بایبل میں پیدایش کی کتاب میں سے سوال
سوال: پیدائش میں سے ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ بائبل میں پیدائش موجود ہے؟
جواب: بہت ساری وجوہات کے درمیان مسیح اور دوسرے بہت ساروں نے مصدقہ طور پر پرانے عہدنامے کو لیا اے اور پیدائش کو بطور صحیفہ حوالے کے لیے لیا ہے- د یکھیے متی 19 باب 4 آیت مرقس 10 باب 4 سے 9 آیت یہ دو مثالیں جہاں مسیح پیدائش کی کتاب کو بطورصحیفہ استعمال کرتے ہوۓ نصیحت کرتا ہے-
سوال: پیدائش میں ، پیدائش پر سب سے پہلے سوال جواب کس نے کیے؟
جواب: جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے سب سے پہلا شخص جس نے پیدائش پر سوال جواب لکھے وہ فیلو تھا جو کہ سکندر اعظم کی وفات سے لے کر آگٹس کے دور کا یہودی تھا جو کہ تقریبا 20 قبل از مسیح سے 50 بعد از مسیح تک رہا- آج ہمارے پاس ایک امریکن مترجم کا کام موجود ہے – اس نے دونوں حصوں پر مشتمل کام تحریر کیا ہے- پیدائش پر سوال و جواب ، ہم نے اس کے 244 سوالوں کے جوابات محفوظ کیے ہیں جو کہ پیدائش 1 باب سے 17 باب کے مطابق ہے جو کہ یونانی فلسفی افلاطون سے بہت متاثر تھا-
سوال: پیدائش 1 باب ، سب چیزیں اس وقت سے ٹھیک ہیں جیسے 1=1 اور 1+1 =2 کیا خدا نے حساب اور ہندسے بناۓ ہیں؟ اس نے کیسے اسے کسی دوسری طرح تخلیق کیا
ہے ؟
جواب: خدا نے تمام چیزیں بنائی ہیں تا ہم اس کو طول دیا گیا ہے جیسے کہ کچھ چیزوں کو حقیقت میں بیان کیا گیا ہے لال چیزیں لال رنگ کی ہیں- چیز نہیں ہے – ہم جان سکتے ہیں کہ ہر " چیز" کو چدا نے تجریدی علم کے ساتھ بنایا ہے اور اس کو نا حق طول نہیں دیا گیا-
سوال: پیدائش 1 باب جب چدا نے ہر چیز کو بنایا کیا اس نے اندھیرا بنایا ، برائی بنائی یا پھر دھرتی میں شگاف بنایا؟ اگر اس نے برائی بنائی ہے تو پھر وہ مکمل طور پر ایک اچھے خدا کی صورت میں نظر نہیں آتا اگر نہیں تو پھر ان کا حالق کون ہے؟
جواب: خدا نے ہر شے پیدا کی ہے اندھیرا کوئی چیز نہیں ہے مگر یا روشنی کی غیر موجودھ حالت ہے برائی خود سے کوئی چیز نہیں ہے- یہ اچھائی کے موجود نہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے شگاف ، اندھیرا ، برائی ، یہ چدا نے چود سے تچلیق نہیں کیے ہیں ، مگر یہ سب ناحق بات کو طول دینے سے ہوا ہے " یا چود بناۓ گۓ ہیں" جیسے کہ اچھائی اور روشنی کا معاملہ ہے جیسے کہ سایہ ایک آزادنہ چیز نہیں ہے ایسا معاملہ طاقت اور روح کے ساتھ کبھی نہیں ہے ، پودے ساۓ میں مر جاتے ہیں-
سوال: پیدائش 1 باب جب خدا نے ہر چیز کو اچھا بنایا ہے تو پھر اس نے طوفان ، طاعون اور دوسری تباہیاں کیوں بنائی؟
جواب: ہر چیز اصل میں اچھی ہے تاہم رومیوں 8 باب 20 سے 22 آیت ظاہر کرتی ہے برگشتگی کے بعد دھرتی جہنم بن گئی اور دھرتی برائی کے اختیار میں آئی- ( 1 یوحنا 5 باب 19 آیت ) اور دھرتی کے سردار کے بارے میں چو کہ شیطان ہے- یوحنا 12 باب 31 آیت اور 14 باب 30 آیت کے مطابق
سوال: پیدائش 1 باب آفاقی علوم کہ نظریہ کیا ہے؟
جواب: پہلے تو اس جملے کو سادہ اور منطقی طور پر کمزور کیا گیا ہے –
آپ کوئی بھی چیز کسی چیز کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے - ہر تخلیق تخلیق کی گئی ہے- حتی کہ پہلے کی چیزیں بھی کسی چیز سے بنی ہے یا کسی شخص سے جو وھاں پہلے سے موجود تھا اس لیۓ کوئی چیز یا کوئی شخص ہے جسے کسی نے تخلیق نہیں کیا اور وہ ابدی ہے-
یہاں پر اک سخت نظر آنے والا ملاپ ہے جس کی تعریف میری اپنی ہے-
ہم جانتے نیں کہ اس حقیقت کے بارے میں غلط اور درست تعریفیں ہیں ، طریقہ ، معقول ، ذخیرہ ، وقت ، نتیجہ ، ملاملہ ، روح ، اثر اور اسکے اثرات،
اصل وجوہات: کائنات میں بیان کیا گیا ہے اور یہ دوسری اشیا سے اثرات مرتب کرتی ہے یا کائنات کی قابلیت رکھتی ہے – وجود کی تعریف کرنا بہت مشکل ہے جیسے کہ خیالات ، طریقے اور دوسری اشیا ناکام ہو ئی ہیں- پس اس وجود کے بارے بات چیت کرتے ہیں اور اپنے خیالات کو پرے رکھتے ہیں-
اصلی اشیا: یہاں بیان کی گئی ہے معاملات کے ذخیرے کے طور پر ، قوت ، روح ، اور ملاپ جو کہ اصل وجود رکھتے ہیں- اصل سچائی ، اصل علم ریاضی کے ثبوت یہاں ان چیزوں نہیں لیا گیا-
