احبارسے بائبل کے سوالات وجوابات

سوال:احبار میں، انگریزی میںیہ کتاب Leviticus کیوں کہلاتی ہے ؟

جواب: انگریزی لاطینی سے آیا ہے " لاویوں سے متعلقہ " عبرانی نام پہلے فقرے سے لیا گیا ہے " اور اس ( خدا ) نے پُکارا "۔

سوال: احبار میں ، آج اس کتاب کا بائبل میں مرکزی نقطہ کیا ہے؟

 جواب: چونکہ  یسوع اور ابتدائی کلیسیا تمام نے احبار کو بطور خدا کا کلام قبول کیا، ہمیں توریت کی اس کتاب کو بطور مقدس تحریر احترام کرنا چاہیے اس قطح نظر کہ آیا ہم نقطہ دیکھتے ہیں یا نہیں۔

حقیقتاً، پاکیزگی پر بہت سے اسباق ہیں کوئی بھی احبار کو پڑھ کروہ اسباق حاصل کر سکتا ہے ، اور آپ تقریباً اسے دوبارہ نام رکھ سکتے ہیں" پاکزگی میں تصویری اسباق"۔

 سوال: احبار میں ، کتاب کو سمجھنے کے لیے کونسے مختلف طریقے ہیں؟

جواب: یہاں کم از کم پانچ درجات ہیں کوئی خروج کی کتاب کو دیکھ سکتا ہے ۔

ایک بھید: خدا بہت پُر فضل اور سمجھنے والا ہے، لیکن کچھ خدا کو صرف بطور فضل دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، بغیر کسی فہم کے کہ خدا کا فضل کیوں ضروری ہے خدا پاک ہے اور ہمارے بغیر فہم کے پاکیزگی رکھے ہوئے ہے ، کوئی خدا کو نہیں دیکھے گا (عبرانیوں12: 14 )۔ بغیر فہم کے خدا کے کردار کے اور ہمارے کردار کے مرکزی پہلو، احبار کی کتاب ایک " بند کتاب رہے گی، چند نشانات کے ساتھ جیسے یہ یہاں کیوں ہے۔

خدا کو خوش کرنے کے اصولات: ایک بنیادی درجہ پر، کچھ صرف رسم اور ذاتی اصولات کا ایک سیٹ ہے جن کی اسرائیلی پیروی کرتے تھے یہ وہ ہے اور خدا اُن اصولات کے مُتعلق سنجیدہ تھا، لیکن یہ اور زیادہ بھی تھا۔

زندہ رہنے کے لیے ابتدائی حکمت :  لوگوں نے احبار پر نگاہ کی اور صحت مند رہنے کے لیے عظیم حکمت دیکھی گئی، خاص طور پر ایک غیرحفطان صحت کے ماحول میں ، وافر پانی کی صفائی کے بغیر اکثر اوقات جانور اور لوگ کئی طفیلئے حاصل کر لیتے تھے جو بغیر پکائے گوشت کھانے سے ہوتا تھا۔ عام طور پر ، جانور جو مردہ چیزیں کھاتے، کیڑے مکوڑے اور دوسرے ممنوع جانور کھاتے تھے تھے جبکہ مصریوں کے اصولات بعض اپنی بہنوں سے شادی کرنے کے تھے، قریبی خاندانوں میں ، آپس میں شادیاں خاص طور پر احبار میں منع ہیں جلدی بیماریوں کے متعلق خاص قوانین نہ صرف پر حکمت تھے، بلکہ بہت اہم ہے کہ بہت سے لوگ، تھوڑے پانی سے دھونے کے لیے کسی آب و ہوا میں اکھٹے ہوں تاہم دوسرے اصولات کے لیے ہم کوئی عملی، زمینی وجہ نہیں دیکھتے ہوسکتا ہے کوئی ایک نہ رہا ہو شاید وہ صرف وجہ تھی کہ لوگوں کو یاد کروایا جائے کہ وہ الگ قائم رہیں ، اور خدا میں پاک رہیں احبار ایک پُرحکمت کتاب ہے لیکن یہ صحت مند مشقوں کے متعقلق ایک کم کتاب ہے یہ نسبت پاکیزگی بیان کرنے والی کتاب کے ۔

پاکیزگی پر عام اسباق:  آیا کہ خدا کی پاکیزگی، یا ہماری زندگی کی پاکیزگی کوئی آسان گرفت نہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ خدا نے واضح کرنے کے لیے یہ ساری کتاب لی اسرائیلیوں کی مصر سے روانگی ہوئی اور ایک وہ ایک نئے تہذیب وتمدن میں آئے جو اپنے بتوں کی عزت بہت کی نسبت کم رکھتے تھے جب مصریوں نے مدد کے لیے اپنے بتوں کو پکارا، اور اگر مدد نہ آتی ، تو وہ موقع پر بت کو کوڑے مارتے لیکن احبار ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی خدا ذندگی کی ادنیٰ حالت سے الگ تھلگ ہے وہ صرف خدا کے لیے قربانیاں نہ دے سکتے وہ اُنکو حکم کے طور پر دیتے بچہ کی پیدائش کے طورپر، کھانا اور مذہبی  تقریبات صرف خدا کا طریقہ تھا احبار 22 باب ایک ایسا باب ہے جو واضع کر رہا ہے کہ کیسے کسی کو ، کوئی قربانی یا نذرانہ دینے کے لیے ترک کرسکتا ہے اور یہ منظور کرنے کے قابل ہو آج جب ہم اپنے طریقے سے خدا کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہماری شرائط کے لیے موضوع ہے کہ ہمیں مُحتاط ہونا چاہیے کہ حتیٰ کہ ہم قربانیاں کرسکیں ہوسکتا ہے ہماری کوشیش ناقابل منظور ہوں ، اگر ہم پاکیزگی کا کوئی تصور نہ رکھتے ہوں ۔ ہم ، انفرادی طور پر پاک ہونا کہلاتے ہیں۔ اور ہم ایک مقدس قوم کہلاتے ہیں ۔ ( 1 پطرس 1: 16 ۔ 17 ) ، ( 2۔ پطرس 2: 9 ) جب ہم پاک ذندگیاں گزارتے خدا کی پاکزگی کو ظاہر کرتے ہوئے تو ہم خود پاکیزگی پر اسباق بن سکتے ہیں ( 2 کرنتھیوں 1: 12 )

خدا کی خدمت میں خاص تحاریک اور طریقہ کار : بائبل میں بہت سی حکمت ہے کہ بالغ مسیحیوں کو متوازن کے متعلق لگاؤ رکھنے کی ضرورت ہے : کیا ہم علم حاصل کرنے محبت کرنے اور دوسرےپہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے لیے خدا کی خدمت کرنے کے ایک پہلو پر توجہ دیتے ہیں؟ احبار خدا کی خدمت کرنے کے بہت سے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالتی ہے، اورترقی پذیر مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے کہ اس سے سیکھیں، اور ان سے خدا کی تمجید کرنا سیکھیں۔

 سوال: احبار میں، کتاب کا خاکہ کیا ہے؟

 جواب : احبار شریعت کی پانچ کتابوں کے وسط میں ہے، اور اسے پانچ حصوں میں تقسم کیا جا سکتا ہے۔

1۔ خدا کے لیے، قربانیوں کی پانچ اقسام ( احبار 1۔ 7 )

( ا) جلائی جانیوالی قربانی ( اولاہ ) ۔ مکمل سپرُدگی کی پابندی ( احبار 1: 1۔ 17)

ایک جوان بیل (احبار 1: 1۔ 9 )

نر مینڈھا یا بکرا ( احبار 1: 10۔ 13)

کبوتر یا فاختہ ( احبار 1: 14۔ 17 )

(ب) اناج کی قربانی ( مخچاہِ)۔ خدا کی تمجید کی یاد گاری ( احبار 2: 1۔ 16 )

کچا آٹا، تیل اور لُبان ( احبار 2: 1۔ 3 )

پکا ہوُا آٹا تیل کے ساتھ ( احبار 2: 4۔ 10 )

 غور کریں:  بغیر خمیر کے مگر نمک ( احبار 2: 11۔ 13 )

کچلیُ ہوئی اناج، تیل اور لبُان ( احبار 2: 14۔ 16)

(ج) سلامتی / شراکت کی قربانی ( زیباخ شیلامیم) شُکرگزُاری ، منّتیں اور آزادی مرضی ( احبار 3: 1۔ 16)

نر یا مادہ گائے ( احبار 3: 1۔ 5 )

۔ نر یا مادہ منیڈھا یا بکرہ ( احبار 3: 6۔ 16 )

(الف) منیڈھا ( احبار 3: 6 ۔ 11 )

(ب) بکرا ( احبار 3: 12۔ 16)

غورکریں: تمام اوقات پر، چربی یا خون کبھی نہ کھانا ( احبار 3: 17)

د: گناہ کی قربانی ( چتّات ) اقرار اور کفارہ ( احبار 4۔ 5: 13)

ایک ممسُوح کاہن کا گناہ: جوان بیل ( احبار 4: 1۔ 12)

2: جماعت کا گناہ:جوان بیل ( احبار 4: 13۔ 21)

