیے – مشترکہ وعدہ کی ایک اور مثال 2 تواریخ 7 باب کی 14 آیت میں ہے " تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاۓ ہیں خاکسا بن کر دعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سن کر ان کا گناہ معاف کروں گا اور ان کے ملک کو بحال کردوں گا "
انفرادی طور پر : جیسا کہ پولس تعلیم دیتا ہے کہ یہ حکم اور وعدہ آج بھی ہم پر لاگو ہوتا ہے افسیوں 6 باب کی 3 آیت ہرگز وعدہ نہیں کرتی کہ مسیحی دوسروں کی نسبت زیادہ عرصہ کی عمر پائیں گے ، مگر خدا کی حفاظت سے ،مسیحی اولاد دوسروں کی نسبت زیادہ عرصہ تک زندگی بسر کریں گے ، حتی کہ اگر کوئی 25 سال کی عمر میں مر جاتا ہے تو وہ ان دوسروں کی نسبت زیادہ ہے جو 20 سال کی عمر میں مر گۓ تھے – انفرادی وعدہ کی ایک اور مثال متی 19 باب کی 29 سے 30 میں ہے جہاں پر وہ تمام لوگ جنہوں نے اپنے گھروں اور خاندان کو یسوع کی خاطر چھوڑا وہ اگلے جہاں میں ہزار گناہ اور ابدی زندگی کے وارث ہوں گے –
زندگی کا معیار: تینوں آیات نہ صرف لمبی زندگی کا وعدہ کرتی ہین ، بلکہ یہ کہ تم بہتر زندگی پاؤ گے ، اس سے بڑھ کر یہ کہ یونانی لفظ " عمر دراز " دلچسپ لفظ ہے :"میکروکرونیس " جس کا حقیقی مطلب "لمبا عرصہ " ہے کسی شخص کے بارے میں ایک لطیفہ ہے ایک بوڑھا شراب کے نشے میں دھت تھا اور سر جھکاۓ لڑکھڑاتا ہوا جا رہا تھا اور اس کیے کردے خراب تھے اس کے چہرے پر جھائیاں نمایاں تھیں کہ ایک لڑکی نے پوچھا ، " یہ کیسا ہوا ہے بوڑھے آدمی ، تم نے وندگی میں اس قدر زیادہ شراب پی ہے اور پھر بھی اتنی لمبی عمر پائی ہے ؟ شرابی نے جواب دیا " بوڑھا آدمی کیوں ! میں تو ابھی 30 سال کا ہوں " نہ صرف خدا ہماری حفاظت کرتا ہے ، بلکہ ہمارا رہنے کا انداز اگر صاف ستھرا ہو ، نشے کے عادی نہ ہونا ، ڈرگ کا استعمال نہ کرنا اور نہ بے راہ روی کا شکار ہونا ، زمین پر آپ کی زندگی کا دائرہ محیط بڑھیگا-
زندگی کے وعدے کے معیار کی ایک اور مثال خروج 23 باب کی 26 آیت میں ہے ، جہاں پر خدا تابعدار اسرآئیلیوں سے وعدہ کرتا ہے کہ بیماری اور اسقاط حمل تمھارے بیچ سے جاتا رہے گا اور خدا تمہاری زندکی کے ایام کو پورا کرے گا " جو کہ افسیوں 6 باب کی تین آیت میں بیان کردہ وعدہ کی طرح لگتا ہے –
ہزار سال کے لیے بے شک ، مکاشفہ 20 باب کی 4 آیت میں ، مسیحی زندگی حامل کریں گے – اور مسیح کے ساتھ 1000 سالہ بادشاہی ہی میں شامل ہوں گے – یعنی مردوں کے آرام سے جی اٹھنے سے پہلے – وعدوں کی دوسری مثالیں جو کہ ہوار سال کے لیے ہو سکتی ہیں : حزقی 37 باب میں اسرائیلیوں کا دوبارہ جی اٹھنا ، اور حزقی ایل 40 سے 47 میں ہیکل کا دوبارہ بننا بشمول حزقی 47 باب میں ان پر پانی کا چھڑکاؤ ہونا-
سوال:افسیوں 6 باب 4 آیت ، کیہ والد کو اپنے بچوں کو غصہ دلوانا چاہیے؟
