ہوسیع

سوال: ہوسیع میں ، اس کتاب کا خاکہ کیا ہے؟

جواب: یہاں ہوسیع باب نمبر 1 تا 3 میں ایک بلند درجے کا خاکہ پایا جاتا ہے باب نمبر 1 تا 3 ہوسیع کا خاندان ایک علامت یا تمثیل ہے

باب 1 تا 2 آیت 1 اسرائیل کی بے وفائی

---- باب 1 آیت 3 تا 9  وہ جو خداوند کے لوگ نہیں ہیں ،انہیں خداوند بے رحمی سے متنشر کردے گا

----- باب 1 آيت 10 تا باب 2 آیت 1 جو خداوند کے لوگ ہیں انہیں رحمدلی سے اکٹھاکرے گا

----باب2 آیت 14 تا باب 3 آیت 5 خداوند اسے واپس کھینچ لے کا اور اس پر رحم کرے گا-

--- باب 2 آیت 14 ، باب 2 آیت خداوند اسرائیلیوں سے چھین لے گا-

---باب 3 ہوسیع اپنی بیوی کو اپنی غلامی کے لیے خریدے گا

--- باب نمیر 4 تا 14 سے مفسروں نے ہوسیع کو دو مختلف طریقوں سے تقسیم کیا ہے ، 1 ملامت اور بہت زیادہ ملامت کرنا

1 – ملامت : یہاں ایک سادہ سا خاکہ پیش کیا جارہا ہے

باب 4 آیت1 تا باب 6 آیت 3 اسرائیل کی بے وفائی

باب 6 آیت 3 تا باب 10 آیت 15 خداوند کی تنبیہ اور انصاف

باب 11 تا 13 خداوند کا رحم

باب 14 اس خداوند کی طرف لوٹ کر جانا جو بھرپور رحمت رکھتا ہے اس طریقے کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے وہ یہ کہ باب 5 آیت 15 تا باب 6 آیت 30 ، باب 11 آیت 8 تا 11 میں تم خداوند کی رحمت کے پیراۓ دیکھتے ہو اور باب 11 آیت 12 باب 13 آیت 16 میں خداوند کا انصاف دیکھتے ہو

2 – تنبیہ کے ساتھ ملامت:   باب 1 تا 3 ہوسیع کا خاندان ایک علامت ہے  باب 1 آیت 2 تا 9  تاوان اور سزا،

باب 1 آیت 10 تا 21 خداوند اپنے لوگوں کی توانائی کو بحال کرے گا

باب 2 آيت 2 تا 13 تاوان اور سزا

باب 2 آیت 14 باب 3 آیت 5 خداوند اور ہوسیع کی تلافی

باب 4 تا 6 آیت 3 خداوند کا عرفان حاصل کرنے میں ناکافی پر سوا

باب 4 آیت 1 تا باب 15 آیت 14 الزام اور انصاف

باب 4 لوگوں کے خلاف

باب 5 آیت 1 تا باب 5 آیت 14 کاہنوں کے خلاف

باب 5 آیت 15 تا باب 6 ایت 3 رجوع کرنا خدا اور خداوند ہی ہمیں شفا دے گا

باب 6 آیت 4 تا باب 11 آیت 11 خداوند کو عہد کو توڑنے کی سزا

باب 4 تا 11 آیت 7 سزا اور انصاف

باب 11 آیت 8 – باب 11 آیت 11 خداوند کی رحمدلی سے نجات

باب 11 آیت 12 تا باب 14 آیت 9 خداوند کے ساتھ بے وفائی کرنے کی سزا

باب 11 آیت 12 تا باب 13 آیت 16 سزا اور عدالت

باب 14 نادم ہو اور خداوند تمھیں قبول فرماۓ گا

 

سوال: ہوسیع کی کتاب کے اہم نکات کونسے ہیں؟

جواب: جیسے کہ امثال اور دوسری کتابیں خداوند کی دانش مندی کو مرکز نگاہ بناتی ہیں یا جیسے کہ عبدیاہ ، نحمیاہ اور دوسری کتابیں خداوند کے انصاف کو مرکز نگاہ بناتیں ہیں، جبکہ ہوسیع ان کے برعکس خداوند کے عظیم ترین جذبات کو فوکس کرتی ہے ، خداوند ایک بہت خونخوار جذبہ رکھتا ہے جو گناہ سے نفرت کرتا ہے لیکن گنوا دینے سے کہیں ویادہ محبت رکھتا ہے – خداوند نے اور ہو سیع نے اسرائیل کو ان کی موجودہ عہد کے تعلق کی جو انکا خداوند کے ساتھ کی آگاہی کروانے میں بہت زیادہ تکلیفیں اٹھائیں

 

سوال: ہوسیع کی کتاب کےبہت سے امتیازی پہلو کیا ہیں؟

جواب: ہوسیع کی کتاب صرف شمالی نبی کے بارے میں ہے جو شمالی لوگوں سے بات کرتا تھا ، خداوند کے کچھ امتیازی نام جو ہوسیع استعمال کرتا تھا وہ یہ ہیں " سب سے بلند " "پاکیوہ " اور ان کی تاریخ کو خوشنما بناتا تھا اور سونے کے بچھڑے کو بیان کرتا تھا ، یقینا ہر بات قبول نہیں کی جا سکتی شمالی ریاستیں کھلم کھلا سونے کا بچھڑے کا ذکر کرتے تھے

 

سوال: ہوسیع میں بہت سی آیتوں کی گنتی ایک بعد بند کیوں کر دی گئی ؟

جواب: موسوی توریت میں بہت سی جگہوں پر یونانی توریت سے ایک بہتر زیادہ آیت لکھی گئ ہے- آیتوں کی مختلف گنتی کو اثر انداز نہیں کرتی

 

سوال: ہوسیع باب 1 آیت 1 کے مطابق ہوسیع کی کتاب کب لکھی گئی ؟

جواب:  یہ 720 تا 760 اے ڈی میں لکھی گئی ، ہوسیع کی کتاب صرف شمالی نبی کے بارے میں ہے جو صرف شمالی لوگوں سے بات کرتا تھا ، یر بعام کا ذکر ہوسیع میں ملتا ہے ہم بھی اسےیربعام کے طور پر ہی جانتے ہیں جس کے بارے میں تم 2 سلاطین باب 14 آیت 23 تا 29 میں پڑھ سکتے ہو -  جب شمالی ریاستوں کو تقسیم کیا گیا تو یربعام 1 پہلا بادشاہ تھا جس نے بیھل اور ڈان کے مقام پر سونے کابچھڑا بنایا تھا تا کہ لوگ یروشلم جانے کی بجاۓ اسکی پوجا کریں

 

سوال: ہوسیع باب 1 آیت 1 میں یہوداہ کے چار بادشاہ کا ذکر کیوں کیا گیا ، اسرائیل کے ایک بادشاہ کا کیوں نہیں ؟

جواب:  ہوسیع ایسا نہیں کہتی ، غوروفکر کرنے سے یہبات سامنے آتی ہے کہ یہ اسرائیل کے بادشاہ کی بمقابلہ طور پر یہوداہ کے بادشاہوں کی شرعی حالت کو نمایاں کر سکتی ہے  دوسرے الفاظ میں ہوسیع ریاستوں کے حکومت کو بادشاہ کا لقب دے کر زیادہ محترم نہیں بنانا چاہتا

 

سوال:  ہوسیع باب 1 آیت 1 تا 2 میں خداوند نے ہوسیع کو ایسی بیوی لینے کا حکم کیوں دیا جیکہ احبار باب 21 آیت 5 باب 13 تا 14 میں کاہنوں کا ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے ؟

جواب: پہلی بات تو یہ کہ کتاب مقدس یہ نہیں کہتی کہ ہوسیع کا ہن ہے ہوسیع کا ایسا کرنے کے پیچھے خداوند کا ایک خاص مقصد تھا ، ہوسیع کی بیوی اسرائیل کی خداوند سےبے وفائی کی ایک زندہ مثال تھی

سوال: ہوسیع باب 1 آیت 1 تا 2 کے مطابق جمر جو کہ ایک ایسی عورت تھی کیا وہ ہوسیع سے شادی کرنے کو ترجیح دیتی یا بعد میں؟

جواب:  بہت سے لوگوں کا ادراک انہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے مائل کرتا ہے کہ وہ صرف ایک خواب تھا یا جمر درحقیقت ایک نیکوکار تھی اور یہ صرف ایک تمثیل تھی ، تاہم کتاب مقدس اس وہمی اور خیالی اضافہ کی ضمانت نہیں دیتی