بالواسطہ وجود: ایک طرح سے یہ بیان کی گئی ہے اشیا کا وجود جو کہ حقیقی اشیا نہیں ہیں- شگاف ، تاریکی ، کمی ، غلطیاں ، اور برائی یہ ٹھیک نہیں ، قوت یا روح ، جیسے سایہ پودوں کو مارتا ہے اور انہیں سورج کی ضرورت پڑتی ہے جیسے خوراک کی کمی انسان کو مارتی ہے سایہ اور خوراک کی کمی حقیقی اشیا نہیں ہیں
کائنات: کا مطلب حقیقی اشیا کا ذخیرہ جو کہ وجود دکھتا ہو یاد رکھیں یہ ایک خاص تعریف ہے اور یہ خود بچود لاگو ہوتی ہے اور خدا وجود رکھتا ہے اور روح اور یہ دوسری اشیا پر اثرانداز ہیں جو کہ کائنات میں موجود ہیں-
کچھ بھی نہیں: یہ بیان کرتی ہے کہ کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں یا یہ کہ کسی خاص وقت میں بھی اس کی موجودگی نہیں تھی اس سے پہلے کہ وہ تخلیق ہوئی یا پھر اس کی تباہی کے بعد وہ اس کائنات میں حقیقی سے نہیں ہے اور وہ کائنات پر اثرانداز نہیں ہو سکتی
تخلیق : اس کا مطلب نئی چیزوں کا بننا ہے تخلیق تجدید سے مختلف ہے جیسے کسی بھی دوسری چیز کی ضرورت نہیں- نئی چیزکی تخلیق اپنے اندر جدت اور تباہی سیپے ہوۓ ہے- جو کہ تخلیق کی ہوئی شے میں پہلے ہی سے موجود ہے مگر اسے اس کی ضرورت نہیں – تاہم اگلے نقطے کی طرف دیکھیں-
کسی چیز کے بغیر نیا وجود ممکن نہیں: ہر تخلیق ہونے والی نئی چیز کو کوئی وجہ چاہیں دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ چیز کو پیدا ہونے کے لیے کوئی دوسری چیز یا خلق کرنے والا چاہیے-
کوئی چیز خود بخود پیدا نہیں ہو سکتی: کچھ بھی خود پیدا نہیں ہو سکتا، جب تک حقیقی اشیا خود کو تبدیل نہ کر لیں کسی بھی چیز کے خود بخود پیدا ہونے کی کو ئی وجہ نہیں ہے-
ایک پہلا سبب: حقیقی اشیا سے دوسری حقیقی اشیا جنم لیتی ہیں یہاں ایک پہلی بنیادی وجہ موجود ہے – دوسرے الفاظ میں وجوہات کس نتائج میں سے ایک وجہ دوسرے وجوہات کے سامنے ہے-
تخلیق نہ کی ہوئی: کسی چیز کی کوئی وجہ نہ ہونے کی ایک وجہ ہے اور ہر تخلیق کو سبب کی ضرورت ہے اک چیز یا مخلوق جو کہ تخلیق نہیں ہوئی وہ ماضی میں وجود رکھتی تھی- کیونکہ ایک حقیقی سے کا وجود موجود نہیں تھا-
خلاصہ: ہر ایک حقیقی شے جو کہ وجود رکھتی ہے اسکا ایک نقطہ یا پھر وقت کا دور ہے جس سے وہ پہلے موجود تھی ، یا وہ موجود نہیں خلق ہوئی تھی ، اگر یہ تھی تو کچھ حقیقی اشیا اس کے وجود کی خالق ہیں-
حدیں: یہ نظریہ یا صاف نہیں کرتا کہ پہلی شے کہ شمار زندہ میں تھا یا پھر یہ کہ اس کہ نہ تخلیق ہونے کی ایک وجہ تھیجو کہ ابھی تک موجود ہےیہ سادہ قور پر بیان کرتی ہے کہ کوئی ایک حقیقی وجود ہے ( کوئی شخص یا کوئی چیز) جو خلق ہونے کے بغیر موجود ہے-
پہلے مصنفوں میں سے ایک: جس نے صاف طور پر آفاقی علوم کو ظاہر کیا اور خدا کے بارے میں بولا وہ فیلو تھا ایک یہودی ، جو کہ اگزینڈیا مصر میں 15 یا پھر 20 قبل از مسیح 50 بعد از مسیح تک رھا- آر سی سپورول اور ناوم گلیسران کے پاس آفاقی علوم کے نظریات کے بارے میں بہت اچھا مواد تھا-
سوال: دنیا کی پیچید گی کا نظریہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی خالق ہے " یہ اچھائی کو ظاہر کرتا ہے جب تک ہم اس کے حقیقی نتیجے کو لیتے ہیں ، خدا کی پیچیدگی کیا
ہے ؟ اگر کسی ڈ یزائنر کی ضرورت پھر خدا کو ایک بڑے ڈیزائنر کی ضرورت تھی اور پھر یہ کس پیمانے پر ختم ہوتا ہے یہ نظریہ بہت پیچیدہ ہے اور اس کا کوئی جواب نہیں – کیا کوئی جواب ہے ؟
جواب: اس نظریے کا جواب دینے سے پہلے مجھے پہلے مسلے پیچیدگی پر غور کرنا ہے یہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو کہ آفاقی علوم پر اثر انداز ہوتا ہے اگر ہر چیز کی کوئی وجہ ہے پھر خدا کی بھی کوئی وجہ ہے-
ہو شے کا خاتمہ ہے یا کہ خاتمہ نہیں ہے یہاں دو جواب ممکنات میں سے ہیں
الف) اسکی پہلے کوئی رجعت ہے اور اسکا خاتمہ نہیں
ب) یا پھر اس پہلی رجعت کا خاتمہ اور وجہ نہ ہونے کہ پہلا سبب اگر الف ہے تو رجعت کا کوئی خاتمہ نہیں پر ہر شے کی کوئی وجہ نہیں ہے ، رجعت خود اک بدلاؤ ہے جو کہ سبب نہیں رکھتا – جب کہ دوسری طرف ہر شے یا ہر شخص کا کوئی بھی شبب موجود نہیں-
اور اگر ب تو پھر پچھلی رجعت کا خاتمہ ہے – پھر ایک پہلی وجہ ہو گی اور اس پیچیدگی کی وجہ ہو گی پھر بلاشبہ اسکا مطلب ہے کہ خدا کوئی سبب نہیں ہے اور خالق نہیں ہے-
میں حیران ہوتا ہوں ، اگر خدا اس سارے منصوبے کو سادہ وکھتا ، کیونکہ ہم وقت کے ساتھ وجہ کو سوچتے ہیں ، اگر خدا وقت سے پہلے وہاں موجود ہوتا جیسا کہ اب ہے اور پھر اگر وقت بھی خدا کی تخلیق ہے تو ، وقت سے پہلے خدا کاہ عقیدہ بھی غلط تھا-