جواب: والد کو اپنے بچوں کو سخت برہم نہیں ہونے دینا چہیے اور کلسیوں 3 باب کی 21 آیت تقریبا ایسا ہی کہتی ہے کہ باپ اپنے بچوں کو غصہ نہ دلواۓ ، خدا خوف والدین یہ حق نہیں رکھتے کہ بغیر سوچے سمجھے اپنے بچوں سے برا برتاؤ کریں ، وہ بغیر کسی نیک وجہ کے واپنے بچوں کو ناراض نہیں کرتے ، جیسا کہ تنظیم کے طور پن جسمانی سزا (تھپڑ ) ٹھیک ہے اور بعض اوقات ضروری بھی ہے جیسا کہ امثال 13 باب کی 24 آیت ؛ 22 باب کی 15 آیت ؛ اور 23 باب کی 13 – 14 آیت ظاہر کرتی ہے –
سوال: افسیوں 6 باب کی 4 آیت میں ، کس طرح سے والدین اپنے بچوں پر غصہ کر سکتے ہیں ؟
جواب: واحد یونانی لفظ " etezigroraP" یہاں پر استعمال ہوا ہے ، رومیوں 10 باب کی 19 آیت ، کلسیوں 3 باب کی 21 آیت ، اس کا حقیقی مطلب " غصہ کے لیے ابھارنا " یعنی اشتعال دلانا ہے ، یہ آیات واقعی ایک انقلابی آیت ہے جیسا کہ اس کو اس معاشرے میں کہا گیا ہے جہاں پر باپ کا اختیار حقیقی اور بچے کے جذبات کا خیال نہیں رکھا باتا ہے –
آپ کو ان کی بھلائی کے لیۓ ان کو سلیقہ سکھانا چاہیے نہ کہ ان کے جذبات کی بنیاد پر ان کے ساتھ ایسے سلوک کریں کہ جس قدر وہ خدا کو عزیز نہیں ویسے ہی آپ کو بھی عزیز ہوں ، کیونکہ وہ اہم ہیں ، انہیں مت جھڑکے نہ چھوٹا کریں اور نہ ہی ان کے حوصلہ پست کریں ، سواۓ اس کے کہ وہ مانتے ہوں کہ آپ ان کی تربیت کے لیۓ ایسا کر رہے ہین ، آپ کو انہین وہی عوت ، اخلاق ظاہر کرنا چاہیے جو آپ کسی اپنے جوان دوست پر ظاہر کرتے ہیں جس میں دھونس دینے کی کمی ہوتی ہے – یہاں پر ایک فسہرست ہے جس میں چند طریقے ہیں کہ کس طرح والدین بچوں پر غصہ کر سکتے ہیں کہ یہ طریقے جینی گٹس نے 16 جنوری 2000 کو ایک پیغام میں بیان کۓ تھے –
جسمانی تشدد: بشمول سلیقہ بندی جب آپ کا غصہ کنٹرول سے باہر ہو –
ذہنی طور پر مذموم برتاؤ:بشمول شرمندگی انہین رد کرنا ان کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا
منافقت: والدین اپنے بچوں سے ایسے رویہ کی توقع رکھتے ہیں جو کہ وہ خود نہیں رکھتے
ان سے بہت زیادہ توقعات لگانا
ان کا کارکردگی کے معیار پر لا کھڑا کرنا
ان کو مجبور کرنا کہ ہمارے مقاصد اور نظریات کو قبول کریں جو کام نہیں کر ين گے اور نظریات ان کے ہونے چاہیں جب وہ غیر ارادی طور پر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں
سوال: افسیوں 6 باب کی 5 سے 8 آیت ، کیا بائبل غلامی کی حمایت کرتی ہے ؟
جواب: بائبل بتا چکی ہے کہ کچھ مسیحی غلام تھے ، اور اس نے غلام رکھنے کی اجازت دی ، تاہم 1 کرنتھیوں 7 باب کی 21 ، 23 آیت میں یہ قیدیوں کے لیے رہائی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے دیکھیں مزید معلومات کے لیے
بائبل نے برداشت کیا ہے کہ ایک مسیحی کا غلام ہونا اور ایک مسیحی کا غلام رکھنا جبکہ اس وقت میں غلام رکھنا ثقافت سے الگ نہ تھا ،تاہم ، مسیحی مالکوں کو اجازت نہ تھی کہ وہ اپنے غلاموں سے جس طرح غیر مسیحی اپنے غلاموں سے برتاؤ کرتے ہیں ویسا نہ کریں ، نۓ عہدنامے میں ،مالکون کو زیبا نہیں کہ وہ اپنے غلاموں کو دھمکاۓ ( افسیوں 6 باب 9 آیت ) اور مالکوں کو چاہیں کہ وہ اپنے غلاموں سے دوست اور راستبازی سے سلوک کریں ( کلسیوں 4 باب کی 2 آیت )