ہوسیع باب 2 آیت 1 میں ہوسیع کو ایک بدکار عورت سے شادی کرنے کا حکم دیاگیا ، یہ غالبا ایسے ہی ہے کہ وہ بدکار کرنے جارہی تھی ،کیونکہ وہ شادی سے پہلے ، اپنی اور ہوسیع کی شادی کے خلاف بدکاری نہین کر سکتی تھی ، اسکے علاوہ کوئی بھی بات یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اس نے شادی کےبعد پیسے کی خاطر بدکاری کی ہو –

 

سوال: ہوسیع باب 1 آيت 12 تا 3 کے مطابق کیا خداوند نے ہوسیع سے کہا کہ ہوسیع بدکاری کرے ؟

جواب: نہیں یہ سچ نہین ہے ، خداوند نے ہوسیع کو بدکاری کرنےکا نہیں کہا اور نہ ہی ہوسیع نے بدکاری کی ، بلکہ ہوسیع نے اس سے شادی کی جو فاحشہ تھی اور دوبارہ اس عصمت فروشی کے کام کی طرف لوٹ گئی

 

سوال: ہوسیع باب 1 آیت 2 کے مطابق کیا مسیحوں کو آج بھی ایک فاحشہ کو اپنی بیوی بنانا چاہیے ؟

 

جواب: نہیں کیوں کہ ایمان والے ایمان والیوں سے شادی کرتے ہیں، اسکےعلاوہ اس بات کو تصور کیجھیۓ کہ بیوی کس قسم کے روحانی اثرات خاوند اور بچوں پر ڈالے کی

تاہم ایک ایمان والا شخص اس سے شادی کر سکتا ہے جس نے کبھی بدکاری کی ہو لیکن وہ اس پر نادم ہوئی ہو اور اس نے یسوع کی طرف رجوع کیا ہو ، تاہم ایسا کرتے وقت اس جنسی بیماریوں سے آگاہ رہیے گا جو تمھارے شریک حیات میں ہو سکتے ہیں ، ان میں کچھ جانی مانی بیماریاں یہ ہیں جیسے کہ کلمپیڈیا ، سوزاک کا مرض ، آتشک ،تولیدی اعضاء میں سخت دانہ ، کھجلی خارش ، وائرس کی رسولی اور ایڈز

 

سوال: ہوسیع باب 1 آيت 4 ، 6 ، 9 میں ہوسیع کے بچوں کو اتنے عجیب نام کیوں دیۓ گۓ؟

جواب: تاہم افریقی باشندوں کے بچوں کو ان کی مذہبی توہمات کی بنیاد پر عجیب و غریب نام دیۓ جاتے ہیں ، جیسے کہ بیماری ، ہوسیع نے ایسا ثقافتی یا ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر نہیں کیا تھا

حداوند نے ہوسیع کو اسکے بچوں کے عجیب نام بتاۓ تھے جو اسرائیل کے لیے ایک علامت ہوں گے ،کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ خداوند نے ہوسیع کو ایسا کرنے پر زور دیا تو اسطرح خداوند " ناانصاف " تھا ، خداوند ناانصاف نہیں ہے ، بلکہ خداوند اس زندگی میں غیر منصفانہ ہے اور خداوند کے پاس ایسا کرنے کاحق موجود ہے خداوند ہوسیع کی خاندانی زندکی سے یادہ اسرائیل کے لوگوں کو اہمیت دی، ہوسع نے بھی خود کو ایسے مخصوص طریقے سے استعمال ہونے پر کوئی اعتراض نہ کیا اور آخر میں خداوند ہر چیز کا انصاف کرے گا اور ہر چیز کو برابر کردے گا  

 

سوال: ہوسیع باب 1 آیت 4 میڑ یرزعیل کا خون یآہو کے گھرانے پرکیوں تھا جبکہ یا ہو خداوند کی تابعداری کرتا تھا ؟

جواب: خداوند نے یاہو کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ اسرائیل کا بادشاہ ہو گا ایک نبی کا استعمال کیا ،جیسے کہ اس نے 2 سلاطین باب 9 میں کہا خداوند نے ( 2 تاریخ باب 22 آیت 7 تا 9 ) میں اخزیاہ کو قتل کرنے کا نہیں کہا اور نہ ہی 2 سلاطین باب 10 آیت 12 تا 14 میں اسکے رشتےداروں کو ہلاک کرنے کو کہا ،اور نہ ہی 2 سلاطین باب 10 آیت 18 تا 19 میں خداوند نے یاہو کو بعل کے لیے چالاکی سے پچھتاۓ ہوۓ پرستش کرنے اور بعد میں سب کو مار دینے کو کہا تھا –

درحقیقت یاہو تمام قسم کی بت پرستی کے خلاف نہیں تھا ، 2 سلاطین 10 آیت 28 تا 31 میں بیت اہل اور دان کے مقام پر موجود سونے کے بچھڑوں سے کنارہ کشی نہیں ہونا چاہیے تھا ، اسکے علاوہ ایک نقش اور آشوریا کالے اوبلسک (841 بی سی ) میں ایک تصویر یاہو کو شلمیز 3 کے آگے جھکتے ہوۓ دیکھاتی ہے تاہم یاہو خداوند کی تابعداری کرنے کا مخالف تھا اور وہ اس کا حامی صرف اپنے ذاتی ارادے کے تحت کرتا تھا

 

سوال: ہوسیع بب 2 آيت 1 تا7 ، یہاں ہوسیع اپنی بیوی کی وکالت کیوں کر رہا ہے ؟

جواب: اس کا جواب ہوسیع باب 3 آيت 1 بک 3 کے مطابق لاگو ہوتا ہے ، ہوسیع کو نہ چھوڑنے پر اور اسے دوبارہ فاحش کام کی طرف نہ جانے کے لیے وکالت کر رہا ہے –

 

سوال: ہوسیع باب 2 آیت 13 کے مطابق یہ بعلیم کے ایام کیا تھے ؟

جواب: یہ کوئی خاص تہوار نہیں تھا ، اسکے برعکس بعلیم ،بعلم کاجمع ہے اور یہ ان دنوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ،جب اسرائیلی کنعان کے بعلم ، فونشینا اور یوگیرک کے مذاہب میں بتوں کی پوجا کرتے تھے

 

سوال: ہوسیع باب 2 آیت 15 میں عکور کی وادی میں امید کے دروازے کی کیا افادیت ہے ؟

جواب:  یشوع باب 7 آیت 26 کے مطابق یہ وادی یرحو اور عی کے درمیان تھی ،جہاں عکن کو سنگسار کر کے ہلاک کر دیاگیا تھا

یہ گناہ کے انصاف جگہ امید کا دروازہ بن گئی

 

سوال: ہوسیع باب 2 آیت 16 کے مطابق اسے خداوند کو بعلی کی بجاۓ ایشی کیوں کہنا چاہیے؟

جواب: ایشی کا مطلب " میرا خاوند "اور بعلی کا مطلب " میرا آقا /خدا " ہے بعلی جسکا مطلب " آقا/دیوتا " تھا یہ ایک کنعانی بتوں کا ایک مشہور لقب تھا

 

سوال: ہوسیع باب 2 آیت 17 کے مطابق خداوند کیوں چاہتا تھا کہ وہ بتوں کے نام بھی یاد نہ رکھیں؟

جواب: غالبا یہ اسلیے تھا کہ بت کی پوجا کی تفصیل اور اسکے بارے میں کشی قسم کی معلومات بھی یاد نہ رہے تاکہ وہ آگے گنے والی نسلوں کے لیے ترغیب کاباعث نہ بنے

دوسری طرف جدون کا نام کسی بت کے نام پر نہیں تھا اسکے برعکس اسکے نۓ الٹے نام یربعل کا مطلب یہ تھا کہ بعل اسکا ہم چشم ہے اور یہ بعل کے لیے کوئی غوت افزائی کی بات نہیں ہے

 

سوال: ہوسیع باب 2 آيت 17 کے مطابق کیا مسیحوں کو آج بھی چیووں کے نام بتوں کے ناموں پر رکھنے چاہیے؟

جواب: نہیں ، تاہم 1 کرنتیھوں باب 8 آیت 4 دیکھاتی ہے کہ حقیقت میں کچھ نہیں ہے ( لیکن ایک جھوٹ ) ہمیں چیزوں کے نام بتوں کے ناموں پر نہیں رکھنے چاہیے کیونکہ اسکی دو وجوہات ہیں

ان بتوں کے لیے جنکی ابھی تک لوگ پوجا کرتے ہیں : یہ بڑے مذہبی تعلیمات کی جائز یا شرعی ترغیب دے سکتا ہے

تمام بتوں کے لیے: ہمیں بت پرستی کوہلکے درجے پر لینے کا ظاہری تاثر نہیں دینا چاہیے

سوال: ہوسیع باب 2 آیت 23 کے مطابق خداوند نے ان لوگوں پر رحم کیوں دیکھایا  جن پر پہلے اس نے رحم نہ کیا ؟