سوال: پیدائش 1 باب کیا خدا نے دنیا کی دوسری مخلوق بھی بنائی؟
جواب: اس نے دوسری مخلوق بھی بنائی – اس نے فرشتے اور بدروحیں بنائیں جیسے اس نے دھرتی میں دوسری مخلوق بنائی بائبل ہمیں ہماری خواہش کے مطابق ہر چیز کے بارے میں نہیں بتاتی – صرف وہی جس کی ہمیں ضرورت ہے اور ہمیں پڑھنے کے بعد اسکو ماننا چاہیے – خدا نے دوسری ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ، چاہے وہ جنت ہو یا دوزخ-
سوال: پیدائش 1 باب چدا نے آدم اور حوا کو پیدا کیوں کیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اس کی نافرمانی کرے گا-؟
جواب: یہ جانتےے ہوۓ بھی کہ وہ نافرمانی کرے گا خدا ہمیں بتاتا ہے کہ اس نے لوگوں کو تخلیق کیوں کیا
اپنے جلال کے لیے: رب نے اپنے بچوں کو اپنے جلال کے لیے پیدا کیا یسعیاہ 43 باب 7 آیت ، 61 باب 34 آیت
لوگوں کو پیار کرنے کے لیے: چدا ہم سے عظیم محبت رکتھا ہے زبور 145 اسکی 9 آیت اور 17 آیت، 1 یو حنا 3 باب 1 آیت –
اپنے بچوں کے لیے : 1 یو جنا 3 باب 1 سے 2 آیت گلیتیوں 3 باب 28 آیت رومیوں 8 باب 15 سے 17 آیت-
ہم میں رہنے کے لیے 1 یو حنا 4 باب 12 سے 16 آیت رومیوں 8 باب 9 سے 11 آیت ، خدا ہلاکت نہیں چاہتا خزقی ایل 18 باب 23 اور 32 آیات 33 باب 11 آیت ، 1 پطرس 3 باب 9 آیت ، پھر خدا مکمل آزادی دیتا ہے ہر بندے کو کہ وہ اسے چنے یا پھر رد کرے – خدا جانتا ہے کہ وہ نافرمانی کرے گے پھر بھی وہ ان کی پسند میں مداخلت نہیں کرتا اور وہ انکی تخلیق نہیں چھوڑتا-
شاید وجہ یہ ہے کہ خدا نے مخلوق کو اپنی شکل جیسا بنایا ہے – جیسے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو چنتے ہیں ہاں بچے بہت بیش قیمت ہے وہ انہیں خوراک اور کپڑے دیتے ہیں اور بچے ان کا دل توڑتے ہیں اور ان کی نافرمانی کرتے ہیں اس کے باوجود وہ ان سے پیار کرتے ہیں-
سوال: پیدائش 1 باب 1 آیت خدا نے سب خلق کیوں کیا؟ کیا اسے تخلیق کی ضرورت تھی؟
جواب: بائبل اس مفروضے کی تائید نہیں کرتی- خدا کو اس کی ضرورت نہیں تھی ، اسے کوئی بھی تکلیف نہیں پہنچتی تھی، اسے کوئی بھی تکلیف نہیں پہنچتی تھی اگر وہ یہ دھرتی بھی بناتا یہ خدا کی خواہش تھی کہ وہ دھرتی نہ بناۓ اور اس نے اپنی خواہش کو بڑے پیمانے پر پورا کیا-
سوال: پیدائش 1 باب 1 آیت پیدائش کے بعد اور مخلوق بنائی گئی؟
جواب: صحیفہ اس کے بارے میں نہیں بتاتا خدا جو مرضی چاہے کر سکتا ہے – اگر خدا نے کوئی دوسری مخلوق بنائی ہے تو وہ فرشتے ہو سکتے ہیں – آدم اور حوا کے نکالے جانے کے بعد – جسے ہمیں ، بدروحوں اور جانوروں اور دوسری مختلف چیزوں کو بنایا-
سوال: پیدائش 1 باب 2 آیت ، اگر خدا کا روح پانیوں پر جنبش کرتا تھا ، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ سمجھ سے عاری تھا ، یا کہ ایک متحرک طوت تھی جسے کہ یہواہ ویٹنس والے دعوی کرتے ہیں؟
جواب: نہیں حقیقت یہ ہے کہ روحالقدس کا کوئی بدن نہیں ہے ، جو کہ پانیوں پر جنبش کرتا ہے اور یہ غلط ہے – صحیفہ یا طاہر نہیں کرتا ہے روحالقدس کی کوئی شخصیت ہے-
یہ اس سے ملتا جلتا ہے جیسی بات چیت ہم 1 یو جنا 5 باب 6 سے 8 آیات میں پڑھتے ہیں-
ایک گواہ ایک زندہ مخلوق ہو سکتا ہے یا کا پھر ایک بے جان مخلوق – یہواہ ویٹنس کہ ایک غلطی ہے وہ غور نہیں کرتے کہ روحالقدس کے خواص انسانوں سے مختلف ہے اس لیے ( اصلیت کو بڑھاتے ہوۓ ) روحالقدس کی کوئی شخصیت موجود نہیں – 1 یوحنا 5 باب 6 سے 8 آیات بیان کرتی ہیں کہ وہاں تین گواہ ہیں اس اصلیت کے لیے کہ مسیح کے پاس جسمانی بدن موجود ہے اور روح کی گواہی مسیحی لوگوں کے لیے اور پانی کا حوالہ جب مسیح نے یوحنا سے بپتسمہ لیا جیسے کہ بچے کی پیدائش کے وقت اسکے اردگرد پانی ہوتا ہے
یہ بیان کیۓ گۓ بہت سارے سچ جس سے بائبل ہمیں روح القدس کی شخصیت کے بارے میں بتا تی ہے –
پیراکیلٹس (مددگار ، جو کہ ہمارے ساتھ ہے ) یوحنا 14 باب 16 اور 26 آیات ، یوحنا 15 باب 26 آیت کیا خدا کی گہری سوچ کی آگاہی ہے ، 1 کرنتھیوں 2 باب 10 اور 11 آیات-
ہم سے ہم کلام ہے – اعمال 13 باب 2 آیت عبرانیوں 3 باب 7 آیت-
ہماری یاددہانی کے لیے یو حنا 14 باب 18 آیت ماں باپ کی طرح کیونکہ ہم یتیم نہیں
( یونانی میں یوحنا 14 باب 18 آیت)