سوال: افسیوں 6 باب کی 9 آیت اور 1 پطرس 2 باب کی 18 آیت میں ، کیوں خدا نے مالکوں کو یہ نہ کہا کہ وہ اپنے غلام آزاد کریں؟
جواب: غلام کہاں جائیں گے ؟رومی حکومت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد غلامی میں تھی جو کہ آزاد لوگوں کی حیثیت سے اپنی روزی روٹی بمشکل ہی پوری کرتے تھے اس دور میں ، بہتر یہی تھا کہ آپ کا مالک مسیحی ہو جس نے یہ جانا کہ ہم دونوں کامالک خدا ہے ، بجاے اس کے کہ اس کو بغیر کسی مہارت یا امداد کے آزاد کیا جاتا ، ایک مسیحی مالک اپنے غلاموں کی بے غزتی نہیں کرتا تھا اور نہ ہی جنسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا یا ایسا کوئی کام کرنا بلکہ وہ خدا کے سامنے برابر ہوتے ہوۓ اس سے سلوک کرتا تھا پچھلے سوال کو بھی دیکھیں
سوال: افسیوں 6 باب کی 13 آیت میں ،حقیقت میں وہ کون یا کس لیۓ ہم سخت کوشش کر رہے ہیں؟
جواب: یہ اہم ہے کو ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری جدوجہد محض انسانی جہالت کمزوری اور تعصب کے حلاف نہیں ہے اور نہ ہی یہ اس لیے کہ پہلے سے اچھے لوگوں کو بتانے ، ان کی مدد کرنے اور ان کو سیدھا راستہ دکھانے کی ضرورت ہے بلکہ تمام دنیا ایک بدکار کے زیر قابو ہے ( 1 یوحنا 5 باب 19 آیت ) اور خدا کا دشمن ہے ( رومیوں 8 باب 7 آیت ) ہماری جدوجہد اس صورت میں غیر معمولی ہے کہ خدا ہمیں کرنے کے لیے وہ کام دیتا ہے جہ کہ مکمل طور پر بے اثر ہو جا ئینگے اگر ہم ان کو اپنی قوت سے کرنے کی کوششش کتے ہیں بلکہ خا ہم سے توقع رکھتا ہے کہ جو کام ناممکن ہے وہ کریں لیکن خدا سے سب کچھ ممکن ہے
سوال: افسیوں 6 باب کی 13 آیت میں ، حقیقت میں خداوند میں مضبوط ہونے اور خدا کے ہتھیار رکھنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب: یہ اختیاری نہیں ہے یعنی بد رکھنے کے لیے اچھا ہے بلکہ تین وجوہات کے لیۓ انفرادی اثر اور حفاظت کے لیے ضروری ہے ہمارے خلاف کون ہے ؟ ابلیس اور تاریکی کی قوتیں مضبوط ، عقل مند اور ترکیب کار ، بغیر ہتھیاروں کے خوبصورت ہو سکتیں ہیں مگر وہ خون کی سیاسی ، ظالم اور جابر ہیں اور ہمیں براۓ راست اور واضع دونوں حملوں سے تحفظ کی ضرورت ہے ،ہمارا کام ہمیں ابلیس کے منصوبوں کے بر خلاف کھڑا ہونا ہے ( افسیوں 6 باب 11 آیت ) ہمیں تاریکی مووجودہ کی قوتوں سے لڑنا ہے ( افسیوں 6 باب کی 13 – 14 آیت )
جب کہ ہمیں قائم ہونا ہے مسیحی ہوتے ہوۓ خدا کی مدد سے اور فضل سے ہمیں ہمیشہ توقع رکھنی چاہیے کہ ہم قائم رہیں گے خاص طور پر اس وقت جب برے ن آنے والے ہیں ( افسیوں 6 باب کی 13 آیت )