جواب: اگر کوئی خداوند کا گناہ سے بعض یا نفرت کو سمجھ سکتا ہے اور دیکھ سکتا ہے کہ شریر اسرائیلی خداوند سے کتنا دور تھے تو کوئی بھی اسکو وجہ ناتے ہوۓ ( غلطی سے ) خداوند کے بارے میں یہ تصور کر سکتا ہے کہ خداوند انھیں ایک اور موقع نہیں دے گا ،تاہم یہ صورت حال نہیں تھی ، ان کے لیے خاوند کا پیار بہت زیادہ تھا وہ جتنے بھی برے تھے ،اگر وہ اپنےکہے پر نادم ہوتے اور اسکی طرف رجوع کرتے تو تب بھی خداوند انھیں معاف کر دیتا اور انھیں دوبارہ قبول فرماتا

 

سوال: ہوسیع باب 3 آیت 4 کی بات کب پوری ہوئی؟

جواب: یہاں دو تعمیلی باتیں ہیں

1 – جلاوطنی کے دورا وہاں کوئی ہیکل نہیں تھا ، اس لیے وہاں کوئی قربانی نہ ہوئي ، اسرائیلی کے پاس کوئی بادشاہ یا شہزادہ یا افود کاہن نہیں تھا ،جلاوطنی کے زمانے سےیہودیوں کے باقی ماندہ بت پرستی کی آفت مبتلا نہ ہوۓ ، یعنی وہ ویسے ہی تھے جیسے کہ وہ جلا وطنی سے پہلے تھے

2 – تاہم ہیکل کی تباہی 70 اے ڈی میں ہوئی –اسطرح یہودیوں نے کوئی قربانی نہ کی ، اسطرح ان کے پاس کوئی بادشاہ یا شہزداہ یا حتی کہ افود کاہن بھی نہ تھا، وہ عام طور پر ایسے بت پرست بھی نہیں تھے جو بت پرستی کا پرچار کرتے

اسکی مزید معلومات کے لیے 1001 بائبل سوال و جواب کا صفحہ نمبر 377 ، 144 ملاحظہ فرمائیں

 

سوال: ہوسیع باب 3 آیت 5 کے مطابق وہ کیسے اپنے بادشاہ داؤد کی طرف رجوع کریں گے؟

جواب:یقینا ہر کوئی جانتا ہے کہ داؤد نسلوں پہلے مرا،ہوسیع نے ان کے ماضی کو داؤد کی تابعداری کے ساتھ ساتھ رکھتے ہوۓ ، داؤد کے وعدہ کردہ تخم کی آنے والے مستقبل میں تابعداری کو بھی ساتھ ساتھ رکھا ہے ، جسکو ہم آج یسوع کے نام سے جانتے ہیں

 

سوال: ہوسیع باب 3 آیت 5 کے مطابق کیہ یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ شمالی لوگ بادشاہ داؤد کے بارے میں ذکر کریں گے جیسے ایسموس گائیڈ ٹو دی بائبل میں کا صفحہ نمبر 628 تا 629 میں اسکا ذکر ملتا ہے ؟

جواب:ایسے نیک نبی کا ایسا کہنا بالکل عجیب نہیں ہے یہ بات سچ ہے کہ عام طور پر شمالی لوگوں نے جنوبی لوگوں کے خلاف بغاوت کی تھی ، لیکن یہ شمالی نبی خداوند کا تابعدار تھا اور خداوند داؤد سے جو وعدہ کیا وہ اسے سمجھ سکتا تھا

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 1تا3 کے مطابق اس خطے میں کیوں کوئی خداوندکے بارے میں نہیں جانتا تھا؟

جواب: یہاں دو نکات ہیں :

1 – یہاں خداوند کے لوگ خداوند کو  قبول نہیں کرتے تھے

2 – یہاں سچے خداوند کے بارے میں بہت کم معلومات تھی ، جیسے کہ والدین اور لاوی نے لوگوں کو ایک سچے خداوند کے بارے میں کوئی تعلیمات نہ دیں تھیں ، اشسکی بجاۓ یربعم کے زمانے میں لاویوں نے اور بہت سے کاہنوں نے شمالی ریاست کو ترک کر کے یہوداہ میں جاکر رہائش پذیر ہو گے-

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 2 میں ، " خون پر خون ہوتا ہے " کا کیا مطلب ہے ؟

جواب: یہاں یہ اظہار کیا جارہا ہے کہ وہاں بہت زیادہ قتل ہوتے تھے یعنی پچھلے خون کا بدلہ زندہ کے خون سے لیا جاتا تھا

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 6 ، 14 ، کے مطابق لوگ عدم معرفت کی وجہ سے ہلاک کیوں ہونگے ، جبکہ اس سے پہلے رومیوں باب 4 آیت 15 ، رومیوں باب 5 آیت 12 اور 1 پطرس باب 2 آیت 21 کے مطابق خداوند لوگوں کی معرفت کی بناء پر انکا انصاف کریں گے

جواب:رومیوں اور 2 پطرس کی آیتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ گناہ جو لوگ معصوم جہالت کے سبب کرتے ہیں خداوند اس کے لیے ان کا محابسبہ نہیں کرے گا ، اگر لوگوں کے پاس سیکھنے کا موقع نہیں ہوگا تو لوگ کبھی بھی نہیں جان سکیں گے ، تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر قسم کی جہالت بلاارادہ ہو – بعض اوقات لوگ خداوند کے بارے میں نہیں جانتے کیونکہ جو چز انھیں مہیا کی جاتی ہے وہ اس سے سیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں-

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 7 میں یعض اوقات ان کی حشمت ، رسوائی مین کیسے بدل سکتی ہے ؟

جواب: رومیوں باب 1 آیت 21 دیکھاتی ہے کہ کیسے گناہ گار لوگ خداوند ، اسکے بیچ اور اسکی نیکی کو بتوں کے لیے ان کے بتوں انکے جھوٹ اور خرابی کے لیے " تبدیلی کا عمل " کرتے ہیں

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 8 میں اسکا کیہ مطلب ہے کہ کچھ " لوگوں کے گناہ پر گزران کرتے ہیں؟

جواب: اس کا مطلب لوگوں کے گناہ پر "پرورش پاتا " ہے لوگ کم از کم تین طریقوں سے لوگوں کے گناہ پر پرورش پاتے ہیں

نفع :  آج کل تمباکو ، الکھی مشروب اور فحاشی اور فلم کی صنعت سے ناقابل یقین مقدار میں دولت کمائی جا رہی ہے

ہمارا جسم ہیکل ہے اور تمباکو نوشی ایک گناہ ہے ، جیسے 1 کرنتھیوں باب 3 آیت 16 تا 17 دیکھاتی ہے کہ یہ خدواند کی خواہش نہیں ہے کہ کوئی بھی اپنے جسم کو نقصان پہنچاۓ

جائز قرار دینا : جب دوسرے لوگ گناہ کرتے ہیں ، تو لوگ اپنے گناہ کو اپنی آنکھوں اور دوسروں کی آنکھوں میں جائز قرار دینے کی کوشش کر سکتے ہیں ، وہ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ ان کے گناہ کی نوعیت بہت کم ہے ، اور کم از کم وہ اتنے برے نہیں ہیں جتنے کے دوسرے برے ہیں

دل میں اتر جانے والا مقام: کچھ لوگ گپ شپ میں اور دوسروں کے کارناموں کو سن کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور اسکی بجاۓ کوئی ایک بہت سے پیار بھرے ناول خرید سکتا ہے ، اور گناہ اس میں لپیٹا ہوتا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 14 خداوند سے اس بدکار عورت کو سزا کیوں نہ دی گئی؟

جواب: خداوند اس بدکار عورت کو اس آدمی سے زیادہ سزا نہیں دیتا جسکے ساتھ وہ بدکاری کرتی ہے اس آیت کے آخری حصے کے مطابق ( تابعداری قبول نہ کرنے کی وجہ سے ) وہ دونوں تباہ و برباد ہوں گے-

 

سوال: ہوسیع باب 4 آیت 18 کے مطابق اسرائیلیوں کی بدکاری کھٹے مشروب کے برابر کیوں ہے ؟

جواب: مشروب کا ذائقہ عام طور پر خوشگوار ، تازہ دم کرنے والا اور صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے کھٹا اور خراب مشروب بد ذائقہ ہوتا ہے ، تم اسکو چھوڑ دیتے ہو تاکہ اچھا پی سکو اور وہ صحت کے لیے بھی مضر ہوتا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 5 آیت 4 میں -------------------------کا کیا مطلب ہے ؟

جواب: اسکا مطلب یہ ہے کہ انکے اعمال ( کام ) انھیں خداوند کی طرف رجوع کرنے نہیں دیتے

