عبدیاہ کی کتاب سے بائبل کے سوال
سوال: عبدیاہ میں ادوم کی قوم پر عدالت کے بارے کیوں ساری کتاب لکھی گئی ہے؟
جواب: یہاں ایک ممکنہ وجہ ہے جسکے سات حصے ہیں۔
1: ادومیوں نے مستقل طور پر خدا کے لوگوں کے دشمنوں کا انتخاب کیا۔
2: ان ادومیوں نے اپنے اسرائیلی بھائیوں سے دشمنی کی ۔ گنتی 20: 14-21 میں درج ہے ، ان کو ایک اور موقع دیا گیا کیونکہ ان کے قریبی تعلقات تھے۔
3: جب یروشلیم پر زوال آیا، تو وہ اسرائیلیوں کو شکار کرنے میں تیز ہو گئے۔ اور بابلیوں کے حوالے کیا۔ آیات 11-13 کے مطابق اور عاموس 1: 11-12۔
4: ادوام کے خاص گناہوں کہ فہرست میں غرور تھا ( آیات 3-4) اور اسرائیل کے خلاف غضب تھا۔
5: یہ سچ ہے کہ ادومی کنعانیوں کی طرح بُرے نہ تھے اور اسرائیل کے لیے نقصان دہ نہ تھے جیسے اسوری اور بابلی تھے۔
6: البتہ وہ سچے خدا کے بارے جانتے تھے اور علم کے لیے بیہت بڑے مواقع بہت بڑی ذمہ داریاں لاتے تھے۔
7: ادومی ہمارے لیے ایک مثال ہیں کہ مغرور نہ بنیں یا خدا ترس لوگوں کی تباہی پر خوشی نہ کریں۔
8: ادومی خدا کی کسی قوم کی مجموعی طور پر عدالت کی ایک مثال ہیں۔
سوال: عبدیاہ میں، کتاب کے مرکزی نکات کونسے ہیں؟
جواب: عبدیاہ کی کتاب تین مختلف سطحوں پر پڑھی جا سکتی ہے۔
1: سطحی طور پر، ایک خیال ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ادوم کی تباہی کی ایک نبوت ہے۔
2: گہری سطح پر، سب کے لیے غرور اور خدا کے لوگوں کی تباہی پر خوشی کرنے کے متعلق آگاہی ہے ۔
3: ایک ساکن گہرائی پر، کوئی تلاش کر سکتا ہے لوگوں کے گناہوں سے تعاون کرنے کا تصور، کیسے یہ ثقافت میں سے گزرتا اور تاریخ میں محفوظ ہوتا اور کیسے خدا اسکی سزا دیتا ہے۔
سوال: عبدیاہ میں کتاب کا خاکہ کیا ہے؟
جواب: یہاں ایک بلند پایہ کا خاکہ ہے۔
1-9 عیسو کا غرور اور تباہی کا آنا۔
10-16 عیسو کو کیوں سزا دی گئی۔
17-21 عیسو کو سزا دینے میں یعقوب کا کردار۔
سوال: عبدیاہ 1 میں، کب عبدیاہ کی کتاب لکھی گئی؟
جواب: عبدیاہ کی تاریخ پر کچھ رہنما حقائق ہیں۔
تین بڑے نطریات ہیں۔
1: بادشاہ یوہرام کی حکومت میں
2: آخز بادشاہ کی حکومت
3: یروسلیم کی تباہی کے فوراً بعد ، تقریباً 585 ق م میں۔
سوال: عبدیاہ 1 میں، کیا یہ وہی عبدیاہ ہے جس نے سو (100) انبیا کو چھپایا تھا۔ 1 سلاطین 18: 3-4؟
جواب: یوسفس نے غلطی سے ایسا سوچا تھا۔ تاہم، چونکہ عبدیاہ 1: 11 اشارہ کرتی ہے کہ بابل نے ہروشلیم کو اسیر کیا، عبدیاہ 1 سلاطین 18: 3-4 میں تقریباً 300 سال پہلے رہتا تھا۔ نتیجتاً، ہم بائبل سے باہر اس عبدیاہ کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔
سوال: عبدیاہ 8-9 میں، ادوم کے عقلمند لوگ کون تھے؟
جواب: ادوم عقلمند آدمیوں کے لیے مشہور تھا۔ ان میں سے نمایاں طور پر ایک الیفیز تیمانی تھا، جس کا ذکر ایوب 2: 11 میں ہوا ہے۔
سوال: عبدیاہ 20 میں، کیا یہ ایک جھوٹی نبوت تھی کہ اسرائیل کبھی بھی واپس نہیں آئیگا، جیسے عاسموو کی بائبل گائیڈ صفحہ 641 تجویز کرتا ہے؟
جواب: نہیں، جو جلا وطن واپس آئے، وہ یہودی کہلاتے تھے۔ جنکی اپنی ملکیتی زمین تھے۔ جبکہ یہ درست ہے کہ جلاوطنوں کی اکثریت جو واپس آئی، یہوداہ سے تھی۔ عزرا 2: 3-63 اور نحمیاہ7: 6-63 اور نحمیاہ 11 ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے قبیلوں سے بھی لوگ واپس آئے۔ اگر ایک بنیا مینی گروپ یروشلیم میں رہنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ نحمیاہ 11: 7-9، یہاں بنیا مینی ہی تھے جن کو منتخب کیا گیا۔
سوال: عبدیاہ میں، کچھ ابتدائی مسودات کونسے ہیں جو آج تک موجود ہیں ؟
جواب:
بحیرہ مردار کے طومار: ( سی ایل ق م) بحیرہ مردار میں عبدیاہ کی کوئی نقل نہیں۔
نحل ہیور: ایجنڈی کے قریب ایک غار ہے جس میں انبیا اصغر کے حصے یونانی میں تھے( 8 ہیو) بائبل کے یونانی مسودے کے صفحہ 34 کے مطابق، یہ 50 ق م اور 50ء کے درمیان لکھی گئی۔ یہ بار کو ہبہ کی روم کے خلاف بغاوت کے دوران چھپی رہی۔ یہ ہفتادی ترجمہ دہرائی ہے۔ جو یہوداہ میں بنائی گئی ، اور میسوریٹک متن کی تقریباً پہچان ہے۔
مسیحی بائبلی مسودے: تقریباً 350ء سے، پرانے عہد نامے پر مشتمل، بشمول عبدیاہ ان میں سے دو ویٹی نس ( 250-325ء) اور اسکندری ( 450ء)۔ یہاں انبیا اصغر کی بارہ (12) کتابیں یسعیاہ سے پہلے رکھی گئی ہیں ہویسع ویٹی نس اور اسکندری دونوں میں مکمل ہے۔
سینالکس: ( 340-350ء) بھی تمام کتاب رکھتا ہے۔ غور کریں کہ نقایاہ سے پہلے کوئی مصنف نہیں جس نے عبدیاہ کی چھوٹی کتاب کا حوالہ دیا ہو۔
سوال: عبدیاہ میں یونانی اور عبرانی ہقتادی تراجم کے درمیان کچھ کونسے فرق ہیں؟
جواب: عبدیاہ کی کتاب میں 21 آیات ہیں اور تقریباً 272 الفاظ عبرانی میسوریٹک متن میں ہیں۔ یونانی ہفرادی ترجمے میں عبدیاہ کی کتاب میں تقریباً 460 الفاظ ہیں۔ پہلا وجود عبرانی میں اور دوسرا وجود یونانی میں ہے۔
عبدیاہ 1: "ایک پیغمبر بھیجا گیا " بمقابلہ " اس نے آگے ایک پغمبر بھیجا"
عبدیاہ 1: " اقوام کے درمیان " بمقابلہ " اقوام کی طرف"
عبدیاہ 2: " حقیر جانا " بمقابلہ " بے عزت کیا"
عبدیاہ 3: " تمہیں دھوکا دیا گیا " بمقابلہ " تم شادمان و مغرور ہوئے "
عبدیاہ 6: "چھُپی چیزیں تلاش کی گئیں" بمقابلہ " چھپی چیزیں کھوجی گئیں"
عبدیاہ 7: " تمہارے عہد کے تمام مردوں کو تمہاری حدود سے برخاست کر دیا ۔ وہ مرد جو تمہارے ساتھ امن میں تھے تمہیں دھوکا دیا اور تم پر غلبہ پایا۔ انہوں نے تمہاری روٹی پر جال بچھایا؛ اس کو فہم نہیں ہے " بمقابلہ " انہوں نے تمہیں ساحلوں تک بھیج دیا۔ تمہارے ساتھ باندھے گئے مردوں کا مقابلہ کیا دشمنوں نے تمہارے خلاف غلبہ پایا، انہوں نے تمہارے لیے پھندا بچھایا۔ ان کو کوئی فہم نہیں۔
عبدیاہ 1: 8 " اس دن میں ہوگا " بمقابلہ " اس دن میں"
عبدیاہ 1: 9 "بہادر " بمقابلہ " جبگجو"
عبدیاہ 1: 9 " کاٹ ڈالنا " بمقابلہ " کوہستان عیسو "
عبدیاہ 1: 11 " سے " بمقابلہ " کیونکہ"
عبدیاہ 1: 12 " لا فزنی کرتا " ( محاورہ شیخی کے لیے) بمقابلہ " شیخی ماری"
عبدیاہ 1: 16 " مسلسل پیا کریں گے" بمقابلہ " شراب"
عبدیاہ 1: 16 "پئیں گے اور نکلیں گے" بمقابلہ " پئیں گی اور چلی جائیں گی"
عبدیاہ 1: 17 " لیکن جو بچ نکلیں گے کوہ صیون پر رہیں گے اور وہ مقدس ہوں گے " بمقابلہ " لیکن کوہ صیون پر آزادی ہو گی اور وہاں تقدیس ہو گی"
عبدیاہ 1: 17 " گزریں گے اپنی میراث میں سے" بمقابلہ " وہ انکو میراث کے طور پر لیں گے جو انکو میراث کے طور پر لیا"
عبدیاہ 1: 18 " تنکا " بمقابلہ " گھاس پھوس"
عبدیاہ 1: 19 " کوئی بچانے والا نہیں" بمقابلہ " ایک مکئی کا کھیت ہو"
عبدیاہ 1: 19 " اور وہ افرائیم پر قبضہ کریں گے اور سامریہ کے کھیتوں پر اور بنیامین پر ( قابض ہونگے) جلعاد " بمقابلہ " اور وہ وارث ہونگے کوہ افرائیم کے اور سامریہ کے میدان کے اور بنیامین اور جلعاد کی سر زمین کے"
عبدیاہ 1: 20 "اس فوج کے جلاوطن " بمقابلہ " اسیری"
عبدیاہ 1: 20 " اسیر " بمقابلہ " جلاوطن"
عبدیاہ1: 20 "بخب " بمقابلہ " افراتھا ( افراتا) یہودیہ میں بیت الحم کا پُرانا نام پیدائش 35: 19، 48: 7 کے مطابق "
عبدیاہ 1: 21 " رہائی دینے والے / بچانے والے " بمقابلہ " وہ جو بچیں گے"
عبدیاہ 1: 21 " عدالت " بمقابلہ " انصاف کریں گے"