بالکل ویسے جب ایک سپنا ہی بغیر ہتھیار اور لباس کے لڑائی کرنے سے ہچکچاتا ہے ، اور بالکل ویسے جیسے ایک ایتھلیٹ الپی کھیل کے سامال کے بغیر دوڑنا سے کتراتا ہے اسی طرح ایک مسیحی کو اپنے روحانی ہتھیاروں کے بغیر زندگی گوارنے اور ایمان میں رہنے کی جنگ میں ہچکچانا چاہیے
سوال:افسیوں 6 باب کی 14 آیت کیا سچائی سے کمر کسنا خدا کی سچائی ہے ، ہماری سچائی یا پھر ہماری سچائی سے فرق ہے ؟
جواب: یہاں پر سچائی کے لیے یونانی لفظ (letheiaa) استعمال ہوا ہے جیسا کہ انگریوی میں ٹرتھ ، جس کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے ، مگر متن کے لحاظ سے اس کے دو نظریے ہو سکتے ہیں
ایمان رکھنے والوں کی ایمانداری اور وفاداری نہ کہ انجیل کے حقائق
جان کری سوسٹم افسیوں پر اپنی واۓ میں ایک مکمل واعظ(23 ) اسی آیت پر کرتے ہیں ، وہ اپنا نکتہ کو ہماری سچائی ، مقدس زندگی کے ابتدائی پہلو پر مرکوو رکھتے ہیں ، لیکن صفحہ نمبر 164 پر وہ پوچھتے ہیں کہ کس طرح ہم سچائی سے ہم اپنی کمریں کستے ہیں اور استعاری طور پر کہتے ہیں ، جو سچائی کی تعلیم کی تلاش کرتا ہے وہ کبھی بھی زمین پر نہیں گریں گے –
مرکزی خیال میں ، ہماری کمریں سچائی کے تمام پہلوؤں سےکسی جانی چاہیں : ہمیں نہ طرف سچائی کے دریعہ پر ایمان رکھنا چاہیں بعنی خدا بلکہ اپنے آپ کو تبدیلی کرنے کے لیے اس کو اپنی زندگی میں گہرا ہونے دینا جاہیں ، اور اسطرح ہم اس قابل ہوںگے کہ اس جہان میں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ
سوال:افسیوں 6 باب کی 16 آیت ، ہمیں دوسرے خول کے ساتھ سپر کی کیوں ضرورت ہے ؟
جواب: اگر آپ پہلے ہی سچائی سے کمر کس چکے ہیں اور راستبازی کا بکتر لگا چکے ہیں ، تو پھر بھی آپ کو شیطان کے جلتے ہوۓ تیروں سے تحفظ کے لیے ایمان کی سپر کی ضرورت ہے عبرانیوں 11 باب ایمان کی بہت ہی اچھی مثالیں پیش کرتا ہے
سوال: افسیوں میں، ہمارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ کتاب بائبل ممقدس میں ہونی چاہیے ؟
جواب: کم از کم چار بہتر وجوہت ہیں
1 – پولس نے اسے تحریر کیا ، اور وہ ایک رسول تھا ، پطرس نے تصدیق کی کہ پولس کے الفاظ کلام مقدس میں جو 2 پطرس 3 باب کی 15 ، 16 آیت میں ہیں
2 – پولس نے خود 1 تیمتھیس 1 باب آیت ، 2 باب 7 آیت ، رومیوں 1 باب کی 1 آیت ، 1 کرنتھیوں 1 باب 1 آیت ، 9 باب کی 1 آیت ، 2 کرنتھیوں 1 باب 1 آیت ، 11 باب 5 آیت ، گلتیوں 1 باب 1 آیت ، افسیوں 1 باب 1 آیت کلسیوں 1 باب 1 آیت ، 2 تیمتھیس 1 باب 1 آیت ططس 1 باب 1 آیت میں کہا کہ وہ رسول ہے
4 – تاکیدیں اور جوالہ جات ابتدائی مسیحی مصنفین سے ہیں – اگنٹس کا افسیوں کو خط ( 110 – 117 بعد از مسیح ) باب 1 حوالہ افسیوں 5 باب 2 آیت اور وہ 12 باب میں کہتا ہے کہ پولس اپنے خط مین افسیوں کا ذکر کرتا ہے اگنٹس کا پولس کارپ کو خط 5 باب افسیوں 5 باب کی 25 آیت کا حوالہ دیتا ہے