3: ایک رہمنا کا گناہ: بکرا ( احبار 4: 22۔ 26)

4: نادانستہ انفرادی گناہ: بکری یا بھیڑ ( احبار 4: 27 ۔ 35 )

5: گواہی نہ دینے، ناپاکی کو چھوُنا، بغیرسوچے قسمیں : بھیڑ یا بکری ( احبار 5: 1۔ 6)

6: غریبوں کے لیے سوچ وبچار : دو فاختائیں، کبوتر، یا آٹا ( احبار 5: 7۔ 13 )

ر: خطا کی قربانی ( اچھام) ۔ پاکیزگی کے خلاف گناہوں کی معافی کے لیے : منیڈھا ( 5: 14۔ 6: 7)

1: نادانستہ گناہ، خدا کی پاک چیزوں کے خلاف (احبار 5: 14 ۔ 16)

2: خدا کے احکام کےخلاف نادانستہ گناہ ( احبار 5: 17۔ 19)

3: ایک پڑوسی کو اور 5/1 +واپسی (احبار 6: 1۔ 7)

II : ایک کاہن ہونے پر ( احبار 8۔10 )

الف: کاہن کا نذرانہ ( احبار 8)

1: نذرانہ کے لیے تیار ( احبار 8 )

2: بچھڑے کی قربانی ( احبار 8: 1۔ 13 )

3: پہلے منیڈھے کی قربانی ( احبار8: 18۔ 21 )

4: دوسرے منیڈھے کی قربانی ( احبار 8: 22۔ 30)

5: خوراک اور انتظار ( احبار 8: 31۔ 36)

ب: کاہن کی خدمت ( احبار 9)

1: پوشدہ ہدایات ( احبار 9: 1۔ 4 )

2: عوامی خدمت ( احبار 9: 5۔ 22)

3: خدا کی خوشی ( احبار 9: 23۔ 24)

ج: کاہنوں کی خطائیں ( احبار 10)

1:  اپنے طریقے سے خود رائی خدمت ( احبار 10: 1۔ 3)

2: دوسروں کی خطا کے پیچھے جانا ( احبار 10: 4۔ 15 )

3: نادانستہ خطا کا رویہ ( احبار 11۔ 20)

III: آدمیوں کے لیے مقدس قوانین ( احبار 11۔ 20 )

الف۔ ہماری جسمانی غذا ( احبار 11)

1: زمینی جانور ( احبار 11: 1۔ 8 )

2:  سمندر خوراک ( احبار 11: 9۔ 12 )

3:  اڑنے والے جانور ( احبار 11: 13 ۔ 23)

4:  ناپاک جانور ( احبار 11: 24۔ 44)

 ب: بچہ کی پیدائش ( احبار 12

 ج: جلدی بیماریاٰں اور پھپھوندی ( احبار 13۔ 14 )

1:  جلدی بیماریاں ( احبار 13 : 1۔ 46 )

2:  پھپھوندی ( احبار 13: 47۔ 59)

3:  جلدی بیماریوں سے صفائی ( احبار 14: 1۔ 32 )

4: پھپھوندی سے صفائی ( احبار 14: 34۔ 54 )

د: اخراجات ( احبار 15 )

ر:یوم کفارہ ( کفارے کا دن ) ( احبار 16)

ز: خون کھانا منع ہے ( احبار 17)

س: غیر قانونی جنسی تعلقات ( احبار 18)

1:  غیر قانونی جنسی تعلقات (احبار 18: 1۔ 20)

2:  مولک کے لیے بچہ کی قربانی منع ہے ( احبار 18: 21 )

3: ہم جنس پرستی منع ہے ( احبار 18: 22)

4: جانوروں سے جنسی تعلقات منع ہے ( احبار18: 23)

5: اپنے اردگرد لوگوں کی طرح نہ بنو ( احبار 18: 23)

 ش: دوسرے کے ساتھ قوانین ( احبار 19 )

ص: مولک ، روح پرستی اور بدفعلی ( احبار 20)

1:  مولک کو بچہ کی قربانی دینا منع ہے ( احبار 20: 1۔ 5 )

2: جادوگر نہ بنو بلکہ پاک رہو ( احبار 20: 6۔ 9)

 3:  والدین پرلعنت نہ کرو ( احبار 20: 10)

4: ہم جنس پرستی نہ کرو ( احبار 20: 13)

6:  غیرقانونی جنسی تعلقات ( احبار 20: 14۔ 21)

ا:  جانوروں سے صحبت نہ کرو ( احبار 20: 15۔ 16 )  

7: برکات اور لعنیتں ( احبار 20: 22۔ 26 )

 8:  جادوگروں کو قتل کرو ( احبار 20 : 27 )

 

IV:پاکیزگی منظم جماعت بھی ہے ( احبار 23۔ 27)

الف: خداوند کے لیے عیدیں اور پاک ایام ( احبار 23 )  

1:  سبت ( احبار 23 : 3)

 2:  فسح اور بے خمیری روٹی ( احبار 23: 4۔ 8 )

3:  پہلے پھلوں کی عید ( احبار 23: 9۔ 14 )

 4:  ہفتوں کی عید ( احبار 23 : 15 ۔ 22 )

5:  نرسنگوں کی عید ( احبار 23 : 23۔ 25 )

6:  یوم کفارہ ( احبار 23: 26۔ 32 )

 7:  خیموں کی عید ( احبر 23: 33۔ 44 )

 ب: ہماری جاری پاکیزگی ( احبار 24 : 1۔ 9 )

ج: کفر بکنے والے کے لیے سنگسار ( احبار 24: 10۔ 23 )

د: خاص سبت اور یوبلی سال (احبار 25 )

1: سبت کا سال ( احبار 25 : 1۔ 7 )

2:  پچاسویں سال پر یوبلی ( احبار 25: 8۔ 17 )

 3:  سبت سال پر خود ہی کثرت ( احبار 25 : 18 ۔ 23)

 ر: شریعت کے نتائج ( احبار 26)

1:  فرمابنرداری کا صلہ ( احبار 26: 1۔ 13 )

2:  نافرمانی کی سزا ( احبار 26: 14 39 )

3:  اپنی توبہ قبول کرتے ہوتے ( احبار 26: 40۔ 46 )

 س: خداوند کے لیے مخصوصیت اور کفارہ ( احبار 27 )

سوال: احبار میں 1 میں ، آج ہم جلانے کی قربانی سے کیا سیکھ سکتے ہیں ؟

 جواب : جلانے کی قربانی ایک مکمل قربانی تھی : کوئی کھا نہیں سکتا تھا یا اس کا کوئی حصہّ کسی استمل میں نہ تھا لیکن کیا کوئی خدا کے ساتھ تبادلہ کر سکتا ہے ؟ یہ کہیں کہ ایک بچھڑے کا وزن 1000 پونڈذ ہے کوئی وجہ بیان کرسکتا ہے کہ چونکہ جانور کا ہر حصہ، خدا کو خوش کرنے کے لیے ایک خوشبو تھی ، کوئی صرف بچھڑا کھا سکتا ہے اور 1000 پونڈذ کی دوسرے بیلوں کی دُمیں خدا کو دیتا ہے لیکن یہ نہیں جسکی خدا کو ضرورت ہے اُُسے سارے جانور کی ضرورت ہے، نہ محض بے کار حصوں کی آج بعض لوگ اپنے بے غیر معیاری " حصوں سے خدا کی خدمت کرکے خوش ہیں اُنکی وافر دولت، نا مکمل ذہانت ، فالتو وقت جب اُن کے پاس بہتر کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن یہ وہ نہیں جسکی خدا کو ضرورت ہے خدا کو مکمل سپردگی کی ضرورت ہے فرض کریں کوئی واقعی خدا کو متاثر کرنا چاہتا ہے، اس طرح وہ کچھ بچھڑوں کےمشکل حصے کھاتا ہے اور خدا کو 1000 پونڈز کے پانچ بیلوں کے بہتریں حصے خدا کو دیتا ہے لیکن یہ نہیں کہ جو خدا کو ضرورت ہے وہ نہیں چاہتا کہ آپ پانچ بیل خریدنے کے لیے مرنے تک کام کریں لیکن اسے سارے ایک بیل کی ضرورت ہے درحقیقت کچھ حصے جو خیال کرتے ہیں کہ ان کی کم قدر ہے ، لیکن پھر بھی ہم ترک کرنے کے لیے ناخوش ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ حصے وہ ہوں جنھیں خدا بہت قیمتی سمجھتا ہے خدا صرف ایک جانور کو چاہتا ہے، لیکن وہ ایک سارا جانور چاہتا ہےآج ہو سکتا ہے دوسرے لوگ زیادہ تحائف، ذہانت اور رقم کے ساتھ ہوں اور خدا کو ہماری ضرورت کہ ہم اُسے وقف کریں جو کچھ اُن کے پاس ہے اور ہم نہیں کرتے جیسے ہم مسیحی بچھڑے، بھڑیں بکریاں، یا پرندے آج قربان نہیں کرتے رومیوں 12: 1 کہتی ہے ہم اپنے بدن ذندہ قربانیاں ہونے کے لیے خدا کو پیش کریں ۔ خدا کے ساتھ کوئی تبادلہ نہیں۔ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ خدا نے ہمیں بہت زیادہ اپنا فضل دیا ہے، اس زندگی میں اور ابدی زندگی میں، ہر چیز اسے دیتے ہوئے ہر چیز جو ہمارے پاس ہے حقیقتاً ایک چھوٹی رقم ہے بہ نسبت اس کے جو خدا نے ہمیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔

سوال:احبار 1: 3، 5، 10؛ 5: 15، 22: 19 میں، ایک جلانے والی قربانی کے لیے نر جانور کیوں ضروری ہے اور نہ کہ مادہ جانور؟

جواب: کلام صرف وہ کہتا ہے کہ جو خدا چاہتا ہے ایک نر یا مادہ احبار 3: 1 اور 27: 3-4 میں قربانیوں کے لیے اچھی تھی، اور صرف ایک بھیڑ موزوں تھی احبار 4: 32۔ ایک حاشیہ کے طور پر، لفظ کفارہ، کِپر، احبار میں تقریباً 50 دفعہ استعمال ہوا ہے، اور تقریباً 50 دفعہ باقی پرانے عہد نامے میں " دی ایکسپوزٹرز بائبل کمنٹری والیم 2 صفحہ 538 کے مطابق۔

سوال: احبار 1: 11 میں، خمیر یا شہد میں کیوں کوئی قربانی نہیں کی جا سکتی؟

جواب: کلام نہیں کہتا۔ تاہم، جب میں بارہ سال کی عمر کا کیمیا دان تھا۔ میں نے سیکھا کہ کیسے چینی جلنے کی خوشبو بری تھی۔ بائبل میں ، خمیر اکثر بڑھنے والی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے ، جیسے روایتی اور فریسیوں کی تعلیم۔

سوال: احبار 1: 14 میں ، صرف نر پرندوں کو کیوں نہیں مخصوص کیا گیا؟

جواب: کلام نہیں کہتا۔ کوئی ممکن وجہ یہ ہے کہ بہت سے جنگلی پرندوں کی جنس آسانی سے بتانا مشکل ہے۔

سوال: احبار 1: 17 اور 5: 9 میں، کاہن کیوں پرندے کو آدھا نہیں کاٹ سکتا؟

جواب: کلام صرف کہتا ہے کہ خدا اسے اس طریقے سے چاہتا ہے۔ پیدائش 15: 10 میں ابرہام نہیں سمجھا تھا کہ پرندوں کو اپنی قربانی میں دو حصوں میں کاٹے۔

سوال: احبار 2: 13 میں، قربانیوں پر نمک کیوں چھڑکا جاتا تھا؟

جواب: کلام صرف کہتا ہے کہ جو خدا چاہتا ہے۔ اگرچہ یہاں کچھ ممکن وجوہات ہیں ۔  

1: نمک قدیم دنیا میں ایک قابل قدر جنس تھی۔

2: کاہن اور لاوی کچھ قربانیاں کھاتے تھے، اور انہیں نمک کی بھی ضرورت تھی۔ (احبار 6: 16-18، 26؛ 7: 6-9)

سوال: احبار 3: 2 میں، کیا قربانی کا لہو قربان گاہ پر چھڑکا جاتا تھا یا ڈالا جاتا تھا جیسے استثنا 12: 27 میں ہے؟

جواب: یہاں دو نظریات ہیں۔

ڈالا بمقابلہ باہر ڈالا گیا: پہلا خیال جس کے لیے ہیلیز ایلبجڈ ڈسکرپپینیز آف دی بائبل صفحہ 219-220  اور " جب نقاد پوچھیں" صفحہ 89 وسطی زمانے کے یہودی عالم مینونائیڈز تسلیم کرتے ہیں، کہ فعل ڈالا گیا / چھڑکا گیا" بمقابلہ " باہر ڈالا گیا" ۔ پس تھوڑا سا خون قربان گاہ پر چھڑکا گیا، اور باقی زمین پر بہا دیا گیا۔

بعد کا وقت : سوچنے کے لیے تیں نقاط ۔

احبار 3: 2 : خاص طور پر ، خیمہ اجتماع کی دروازے پر ذبح کی جانے والی قربانیوں کا ذکر  کرتی ہے، جو صرف موعودہ زمین میں داخل ہونے سے پہلے وہ استعمال کرتے تھے۔

استثنا 12: 1، 17، 18 : موعودہ سر زمین میں داخل ہونے کے بعد منتخب جگہ پر قربانی کا صاف صاف ذکر کرتا ہے ۔ استثنا 12: 8 خاص طور پر بیان کرتی ہے کہ جب وہ کنعان میں داخل ہوئے تو ان کے قربانی کرنے والے تعلقات تبدیل ہو جائیں گے۔

کیوں؟  کلام بیان نہیں کرتا کہ خدا یہ کیوں چاہتا تھا، لیکن ہم غور کر سکتے ہیں۔ تمام کو خیمہ اجتماع کے دروازے پر اپنے کھانے والے جانوروں کی قربانی کرنا تھی، جو کھلی زمین پر تھی۔ سارا خون بہانے کا مطلب ان کے فوجی انتظام کے متعلقہ ہو سکتا تھا۔ بعد میں استثنا 12: 21-22 اجازت دیتا ہے کہ وہ خیمہ اجتماع کی جگہ سے ہٹ کر اپنے جانور ذبح کرین جب وہ کنعان میں داخل ہوں۔ تھوڑے جانوروں کو ذبح کرنے پر، اور شاید مستقل جگہ پر خون مہیا کرنا ہو، اب خون باہر ڈالا جا سکتا تھا۔

سوال: احبار 4 میں، چونکہ یسوع ہمارے گناہوں کے کفارے کے لیے مر گیا، وہ گناہ کی قربانی کا تھی جو پرانے عہد نامے میں کفارے کے لیے دی جاتی تھی؟

جواب: جواب کے لیے دو نقاط پر غور کرنا ہے۔

1: وہ صرف گناہ کو ڈھانتی تھی، گناہ کو دور نہیں ہٹاتی تھی۔

2:  وہ صرف نادانستہ اور بے خیالی کے گناہ آلودہ اعمال کے لیے تھی ناپاک حالت کے لیے تھی۔ دانستہ گناہ کے لیے کوئی قربانی نہیں تھی۔ ( گنتی 15: 22-30؛ 35: 31)

سوال: احبار 4: 13 میں ، کیسے ایک منصف خدا نادانستہ گناہ کی خطا کو لوگوں پر لاگو کرتا ہے؟

جواب: کلام خدا ہمیں نادانستہ گناہ کے متعلق تین نقاط دیتا ہے۔

1:  جب کوئی شخص نادانستہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ( مرد) یا (عورت) چاہے معصوم تھی/ تھا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ جب کسی شخص نے دیکھا کہ انہوں نے گناہ کیا، تو وہ ( مرد ) یا ( عورت) خوش ہوا/ ہوئی کہ انہوں نے ایسا کیا۔ یہ دکھانے کے لیے کہ یہ صورت نہیں تھی، تو وہ شخص قربانی گزرانے۔ ( استثنا 21: 1-9)

2:  بائبل اور جدید قانون دونوں پہچانتے ہیں کہ کچھ نادانستہ ابھی تک مجرم ہے۔ انسانوں کے قاتل، اور دوسروں کی زندگیوں لا پرواہی سے خطرہ میں ڈال رہے ہیں سزا کے حقدار ہیں، حتیٰ کہ اگر قاتل ، مقتول کی موت کی خواہش نہ کرتا ( گنتی 35: 22-28) انسانوں کے قاتل کے لیے سزا کسی شہر میں پناہ لینے کے لیے مجبور کرتی تھی جہاں تک کہ موجودہ سردار کاہن مر نہ جاتا۔

3: اس سے قطع نظر کہ آیا فعل دانستاً تھا نہیں، اگر کوئی شخص گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے اسکو جاننے کا موقع نہیں رکھتا تو یہ برائی تھی، رومیوں4: 15 ÇæÑ 5: 13 ˜ÀÊی  ہیں کہ نادانستاً گناہ ، گناہ ہی رہتا ہے، لیکن یہاں شریعت نہیں گناہ شمار نہیں ہوتا۔

سوال: احبار 4: 14 میں، کیا جماعت کو گناہ کی قربانی کے لیے صرف ایک بچھڑا ہی گذرانتا تھا، یا ایک بچھڑا اور ایک بکرا دونوں گنتی 15: 24 ہیں ؟

جواب: دونوں کا سیاق و سباق ساری  برادری ہے، لیکن

 ( الف)  احبار 4: 14 خروج کے وقت کے دوران ہے۔

(ب) گنتی 15: 24 اس وقت سے ہے تمام نسلیں آئیں ۔

یہاں ایک سبق ہے جو ہم لوگوں کے ساتھ خدا کے فضل کے متعلق برتاؤ کو دیکھ سکتے ہیں۔ چھوٹی قربانی احبار میں شریعت تھی، جو نسبتاً ان کے لیے نئی تھی، اور گنتی میں وہ پہلے ہی سیکھنا چاہیے تھا ایک عظیم قربانی تھی۔