 

سوال: ہوسیع باب 5 آیت 6 میں کچھ لوگ خداوند کے طالب ہوںگے لیکن اسے کیوں نہیں پا سکیں گے ؟

جواب:  جیسے کہ متی باب 7 آیت 8 میں یسوع نے سکھایا ہے کہ جو خداوند کے مخلص ہو کر خداوند کی خدمت کرنے کے طالب ہوںگے ، خداوند انھیں مل جاۓ گا ، تاہم یہ لوگ اپنی حفاظت کے لیے خداوند کو تلاش کرتے ہیں نہ کہ سچے طریقے سے اسکی تطجید کرنے کے لیے ، ہوسیع باب 5 آیت 4 – 5 ، 7 اور اسکی اردگرد کی آیتیں انکے مسائل کی فہرست دیتی ہیں

ہوسیع باب 5 آیت 4 ، ان کی بدکاری ابھی بھی انکے دلوں میں موجود ہے ( یعنی وہ اس پر نادم نہیں ہیں ) جو انھیں خداوند کی طرف رجوع کرنے نہیں دیتی ، آج بھی بہت سے لوگ خداوند کی طرف رجوع نہیں کرتے کونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسکے لیے انھیں کچھ چیزوں کی چھوڑنا ہوگا

ہوسیع باب 5 آیت 5 : وہ خداوند کے طالب ہونے میں متکبر ہیں اتنا زیادہ فخر ہونے کے باعث لوگ نہ تو اپنی اصطلاحوں کے مطابق اور نہ ہی خداوند کی اصطلاحوں کے مطابق رجوع کر سکتے ہیں

ہوسیع باب 5 آیت 7 : وہ خداوند سے بے وفائی کرتے ہیں ، تاہم وہ بائبل میں موجود خداوند کے تہواروں کا جشن مناتے ہیں ، خداوند کے لوگ خداوند کے حکم کے برعکس شادیاں کرتے ہیں ، اور ان سے وہ بچے پیدا ہوتے ہیں جو حداوند کو نہیں جانتے –

 

 بادشاہ کون ہے؟Jareb سوال: ہوسیع باب 5 آیت 13 اور باب 10 آیت 6 کے مطابق یہ

 جواب:یہ غالبا آشوریہ کے بادشاہ کا دوسرا اسراغیلی نام تھا یہ لفظ عبرانی لفظ "مقابلہ کرنا / لڑائی کے ساتھ مستق ہے ، پس یہ "جھگڑنے والا بادشاہ " یا " جنگجو بادشاہ ہوسکتا ہے "

موسوی نفس مضمون ( وویل ) الفاظ اسطرف اشارہ کرتے ہوۓ دیکھاتے ہیں کہ " یرپ 'یارب " کا مطلب عظیم اور اسکا مطلب یہ ہے کہ آسوریہ کہبادشاہ بہت جنگجو ہے

 

سوال: ہوسیع باب 6 آیت 2 میں ان دو اور تین ایام کی افادیت کیا ہے ؟

جواب: یہ دو نطریات ہیں اور دونوں درست بھی ہو سکتے ہیں

مختطر وقت کے لیے غضب اور بہت جلد حیات نو : وہ یہ سوچتے تھے کہ خداوند کا غضب بہت کم عرصے کے لیے ہوگا

یسوع کے احیار اور صلیب پر چڑھنے کی طرف اشارہ کرتی ہے :  یہ اسے ذہنوں میں اس بات کا بھی نظریہ رکھ سکتے ہیں کہ آئندہ آنے والی نسل اس کا تجربہ کرے گی –

 

سوال: ہوسیع باب 6 آیت 3 کے مطابق خداوند کی معرفت کو قبول کرنا اتنا ضروری کیوں ہے ؟

جواب: چلیں پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ ان کےلیے یہ اتنا اہم کیوں ہے تب یہ کہ کچھ ایمان والے خداوند کی معرفت کو بے دلی سے قبول کیوں کرتے ہیں ، آحر کار میں دوسری وجوہات کو دیکھیں گے کہ یہ اتنے اہم کیوں ہیں

سرکش اسرائیلیوں کے لیے :

یہ بہت ضروری تھا کہ ان بعل کی پوجا توڑا جاتا ، ماہرین آثارقدیمہ نے تقسیم شدہ ریاستوں کی کھدائی کے دوران نہ صرف بہت سی ایسی مصنوعی چیزیں دیکھیں جو سچے خداوند کی پرستش کو ظاہر کرتی تھیں ، بلکہ اسکے بر خلاف انھیں ایسی بہت سی چیزیں ملیں جو بتوں کی پوجا کرنے والوں کو ظاہر کرتی تھیں، حقیقت میں ایک جگہ پر صورتحال بہت خراب ہوگئی تھی ، جب 1 سلاطین باب 19 آیت 14 میں ایلیاہ نے یہ سوچا کہ صرف وہی ہے جو ایک سچے خداوند کی عبادت کرتا تھا ، اس نے ایسا سوچتے ہوۓ غلطی کی تھی : تب 1 سلاطین باب 19 آیت 18 مین خداوند نے اسے بتایا کہ یہاں 7000 لوگ تھے ، جو بیل کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتے ، تاہم 7000 کی آبادی اتنی بڑی نہیں تھی ، کہ جسکا موازنہ اسرائیل کی ایک حد سے دوسری حد تک نصف ملین آبادی سے کا جاتا

دوسری وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی یہ سوچ سکتے تھے کہ وہ اس قدر سرکش تھے کہ خداوند انھیں مزید قبول نہیں کرے کا ، جیسے کہ ہوسیع باب 6 ایت 3 یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ خداوند اس امید کے ساتھ بلایا جاۓ کہ وہ ان کے لیے وہاں موجود ہے –

کچھ ایمان والے خداوند کو قبول کرنے میں بے دل ہوتے ہیںکیونکہ وہ خود پر مسیحتکا پرچہ نہیں لگانا چاہتے

جیسے کہ نوکریوں اور دوستوں کا کھو دینا ، لیکن اک مسیحی ہوتے ہوۓ ایک مسیحی کو مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی کی صرورت ہوتی ہے ، جب وہ دکھی ہوتا ہے تو تب بھی اسے محبت کی ضرورت ہوتی ہے ، تمھیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تم ایک شخص کی نسبت دوست سے محبت رکھتےہو اور یایسوع مسیح کے بارے میں بتانے سے زیادہ دوست سے محبت رکھتے ہو-

ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ کچھ دینوی مسیحی "رکاوٹوں پر چلنا " چاہتے ہیں، اگر ان کے خود کے اندر گناہ موجود ہے تو وہ ایک اخلاق سے گرے ہوۓ لوگوں کی پارٹی میں جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں لیکن وہ ابھی بھی لوگوں کو خود سے بہتر دیکھتے ہیں ،پس وہ اسے نہیں کریں گے ۔ لیکن انھیں ابھی بھی؛ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ خداوند کی تمجید کرتے ہوۓ زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا نہیں ،یہاں بہت سے ایسی بناوٹی مسیحی ہیں جو ایسا نہیں کرتا اور وہ یہ سوچتے ہوۓ خود کو دھوکا دیتے ہیں کہ وہ جنت میں جا رہے ہیں

دوسرے ایمان والوں کے لیے بہت مختلف وجوہات ہیں بہت سے ایمان والے یہ نہیں کہتے کہ انھیں ایک مسیحی کے طور پر پہچانا جاے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کاملیت سے مختلف طریقوں سے افی دور ہیں اور وہ یسوع کے نام کی توہین نہیں چاہتے یا وہ ریاکار نہیں بننا چاہتے ،  پس وہ اپنے ایمان کو چھپاتے ہیں جب تک وہ بہتری نہ حاصل کر لیں "

ایک طرف ہم میں سےکوئی بھی کامل نہیں ہو سکتا اور دوسری طرف اگر تم جانتے ہو کہ دوسرے تمھیں مسیحی کے طور پر دیکھتے ہیں یا جا نتے ہیں تو تب یہ اخلاقی زندگی میں ثابت قدم رہنے کا دوسرا مقصد ہو گا

یسوع کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ متی باب 5 آیت 13 تا 16 کے مطابق ہم دنیا کے لیے نمک اور روشنی ہیں ، پس دوسرے تمھارے اعمال کو دیکھیں گے ، اور جنت میں موجود باپ کی حمدو ثنا کریں گے ، فلپیوں باب 2 آیت 14 تا 16 کے مطابق ہم دنیا میں چراغوں کی طرح دیکھائی دیتے ہیں اور دوسروں کے لیے زندگی کا کلام پیش کرتے ہیں ، آخرکار تیمتھیس باب 2 آیت 12 کہتی ہے کہ آگر ہم دکھ سہیں گے تو اس کے ساتھ  بادشاہی بھی کریں گے ، اکرہم اسکا انکار کریں گے  تو وہ بھی ہمارا انکار کرے گا ،متی باب 5 آیت 32 تا 33 بھی دیکھیے