ہماری رہنمائی کرتا ہے- یوحنا 16 باب 13 آیت ہمیں تعلیم دیتا ہے یوحنا 14 باب 26 آیت 1 کرنتھیوں 2 باب 13 آیت
ہم میں زندہ ہے 1 کرنتھیوں 3 باب 16 آیت ، 2 تیمتھیس1 باب 14 آیت رومیوں 8 باب 9 اور 11 آیات ہمارے دلوں میں موجود ہے – 2 کرنتھیوں 1 باب 22 آیت گلیتیوں 4 باب 6 آیت –
وہ ہماری شفاعت کرتا ہے- ( بے جان اشیا دعا نہیں کرتیں اور انکی شفاعت ممکن نہیں) رومیوں 8 باب 27 آیت
اسکی بے عزتی کی گئی – عبرانیوں 10 باب 29 آیت ، رومیوں 8 باب 27 آیت
رنجیدہ ہو سکتا ہے – یسعیاہ 63 باب 10 آیت افسیوں 4 باب 30 آیت
پسندیدگی : 1 کرنتھیوں 12 باب 11 آیت
عظیم محبت : رومیوں 15 باب 30 آیت
چیزوں کی اچھائی کے بارے میں اعمال 15 باب 28 آیت خدا کی گہری چیزوں کی تلاش 1 کرنتھیوں 2 باب 9 اور 10 آیات-
( ہماری مدد کرتا ہے ) رومیوں 8 باب 26 آیت
سوال: پیدائش 1 باب 10 آیت خدا نے زمین کو کیسے تخلیق کیا جبکہ زمین تو پیدائش 1 باب 1 آیت میں پہلے ہی تخلیق ہو چکی تھی؟
جواب: عبرانی لفظ ارس بالکل ویسا ہے جیسا کہ انگریزی لفظ ( ارس ) جن کا مطلب آسمان کے نیچے زمین ہے- اور اسکا مطلب میدان اور خشک خطہ ہو سکتا ہے ، پر خدا نے پیدائش 1 باب 1 آیت میں سیارہ بنایا اور پیدائش 1 باب 12 آیت خشک میدان بنایا – دیکھیں انسائیکلوپیڈیا آف بائبل ڈفیکلٹیز صفحہ نمبر 65 اور 66 –
سوال: پیدائش 1 باب اور پیدائش 2 باب یہاں ایک جیسی دو تخلیقات کا کیوں ذکر ہے؟
جواب: پیدائش 1 باب آسمان اور زمین کی تخلیق کے بارے میں ہے اور پیدائش 2 باب عدن میں انسانی تخمیق کے بارے میں ہے-
سوال: پیدائش 1 باب اور دوسری جگہوں پر ، کیوں خدا کو ایلوہیم کہا گیا جبکہ دوسری جگہیں جیسا کہ پیدائش 2 باب میں اسے یہواہ کہا گیا ؟
جواب: خدا کے بائبل میں جہت عظیم نمبر نام اور خطاب ہیں – ایسے لگتا ہے کہ یہواہ خدا کے ذاتی رشتے کو ظاہر کرتا ہے جو ہمارے لۓ ہے اور ایلو ہیم حاکمیت پر زور دیتا ہے اور جو اس کی اعلی صفات کو ظاہر کرتا ہے-
قدیم کلچر میں یہ بات عام تھی اک ہی دیوتا کے دو نام ہوتے تھے یہاں کجھ مثالیں دی گئی ہیں-
آسی رس – وینفر ، خنیت – اینیٹس ، نب ، ابدو ، بل ،ایناہل ، نونا فیر
سن – نانا
ایل – لتپن
بال - سرین
سوال : پیدائش 1 باب کیا خدا نے دھرتی حقیقت میں 24 گھنٹوں کے 6 دناں چے بنائی؟
جواب: وہ جو کجھ سوچتے ہیں اسکا کوئی مطلب نہیں کہ دھرتی نئی ہے یا پرانی ہر مسیحی اسکا جواب " ہاں " میں ہی دیتا ہے
چھ دناں دی بجاۓ اگر قادر مطلق چاہتا تو وہ چھ سیکنڈ میں بنا سکتا تھا – مسلہ یہ نہیں کہ اس نے یہ سب کسے خلق کیا – مگر کسے کلام اور فطرت کو ظاہر کرنے کے لیۓ اس نے تخلیق کی-
ایک نقطہ نظر کے مطابق ، کلام نہیں بناتا ، کہ خدا کا دن کتنے عرصے پر محیق ہے پیدائش 1 باب استشنا 7 باب 1 آیت یہ ہمیں بتاتے ہے کہ دن کا عرصہ 24 گھنٹوں سے بڑا ہو سکتا ہے جیسا کہ ہم نے موسی کے دنوں کے بارے میں سمجھا زبور 90 آیت 4 ، 2 پطرس 3 باب 8 آیت بتاتی کہ خدا کا دن بہت بڑا ہو سکتا ہے-
سوال: پیدائش 1 باب میں اس تخلیق اوربائبلیاں کی تخلیق کے درمیان کیا مساوی ہے کیا ان کی انسانی ساخت ایسی ہی تھی-
جواب: بابلیوں کے نظام کے مطابق ان کی جسمانی وضاحت ایک جیسی ہے مگر اس کا سبب اس کے کچھ خلاف ہے اور وہ ان کے کسی دیوتے کی وجہ سے ہے اور وہ ازدھا تمت ہے ، اگر بائبل سے باہر ایسے سچ موجود ہیں توں اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں – پیدائش 1 باب ان سارے مادہ پرست نظریات کو جدا کرتی ہے-
سوال: پیدائش 1 باب 26 آیت اور 3 باب 22 آیت لفظ " ہمارا " کیوں سچے خدا کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟
جواب: یہاں دو ممکن جوابات ہیں-
الف) "ہمارا " سچے خدا کو ظاہر کرتا ہے مگر جمع کی حالت تثلیث کے درمیان بات چیت کر بھی ظاہر کرتی ہے
ب) " شاہی خطاب ہم" دیوتے اور بادشاہ استعمال کرتے ہیں – اسی طرح مثال کے طور پر اسلامی مذہب میں قرآن " ہم اور "ہمارا" لفظ استعمال کرنا ہے اس وقت جب خدا خود کو ظاہر کرتا ہے – مسلمان اور غیر مسلم مانتے ہیں کہ محمد نے یہ نہیں پڑہایا کہ خدا خوبیاں رکھنے والا دیوتا ہے-
تاہم فیلو جو کہ یہودی تھا ( 15 یا 20 قبل از سیح سے 50 بعد از مسیح) وہ اس کا مطلب بتاتا ہے کہ یہ شاہی خطاب نہیں ہے مگر خدا پیروکاروں کو استعمال کرنا ہے ہم دیکھیں گے کتاب ون آف دی کریشن باب 24 نمبر 75 اورصفحہ 11