نمایاں طور پر خدا نہ صرف دانستاً یا نا دانستاً کسی نے غلطی کی کے درمیان پہچان رکھتا ہے، بلکہ نادانساً گناہ خدا پہچانتا ہے۔ اس وقت کے درمیان جب کسی کو سیکھنا پڑے کہ یہ درست تھا۔                                                                                          

"جب نقاد پوچھیں" صفحہ 105 اور ہیلیز ایلبجڈ ڈسکرپپینیز آف دی بائبل صفحہ 242 قدرے مختلف جوابت دیتا ہے۔ احبار 4: 14 غلطی " کرنے" یا گناہ کی " ذمہ داری" کے لیے خاص طور سے ہے ۔ گنتی 15: 24 کسی حکم کو پورا کرنے میں ناکام، یا " سہواً" غلطی کے گناہ ہیں۔

سوال: احبار 5: 1 کا کیا مطلب ہے؟

جواب: جب گواہیوں کے لیے ایک عوامی پکار ہے اور کوئی شخص اس کے متعلق خاموش ہے جو اس نے دیکھا، تو یہ گناہ ہے۔ اگلا فقرہ کہہ رہا ہے کہ وہ پکڑیں گے ذمہ دار شدید ہو سکتا ہے۔ اگر کسی معصوم شخص کو غلطی سے پھانسی دی جاتی ہے کیونکہ کوئی گواہ بول نہ سکا، تو پھر گواہ قیاساً قاتل کا گناہ گار ہے۔

سوال: احبار 3: 15، احبار 9: 7، احبار 16: 16، 32-33 اور احبار 17: 11؛ 23: 28 کیا کاہن نے لوگوں کے لیے کفارہ ادا کیا تھا، یا مسیح نے جو عبرانیوں 10: 1-4 میں ہے ؟

جواب: پرانے عہد نامہ کی قربانیاں گناہوں˜ÿ ˜ÝÇÑÿ ˜ÿ áیÿ ÕÑÝ ÇÓی ÝÀã ãیŸ ˜ی ÌÇÊی ʪیŸ ˜À æÀ äÇÀæŸ Ñ ÑÏÀ ÇáÊی ʪیŸ¡ áی˜ä ÇÓی 쾄 äÀیŸ ˜ÑÊی ʪیŸ۔ ÚÈÑÇäیæŸ 9: 9-10 ˜ÀÊی Àÿ یÀ ÈیÑæäی یÒیŸ ÇیãÇäÏÇÑæŸ ˜ÿ áیÿ ÇäÏÑæäی ÕÝÇÆی äÀیŸ ˜ÑÊیŸ۔ یÀ ÕÑÝ ãÓیÍ ˜ÿ Âäÿ ʘ ʪÇ۔

Çä ˜ÿ áیÿ Ìæ ãÊÝÞ äÀیŸ¡ یÇÏ Ñ˜ªæ ˜À یæÍäÇ 1: 29-31¡ یæªäÇ ÇÕØÈÇÛی äÿ ãÓیÍ ˜ی ãæÌæÏی ãیŸ ˜ÀÇ " Ïی˜ªæ ÎÏÇ ˜Ç ÈÑÀ Ìæ ÌÀÇŸ ˜ÿ äÇÀ ÇŠªÇ áÿ ÌÇÊÇ Àÿ " یÓæÚ äÿ یæÍäÇ ˜æ ÏÑÓÊ äÀیŸ ˜یÇ۔ ØÑÓ äÿ ÇÓی ØÑÍ 1 ØÑÓ 1: 19 میں کہا ان تینوں میں ایک ضرور سچ ہونی چاہیے آیا کہ:

1: یوحنا یہ کہہ کر غلط تھا ۔

2:  یوحنا درُست تھا ۔

3:  یوحنا ٹھیک تھا ، لیکن مطلب مختلف تھا۔

4: یا یوحنا کی انجیل اس مرکزی نقطے کے متعلق خراب ہے۔

اگر1، پھر یسوع کمزور تھا تو یوحنا ٹھیک نہیں کیا اور خدا یوحنا کو ٹھیک کرنے میں کمزور تھا اور یسوع نبی کو بھی ٹھیک نہ کر سکا۔

اگر2، پھر ہمیں جو یہ کہتا ہے ایمان رکھنا چاہے

اگر3،  پھر یہ کسی بالارادہ جھوٹ کا امتحان کرتا ہے، کیونکہ 1400 سال تک اسرائیلی بالکل جانتے تھے کہ خدا کے برّے کی قربانی کا مطلب کیا ہے۔

 اگر4،  تو پھر یہ ابتدائی مسیحیوں کے لیے یہ نامعلوم ہونا چاہیے ، کیونکہ اُن میں سے کسی نے نہیں کہا کہ یہ تھا۔ یہ 150۔ 200 م کے بعد تبدیل شدہ نہیں رہا، کیونکہ ہم یوحنا 1 پر مشتمل بہت مسودات رکھتے ہیں، ایک پہلا بوڈ مر IIپاپائیری تک موجود ہے مورخہ 150۔ 200 م ہمارے پاس اوریجن کا تحریر شدُہ اس آیت کا متن بھی ہے

( 225۔ 254 م ) اور کرائسوسٹوم ( 407 سی م ) اگر یہ بگڑا ہوا تھا، تو پھر خدا کو خواہش کرنا چاہیے یا کم از کم اپنے تمام پیروکاروں کو اجازت دینی چاہیے کہ اس تمام وقت تک دھوکا دیں ۔

 سوال: احبار 5: 15 میں ، کیا قربانی خدا کے پاس لائی جاتی تھی، یا کاہن کے پاس جیسا احبار 5: 18 کہتی ہے ؟

جواب: چونکہ اسرائیلی خود آسمان میں دسداخل نہیں ہوسکتے تھے اور چونکہ کاہن خدا کی نمائندگی کرتے تھے، اور براہ راست کاہنوں کے پاس لانے کا مطلب یہ تھا خدا نے قربانیاں پیش کرنے کے لیے ایک انتظام بنایا۔ ہیلیز ایلبجڈ ڈسکرپپینیز آف دی بائبل صفحہ 245 سادگی سے کہتا ہے کاہن خدا کے نائب کے طور پر کام کرتا تھا ۔ دیکھیں "جب نقاد پوچھیں " صفحہ 89 اسی ضروری جواب کے لیے ۔

 سوال : احبار 5: 16 میں ، قربانیوں کے لحاظ سے کوئی کب نادانستاً گناہ کرتا تھا ، کلام سزا کے طور پر " 5/1 حصہ کا کیوں اضافہ کیا جاتا ہے ؟

 جواب : کلام حقیقتاً یہ نہیں کہتا انسانوں کی غلطی دانستہ نہ تھی ، بلکہ کسی شخص کو شریحت بہتر جاننا چاہیے۔ پانچواں حصہ کا بھی بطور سزا اضافہ کیا جاتا اگر کسی نے جھوٹ بول کر کوئی جائیداد حاصل کی ہوتی یا چرُائی ہوتی احبار6: 5۔

 سوال : احبار 6: 13 میں ، آگ کیوں کبھی نہیں بجھنے دینی چاہیے؟

 جواب : کلام یہ نہیں کہتا ۔ تاہم ، یہ تمشیل میں کیا جاسکتا تھا  کہ دونوں مسلسل قربانی  اور کسی وقت بھی خدا کے لیے قربانی دینے کے قابل دستیابی ہونا۔

سوال: احبار 7: 1۔ 2 میں اور احبار 8: 17 ، میں جانوروں کو خیمہ کے باہر کیوں مارا جاتا تھا، یا خیمہ سے باہر راکھ کیوں پھنیکی جاتی تھی احبار 6: 11 ؟

 جواب : کلام نہیں کہتا ۔ تاہم ، جسم اور راکھ، جہاں کھاتے تھے لوگ سوتے اور رہتے تھے وہاں سے دور کی جاتی تھیں ۔ عبرانیوں 13: 11 ۔ 13 میں ، ذکر ہے کہ یسوع شہر کے پھاٹک سے باہر مصلوب ہوا ( اور گستاخی سے ) ویسے ہی جیسے جانوروں کے جسم خیمہ سے باہر جلائے جاتے تھے۔

احبار 7: 15 میں ، سلامتی کی قربانیاں اسی دن کھانا ضرور تھا، یا اس میں کچھ اگلے دن بھی کھایا جا سکتا تھا، جیسے احبار 7: 16 ۔ 17 اور احبار 19: 6 کہتا ہے ؟

 جواب : جواب میں تین نکات غود طلب ہیں۔

1:  احبار 7: 16 سلامتی کی قربانی کی دو اقسام کے درمیان پہچانتی ہے ، شکُرگزاری کی قربانیاں اور کوئی بالارادہ اپنی آزاد مرضی سے۔

2:  سلامتی کی قربانی شکرگُزاری کے لیے اسی دن کھائی جانی چاہیے احبار 7: 15 کہتی ہے۔

 3: سلامتی کی قربانی جو مرضی یا اپنی آزاد مرضی کی ہوتی ہے دوسرے دن بھی کھائی جاسکتی ہے جیسے احبار 7: 16۔ 19 اور احبار 19: 6 دونوں کہتے ہیں