 

سوال: ہوسیع باب9 6 آیت 9 کے مطابق ان کی نیکی کیسے صبح کے بادل اور شبنم کی ماند تھی؟

جواب: یہ شاعرانہ اظہار بہت مناسب ہے تاہم صبح کا بادل بہت گھنا ہوتا ہے لیکن یہ سورج کی روشنی کے سامنے زیادہ نہیں ٹھر سکتا –

 

سوال: ہوسیع باب 6 آیت 5 میں نبی کس طرح دو اسرائیلیوں کو دیکھ سکتے تھے؟

جواب: اسراغیلیوں کو سزا دینے کے حکم کے الفاط ان کے ذریعے بولے گۓ تھے خداوند اسرائیلیوں کو سزا دینے سے پہلے بتانا چاہتا تھا ہ انھیں کیوں سزا دی جارہی ہے اور نبیوں نے انہیں بتایا

 

سوال:  ہوسیع باب 6 آیت 6 کےمطابق کیا ہوسیع موسوی قربانی کے خلاف تھا ؟

 

جواب: اکر کسی شخص کا دل خداوند کی تمجید کرنے پر رضامند نہیں تو دنیا میں ہونے والی سب قربانیان بھی مدد نہیں کرتیں ، خداوند کی تابعداری اور عوت و احترام ابتدائی ہے اور خداوند کے لیے جلی ہوئی قربانیان پیش کرنا ثانوی ہے اور یہ خداوند کو قبول کرنے کی بیرونی علامت ہے اسکی مزید معلومات کے لیے وین کلئیسٹ آسک کا صفحہ نمبر 298 تا 299 ملاحظہ فرمائیں

 

سوال: ہوسیع باب 7 آیت 6 "ان کے تنور " ایسا کیوں کہتی ہے ؟

جواب: عبرانی موسوی نفس " انکے تنور " کہتی ہے جبکہ یونانی توریت " افرائیم " کہتی ہے " ان کے تنور " زیادہ مناسب لکتا ہے کیونکہ تنور کی اگ ویادہ گرم ہوتی ہے اور وہ پوری رات آگ کو کھاۓ بغیر اور اس اندیشے کے بغیر کہ وہ اس سے باہر نکل سکتا ، اس میں سو سکتا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 7 آت 7 کے مطابق وہ کون سا گناہ تھا جس نے ان کے تمام قاضیوں اور بادشاہوں کو نگل لیا ؟

جواب: یہاں اس کے دو پہلو ہیں

مخصوص بادشاہ : شمالی بادشاہ کو خفیہ طور پر قتل کر دیاگیا اور اس سے بغاوت کر لی گئی ، کچھ اور بادشاہوں کے لیے اگل سوال دیکھیے جو قتل کر دیۓ گۓتھے

حق رکھنے کا عام نظریہ :  بہت سےبادشاہوں کو قتل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان میں با اختیار شخص کی عزت و احترام کرنے کی کمی تھی ، وہ لوگ جن میں اکثر با اختیار شخص کی تعظیم کرنے کی کمی ہوتی ہے ،  ان کے پاس اپنے ایمان اور اخلاقی طور پر بااختیار کی تعظیم کرنے کی بھی کمی ہوتی ہے

 

سوال: ہوسیع باب 8 آیت 4 کے مطابق اس میں کیا غلط تھا کہ انھوں نے خداوند کے ذریعے نہیں خود سے یہی بادشاہ مقرر کیے ؟

جواب:  اس جواب کے لیے دو نکات فرض کیے جا سکتے ہیں

1 – 1 سلاطین باب 11 آیت 11 تا 13 ، باب 11 آیت 29 0 39 ، باب 12 آیت 22 تا 24 کے مطابق شمالی اور جنوبی ریاستوں کی اصلی تقسیم خداوند کے حکم سے کی گئی تھی

2 0 شمالی ریاستوں میں ای کے بعد دوسرے کا بادشاہ بننا خون ریزی کی وجہ سے تھا

الف) یعشا ، ندب اور یربعام کی سارے گھرانے کو قتل کر کے بادشاہ بنا

(1 سلاطین باب 15 آیت 27 تا 29 )

ب ) زمری ایلیہ کا قتل کر کے بادشاہ بن گیا ( 1سلاطین باب 16 آیت 9 تا 10 )

ج ) اس سے پہلے کیہ عمری ، زمری کو مارتا ، زمری ، خود جل کر مر گیا( 1 سلاطین باب 16 آیت 21 تا 22 )

د ) تاہم ، یورام اور ایزبل ( 2 سلاطین باب 9 آیت 22 تا 24 ، 30 ) خداوند کی بغاوت کی

ر ) یہوداہ میں عتلیاہ بادشاہ کی ساری نسل کو نابود کر دیا سواۓ ہوسیع کے (2 سلاطین باب 11 آیت 1 تا 2 )

ڈ ) اسرائیل میں سلوم نے بادشاہ زکریا کا خفیہ قتل کیا ( 2 سلاطین باب 15 آیت 10 )

س) مناحم نے سلوم کو قتل کیا ( 2 سلاطین باب 15 آیت 13 تا 14 )

ص ) فقحیاہ نے فقحح کا خفیہ قتل کیا ، ( 2 سلاطین باب 15 آیت 23 ، 25 )

 

سوال: ہوسیع باب 8 آیت 7 کے مطابق وہ کیسے ہوا بو سکتے تھے اور کیسے گردباد کاٹ سکتے تھے ؟

جواب: جب تم گناہ کو بوۓ گۓ تو اسکے انجام کو کاٹوں گے – انجام کار کی وجہ سے مزید گناہوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے

نتیجہ اصلی گناہ سے بھی زیادہ ہوتا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 8 آیت 13 اور ہوسیع باب 9 آیت 3 کے مطابق وہ مصر کیوں لوٹ جائیں گے؟

جواب:  خداوند ی نہین کہہ وہا کہ وہ خواہش کرتا ہے کہ وہ مصر لوٹ جائیں ، اس کے برعکس اسبات کی پیشن گوئی کررہا ہے کہ وہ نافرمانی میں اس حد تک بڑھ گے ہیں کہ وہ یہ سرزمین چھوڑ دیں گے اور دوبارہ مصر لوٹ جائیں گے – تم اسکی  تفصیل یرمیاہ باب 41 آیت 46 ، باب 44 آیت 30 میں پڑھ سکتے ہو،  وین کرئیکس آسک کا صفحہ نمبر 299 تا 300 اس بات کی مزید معلومات دیتا ہے کہ وہ مصر میں دوبارہ مقام نہیں بنے تھے ، بلکہ وہ بتوں کی پوجا اور ان سے مدد طلب کرنے کے لیے اپنے دل کی رضامندی سے مصر واپس لوٹے تھے"

 

سوال: ہوسیع باب 9 آیت 7 تا 17 کے مطابق کیا یہاں مذہبی رہنما برے طریقے سے بیان کیے گے تھے ؟

جواب: نہیں ، وہ سچے نبی تھے ، لیکن دشمنی و عداوت کی بناء پر ان سےبرا سلوک کیا جاتا تھا ، پر مذہبی پیشواء انھیں صحیح باتوں کی تعلیم دیتے تھے ، لیکن لوگ انھیں بے وقوف سمجھتے تھے

 

سوال: ہوسیع باب 10 آیت 1 کے مطابق ایک سوکھی ہوئي انگور بی بیل کسی طرح خود پھول پھل سکتی ہے ؟

جواب : ایک سوکھی ہوئی انگور کی بیل انگور  کی بیل کے لیے غذائیت دیتی ہے ، لیکن دوسروں کے لیے انگور کے اندر موجود بیجوں کو خوراک نہیں پہنچاتی یا دوسری انگور کی بیل نہیں بناتی، جیسے کہ کچھ لوگ اپنی زندگیوں کو صرف خود ہی فائدہ اٹھانے کے لیے نہ کہ خداوند کی تمجید کے لیے اور نہ ہی دوسروں کو فاغدہ پہنچانے کے لیے حکم دیتے ہیں

 

سوال: ہوسیع باب 10 آیت 3 کے مطابق اسرائیلیوں نے مستقبل کے بارے میں ایسا کیوں کہا کہ ہمارا کوئی بادشاہ نہیں ہو گا کیونکہ وہ خداوند سے نہیں ڈرتے ؟