سوال: کیا پیدائش 1 باب 26 آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں الہاہی تعلیم میں کامل ہونا چاہییے اور یہ الہاہی نعمتوں کا مرکز ہے جیسے بہائی کتاب سوالات اور جوابات میں سکھاتا ہے صفحہ نمبر 8 اور9؟
جواب: نہیں کیونکہ پیدائش 1 باب 27 آیت کہتی ہے – خدا نے جو کہا وہ کیا پیدائش 1 باب 26 آیت جب آدم اور حوا خلق ہوۓ ، وہ مکمل طور پر پاک و صاف تھے جب تک وہ گواۓ نہ گۓ تھے ، انکو تعلیم کی کو ئی ضرورت نہیں تھی – جب ہم خدا کی صورت میں موجود ہیں- پیدائش 1 باب 26 سے 28 آیت یہ بتاتی ہے کہ خدا ہر چیز کی تکمیل کر چکا ہے-
سوال: کیا پیدائش 1 باب 26 آیت بتاتی ہے کہ لوگ " چھوٹے دیوتے " ہیں جیسے کینتھ ہیگن کجھ استاد یہ بھی سکھاۓ ہیں؟
جواب: نہیں پیدائش میں لفظ اس نے اپنی شبیہ پر بنایا " کجھ استاد اس سے متفق ہے مگر ان کی پوجا نہیں کی جاتی چاہیے آدم اور حوا کے جسم فانی تھے اور ان کی راست بازی کا انعام اور خدا سے محبت کرنے کے لیے- اور وہ پھل کے پرانے حصے کی طرح پھینکے جاتے ہیں – ضرف حسم کا یہی کام ہے-
سوال: پیدائش 1 باب 26 آیت کی وہ بات چیت تثلیث کے ارکان کے درمیان تھی، یا پھر تخلیق کیۓ ہوۓ فرشتوں کے ساتھ تھی؟
جواب: فرشتوں نے بھی یہ بات چیت سنی یہ بات چیت تثلیث کے ارکان کے درمیان تھی ہماری تخلیق فرشتوں کا کام نہیں باکہ خدا کا کام ہے- تثلیث میں رہتے ہوۓ- پہلا مسیحی مصنف جس نے لکھا یہ فرشتے نہیں ہو سکتے وہ جسپن مارٹر تھا ( اس نے تقریبا 138 165 بعد ازمسیح یہ لکھا) اپنی کتاب ڈائیلاگ ودھ ٹریفو دی بیو باب 620
سوال: پیدائش 1 باب 26 اور 27 آیات خدا نے لوگوں کو فرشتوں سے عظیم بنایا ہے یا بعد میں انسانوں سے عظیم کوئی مخلوق بنائی؟
جواب: کلام ایے کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ، خدا ہر چیز کرنے میں قادر ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے- وہ آزادنہ حاکمیت رکھتا ہے- کلام کہتا ہے کہ ایمان رکھنے والے ، خدا کے بیٹے ہیں ،اور ہم مسیح کے ساتھ حکومت کریں گے- اور اس کے ساتھ بیٹھے گے، افسیوں 2 باب 6 آیت اور دوسری کسی مچلوق کا ان سے بڑا ہونا مشکل ہے-
سوال: پیدائش 1 باب 26 آیت کیا آدم " دیومالائی قوت " رکھنے والا انسان تھا اور اس کی طاقت ہم سے لاکھ گنا زیادہ تھی جیسا کہ پرکھ کرنے والا نی اپنی کتاب دی ٹینٹ پاور آف دی سول ( 1933 صفحہ 15 )؟
جواب: کلام ایسے عجیت فرق کی بات نہیں کرتا اور یہ بھی تعلیم نہیں دی گئی کہ آدم ظاہری شکل و صورت سے خدا جیسا تھا، نی، اپنی اسی کتاب کے صفحہ 18 پر ایسی تعلیم دیتے ہیں جو کچھ خدا نے کہا ہن چیزوں کے بارے میں-
سوال: پیدائش 1 باب 26 آیت ، اگر ہم خدا کی شبیہ پر بنے یہ بات یہ ثابت نہیں کرتی ہے؟(مورمنز یہ بیان ریتے ہیں)
جواب: بہت سارے اس سے متفق ہے کہ روح القدس کا کوئی جسمانی بدن نہیں اور مسیح کا اس وقت جسمانی بدن نہ تھا- اگر لفظ " ہمارا" باپ ، بیٹے ، اور روحالقدس کی بات کو ظاہر کرتا ہے تو یہ جسمانی بدن کو ظاہر نہیں کرتے مگر پیدائش 9 باب 6 آیت ظاہر کرتی ہے- گراۓ جانے کے بعد بھی ہم خدا کی شبیہ پر قائم رہے-
سوال: پیدائش 1 باب 27 آیت کے بعد بھی ہم خدا کی شبیہ پر قائم ہے؟
جواب: ہاں پیدائش 9 باب 6 آیت سیلاب کے بعد جبکہ ہم گنہگار تھے ہم خدا کی شبیہ پر قائم تھے-
سوال: پیدائش 1 باب 28 آیت آدمی کے گراۓ جانے کے بعد اسے یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ماحول کو تباہ کر سکتا ہے؟
جواب: نہیں ہم نے کبھی کسی مسیحی کو یا یہودی سے نہیں سنا جس نے بائبل کو اس معنی میں پڑھتا ہوں 1967 میں ( دیکھیں کیسعر کا حوالہ آفر میں) اس کو جاننے کے لیے اگر آپ پیدائش 1 باب کو پڑھیں آپ ، حکمرانی اور تباہی کی نشاندہی کر سکے گے اصل میں بائبل چھ بنیادی چیزوں کے بارے میں بتاتی ہے کہ جانوروں اور زمین کی ھیکھ بھال کیسے کی جاۓ-
وہ " زمیندار" تھے اور وہ خدا سے تعلق رکھتے تھے-
الف) زمین کو مستقل طور پر بیچا نہیں جا سکتا- ( استشنا 25 باب 23 آیت)
ب) ہر شےخدا سے تیلق رکھتی ہے ( زبور 24 آیت 1 آیت )
2 خدا نے لوگوں کی عدالت کرے گا جن لوگوں نے زمین کو ناپاک کیا-
الف) یسعیاہ 24 باب 5 آیت بتاتی ہے کہ لوگوں نے زمین کو ناپاک کر دیا