پولی کارپ کا فلپیوں کو خط ( بشپ 100 – 155 بعد از مسیح ) افسیوں 2 باب 8 – 9 آیت اور 4 باب کی 26 آیت کا بہت ساری دوسری آیات کے ساتھ حوالہ دیتا ہے بشغیر کسی زریعہ کے سواۓ یہ کہنے کے کہ وبور 4 کی 5 آیت اورافسیوں 4 باب کی 26 آیت کے حوالہ " کلام مقدس میں ان کوبیان کیا جاتا ہے " ہیں ایرنیس ( 182 – 188 بعد از مسیح ) بہت ساری جگہوں پر ایک جگہ پر وہ افسیوں 5 باب کی 30 آیت کا حوالہ دیتا ہے جیسا کہ پولس ایرنیس ہریسس کے خلاف کتاب 5 باب 2 کی 2 آیت صفحہ نمبر 5 میں افسیوں کے نام اپنے خط میں حوالہ دیتا ہے
بدعتی مارکین سے ( 170 بعد از مسیح سے پہلے ) ہم ٹرٹولین اور افینینس کے مطابق جو افسیوں 1 باب 1 اور 18 آیت 3 باب 9 آیت ، 4 باب 6 آیت ، 5 باب 14 آیت ، 6 باب 1 آیت ، 12 ، 19 ایت سے حوالہ دیتے ہیں رکھتے ہیں
سیلٹین مارٹنر کا جیمر ( 180 – 202 بعد از مسیح ) ذکر کرتا ہے کہ مسیحی لوگوں کے پاس پولس کی تحریریں بغیر یہ کہے کہ یہ کونسے خط تھے موجود ہیں
موریٹوینن کینن ( 190 – 217 بعد از مسیح ) میں ذکر پایا جاتا ہے کہ پولس نے اپنے خطوط میں سات کلیساؤن کا ذکر کیا ہے ، کرنتھیوں ( 2 خطوط ) افسیوں، فلپیوں گلتیوں ، تھسلنیکیوں ( 2 خطوط ) رومیوں پولس نے فلیمون ، ططس اور تیمتھیس کو بھی دو خطوط لکھے
الیگزینڈریا کا کلیمنٹ ( 193 – 217 اور 220 بعد او مسیح ) میں رسول کا افسیوں کو خط اور افسیوں 4 باب کی 13 سے 15 آیت کا حوالہ کا ذکر بھی پایا جاتا ہے تعلیمی کتاب 1 5 باب ، صفحہ نمبر 213
ٹری ٹولین 207 بعد از مسیح میں لکھی گئی کہ جسم کے دوبارہ جی اٹھنے میں پولس رسول کی طرف سے تھی اس کے 40 باب میں ٹری ٹولین نے کہا کہ پولس نے افسیوں کو خط لکھا ، کتاب 14 ٹری ٹولین کا مارکین کے خلاف ہونا 5 باب ( 207 بعد از مسیح ) یہ کتاب تھی جو رسولوں سے ہو کر آتی تھی ، جس کو کلیساؤں کے رسولوں نے مقدس جان پر قبضہ میں رکھا –تھیوڈیٹس ( غالبا مونٹیسنٹ ) 240 بعد از مسیح ) افسیوں کا ذکر کرتی ہے نبوتی کلام مقدس سے چناش ، 20 باب صفحہ نمبر 45
گونسوٹک ناس اینس ( 923516 بعد از مسیح سے پہلے ) ہپ پولی ٹس کے مطابق ری فیوٹیشن آف آل ہیری سیز کتاب 5 باب 2 صفحہ نمبر 51 میں افسیوں کا حوالہ ملتا ہے
ہپ پولی ٹس ( 225 – 236 بعد از مسیح ) افسیوں 5 باب کی 14 آیت کا یوں حوالہ دیتی ہے جیسے یہ کتاب 5 دی ری فیوٹیشن آف آل ہیری سیو میں کلام مقدس ہو باب 2 ، صفحہ نمبر 51
اوریجن ( 225 – 254 بعد از مسیح ) میں افسیوں 6 باب کی 12 آیت کا حوالہ یوں دیتی ہے کہ یہ پولس کی طرف سے خط افسیوں کے نام ہے ڈی پرنسپائیز کتاب 3 ، باب 4 صفحہ نمبر 332 نو ویٹین ( 250 ، 254 سے 257 بعد از مسیح 9 افسیوں 4 باب کی 10 آیت کا حوالہ یوں دیتی ہے کہ یہ ٹری ٹائیز کنسرنگ دی ٹرینٹی باب 17 ، صفحہ نمبر 627 میں پولس کی طرف سے ہے
نو ویٹین کے خلاف ٹری ٹائیز ( 254 – 256 بعد از مسیح ) باب 17 ، صفحہ نمبر 663 میں افسیوں 5 باب کی 6 ، 7 آیت کا حوالہ یوں دیا جاتا ہے کہ یہ کارتھیج کے بشپ رسول سائپرن سے ہے( 248 – 258 بعد از مسیح ) وہ ٹری ٹائیز 12 کی تیسری کتاب 7 ، 70 ، 72 ، 117 میں پولس کے افسیوں کے نام سے حوالہ دیتا ہے –