 سوال : احبار 7: 23 ۔ 25 ، میں، گوشت میں چربی کیوں نہیں کھائی جاسکتی اور گوشت میں چربی کے غیر واضح ٹکڑوں کے متعلق کیا ہے ؟

جواب : کلام نہیں کہتا کہ خدا نے یہ حکم کیوں دیا۔تاہم، آج ہم جانتے ہیں کہ چربی کی بہت بڑی مقدار ، خاص طور پر، سرُخ گوشت میں سیر شدہ، لوگوں کے لیے صحت مند نہیں ہے جب کہ کچھ چربی ناقابل پرہیز ہے غیر مرئی ٹکڑے کھانا خالص چربی کھانے سے بہتر ہے۔

سوال : احبار 7: 26 27 اور احبار 17: 10۔ 14 میں، اسرائیلی کیوں خون نہں کھا سکتے تھے؟

جواب : حقیقتاً یہ پیدائش 9: 4 میں پہلا حکم کیا گیا تھا ، اسرائیلیوں کے لیے نہیں ، بلکہ ہر ایک کے لیے ۔ اعمال میں بھی ہے 15: 20 ، ابتدائی کلیسیا نے ہر ایک کو خوُن کھانے سے منع کیا پیدائش9: 4 اور احبار 17: 11، 14 میں اس کا جواب ہے۔ خون میں زندگی ہے اور یہ خون کے زریعے کفارہ تھا جو ہمارے لیے ادا ہوا۔ پرُانے عہد نامے کے زمانے میں خون لوگوں کے گناہوں کو ڈھاپنتا تھا (عبرانیوں9: 22) جب تک مسیح کا لہوُ ہمارے لیے بہایا نہ گیا۔

سوال احبار 7: 30 ۔ 31 ، احبار 8: 16، 20 اور احبار 16: 25 میں ، وہ چربی کیوں جلاتے تھے ؟

جواب کلام کہتا ہے کہ یہ ایک میٹھی خوشُبو تھی احبار 8: 28 ۔ صرف ایسے جب چربی گوشت گرم کرکے باربی کیو کے سوراخ میں ڈالی جاتی ہے اسکی ایک اچھی خوشبو ہوتی ہے اور دُھواں بناتی ہے قربانی میں چربی کا جلنا شاید ایک ایسا اثر ہو۔

 سوال: احبار 7: 36 اور احبار 16 : 31، 34 میں ، چونکہ اسرائیلیوں کے لیے قربانی کے قوانین ہمیشہ تک تھے، تو اعمال 15: 1۔ 29 میں یہودی مسیحیوں نے کیوں بند کر دیا ؟

 جواب: حقیقت میں، خدا کو دی جانے والی قربانیاں لوگ نہیں بلکہ کاہن ادا کرتا تھا ۔ آج بھی ایسا ہی ہے ہمیں خدا کو قربانی ادا کرنے کے لیے ایک کاہن کی ضرورت ہے۔ اس نے ہمارے سردار کاہن مسیح یسوع کو دیا جیسے یوحنا 1: 29 اشارہ کرتا ہے اور عبرانیوں 8۔ 10 اور 1یوحنا 2: 2 واضح کرتے ہیں۔

سوال: احبار 8: 8، استثنا 33: 8 ، عزرا 2: 63 اور نحمیاہ 7: 65 میں ، اُوریم اور تمیم کیا تھے؟

جواب :  مقصد : اس وقت ، اوریم کا مطلب تھا کہ کاہن اعلیٰ کسی معاملے پر خدا کی مرضی معلوم کرنا۔ ( خروج 28 : 30 ؛ گنتی 27: 21 ) خدا بعض اوقات اوریم اور تمیم کے زریعے خاموش رہتا تھا (1سموئیل 28: 6 )

تعریف: یہ ایک سینے کی پلیٹ تھی جس میں بارہ پتھر تھے، ہر ایک اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لیے تھی۔

یہ کیسے کام کرتی تھی : اسکی اپنی کوئی زاتی قدرت نہیں تھی، بلکہ صرف کام کرتی تھی کیونکہ بات کرنے کے لیے اسے چُنتا تھا یہ کیسے کام کرتی تھی؟ ہم نہیں جانتے ۔ یہودی ربی ( اُستاد ) یوسیفس کا خیال تھا ( سی 93۔ 94م )، کہ خدا پتھروں کو روشن کرکے بطور حوصلہ افزائی برُوئے کار لایا۔

سوال: احبار 9: 12۔ 13 میں ، وہ کیسے سوختنی قربانی کو ذبح کرتے اور قربان گاہ پر جلاتے تھے، چونکہ یہ پہلے ہی جلایا گیا ہوتا تھا ؟

جواب: سوختنی قربانیاں، مویشی ، بھیڑیں یا بکرے ہوتے ہیں جو ذبح کیے جاتے اور جلائے جاتے تھے، حتیٰ کہ وہ پہلے جلائے جاتے۔

سوال : احبار 10: 1۔ 2 اور گنتی 3: 4 میں ، خدا نے ہارون کے بیٹوں ندب اور ابیہو کو کیوں مار دیا، کس نے خدا کے لیے غیرمجاز آگ جلائی؟

جواب: خدا اپنی پوجا آپ بڑی سنجیدگی سے کرواتا ہے انہوں نے خدا کے ٹھیک عبادت کے طریقے کو رد کرنے کی جرآت کی اور جان بوجھ کر وہ کرتے جو ان کے اختیار میں نہیں تھا خدا نے دوسروں کے لیے مثال کے طور پر سزا دی عبرانیوں 12: 18۔ 23 ہمیں بتاتی ہے کہ اب حالات مختلف ہیں جب کہ انہوں نے ایک پہاڑ پر پوُجا کی ، جہاں جلتی ہوئی آگ تھی ، چونکہ مسیح کا جی اُٹھنا،اعتماد کے ساتھ مسرور کن جماعت میں آتے ہیں۔

سوال: احبار 10: 6 میں ، ہارون اپنے بچوں کے لیے کیوں ماتم نہ کر سکا؟

 جواب: احبار 21: 1۔ 4 کہتی ہے کہ کاہن اپنے بچوں کی وجہ سے ناپاک ہو جاتے تھے تاہم ، احبار 21: 10۔ 12 کہتی ہے کہ ایک کاہن اعلیٰ بالکل ناپاک نہیں ہو سکتا تھا، حتیٰ کہ اپنے باپ اور ماں کی موت کی وجہ سے بھی

 سوال : احبار 10: 16۔ 20 میں موسیٰ ہارون سے کیوں ناراض تھا اور موسیٰ کو کیوں اطمینان نہ ہوُا؟

جواب: کیونکہ خدا نے ہارون کے بیٹوں سے دو کو غیر مناُسب قربانی گزراننے پر ماردیا، موسیٰ ہارون سے اسی وجہ سے ناراض تھا کہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو ۔ تاہم ، جب موسیٰ پر واضح ہوگیا کہ ہارون کی غلطی اتفاقیہ تھی اور ہارون نے اس کی معذرت کی ، موسیٰ جو خدا کے دل کو جانتا تھا پریشان نہ تھا۔

سوال: احبار 11 اور استثنا 14 میں، مقررہ غذا کا خلاصہ کیا ہے ؟

جواب : یہاں ایک مختصر خلاصہ ہے

چربی سے منع: احبار 7: 23۔ 25

خون سے منع:  پیدائش9: 4، احبار 7: 26۔ 27؛ 17 : 10۔ 14؛ 19: 26

کچھ سبزی خور جانور، جن کے کھرُ چرے ہوئے ہوں ، پاؤں الگ ہوں اور جگالی کرنے والے ٹھیک ہیں اونٹ اور پہاڑی خرگوش اور سافان اور سوُر ناجائز ہیں احبار 11؛ 3۔ 8؛ استثنا14: 6۔ 8۔ ایک سائڈ نوٹ کے طور پر ، سور کے اندر ٹیپ ورم ، ٹرائی کینوسس ، ایریسپلاس ٹائی فائیڈ ہوتے ہیں۔

صرف مچھلی،  سمندری خوراک منع ہے جب تک اس میں فن اور سکیل دونوں ہوں کیکڑے ،لابسڑ، جھینگے، ایل، شارک یا ڈولفن منع ہیں احبار 11: 9۔ 12؛ استثنا 14: 9۔ 10۔ ایک الگ حاشیے کے طور پر، ممنوع جانور عام طور پر ناپاک تھے

عقاب منع ہیں، شکرے، گدھ، چیلیں ، اُلوّ بگلے، سادس، پیلی کن، لق لق یا چمگادڑ۔ احبار 11: 13۔ 19؛ استثنا 14 : 11۔ 18۔ ایک الگ حاشیے کے طور پر

خدا قابل فہم بات کرتا ہے:   خدا کا اسرائیل سے بات کرنے کا مقصد تھا الفاظ اور تصورات میں عملی اصولات کی پیروی کرنا تھا جو وہ سمجھ سکتے تھے، اور اسرائیلیوں نے درجہ بندی کی کہ خرگوش اور سافان وہ ہیں جو" اپنا نگلا ہوا واپس لاتے " ہیں ۔