ب) زکریاہ بہت بڑی تباہی کو بیان کرتا ہے جنگلوں اور وادیوں کی تباہی حتی کہ اسی کا روحانی مطلب روحانی تباہی ہے-( زکریاہ 11 باب 1 سے 3 آیت)
3 خدا جسمانی ناپاکی کو رد کرتا ہے جو زمین کو ناپاک کرتی ہے-
الف) خدا ان کو تباہ کرے گا جو دھرتی کو ناپاک کرتے ہیں- مکاشفہ (11 باب 18 آیت)
ب) خدا بھیڑوں کا انصاف کرے گا- جو نہ صرف من پسند کھاتی ہیں بلکہ باقی روندتی ہیں اور پانی پیتی ہیں اور باقی پاؤں سے گدلا کرتی ہیں (حزقی ایل 34 باب 17 سے 22 آیات)
ج) گنتی 5 باب 13 آیت بتاتی ہے کہ لشکر گاہ کو ناپاک نہ کرو
د) حتی کہ جنگ میں بھی پھلدار درخت کو کاٹا نہیں جا سکتا جو میدان کے لیے کچھ اگا رہا ہے ( استشنا 20 باب 19 سے 20 آیت) ایک بادام کا درخت 1000 سال تک زندہ رہ سکتا ہے-
4 خدا اس بدی کو رد کرتا ہے جو زمین کو ناپاک کرتی ہے-
الف) گنتی 35 باب 33 سے 34 آیات یہ ہمیں حکم دیتی ہیں- دھرتی کو ناپاک نہ کرو ، لوگوں کو نہ مارو-
ب) بت پرستی سے دھرتی کو ناپاک نہ کرو ( یرمیاہ 16 باب 18 آیت )
ج) یرمیاہ 32 باب 34 آیت یہ بتاتی ہے خدا کی دھرتی کو ناپاک ذبیحوں سے ناپاک کیا-
د) حزقی ایل 7 باب 22 آیت بدکاروں نے خدا کی قیمتی جگہ کو ناپاک کیا-
5 خدا کی شریعت بہتر عمل اختیار کیے ہوۓ ہے-
الف)آدم کو عدن کے بارے میں رکھا گیا کہ وہ اس میں کام کرے اور اسکی دیکھ بھال کرے ( پیدائش 2 باب 15 آیت)
ب) دو طرح کی فصل ایک ساتھ نہ بوئی جاۓ ( استشنا22 باب 9 آیت ) تا کہ نقصان نہ ہوں-
ج) ہر ساتویں جوبلی سال میں فصل نہ بوئی جاۓ ( اجبار 25 باب 3 اور 7 آیت، 11 باب 12 اور 18 آیات)
د)خدا نے ان حکموں کی حکم عدولی کی سزا اسرائیل کو دے گا ( احبار 26 باب 34 اور35 آیات)
6 جانور: خدا ان کا مالک ہے اور ہمارے استعمال کے لیے ہیں مگر جانوروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھنا چاہیے-
الف) جانو ر خدا کی طرف سے ہیں ( 50 زبور 10 آیت ) اور ان کا دھیان رکھنا چاہیے ( زبور 36 ،آیت 6 ، زبور 104 ، آیت 11 اور 14 ، زبور 147 ، 8 اور 9 آیت)
ب) ان کا گوشت کھانا اچھا ہے اس بارے میں حکم ( پیدائش 9 باب 2 سے 5 آیات) اعمال 10 باب 19 آیت)
ج) مسیح بے گناہ تھا ( عبرانیوں 4 باب 15 آیت ، 1 پطرس 3 باب 22 آیت ، یوحنا 3 باب 5 آیت) اس نے مچھلی کھائی ( لوقا 24 باب ، 42 اور 43 آیات) اور ایک یہودی ہونے کے ناطے عید فسح پر گوشت کھانا حکم تھا- خروج 13 باب 8 سے 10 آیات)
د) چمڑا پہننا اچھا ہے جیسے یوحنا بپتسمہ دینے والا پہنتا تھا مرقس 1 باب 6 آیت
شکار کرنا اچھا ہے ( استشنا 17 باب 13 آیت ) قربانی کے لیے جانوروں کو مارنا حکم تھا
ہم کو جانوروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھنا چاہیے-
سوال: پیدائش 1 باب 28 آیت حتی کہ بائبل یہ بھی نہیں کہتی کہ خدا کے تحفے اس کی زمین کو ضائع کیا جاۓ کیا مسیحت ماحول کو ضائع کرنے کا کہتی ہے-
جواب: آپ اس ارضی پر کسی کو قصوروار نہیں ٹھرا سکتے اسکی وجہ لالچ یا پھر بھڑتی ہوئی آبادی ہو سکتی ہے- ہم کسی مسیحی کو الزام نہیں دے سکتے ، یا پھر افریقہ کے کسی حبشی یا بھارت کس کسی ہندو کو قصوروار نہیں ٹھرا سکتے ، اور نہ ہی چائنا کے کسی مسلمان کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں- ہر براعظم کا ایک مسلہ ہے اور اس کے لوگوں نے ذاتی دلچسپیوں کے لیے ماحول کو تیاگ دیا ہے بائبل ماحول کے بارے میں کیا کہتی ہے یہ جاننے کے لیے پچھلے جوابات دیکھیں-
سوال: پیدائش 1 باب 29 آیت کیا آدم اور حوا کو ہر بیج دار پودا دیا گیا تھا یا وہ صرف اچھائی اور برائی کے درخت کا پھل ہی نہیں کھا سکتے تھے جیسا پیدائش 2 باب 17 آیت کہتی ہے؟
جواب: جیسا کہ ہم نہیں جانتے کہ اچھائی اور برائی کا درخت کہاں تھا یہاں اس کا ذکر نہیں ہویا وہ وھاں کا ہر بیج دار پھل کھا سکتے تھے سواۓ اچھائی اور برائی کے درخت کے سوا یہ ممکن نہیں تھا-
سوال: پیدائش 2 باب 2 اور 3 آیات خدانے سےاتویں دن آرام کیوں کیا؟
جواب: آرام کا یہاں پر مطلب تخلیق کا مکمل ہونا ہے کلام یہ نہیں کہتا کہ خدا کو آرام کی ضرورت تھی مگر اس نے ایسا کرنا پسند کیا-
سوال: پیدائش 2 باب 2 آیت کیا سبت کا نظریہ با بلیوں کا ہی نظریہ تھا جو کہ بعد میں یہودیوں نے اپنایا ؟
جواب: دو جوابات ہیں اک مسیحوں کے لیے اور دوسرا جو مسیحی نہیں ہیں ان کے لیے-