سائپرن سے قیصر کا فرملین ( 256 بعد از مسیح ) سائپرن کے خطوط خط 74 ، باب 24 صفحہ نمبر 396 میں افسیوں 4 باب کی 5 – 6 آیت کا حوالہ دیتا ہے –
ایٹ دی سیونتھ کونسل آف کار تھیج ( 258 بعد از مسیح ) صفحہ نمبر 571 ، وکٹر آف ایسوری افسیوں 4 باب کی 5 آیت کے مضمون کی تکریر یوں لکھتا ہے " یہ لکھا جاتا ہے "
گورجری تھیوم ایٹیگورس ( 240 – 256 بعد از مسیح ) یہ کہہ کر افسیوں 5 باب کی 5 سے 13 آیت کے تین کو دوسرے الفاظ لکھتا ہے " کلام مقدس یوں فرماتا ہے " کینیکل آپسٹل صفحہ نمبر 18 باب نمبر 2
آرچیلوس ( 262 – 278 بعد از مسیح ) افسیوں 3 باب کی 8 آیت کا آدھا حوالہ دیتی ہے جیسا کہ پولس ڈیسوٹیشن ود مینس باب 34 ، صفحہ 207
ایڈا مینٹس جو ڈیسس ( 300 بعد از مسیح ) رسول کی طرف سے افسیوں کی طرف افسیوں 2 باب 11 سے 13 آیت کا حوالہ دیتی ہے – ڈائیلوگ اون دی ٹروفیتھ ان گوڈ دوسری حصہ صفحہ 99
ویکٹر وینس آف پیٹئو ، آسٹریا ( 304 میں شہید ہوا ) پولس کے رومیوں ، کرنتھیوں ، گلتیوں ، افسیوں ، تھسلنیکیوں ، فلپیوں کلسیوں ، تیمتھیس کے نام خطوط کی فہرست بناتا ہے
پیٹر آف الیگزینڈریا ( 306 ، 285 – 311 بعد از مسیح ) پولس کی طرف سے فریگمینٹ 2 اون دی گوڈ ہوڈ صفحہ 250 میں افسیوں 2 باب کی 8 – 9 آیت سے حوالہ دیتا ہے
میتھو ڈیس ( 260 – 312 بعد از مسیح ) پولس کی طرف سے افسیوں 5 باب کی 28 سے 30 آیت کا حوالہ دیتا ہے – بنکیوٹ آف دی ٹن ورجنز تیسری تحریر باب 2 صفحہ نمبر 317 جانب سے افسیوں 3 باب کی 18 آیت کا حوالہ دیتا ہے – اینکارنیشن آف دا ورڈ صفحہ 45 باب 16
لیکٹینیٹس ( 315 – 325 – 330 بعد از مسیح ) افسیوں 4 باب کی 26 آیت کا حوالہ یوں دیتا ہے " سورج کے غروب ہونے تک ہمارا غصہ نہ رہے خدا اس بات میں ہمارے ساتھ شامل ہوتا ہے "
دی ڈیوائین انسٹیٹو ٹینز کتاب 6 ، باب 18 صفحہ نمبر 185
آفسٹر نیسیا: یوسیسس اکسکلیسٹیل ہسٹری ( 323 – 326 بعد او مسیح ) کتاب 3 ، باب 3 صفحہ 134 ( زور دیکر ) وہ کہتا ہے ، " پولس کے 14 خطوط جانے پاچانے اور ناقابل اعتراص ہیں ، پھر وہ کہتا ہے پولس کا عبرانیوں کا لکھنا کچھ متنازعہ ہے وہ کتاب 3 باب 25 صفحہ نمبر 155 میں یہ بھی کہتا ہے کہ پولس کے خطوط کلام مقدس ہیں ، نائیسین اور پوسٹ نانیسین فادرز سیکنڈ سیریز والیم 1 صفحہ 155 آسٹریسس دی سیرین ( 337 – 345 بعد از مسیح ) سیلیکٹ ڈی مونسٹریشن مورائیس ریپلے ٹوکین ڈی ڈسبس دی آرئین ( 359 – 362 بعد از مسیح )
وکٹر نیوس آف روم ( 363 بعد او مسیح کے بعد )
بیسل آف القرا ( 364 بعد از مسیح )
اینتھینس ( 367 بعد از مسیح ) فیسٹل لیٹر 39 صفحہ نمبر 552 میں نۓ عہنامہ کی کتابوں کی فہرست بناتا ہے
ہیلری آف ٹوٹیٹرز ( 367 بعد از مسیح میں وفات پائی )
مارسوایلس آے انقرہ ( 374 بعد از مسیح )
ططس آف بوسترا ( 378 بعد از مسیح سے پہلے )