جواب:  اس بات کو شامل حال بناتے ہوۓ ان کے اپنے بادشاہ خود مختار تھے ، ہوسیع کے زمانے میں اسرائیلیوں کا بادشاہ تھا ، تاہم بابل والوں نے یہوداہ پر قبضہ کر لیا یہودیوں کے پاس ان کے خلاف میکابس کے زمانے تک کوئی بادشاہ نہ تھا ، اس مختصر عرصے تک ان کے پاس دوبارہ کوئی بادشاہ نہیں تھا ، جب تک کہ یسوع آیا اور اس نے سب پر حکومت کی

 

سوال: ہوسیع باب 10 آیت 14 کے مطابق یہ شلمن کون ہے اور بیت اربیل کے قصبے کیا ہیں؟

جواب: شلمن: شلمن 727 بی سی میں آسوریہ کا شلیمنر ہو سکتا ہے یا موت کے بادشاہ کی طرف اشارہ کر سکتا ہے سکا نام سلامینیو تھا ، سلامینیو بھی اسی زمانے میں رہتا تھا جس زمانے میں ہوسیع رہتا تھا ، اور اسکا ذکر تیغلیث پلاسر 3 کی خراج تحسین والی فہرست میں ملتا ہے

بیت اربیل ( اربیل کا گھر ) یہ جورڈن میں اربیل کا قصبہ ہو سکتا ہے جو ایسو بس کے مطابق گلیلی کے سمندر کے جنوب سے 18 میل کے فاصلے پر واقع ہے ، دوسری طرف یہ جدید اربیل بھی ہو سکتا ہے جو گلیلی کے سمندر سے مغرب کی سمت 2 میل کے فاصلے پر واقع تھا ( 1 ------- باب 9 آیت 2 )

 

سوال: ہوسیع باب 11 آیت 1 کے مطابق خداوند کیسے اپنے بیٹے کو مصر سے بلا سکتا تھا ؟

جواب: یعقوب جسکا دوبارہ نام اسرائیل رکھا کیا اور دوبارہ مصر لوٹ گیا اور وہی مر گیا ، جبکہ اسکی ہڈیوں کو مصر سے باہر لے جاۓ گا ( پیدائش باب 48 آیت 29 تا 30 باب 49 آیت 29 تا باب 50 آیت 14 ) لیکن یہاں پر کوئی اہم نقطہ نہیں ہے ، 430 سالوں میں اسرائیل ایک آدمی کے طور پر اپنے بارہ بیٹوں کو ایک عظیم قوم بنا کر ملین لوگوں پر حکومت کرنے گیا ،جبکہ ہوسیع کی دوسری جگہوں میں اسرائیل آدمی کی زندگی اور اسرائیل کی قوم کی زندگی کو برابر رکھا گیا ہے ، برابری کی دوسری مثال یہ ہے کہ ہوسیع کی بیوی اور بچے اسرائیل کے خداوند سے تعلق کی نشانی تھے

 

سوال: ہوسیع باب 12 آیت 3 میں اسرائیل کیسے اپنے بھائی کی ایڑی پکڑ سکتا تھا؟

جواب: وہ آدمی یعقوب جسکا دوبارہ نام اسرائیل رکھا گیا اس نے پیدائش باب 25 آیت 26 میں ایسا کیا ، اسرائیل کی قوم یعقوب سے ہو سکتی ہے ، یہاں بھی اور ہوسیع میں کہیں بھی خداوند نے ایک فرد کی زندگی اور قوم کی زندگی کو برابر رکھا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 12 آیت 7 کیا اس عبرانی لفظ کامطلب " سوداگر " ہے یا "کنعانی "؟

جواب: یہاں عبرانی لفظ کعنان ہے اسکا لغوی معنی کنعانی ہے ، لیکن اسے سوداگر کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ، یونانی توریت میں اسکا ترجمہ " چنعان " (کنعان ) سے کیا گیا ہے

تاہم ہوسیع 12 کا مضمون واضح طور پر سوداگرون کے بارے میں بات کرتا ہے نہ کہ کنعانیوں کے بارے میں ، یہ کچھ متراجم کا مقابلہ دیکھاتی ہے اس لغوی لفظ کا ایک واضح مطلب ہے اور یا عام طور پر دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں اس مضمون میں دوسرا مطلب استعمال کیا گیا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 12 آیت 12 ایسا کیوں کہتی ہے کہ اسرائیل اپنی بیوی کی خاطر نوکر بنا ؟

جواب: یعقوب جو کہ خاندان کا بزرگ تھا ، جسکا دوبارہ نام اسرائیل رکھا گیا ، اس نے اپنی بیوی لیہ کے لیے سات سال اور اپنی بیوی راخیل کے لیے سات سال تک لمیان کی نوکری کی ہوسیع میں اور اسکے ساتھساتھ بائبل کے دوسرے حصوں میں ایک فرد کی اور لوگوں کی تاریخ کو ساتھ ساتھ اکٹھے رکھا گیا ہے

 

سوال: ہوسیع باب 13 آیت 2 میں بچھڑوں کو چومنے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب:  تاہم بچھڑوں کو بیل ی پوجا کے دوران استعمال کیا جاتا تھا ، لیکن یہاں یہ اہم نقطہ نہیں ہے ، ہوسیع کو یربعام کے زمانے میں لکھاگیا ، اور یربعام ہی وہ پہلا تھا جس نے بعت ایل اور دان کے مقام پر سونے کس بچھڑے کو پوجا کو متعارف کروایا ، یہ ایک بہت اہم بات ہے کیونکہ یربعام سے پہلے بھی لوگ بتوں کی پوجا کرنے کا گناہ کرتے تھے ، یربعام نے اس پوجا کے لیے ایک مخصوص جگہ بنادی ،یربعام نے یہ اس لیے کیا تاکہ وہ لوگ جو شمالی ریاست میں رہتے ہیں وہ مزید یروشلم نہ جا سکیں ، تم اس کے بارے میں 1 سلاطین باب 12 آیت 25 تا 33 میں پڑھ سکتے ہو-

 

سوال: ہوسیع باب 13 آیت 14 میں کیا آخرت پر ایمان و واضح طور پر ظاہر کرتا ہے؟

جواب:  جی ہاں ، ہارڈسئنگ آف دی بائبل کے صفحہ نمبر 325 میں عبرانی مفکر والٹ کیزر کے مطابق اس آیت کے پچھلے حصے میں منفی کی کوئی علامت نہیں ہے ، اس لیے کوئی بھی اسے گوسپل کا پرانے عہدنامے سے ایک خوبصورت سا وعدہ سمجھ سکتا ہے " اسی لفظ کا ہوسیع میں عبرانی ترجمہ " کہاں " سے کیا کیا ہے ، صفحہ نمبر 326 میں وہ کہتا ہے کہ " خدواند انھیں اپنی طاقت سے قبروں سے نجات دے سکتا ہے اور دے گا - جب موت اپنا بدترین کام کر چکی ہو گئی تو وہ انھیں اس سے نجات دے کا " پاؤل 1 کرنتھیوں باب 15 آیت 55 میں ہوسیع باب 13 آیت 14 کاحوالہ دیتا ہے-

 

سوال: ہوسیع باب 14 آیت میں یہ کیا بات ہے کہ آسور ہمیں نہیں بچاۓ گا اور ہمیں گھوڑوں پر سوار نہیں ہونگے؟

جواب: جیسے کہ ہوسیع کچھ بھی کہہ سکتا ہے یہاں دو قسم کی سوچیں ہیں اور عام طور اسوریا اس زمانے سے پہلے ایک صدی قبل ایک بہت بڑی طاقت کے طور پر ابھری ، ان کے پاس بہت سے گھوڑے تھے ، لیکن اسوریا کی بہت بڑی فوج بھی اسرائیل کی حفاظت نہ کر سکی حقیقت میں اسوریا دشمن ہو سکتا تھا جو آیا اور اس نے اسرائیل کی شمالی ریاست کو مکمل طور پر تباہ و برباد کردیا

خاص طور پر جب اسوریا یروشلم آیا تو اس نے 2 سلاطین باب 18 آیت 23 میںیہ پیش کش کی " اس لیے اب ذرا میرے آقا آسور کے ساتھ شرط اور میں تجھے دو ہزار گھوڑے ھونگا بشرطیکہ تو اپنی طرف سے ان پر سوار چڑھا سکے ، بھلا پھر تو کیونکر میرے آقا کے کمترین ملازموں میں ایک سردار کا بھی منہ پھیر سکتا  ہے ---"

 