آپ اپنی اصطلاحات کا استعمال: خدا نے آپ اپنی زبان اصطلاحات اور بیانات بات کرنے کے لیے استعمال کیے ہیں۔ کوئی عبرانی جاندار جدید دور سے پہلے قابل فہم جانور تھے کہ " جگالی کرنا جن میں خرگوش اور سافان شامل ہیں۔ موسوی تھریرات کو مکتلف اور جدید درجہ بندی نظام دینے کے لیے پرانے الفاظ کو ایک جدید معانی دینے پر زور ہے۔

سوال: احبار 11: 9-10، 31 میں، وہ فن اور چانوں والی مچھلیاں کیوں کھا سکتے تھے اور نہ کہ دوسری مچھلیاں، جھینگا اور کیڑا؟

جواب: کلام نہیں کہتا، بلکہ یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ خدا نہیں چاہتا کہ ان کو غیر مناسب طریقے سے پکی مچھلیاں کھانے سے بیماریاں لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موسوی شریعت ایسی مچھلیوں کو کھانے سے منع کرتی ہے جن کے پر اور چانے نہ ہوں اس پر 100 م میں غور کیا گیا تھا برنباس کا خط سبق 10۔

سوال: احبار 11: 11 اور خروج 35: 7 میں، چونکہ ڈولفن کا جسم ایک نفرت انگیز ہے کیا خدا نے حکم دیا تھا کہ خیمہ اجتماع کو ان سے ڈھانپیں؟

جواب : بائبل نے کھبی نہیںکہ ڈولفن بذات خود نفرت انیگزہیں صرف یہ کہا ہے کہ ڈولفن کھانا نفرت انیگز ہے اور اُنکی جلد عام استمال کرنا نفرت انیگز ہے یہ عبرانی لفظ عام استعمال میں نہ تھا،پس یہاں کچھ غیر یقنیی ہے عام ڈولفن بعیرہ روم میں رہتی تھی تا ہم یہاں کے جانور، ہو سکتا سمندری گائے ہو۔ سمندری گائیں اس علاقے میں کثرت سے ہیں اور عرب میں بھی آج انکی جلد سے سینڈل بنائے جاتے ہیں حزقی ایل 16: 10 سینڈل " لیڈر کا ذکر کرتے ہوئے حزقی ایل یہی عبرانی لفظ استعمال کرتا ہے ۔

سوال: احبار 11: 13-19 میں، کیسے بیس پرندوں کا ذکر آیا ہے، چونکہ استثنا 14: 11-18 اکیس پرندوں کا ذکر کرتا ہے؟

جواب:  دونوں فہرستیں ایک قسم کے پرندوں پر مشتمل ہے ماسوائے مندرجہ ذیل کے۔

ÇÓÊËäÇ 14: 11-18

 

˜Çáی یá

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ÇÍÈÇÑ 11: 13-19

 

˜æÆی ˜Çáی ÞÓã ˜ی یá

 

ÔÇÀیä ˜ی ÞÓã

 

ÏæäæŸ ÝÀÑÓÊیŸ ˜Óی ÞÓã ˜ÿ ÈÇÒ ˜Ç Ð˜Ñ ˜ÑÊی ÀیŸ۔ ÌȘÀ ÌÏیÏ ãÇÀÑ ÍیæÇäÇÊ ÈÇÒ ˜ی ÞÓã ˜æ ÔÇÀیä ãیŸ ÏÑÌÀ ÈäÏی ˜ÑÊÿ ÀیŸ¡ ʘäی˜ی Èæá Çá¡ Ìæ ÛیÑ ãÊÚáÞÀ Àÿ ÌیÓÇ Â ÌÏیÏ ÏÑÌÀ ÈäÏی ˜æ ˜Óی ÏæÓÑی ÒÈÇä ÇæÑ ËÞÇÝÊ ãیŸ ÞÏیã ÏæÑ Ñ ÌÈÑÇð áÇæ äÀیŸ ˜Ñ Ó˜Êÿ۔ ãјÒی äÞØÀ یÀ Àÿ ˜À ÞÏیã ÚÈÑÇäیæŸ äÿ äãÇیÇŸ ØæÑ Ñ Ïی˜ªÇ ˜À ÔÇÀیä Ȫی ÈÇÒ ˜ی Çی˜ ÞÓã Àÿ ۔

Çی˜ ÏæÓÑÇ ÌæÇÈ یÀ ˜À " ÝÇá˜ä " Çی˜ ÈیÑæäی ÊÍÑیÑی ÛáØی Àÿ۔ æی ˜ÀÊÇ Àÿ ˜یæä˜À ÚÈÑÇäی ãیŸ " Ϫ " ˜æ ( ÏÇÀ) æÀ ˜ÀÊÇ Àÿ ÕÑÝ Çی˜ ÎØ " á" ( ÑÇÀ)Óÿ ãÎÊáÝ Àÿ ÇæÑ " Ϫ"ÓÇãÑی ÔÑیÚÊ ãیŸ äÀیä Àÿ ÔÑیÚÊ ˜ی Àáی Çä ˜ÊÇÈیŸ Ìä ãیŸ یÀ ãæÌæÏ äÀیŸÀÿ ÀÝÊÇÏی ÇæÑ ˜Æی ÚÈÑÇäی ãÓæÏÇÊ ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 11: 20-21 ãیŸ¡ ˜یÇ یÀ ˜ÀäÇ ÛáØی Àÿ ˜À ÇÑ ÇÄŸ æÇáÿ ÍÔÑÇÊ ÀیŸ¿ ( Èÿ Ïیä ÇæÑ ãÓáã ÏæäæŸ یÀ æªÊÿ ÀیŸ¿

ÌæÇÈ: ÚÈÑÇäی ãÍÇæÑÀ " ÇÑæŸ Ñ" ˜Ç ãØáÈ Àÿ یÀ Óی컂 äÀیŸ áÊÇ۔ Ó Çی˜ ˜ÊÇ Çی˜ ˜Šی ŠÇä ˜ÿ ÓÇʪ Ȫی " ÇÑæŸ Ñ" Àی áÊÇ Àÿ ÚÈÑÇäی äãÇیÇŸ ØæÑ Ñ ÇÓ ˜ÿ ãÊæÇÒی áÝÙ äÀیŸ јªÊÿ ʪÿ۔ ÇÓ ˜ÿ ãÊÚáÞ ÓæیŸ¡ ÍÊیٰ ˜À ÇäÑیÒی یÇ یäی ãیŸ¡  ˜یÓÿ ãÎÊÕÑ ØæÑ Ñ ˜Óی ˜æ ÈیÇä ˜ÑیŸ ÿ ˜À ÇÑ¡ ª ÇæÑ ˜Æی ŠÇäæŸ æÇáÿ ÌÇäæÑ یÀ áÝÙ ãÊæÇÒی ÇÓÊÚãÇá ˜یÿÈÛیÑ ÚÇã ØæÑ Ñ áÊÿ ÀیŸ¿

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 12: 1-8 ãیŸ¡ ÚæÑÊیŸ ÈæŸ ˜ی یÏÇÆÔ ˜ÿ ÈÚÏ äÇÀ ÂáæÏÀ ˜یæŸ Àæ ÌÇÊی ÀیŸ¿

ÌæÇÈ: ˜áÇã äÇÀ ÂáæÏÀ äÀیŸ ˜ÀÊÇ ÕÑÝ äÇǘ ˜ÀÊÇ Àÿ۔  ÌÈ áÇæیæŸ ˜ÿ ÎÇäÏÇä ãیŸ Óÿ ˜æÆی ãÑ ÌÇÊÇ¡ Êæ ÎÏÇ äÿ ÇäÀیŸ ÌÓã ÏÝä ˜Ñäÿ ˜Ç ͘ã ÏیÇ۔ äÇǘ ÀæäÇ äÇÀ ÂáæÏÀ Àæäÿ Óÿ ãÎÊáÝ Àÿ¡ ÌیÓÿ ÎÏÇ äÿ Çä ˜æ ãÎÕæÕ ÕæÑÊ ÍÇá ãیŸ äÇǘ ÀæäÇ ˜ÀÇ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 12: 1-5 ãیŸ¡ ÈæŸ ˜ÿ ÈÚÏ ãÇŸ äÇǘ ˜یæŸ Àæ ÌÇÊی Àÿ¿

ÌæÇÈ: ˜áÇã یÀ äÀیŸ ˜ÀÊÇ۔ ÊÇÀã¡ äÇǘ ÀæäÇ¡ ÇÓÿ ÑæÒ ãÑÀ ˜ÿ ˜ÇãæŸ Óÿ ÂÑÇã ÏیäÇ Àÿ¡ ÇæÑ ÇÓ ˜ÿ áیÿ ÂÑÇã ÏÀ æÞÊ ÇªÇ Àæ Ç۔

ÓæÇáÇÍÈÇÑ 12: 1-5 ãیŸ¡ ãÇŸ ÈیŠÿ ˜ی یÏÇÆÔ ˜ÿ áیÿ 7 Ïä ÇæÑ ÈیŠی ˜ی یÏÇÆÔ ˜ÿ áیÿ 14 Ïä ˜یæŸ äÇǘ Àÿ¿