1 مسیحوں کے لیے: اگر آپ جانتے ہیں کہ مسیح خدا کی طرف سے تھا جیسا کہ اس کی مصلوبیت نے ثابت کیا ، مسیح نے پرانے عہدنامے کو اصل میں سامنے رکھا اور ہم کو سبت کے حوالے سے پیدائش اور یرمیاہ نبی کی کتاب میں سے حوالے ملتے ہیں جو کہ مسیح سے پہلے لکھے گۓ تھے یہ با بلیوں کی ایجاد نہیں تھی اور یہاں پر اور کچھ کہنے کی ضرورت بھی نہیں ہے-
2 وہ جو مسیحی نہیں ہے: بابل کے لوگ مہینے کے 15 ویں دن کو سبت سپانو کہتے تھے اور بے شک یہودی اسیری کے زمانے میں اسے ٹھیک طور پر ادا نہیں کر سکتے تھے جبکہ بعد میں اس کی ادائیگی ٹھیک طریقے سے ہوئی اور یہودیوں کے اس ادائیگی میں کسے طرح کے فریب کو ان کے صحائف میں کہیں نہیں پایا گیا-
یہ 59 جگہوں پر درج ہے ( 35 جگہیں توارح میں ہیں ) کسے نۓ نظریے کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ یہ ممکن ہی نہیں مگر آپ یہ ھیکھیں سارے یہودی بابل میں نہیں گۓ تھے یرمیاہ لکھتا ہے کہ کچھ اس کی بجاۓ مصر کو گۓ- یہ یہودیوں کی ہی نسل تھی جس نے پرانے عہد نامے کا یونانی ترجمہ کیا اور یونانی میں ان سبت کی آیتوں کا بھی ترجمہ ہوا-
سوال: پیدائش 2 باب 4 آیت ، 5 باب 1 آیت ، 10 باب 1 آیت ، 11 باب 10 آیت ، 11 باب 27 آیت ، 25 باب 12 آیت ، 25 باب 19 آيت، 36 باب 1 آیت ، 36 باب 9 آیت اور 37 باب 2 آیت ، گنتی 3 باب 1 آیت ، روت 4 باب کیا ان آیات میں استعمال ہونے والا عبرانی شبد ٹول ڈٹس کسے حصے کو شروع کرنے کے لیے ہے یا پھر حصے کو شامل کرنے کے لیے؟
جواب: کبھی تو یہ آغاذ کے لیے اسعمال ہوتہ ہے کبھی انجام کے لیے اور بعض اوقات اس کا مطلب کچھ اور ہی ہوتا ہے-
ناقابل شناخت: یہاں پر کچھ ٹول ڈٹس کا اور ہی ترجمہ کیا گیا ہے پیدائش 2 باب 4 آیت ، 5 باب 1 آیت ، 36 باب 9 آیت 37 باب 2 آیت-
آغاز: یہاں پر کچھ ٹول ڈٹس جو کہ جوالے کی مطابقت سے آغاز پڑھیں ، پیدائش 6 باب 9 آیت ، 10 باب 1 آیت ، 11 باب 10 آیت ، 11 باب 27 آیت ، 25 باب 12 آیت اور 19 آیت ، 36 باب 1 آیت ، گنتی 3 باب 1 آیت ، فیلو جو کہ یہودی تھا ( 15 قبل از مسیح سے 50 بعد از مسیح ) پیدائش 2 باب 4 آیت کے بارے میں بتاتا ہے اور ( موسی ) کی تخلیق کے بارے میں بیان کو بھی بتاتا ہے اپنی کتاب آن دی کر یشین 44 : 129 اور صفحہ نمبر 18
انجام : یہاں پر ایک بھی اکیلا ٹول ڈٹس نہیں ہے جو کہ انجام سے تعلق رکھتا ہو- اس لیے ناقابل شناخت ٹول ڈٹس آغاز کے حصوں کے لیے استمعال ہوۓ ہیں- ایک ثبوت پیدائش 25 باب 19 آیت میں بھی ہے کہ ٹول ڈو ٹ شروعات کے حصوں کے لیے استعمال کیے گے ہیں جو کہ اضحاق کے بارے میں بات کرتا ہے پھر جلد ہی اسماعیل کے بارے میں بات کرتا ہے اور وہاں کچھ نہیں اس لیے یہ اضحاق کے بارے میں ہے-
دیکھیں بائبل نالج کمینٹری اولڈ ٹسٹیمنٹ ( وکٹر بک 1985) صفحہ نمبر 22 اور 23 اس لیے کہ کیوں ٹول ڈوٹ شروعات کے لیے استعمال ہوۓ ہیں-
سوال: پیدائش 2 باب 5 سے 7 آیات میں کیا پودے انسان کے بعد پیدا ہوۓ یا پہلے جیسا کہ پیدائش 1 باب 12 اور 26 آیات میں مرقوم ہے ( ایک دہریہ جس کا نام کپلا ہے وہ پو چھتا ہے)؟
جواب: چار نقطے ہیں-
پہلے پودے: پیدائش 1 باب صاف طرو پر یہ بیان کرتی ہے کہ پودے انسان سے پہلے خلق ہوۓ اور ان ہی سے بعد میں جدید پودے خلق ہوۓ-
دنیا بمقابلہ باغ: پیدائش 1 باب آسمان اور زمین کی تخلیق کے بارے میں ہے جبکہ پیدائش 2 باب باغ عدن کی تخلیق کے بارے میں ہے
فصلیں انسان کے بعد بنی: پیدائش 2 باب بتاتا ہے کہ میدان انسان کے بعد تخلیق ہوۓ ، باغ عدن میں ان دو واقعات کے لیے میدان کو سیدے عبرانی میں کہا گیا ہے وہاں پودوں کا ذکر نہیں آتا-
ماہر آثار قدیمہ کی آرا: پیدائش کیا بتاتی ہے کہ جو اناج ہم آج استعمال کرتے ہیں وہ انسان کی کوشش سے پہلے موجود نہ تھا
الف) مکئی کا بھٹا: ماہر آثار قدیمہ بتاتے ہیں- کہ مکئی کا بھٹا 5000 قبل از مسیح میں تھا اور یہ ایک پودے ٹیو نیسٹ کے ذریعے سے وجود میں آیا ٹیونیسٹ 50 کے قریب دانوں پر مشتمل تھا اور اس کی بونے کی گہرائی ایک انچ لمبی تھی اور جو مکئی کا بھٹا آج کے دور میں ہے وہ 500 سے 1000 دانوں پر مشتمل ہے اور آج کے دور میں یہ انسان کے بغیر نہیں بویا جاسکتا-