سوال: ہوسیع کے لحاظ سے وہ کون سے ابتدائی قلمی کتابیں ہیں جو ابھی تک موجود ہیں؟

جواب: مردہ سمندر کے طومار: (سی 1 بی سی ) یہاں طردہ سمندر کے طوماروں میں ہوسیع کی تین کاپیاں تھیں جن پر 4کیو 78 ، 4کیو 79 ، 4 کیو 82 کے لیبل تھے ( مردہ سمندر کے طوماروں کے صفحہ نمبر 478 تا 479 کا ترجمہ ) یہاں ہوسیع پر دو میں تھیں جنکو کہا جاتا تھا ( اپبید صفحہ نمبر 485 )4 کیو 78 میں ہوسیع باب 2 آیت 13 تا 15 ؛ باب 3 آيت 2 تا 4 ؛ باب 4 آیت 1تا 19 ؛ باب 5 آیت 1 ؛ باب 7 آیت 12 تا 13 ؛ باب 13 ایت 3 تا 10 ۔ 15 ؛ باب 14 آیت 1 تا 6 موجود تھیں

4کیو 79 میں ہوسیع باب 1 آیت 6 تا 9 ؛ باب 2 آیت 1 تا 5 موجود تھیں

4 کیو 82 = مین ہوسیع باب 2 آیت 1 تا 5 ، 14 تا 19 ، 22 تا 25 ؛ باب 3 آیت 1 تا 5 ؛ باب 4 آیت 1 ، 10 تا 11 ، 13 تا 14 ؛ باب 6 آیت 3 تا 4 ، 8 تا 11 ؛ باب 7 آیت 1 ، 13 تا 16 ؛ باب 8 آیت 1 ؛ باب 9 آیت 1 تا 4 ، 9 تا 17 ؛ باب 10 آیت 1 تا 14 ؛ باب 11 آیت 2 تا 11 ؛ باب 12 آیت 1 تا 15 ؛ باب 13 آیت 1 ، 6 تا 8 ، 11 تا 13 ؛ باب 14 آیت 9 تا 10

4 کیو 166 میں ہوسیع باب 2 آیت 8 تا 9 ، 10 تا 14 پر کی گئی شرح محفوظ تھی

4کیو 167 میں ہوسیع باب 5 آیت 13 تا 15 ؛ باب 6 آیت 4 ، 7 ، 9 ، تا 10 ؛ باب 8 آیت 6 تا7 ، 13 ، تا 14 پر کی گئی شرح محفوظ تھی

اسکی مزید معلومات کے لیے مردہ سمندر کے طوماروں کے معنی کا صفحہ نمبر 417 تا 418 ملاحظہ فرمائیں

نہیل ہیرور اینگڈی کے قریب ایک غار تھا جن میں یونانی زبان میں چھوٹے نبیوں کے بارے میں تھا یہ 50 بی سی اور 50 اے ڈی کے درمیان لکھی گئی یہ اس وقت چھپا لی گئی جب بار کو کہب نے رومی کے خلاف بغاوت کی ، یہ یونانی توریت کی ہوداہ میں کی گئی سابقہ حالت تھی اوریہتقریبا موسوی نفس مضمون سے متشابہ تھی ، مسیحی قلمی بائبل جو کہ تقریبا 350 اے ڈی سے تھی اور اس میں پرانے عہدنامے کے ساتھ ساتھ ہوسیع بھی شامل تھی ان میں سے دو وئیکنس ( 250 تا 325 ) اور الیگزینڈریا (450 اے ڈی ) تھیں جبکہ یسعیاہ سے پہلے بارہ چھوٹے نبیوں کے بارے میں کتاب رکھی گئی تھی ، وئیکنس اور الیگزینڈریا میں ہوسیع کی مکمل کتاب موجود تھی ، شامی توریت میں جو اس کتاب کو محفوظ کیا گیا – اس میں اسکا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ہے جو اس میں مو جود نہیں ہو

 

سوال: وہ کون سے ابتدائی مصنف ہیں جو ہوسیع کا حوالہ دیتےہیں؟

جواب: نئین سے پہلے کے مصنف جو ہوسیع کی آیات کا حوالہ دیتے ہیں یا ذکر کرتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں

فائلو آف الیگزینڈریا ( 15 / 20 بی سی تا 50 اے ڈی ) ہوسیع باب 14 آیت 9 کا حوالہ دیتے ہوۓ اس بات کا ذکر کرتی ہے کہ کسی ایک نبی نے یہ کہا-

جئسن مارئیر ( 138 تا 165 میں لکھی گئ ) ٹرافو کے ساتھ مباحثے کے باب نمبر 19 کے صفحہ نمبر 204 میں بیان کرتا ہے کہ ہوسیع بارہ نبیوں میں سے ایک تھا وہ ٹرافو کے ساتھ مباحثے کے باب نمبر 103 کے صفحہ نمبر 251 پر ہوسیع کے باب نمبر 10 آیت 6 کا بھی حوالہ پیش کرتا ہے – تھیو فائلس آف اینئوک ( 168 تا 181 / 188 اے ڈی) لیونس کا آرینس ( 182 تا 188 اے ڈی )

ٹرٹیولین ( 200 تا 240 )

الیگزینڈریا کا کلیمنٹ ( 193 تا 217 – 220 )

ہیپولیٹس ( 225 تا 235 /6 )

اوریجن ( 225 تا 254 )

نوائین ( 250 / 254 تا 256 / 7 )

سپرائن ( 248 تا 258 ) اس نے ٹرٹیس 12 دی تھرڈبک 47 میں ہوسیع سےحوالہ جات دیۓ لیکئینس ( 315 تا 325 / 326 )

 

سوال: ہوسیع کےبارے میں مردہ سمندر کے طوماروں کی شرح کیا کہتی ہے ؟

جواب: یہاں 4 کیو 167 کی شرح سے ہوسیع باب 5 آیت 13 کی تشریح پیش کی جارہی ہے ، اسکا ترجمہ مردہ سمندر کے طوماروں سٹڈی ایڈیشن کے جلد نمبر 2 اور صفحہ منبر 333 سے لیا گیا ہے

(" ہوسیع باب 5 آیت 13 لیکن وہ تمھارے زخم کا اندمال نہیں کر سکتا ( میری جگہ ) تشریح ) (---) تنگ کرنے والا شیر ، اسکے لیے میں اک شیر ک طرح ہوں ( n(£ot) افرائیم ) ( اور یہوداہ کے گھر کے لیے ایک شیر کے بچے کی طرح ہو) اس تشریح اس آخری کاہن سےتعلق رکھتی ہے جس نے افرائیم سے لڑانے کے لیے اپنے ہاتھوں کو پھیلا لیا تھا (----) ( اسکے ہاتھ ) (------) ( میں جاؤں گا اور واپس لوٹ آؤں گا ) ( میری حالت ایسی ہی رہ گئی جب تک کہ ) وہ اپنے گناہوں کو قبول نہ کرلیں اور میرے چہرے کے طالب نہ ہو جائیں؛ ان ( انھوں ) کی پریشانی میں (وہ میری تلاش میں جلدی جلدی اٹھیں گے ) ( اسکی تشریح خداوند اپنا چہرہ ) ( زمین سے چھپا لے گا (----) --- اور وہ نہیں سنے گا –

جیسے کہ تم دیکھ سکتے ہو کہ اس طومار میںبہت سی خالی جگہیں ہیں

 

سوال: ہوسیع کے حوالے سے عبرانی اور یونانی توریت میں ہوسیع کے ترجمے میں کس قسم کا فرق پایا جاتا ہے ؟

جواب:  اب جو ہوسیع کا عبرانی متن موجود ہے اس میں پرانے عہدنامے کی کسی بھی کتاب سے زیادہ منتقلی غلطیاں پائی جاتیں ہیں ، یونانی توریت ان غلطیوں کو درست کرنے میں سب سے موزوں ہے ہوسیع کے 11 ابواب کو مرکز نگاہ بناتے ہوۓ یہاں پہلے عبرانی موسوی متن اور پھر اسکے بعد یونانی توریت کا متن ہے اسکے علاوہ دوسروں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے ہوسیع باب 2 آیت 1 " بھائیوں " از " بھائی " ہوسیع باب 2 آیت 1 " بہنوں " از " بہن " ( یونانی تورت لاطینی بائبل )

ہوسیع باب 2 ایت 6 " تمھاری راہ " از " اسکی راہ " (یونانی ، شامی توریت ) ( این آر ایس وی اور دی ایکسپوزیئر بائبل شرح کا جلد نمبر 7کا صفحہ نمبر 177 کہتا ہے کیہ یونانی اور شامی توریت مطالعے کے لحاظ سے بہت صاف ہیں

ہوسیع باب 4 آیت 7 " میں ان کی حشمت کی تبدیل بدلوں گا" از " میں ان کی حشمت  کو تبدیل / بدل دوں گا " ( شامی اور ایک قدیم کاتب کی روایت )

ہوسیع باب 4 آیت 19" قربانیو ں " از " قربان گاہ " (یونانی اور شامی توریت )