ÌæÇÈ: ˜áÇã ÇیÓÇ äÀیŸ ˜ÀÊÇ۔ ÊÇÀã¡ äÇǘ ˜Ç ãØáÈ äÇÀ ÂáæÏÀ äÀیŸ۔ Çی˜ ãáÊی ÌáÊی æÌÀ یÀ Àÿ ˜À Çä äÑ ÈæŸ ˜Ç ŠªæیŸ Ïä ÎÊäÀ ˜ÑÇیÇ ÌÇÆÿ ¡ ÇæÑ áš˜æŸ ˜ÿ áیÿ ʪæšÇ æÞÊ ÇÓ áیÿ ˜ی ãÇŸ ÎÊäÿ ˜ی ÑÓã ãیŸ ãæÌæÏ Àæ Ó˜ÿ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 12: 5-7 ãیŸ¡ äÆی ãÇŸ¡ ÈËÿ یÏÇ Àæäÿ Ñ ˜یæŸ ÓæÎÊäی ÞÑÈÇäی ÇæÑ Çی˜ äÇÀ ˜ی ÞÑÈÇäی áÇÊی ʪی¡ æä˜À ÒÈæÑ  128: 3 ˜ÀÊی Àÿ ˜À ãÇÏÑیÊ Çی˜ äÚãÊ Àÿ¿

ÌæÇÈ: ãÇÏÑیÊ Çی˜ äÚãÊ Àÿ۔ ÊÇÀã¡ ÀÑ ÇÈÊÏÇÆی یÒ ˜ی ØÑÍ Àã ˜ÑÊÿ ÀیŸ¡ یÀ äÇÀ ˜ی æÌÀ Óÿ ÏÇÛ áÇ Àÿ۔ ÍÊیٰ ˜À Èÿ ˜ی یÏÇÆÔ äÇÀ ÂáæÏÀ ÝØÑÊ Àÿ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 13 ãیŸ¡ ˜æšª ˜ی ÚáÇãÇÊ ˜ی Çی˜ ÎÕæÕیÇÊ ˜یæŸ äÀیŸ ÀæÊیŸ ÌäªیŸ Àã ÈØæÑ ˜æšª ÌÇäÊÿ ÀیŸ ¿

ÌæÇÈ: ÚÈÑÇäی áÝÙ ˜Ç ãØáÈ Àÿ ˜À ÌáÏی ÈیãÇÑæŸ ˜Ç Çی˜ æÓیÚ ãÌãæÚÀ Àÿ¡ ÇæÑ ÕÑÝ æÀ äÀیŸ ÌÓÿ À㠘暪 ˜ÀÊÿ ÀیŸ یÇ ÀیäÓä ˜ی ÈیãÇÑی ˜ÀÊÿ Àیä۔ ÇæÑ Çá ÍÇÔیÀ ˜ÿ ØæÑ Ñ¡ ÊÕæÑ ˜ÑیŸ ˜À ÇÈÊÏÇÆی ÏäیÇ ãیŸ ÌáÏی ÍÝÙÇä ÕÍÊ ˜Êäÿ ÇÀã ʪÿ۔ ÌÈ áæ ÒیÇÏÀ äÀÇäÿ ˜ÿ ÞÇÈá äÀیŸ ʪÿ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 13 ãیŸ¡ ˜æä Óی ÈیãÇÑیÇŸ ˜æšª ˜ÿ ØæÑ Ñ ÎیÇá ˜ی ÌÇÊی ʪیŸ¿

ÌæÇÈ: Ïی æ˜áÝ ÈÇÆÈá ˜ÔäÑی ÕÝÍÀ 462 Ñ یÀ ãäÏÑÌÀ Ðیá ÝÀÑÓÊ Àÿ۔ ÇÕá ˜æšª ( ÀیäÓä ˜ی ÈیãÇÑی)¡ ÂÊÔ˜¡ ی˜¡ ÎÇÑ Ô ¡ ÝیæÓ¡ ˜ªÑšی ˜Ç Šیäی¡ ÌÓãÇäی ÝäÓ ˜Ç ªæÊ¡ ÝÑä˜áÒ¡ ªÇáÿ¡ ÌáÏی ÎÇÑÔ ÇæÑ ˜áÏی ÓÑØÇä۔ یÀ Çی˜ یÑ Óÿ áی Æی " ÚÈÑÇäی æÞÊ ãیŸ ˜æšª" ÀیÑæá Çیã Óä˜Ç¡ Çیã ی äÿ ᘪÇ۔ یÀ ãÇÑ 1959 ¡ ÌÑäá ÂÝ Ïی ÓÇÆیäیݘ ÇÝیáیÔä ãیŸ ʪÇ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 13: 32 ãیŸ¡ ªÓÊÇ ÀæÇ ˜æšª ˜یÇ Àÿ¿

ÌæÇÈ: ÌÏیÏ ÏæÑ äÿ ÈÀÊ Óی ÌáÏی ÈیãÇÑیæŸ ˜æ ÇÈ Ê˜ äیÓÊ æ äÇÈæÏ ˜ÑÏیÇ Àÿ۔ ÚÈÑÇäی ÇÕØáÇÍ ˜Ç ãØáÈ Àÿ Çی˜ ÔÏیÏ ÞÓã ˜ی ÌáÏی ÈیãÇÑی ÌÓ ˜ÿ ÂÌ Àã æÇÞÝ äÀیŸ ÀیŸ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 13: 54-59 ¡ ãیŸ ˜šÿ ÇæÑ ªÑ ˜یÓÿ " ÈیãÇÑ ÀæÊÿ" ÇæÑ ˜æšª Àæ ÌÇÊÇ ¿

ÌæÇÈ: ˜šæŸ Óÿ ÌáÏی ÈیãÇÑیÇŸ ªیá Ó˜Êی ÀیŸ۔ ÈÇá˜á ÇیÓÿ ÌیÓÿ ÓÇÀ ªªæäÏی ˜šæŸ ÇæÑ áææŸ ÏæäæŸ Ñ Èšª Ó˜Êی Àÿ¡ ˜ª ÌáÏی ÈیãÇÑیÇŸ Ȫی ÇیÓÿ Àی Èšª  Ó˜Êی ÀیŸ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 14: 12 ãیŸ¡ ˜æÆی ˜یæŸ ãÏÇÎáÊ ÏیÊÇ ÊªÇ ÇæÑ äÇÀ ˜ی ÞÑÈÇäی ÌÈ æÀ Çی˜ ÈیãÇÑی Óÿ ÔÝÇ یÇÈ Àæ ÌÇÊÇ¿

ÌæÇÈ: ˜áÇã ÊÝÕیáÇð ÈیÇä äÀیŸ ˜ÑÊÇ¡ áی˜ä

1:  ˜æÆی ÞÑÈÇäی ÀãیÔÀ ÑÓãی ÕÝÇÆی ãیŸ ãáæË ÀæÊی ʪی۔

2: ÇÓ ÈÇÊ ˜Ç ˜æÆی Ð˜Ñ äÀیŸ ˜À ÔÎÕ " ÎØÇ ˜ÇÑ" یÇ ãÒیÏ " äÇÀ ÂáæÏÀ" 滂 ÈÀ äÓÈÊ ÏæÓÑæŸ ˜ÿ ˜یæä˜À ÇÓ ( ãÑÏ / ÚæÑÊ) ˜æ یÀ ÈیãÇÑی Àÿ۔ یÀÇŸ Çی˜ ÑæÍÇäی ÇØáÇÞ Àÿ Ìæ Àã Óی˜ª Ó˜Êÿ ÀیŸ۔ ãÌãæÚی ØæÑ Ñ ÍÞیÞÊ ˜À ÎÏÇ ÇیãÇäÏÇÑæŸ ˜ÿ äÇÀ ãÚÇÝ ˜Ñ ÏیÊÇ Àÿ¡ ÀãیŸ Çäی äÇÀ ÂáæÏÀ ÝØÑÊ ˜ÿ ÓÇʪ ÓÇʪ ǘیÒی ˜ی ÇȪی ʘ ÖÑæÑÊ Àÿ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 14: 14-17 ãیŸ¡ ÏÇÆیŸ ˜Çä¡ ÏÇÆیŸ ÀÇʪ ˜ÿ ÇäæŠªÿ ÇæÑ ÏÇÆیŸ ÇÄŸ ˜ی Èšی Çäáی Ñ Îæä ÇæÑ Êیá ˜یæŸ Ñ˜ªÇ ÌÇÊÇ ÊªÇ¿