افرائیم دی سیراین زبور نویس ( 350 – 378 بعد از مسیح ) بیسل آف کویوڈوسیا ( 357 – 378 بعد از مسیح )
ایمبرسٹر ( 384 بعد از مسیح کے بعد )
دی ہیرٹک پرسیلین ( 385 بعد از مسیح میں قتل ہوا )
سیرل آف یروشلم ( 349 – 386 بعد از مسیح ) لیکچر 21 صفحہ نمبر 8 میں پولس کی جانب سے افسیوں 2 باب کی 10 آیت کا حوالہ دیتا ہے
ایمبروز آف مائی لن ( 370 – 390 بعد از مسیح )
گورجری آف نامری ( 330 – 391 بعد از مسیح )
گورجری آف ایلویرا ( 392 بعد از مسیح کے بعد )
گورجری آف ناسا ) 356 – 397 بعد از مسیح ) پولس کی طرف سے افسیوں 3 باب کی 18 آیت کا ذکر کرتا ہے یعنی افسیوں کے لوگوں کو پولس کا خط " دی گریٹ کٹیا کیزم میں بھی باب 32 صفحہ نمبر 150
جان کری سو سٹم 396 بعد از مسیح افسیوں پر 23 پیغام لکھنے جو ہمارے پاس آج بھی ہیں ، اس نے کہا یہ پولس کی طرف سے ہے
ڈی ڈومس ( 398 بعد او مسیح )
دی سکیز میٹک یوسیفر آف کیگر ، سردینہ ( 361 بعد از مسیح ) افسیوں 5 باب کی 9 ، 15 آیت کا حوالہ دیتا ہے – افیسی فینیس آف سلامیز ( 360 – 403 بعد از مسیح) روفینیس ( 374 – 406 بعد از مسیح )
سوئیراین ( 408 بعد از مسیح )
دی ہیرٹک پیل اگیس ( 418 بعد از مسیح )
اوری سی ایس /ہوسی ایس آف باراگا( 414 سے 418 بعد او مسیح ) رسول کی طرف سے افسیوں 4 باب کی 7 آیت کا آدھا حوالہ دیتا ہے ، ڈیفنس اینگشٹ پیل اگیس باب 17 ، صفحہ نمبر 137
جے روم ( 373 سے 420 بعد از مسیح )
کونسل آف کارتھیج ( 218 بشپ ) ( 393 – 419 بعد از مسیح )
کرومینٹس ( 407 بعد از مسیح )
پیل اگیس ہیرٹک بھیوڈور آف مویونیسٹیا ( 428 بعد از مسیح)
نائی لس ( 430 بعد او مسیح )
جوسپی ایس ( چوتھی صدی بعد از مسیح )
ایموننس ( چوتھی صدی بعد از مسیح )
مرقس ۔ سائمن ( 4 / 5 صدی )
مکسمس ( 4 سے 5 صدی )
اگٹیسن ( 388 ،430 / 28 / 8 بعد از مسیح ) کہتا ہے کہ پولس ( کناہ کی معافی اور بپتسمہ ) کتاب 1 باب 43 صفحہ نمبر 31 ( والیم 5 ) رومیوں کی کتاب 1 ، 22 کرنتھیوں ( باب 44 صفحہ نمبر 32 ) گلتیوں ( باب 45 صفحہ نمبر 32 ) افسیوں ( باب 46 صفحہ نمبر 33 ) ، کلسیوں ( باب 47 صفحہ نمبر 33 ) 1 تیمتھیس ۔، 2 تیمتھیس ( 48 باب صفحہ 33 )
ططس ( باب 49 صفحہ نمبر 33 ) عبرانیوں کو خط ( چند ایک اس کو متنازعہ سمجھتے ہیں ) ( باب 50 صفحہ نمبر 34 ) لکھی ہین ، یوحنا نے مکا شفہ 5 باب کی 9 آیت کا حوالہ دیا ( 51 باب صفحہ نمبر 34 ) رسولوں کے اعمال ( صفحہ 34 باب 52 ) جان کیسی این ( 410 – 430 بعد از مسیح ) انسٹیوٹیز آف جان کیسی این کتاب 10 ، 17 صفحہ 272 میں افسیوں کے نام خط افسیوں 4 باب کی 28 آیت کا حوالہ دیتا ہے
ہسی چیٹیس آف یروشلم ( 450 بعد او مسیح کے بعد )
کو ویلڈ یئس ( 453 بعد او مسیح )
تھیوڈوریٹ آف سائیرس ( 466 بعد از مسیح )
وری موڈیوم ( 445 / 480 بعد از مسیح )
سپکیولیم ( 5 صدی )
تھیوڈٹس ( 5 صدی بعد او مسیح )