ہوسیع باب 6 آیت 5 " تمھارا انصاف " از " میرا انصاف " ( یونانی اور شامی توریت)

ہوسیع باب 6 آیت 7 تا 9 " لیکن آدم کی طرح انھوں نے عہدشکنی کی ؛ انھوں نے وہاں میرے خلاف بے وفائی کی ، جلعاد بدکردار کی بستی ہے وہ خون آلودہ ہے جسطرح سے رہزنوں کے غول کسی آدمی کے گھات میں بیٹھے ہیں ، اسطرح کا ہنوں کی گروہ سکم کی راہ میں قتل کرتی ہے ہاں انھوں نے بدکاری کی ہے " از " لیکن وہ عہد شکن آدمیوں کی مانند ہیں ، وہاں جلعاد کی بستی ہے جس نے مجھے مایوس کیا ہے ، جوبدکاری کے کام کرتے ہیں ، پانی میں فساد کرتے ہیں ، اور وہ چوروں کے جتنے طاقتور ہیں : کاہنوں کا راستہ روکتے ہیں ، وہ سکم کے لوگوں کا قتل کرتے ہیں ، اسکے لیے وہ اسرائیل کے گھرانے میں ایک نئی شکل کی بدکاری دیکھی

ہوسیع باب 6 آیت 9 " ایک غول " از " مل کر اکٹھے رہنا " ( شامی توریت )

ہوسیع باب 7 آیت 6 " قریب لانا " از " شعلہ بھڑکنا "( یونانی توریت ، شامی توریت )

ہوسیع باب 7 آیت 6 " ان کے تنور ساری رات غفلت میں رہتے ہیں" ( گرین متراجم میں موسوی نفس مضمون ) از " ان کے تنور ساری رات غافل رہتے ہیں " ( دی ایکسپوزئیر بائبل شرح کے والیوم نمبر 7 میں موسوی نفس مضمون کے مطابق)

ہوسیع باب 17 آیت 14 " وہ اکٹھے جمع ہوتے ہیں " ( بہت سے عبرانی قلمی کتابوں میں) " انھوں نے خود پر سخت ملامت کی ہے " ( 20 موسوی نفس مضمون اور یونانی توریت ) بیل کی پوجا یرنے والوں کا رواج تھا کہ وہ بیل کے لیے خود کاٹتے تھے )

ہوسیع باب 9 آیت 1 " شادمانی " از " مسرور "

ہوسیع باب 9 آیت 12 " جب میں ان سے دور ہو جاؤںگا " ( موسوی مضمون ) از " -------------------

ہوسیع باب 10 آیت 5 " بچھیوں " از " بچھڑا " ( یونانی ، شامی توریت )

ہوسیع باب 10 آیت 9 " جبعہ " از " پہاڑی چٹان "

ہوسیع باب 10 آیت 9 " بدکاری " (بہت سی موسوی نفس مضمون میں ، یونانی توریت ، لاطینی توریت ) از " اڑیل وین " ( دوسرے موسوی نفس مضمون )

ہوسیع باب 10 آیت 9 تا 10 " حبعہ تک نہ پہنچے ' جب میں چاہوں گا انھیں سوا دوں گا " از " جب وہ چٹان پر قبضہ کریں کے تو انھیں سزا دوں گا "

ہوسیع باب 10 آیت 10 " وہ بے راہ روی میں باندھ دیے جائیں گے " از " جب وہ اپنے گناہوں کی ( اخلاقی تربیت ) کی سزا پائیں گے " (یونانی توریت ، شامی توریت ، لاطینی توریت)

ہوسیع باب 11 ایت 1 " جب اسرائیل ابھی بچہ ہی تھا میں نے اس سے محبت رکھی اور اپنے بیٹے کو مصر سےبلایا " از " اسرائیل کے لیے بچہ ہے اور میں نے اس سے محبت رکھی ، اور اسکے بچوں کو مصر سے باہر بلایا "

ہوسیع باب 11 آیت 2 " جیسے میں نے اسے بلایا " ( موسوی نفس مضمون )

 " جیسے ہی میں نے اپنے بیٹے کو بلایا " (یونانی توریت ) از "میں نے ان کے لیے ہزاروںulgate

 نبی بھیجے "(ٹرگیم جملے )

ہوسیع باب 11 آیت 2 " انھوں نے اسرائیل کو پکارا"(عبرانی اور یونانی توریت ) از " میں نے اسرائیل کو پکارا " (کچھ یونانی توریت )

ہوسیع باب 11 ایت 2 " وہ ان سے دور ہوتے گے " از " وہ مجھ سے دور ہوتے گے"

ہوسیع باب 11 آیت 3 " میں نے افرائیم کو بھی چلنا سیکھایا ؛ اس نے انھیں اپنی گود میں اٹھایا " از " تاہم میں نے افرائیم کے پاؤں کو باندھ دیا ، میں نے انھیں اپنی گود میں لیا"

ہوسیع باب 11 آیت 4 " میں نے انکو انسانی رشتوں اور محبت کی ڈوریوں سے کھینچا اور میں نے انکی گردن پر سے جو اتارنے والوں کی مانند ہوا اور میں نے ان کے آگے کھانا رکھا" از " جب آمی تباہ برباد رہے تھے تو میں انھیں اپنے پیار کی رسیوں سے کھینچا: میں ان کے ساتھ ہوں کا جب ایک آدمی دوسرے کے چہرے پر مار رہا ہو گا : اور میں انکی عزت کروںگا میں انکے ساتھ حاوی رہوں گا "

ہوسیع باب 11 آیت 5 " پھر وہ ملک مصر میں نہ جائیں گے " از " افرائیم مصر میں بسے گا "

ہوسیع باب 11 ایت 6 " تلوار انکے شہروں پر آ پڑۓ گی اوران کے اڑینگوں کھا جاۓ گی اور  یہ ان کی ہ مشورت کا نتیجہ ہو گا " از " اور اپنے شہروں میں وہ تلوار کے بغیر بسیں گے ، اور وہ اپنی تلوار کو اپنے ہاتھ سے کریں گے اور وہ اپنی کرینوں کے ہی پھل کھائیں گے "

ہوسیع باب 11 ایت 7 " اور میرے لوگ مجھ سے بر گشتگی پر آمادہ ہیں ، باجود کہ انھوں نے انکو بلایا کہ حق تعالی ---" از " اور اسکے لوگ

لیکن خداوند اپنی قیمتی چیزوں سے ان پر غضب ناک ہوگا"

ہوسیع باب 11 آیت 8 " دستبردار ہو جاؤ----نجات " از "ان کے ساتھ معالات کرنا ---- حفاظت "

ہوسیع باب 11 آیت 9 " رجوع کرنا " از " ترک کر دینا "

ہوسیع باب 11 آیت 10 " وہ " از " میں "

ہوسیع باب11 آیت 10 " شہر کی طرح گرجنا جب وہ گرجے گا اور اسکے فرزند مغرب سے کانپتے ہوۓ آئیں گے " از " گرجے گا اور پانی کے بچے حیران ہوں گے"

ہوسیع باب 11 ايت11 " انکو انکے گھروں میں بساؤں گا " از " ان کے گھروں میں انھیں " تاوہ دم کروں گا "

ہوسیع باب 11 آیت 12 " اسرائیل کا گھر مکاری کے ساتھ" از " اسرائیل اور یہوداہ کا گھر درونمگوائی سے "

ہوسیع باب 11 ایت 12 ' یہوداہ اب تک خداوند کے ساتھ وہ کاہنوں کے ساتھ وفادار ہے " از " اب خداوند انھیں جانتا ہے اور وہ خداوند کے پاکیزہ لوگ کہلائیں گے"

ہوسیع باب 13 آیت 14 " اے موت تیری وباء کہاں ہے ؟ اے پاتال تیری تباہی کہاں ہے " از " اے موت تیری پاداش کہاں ہے ؟ اے پاتال تیرا ڈٹک کہاں ہے ؟

ہوسیع باب 13 آیت 16 " سامری پریشان حال / بگاڑی ہوئي صورت میں رہے گا " از " سامری مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگا

ہوسیع باب 13 آیت 10 " تمھارا بادشاہ کیا ہے " (موسوی توریت ) از" تمھارا بادشاہ کیا ہے " (برناٹون کے مطابق یونانی توریت ) از " میں تمھارا بادشاہ ہوگا ( این کے جے وی کے مطابق یونانی ، شامی ٹرگم اور لاطینی توریت )

ہوسیع باب 14 آیت 2 ہوسیع باب 14 آیت 3 " بچھڑے ہمارے منہ کے "بیل " از " ہمارے منہ کا ثمر"

ہوسیع باب 14 آیت16 " بچھڑے / ہمارے منہ کے بیل " از " ہمارے منہ کے ثمر "