ÌæÇÈ: ˜áÇã ÎÇÕ ØæÑ Ñ یÀ äÀی ˜ÀÊÇ¡ áی˜ä یÀ ÔÇیÏ ˜Óی ˜ی Ìæ ÞÑÈÇäی ÒÑÇä ÑÀÇ ÀæÊÇ ÞÑÈÇäی ˜ÿ ÓÇʪ ÔäÇÎÊ ÀæÊی۔ ÏÇÆیŸ ÇäæŠªÿ¡ ÏÇÆیŸ ˜Çä ÇæÑ ÏÇÆیŸ ÇÄŸ ˜ی Èšی Çäáی ˜æ ÇÓÊÚãÇá ˜Ñäÿ ˜ی ÏæÓÑی ãËÇáیŸ ÇÍÈÇÑ 8: 23-24 ÇæÑ ÎÑæÌ 29: 20 ãیŸ Àÿ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 15: 16-18 ãیŸ¡ æä˜À áæ ãÈÇÔÑÊ ˜ÿ ÈÚÏ ÔÇã ʘ äÇǘ ÑÀÊÿ ʪÿ¡ ˜یÇ ÇÓ ˜Ç ãØáÈ یÀ Àÿ ˜À ÔÇÏی ãیŸ Ȫی ˜Óی ØÑÍ ˜ی ãÈÇÔÑÊ äÇÀ ÂáæÏÀ Àÿ¿

ÌæÇÈ: äÀیŸ¡ äÇǘی ˜Ç ãØáÈ یÀ äÀیŸ ˜À ÎÏÇ ˜ی äÇÝÑãÇäی¡ Èá˜À ÕÝÇÆی ˜ÿ ãÚÇãáÿ ãیŸ ÎØÑÀ ˜ÿ ãÊÚáÞ ÈÀÊ ÒیÇÏÀ ÇÍÊیÇØ۔ ãËÇá ˜ÿ ØæÑ Ñ¡ ÌÈ ˜æÆی ÞÑیÈی ÑÔÊÀ ÏÇÑ ãÑ ÌÇÊÇ Àÿ Êæ ÝÑÖ ˜ÑیŸ ˜À  Çäÿ ÑÔÊÀ ÏÇÑ ˜æ ÏÝä ˜ÑÊÿ ÀیŸ¡ ÇæÑ( ÈÛیÑ äÇÝÑãÇäی ˜ÿ ) Êã ÔÇã ʘ äÇǘ ÑÀÊÿ Àæ۔ ǘیÒی Ñ ÞæÇäیä¡ ÈیÇÈÇäی ËÞÇÝÊ ãیŸ ʪæšÿ Çäی ˜ÿ ÓÇʪ ÈÀÊ ÇÀã ʪÿ۔ Çی˜ ˜ÇÀä ˜ÿ äÇǘ Àæäÿ ˜ی ãËÇá ãیŸ¡ ˜یæä˜À æÀ ÎÏÇ ˜ی ãÑÖی æÑی ˜Ñ ÑÀÇ ÊªÇ äÊی 19: 8۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 15: 19-30¡ 33 ãیŸ¡ ÚæÑÊیŸ Çäÿ ÍیÖ ˜ÿ ÏæÑÇä ˜یæŸ ÂáæÏÀ ÀیŸ¿ ( ˜Óی ãÓáãÇä äÿ ÏÚæیٰ Óÿ ˜ÀÇ)

ÌæÇÈ: یÀ äÇÀ ÂáæÏÀ äÀیŸ¡ Èá˜À ÕÑÝ äÇǘ ÀیŸ۔ áÇæیæŸ ˜ÿ ÎÇäÏÇä ãیŸ Óÿ ÌÈ ˜æÆی ãÑ ÌÇÊÇ¡ Êæ ÎÏÇ Çä ˜æ ÏÝä ˜Ñäÿ ˜Ç ͘ã ÏیÊÇ¡ ÇæÑ æÀ ÔÇã ʘ äÇǘ ÑÀÊÿ äÇǘ ÀæäÇ¡ äÇÀ ÂáæÏÀ Àæäÿ Óÿ ãÎÊáÝ Àÿ¡ ÌیÓÿ ÎÏÇ äÿ ͘ã Ïÿ ˜Ñ ËÇÈÊ ˜Ñ ÏیÇ ˜À ãÎÕæÕ ÕæÑÊ ÍÇá ãیŸ æÀ äÇǘ ÈäیŸ۔

æä˜À یÀ ÎÇÕ ãÓáãÇä ˜ÿ áیÿ ʪǡ ÔÇیÏ æÀ Çä یÒæŸ Ñ ÊÈÕÑÀ ˜Ñäÿ Ñ ãÍÊÇØ Àæ¡ Ìæ ÔÑیÚÊ Óÿ ÀæŸ۔ ÇäÇ äǘ ÕÇÝ ˜ÑÊÿ ÀæÆÿ ÇæÑ ÍیÖ ÔیØÇä  ˜ÿ ˜Çã ÀیŸ۔ ÇÈä ãÇÌÀ æÇáیã 2 äãÈÑ 969 ÕÝÍÀ 87۔

 ÇÓÿ ãÓáãÇä ÚÇáãæŸ Óÿ æªäÇ ÇÀیÿ ãÓáãÇä ÚæÑÊæŸ ˜æ ÍیÖ ˜ÿ ÏæÑÇä äãÇÒ šªäÿ Óÿ ˜یæŸ ãäÚ ˜یÇ یÇ Àÿ۔ ÔÑ یÚÀ Óÿ ˜ª ÐÑÇÆÚ ÀیŸ Ìæ Çä Óÿ æªäÿ ˜ÿ áیÿ ÇÓÊÚãÇá ˜ی ÌÇ Ó˜Êی ÀیŸ ۔

Çی˜ ˜ÇáÇ ˜ÊÇ ÇæÑ Çی˜ ÚæÑÊ¡ یÇ Çی˜ ˜ÊÇ ÇæÑ ÍیÖ æÇáی ÚæÑÊ äãÇÒ Êæš ÏیÊÿ ÀیŸ ۔ ÇÈæÏÇæÏ æÇáیã 1 äãÈÑ 702¡ 703 ÕÝÍÀ 181 º ÇÈä ãÇÌÀæÇáیã 2 äãÈÑ 949-953 ÕÝÍÀ 78-80۔

Çی˜ ÍیÖ æÇáی ÚæÑÊ ˜æ ÞÑÂä ˜ی ÊáÇæÊ ˜Ñäÿ ˜ی ÇÌÇÒÊ äÀیŸ ÇÈæÏÇæÏ æÇáیã 1 ÍÇÔیÀ 111 ÕÝÍÀ 56۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 16: 1-2 ãیŸ¡ ÎÏÇ äÿ Çی˜ ʪæšی ªیá ˜یæŸ Ïی¡ æä˜À ÎÏÇ äÿ ÀÇÑæä ˜Ê Ïæ ÈیŠæŸ äÏÈ ÇæÑ ÇÈÀیæ Ñ ˜æÆی ÊÑÓ äÀ ˜ªÇیÇ¿

ÌæÇÈ: ãÊä ÙÇÀÑ ˜ÑÊÇ Àÿ ˜À ÀÇÑæä äÿ ÚÙãÊ ãیŸ ÛáØی äÀ ˜ی¡ ÇæÑ ÑæãیæŸ 4: 15 ÇæÑ ÑæãیæŸ 5: 13 ÙÇÀÑ ˜ÑÊÿ ÀیŸ ˜À ÎÏÇ ÀãÇÑÿ äÇÀæŸ ˜Ç ÍÓÇÈ äÀیŸ ˜ÑÊÇ Ìæ Àã Ȫæáÿ ãیŸ¡ ÛÝáÊ ãیŸ ÎáÇÝ æÑÒی ˜ÑÊÿ ÀیŸ۔

ÓæÇá: ÇÍÈÇÑ 16: 10¡ 22¡ 26 ãیŸ¡ ÎÏÇ äÿ ȘÑÿ Ñ äÇÀ áÇÏäÿ ˜Ç ÊÕæÑ ˜یæŸ ÏیÇ¿

ÌæÇÈ: ȘÑÿ Ñ äÇÀ áÇÏäÿ ˜Ç ÈÇÆÈáی ÊÕæÑ¡ ÌÏیÏ ÇÕØáÇÍ Óÿ ãÎÊáÝ Àÿ۔ ÌÏیÏ ÇÕØáÇÍ ˜Ç ãØáÈ Àÿ æÀ ÌÓ Ñ ˜Óی یÒ ˜Ç ÇáÒÇã ÀæÊÇ ÌÓ ˜ÿ áیÿ æÀ ÐãÀ ÏÇÑ äÀ ÀæÊÿ۔

ÈÇÆÈá ãیŸ¡ äÇÀ ÈÑÏÇÑ È˜ÑÇ ÈیÇÈÇä ãیŸ ÑÀäÿ ˜ÿ áیÿ ªæšÇ ÌÇÊÇ ÊªÇ¡ ÇæÑ ÚáÇãÊی ØæÑ Ñ È˜ÑÇ ÊãÇã äÇÀ Çäÿ ÇæÑ áÿ ÌÇÊÇ ÊªÇ ۔ ÈÇÆÈáی ÝÀã ãیŸ¡ یÓæÚ ÀãÇÑÇ äÇÀ ÈÑÏÇÑ ÈÑÀ Àÿ۔

äÇÀ ÈÑÏÇÑ ÈÑÿ ˜Ç ÊÕæÑ ÔیØÇä ˜ی ÚáÇãÊ Àÿ یÀ Çی˜ یÀæÏی ÑæÇیÊ Àÿ Ìæ