اس میں سے کچھ ال اینڈ ایٹ ال کے مطابق ہے – چوتھی نظر ثانی تصنیف ، ایڈامینٹس ، ڈائیسگ آن دی ٹرفیتھ ان گوڈ اور دی بکس آف سٹپسز ، دی سرٹیک لیر گرادوم
سوال: افسیوں میں ، ہم کیسے جانتے ہیں کہ موجودہ کلام مقدس قابل اعتبار خصوصیت کے ساتھ محفوظ کیا گیا تھا جب اس کو حقیقی طر پر لکھا گیا تھا ؟
جواب: تقریبا 74 مسودہ جات اور ابتدائی کلیسیا کے مصنفین افسیوں میں سے آیات کا حوالہ دیا تھا ، ہمارے پاس اس کی کم از کم 3 اہم وجوہات ہیں
خدا نےر یسعیاہ 55 باب کی 10 – 11 آیت ؛ 59 باب کی 21 آیت میں ، 40 باب کی 6 سے 8 آیت میں ؛ 1 پطرس 1 باب کی 24 – 25 آیت میں ، متی 24 باب کی 35 آیت میں اپنے کلام کو محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا تھا
2 – ابتدائی کلیسیا کا ثبوت پچھلے سوال کو دیکھیں کہ کچھ مصنفین نے افسیوں میں سے آیات کا حوالہ دیا ہے
3 – ابتدائی مسودہ جات ہمیں افسیوں کی کتاب ظاہر کرتی ہے کہ کچھ چھوٹی تحریریں غیر یقینی ہیں ، مگر وہ صفر تھیولوجیکل ( علم الہی ) غلطیوں کو واضح کرتا ہے
صفحہ 46 چسٹر بیٹی 2 ع 100 – 150 بعد از مسیح میں افسیوں سے 150 آیات لی ہیں ، اس میں خاص کر افسیوں 1 باب 1 سے 2 اور 7 آیت ؛ 2 باب کی 5 سے 10 آیت ؛ 5 باب کی 6 – 8 ؛ 6 باب کی 6 آیت ؛ 6 باب کی 8 سے 18 ، 20 سے 24 آیت اور پولس کے دوسرے خطوط کے حصے اور عبرانیوں کا خط شامل ہے ، معیار اور منظوم مکالمہ نشان ظاہر کرتے ہیں کہ اس کو کسی پیشہ وارانہ کاتب نے تحریر کیا تھا –
صفحہ 49 + 64 ( 350 بعد از مسیح ) افسیوں 4 باب کی 16 سے 29 آیت ؛ 4 باب کی 31 آیت ، 5 باب کی 13 آیت اس میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ صفحہ نمبر 49 اور 65 بھی اسی کاتب نے تحریر کۓ ہیں
تیسری صدی کا اختتام 1968 نۓ عہدنامہ کا اصل متن صفحہ 92 افسیوں 1 باب 11 سے 13 آیت، 19 سے 21 ، 2 تھسلنیکیوں 1 باب 4 سے 5 آیت ، 11 سے 12 آیت ( 300 بعد از مسیح ) یہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کی تاریخ 3 صدی کا آخر یا چوتھی صدی کا آغاز ہے کیونکہ ہاتھ کی لکھائی پی بوڈ مر Ix پی ، قاہرہ ایزد 2 ، اور پی رے لینٹز 3 ، 389 کی طرح ہے
ویٹی کینس 325 سے 350 بعد از مسیح
سینا پیکس 340 سے 350 بعد از مسیح
1 ( واشنگٹن ڈی سی ) پانچویں صدی افسیوں 3 باب کی 20 آیت 1 ، 4 ، 9 ، 29 آیت ؛ 5 باب کی 22 آیت ؛ 6 باب کی 12 آیت ؛ 6 باب کی 12 آیت ؛ 6 باب کی 19 سے 20 اور دوسری ؟
بوہیرک کوپیٹک تیسری / چوتھی صدی
سہاڈیک کو پیٹک تیسری / چوتھی صدی
فہومک کوپٹک
الیگینڈلیس 450 بعد از مسیح
کلیسٹر و مونٹیس
آرمینین ( آرم ) 5 صدی سے
جورجین ( جیو ) 5 صدی سے
ایتھوپیک ( ایتھو ) 500 بعد از مسیح سے
ابتدائی بائبل کا لاطینی روپ جس کو سینٹ جیروم نے تحریر کروایا پسٹمٹہ سیری ٹیک ( سیری پی ) 400 – 450 بعد از مسیح
صفحہ 13 لنڈن / فلورینس 413 صدی
فیلواکیسیس سیری ٹیک ( سری فا ) 507 / 508 بعد از مسیح