گندم: ماہر آثا قدیمہ نے گندم کی ابتداائی شکر کو تلاش کیا ہے جو کہ تقریبا 7،000 قبل از مسیح عراق میں تھی اس کو ایمر کہا گیا ہے اور اس بوائی ہوا کے ساتھ کی جاتی تھی جب ہوا چلتی تھی آج بہت سی اقسام کی گندم موجود ہے مکئی اور گندم جب سپین کے رہنے والے امریکہ میں آۓ تھے انڈین کلچر سے 1000 سے 2000 سال پیچھے ہے-
چاول: یہ ان تینوں بڑی فصلوں میں سے نیا ہے یہ 35000 قبل از مسیح استعمال ہوا-
یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بیر شبع پر یہ دریافت ہوا- اور اس کے ساتھ جوار، باجرہ اور انگور بھی 4000 قبل از مسیح میں اسی کے ساتھ ملتے ہیں-
خلاصہ : پودے انسانوں سے پہلے موجود تھے – پودے انسانوں سے پہلے موجود تھے مگر فصلیں بعد میں انسانی کاوشوں سے حاصل ہوئیں-
سوال : کیا خدا نے مادہ بنایا یا صرف اس کو تشکیل دیا- یہ بہت سے مورمنز پڑھا تے ہیں یا مادہ تخلیق نہیں ہوا کیونکہ یہ حقیقی شے نہیں ہے جیسا کہ مسیحی سائنس اور مشرقی مذاہب کے گروپ تعلیم دیتے ہیں-
جواب: قادر مطلق کا قطلب ہے ہر چیز کرنے پر قادر ، اور خدا کو خالق اس لیۓ کہا گیا ہے کہ ہس نے ہر شے خلق کی ہے خدا نے خود سے زمین کو پیدا کیا ہے اور یہ کسی سے نہیں نکلی ، خدا نے صرف مادہ سے پیدا ہوئی اشیا ہی نہیں بنائیں خدا نے مادہ اور طاقت رونوں بنائی ہیں-
سوال: پیدائش 2 باب 7 اور 19 آیات کیا خدا نے آدمی کو جانوروں سے پہلے خلق کیا یا پھر بعد میں جیسا پیدائش 1 باب 24 اور 27 آیات بیان کرتی ہیں ( ایک دہریہ کپلا یہ پوچھتا
ہے )؟
جواب: اس کو سمجھنے کے تین نقطوں پر غور و فکر کرنا ہو گا-
زمین پر: خدا نے جانوروں کے بعد انسان کو بنایا جیسا کہ پیدائش 1 باب 24 اور 27 آیات بیان کرتی ہیں-
باغ عدن میں: خدا نے انسان کو بعد میں بنایا اسے جانور نہیں دکھاۓ گۓ- حتی کہ باع ھدن میں بھی جانور انسان سے پہلے موجود تھے پیدائش 2 باب 19 آیت یہ آیت بتاتی ہے جو جانور اس وقت بتاۓ گۓ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس وقت تک جانور نہیں بناۓ گۓ تھے-
سوال: کیا پیدائش 2 باب 7 آیت بیان کرتی ہے کہ روحیں ابدی نہیں ہیں جیسا کہ یہواہ ویٹنس والے کہتے ہیں-؟
جواب: یہاں عبرانی لفظ نیفش ہے جس کا ترجمہ روح ہے اور کچھ جگہوں پر زندگی جیسا کہ اس جگہ پر بھی اور پھر کیسے ایماندار مکاشفہ 6 باب 9 اور 10 آیات کے مطابق اس مقام پر ہے اگر موت کے بعد کچھ نہیں ہے تو پھر وہ اس مقام پر کیسے ہیں-
سوال: پیدائش 2 باب 10 سے 14 آیات وہ دریا کہاں ہیں جو کہ باغ عدن میں بہتے تھے؟
جواب: سب سے پہلے باغ عدن آج موجود نہیں ہے اس کا دھرتی پر کوئی نشان نہیں ہے ہم نہیں جانتے فیسون دریا کہاں تھا – دجلہ اور فرات ترقی سریہ اور عراق میں ہے اور جیحون کے بارے میں عام طور پر سوچا جاتا ہے کہ وہ دریاۓ نیل ہے جو کہ مصر میں بہتا ہے اور یہ ایک چھوٹا دریا " کا شو" ہو سکتا ہے جو کہ مغربی ایلم میں ہے جو کہ فرات اور دجلہ کے بہت قریب ہے اور کیستس ( یونانی) بھی وہاں ہے –
سوال: پیدائش 2 باب 15 آیت میں رب کیوں (-----) کہتا ہے کہ تم باغ کے ہر ردخت کا پھل کھا سکتے ہو سواۓ نیک اور بد کے درخت کو چھوڑ کر؟
جواب: ان میں سے کوئی بھی خاص درخت کا پھل کھا سکتا تھا ان کو ایک جیسا پھل کھانے کے لیۓ نہیں کہا تھا ایک درخت کے لیۓ منع کیا گیا تھا جمع کی حالت اس بارے پر وور دیتی ہے کہ وہ حکم آدم کے لیۓ نہیں تھا مگر سب کے لیۓ تھا- فیلو جو کہ یہودی تھا
( 2/15 قبل از مسیح سے 50 بعد مسیح) اس نے اس سوال کا جواب دیا اپنی کتاب آنسر اینڈ قوسچن آن جینیسس والیم 1 صفحہ نمبر 794-
سوال: پیدائش 2 باب 16 آیت خدا نے آدم کو کیوں بنایا جبکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ گناہ کرے گا-؟
جواب: خدانے ہر شے کرنے پر قادر ہے مگر ایک حقیقی ناممکن چیز اصل میں چیز نہیں – خدا نے انسان کو ایسا نہیں بنایا کہ وہ صرف اس کی فرمانبرداری ہی کرے اگر وہ خدا کی فرمانبرداری قبون کرنے کے قابل ہے – تو پھر خدا کی فرمانبرداری قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نافرمانی کو بھی پسند کر سکتا ہے-
سوال: پیدائش 2 باب 17 آیت بیان کرتی ہے " جس دن تو نے اسے کھایا تو مرا" کس طرح آدم اور حوا اس دن مر گۓ؟
جواب: روحانی اور جسمانی : اس سوال کا جواب کو سمجھنے کے لیۓ تین نقطے ہیں-
روحانی موت: یہ اس دن ہو گئی تھی-
عملی طور پر: ان کو اس دن سزا روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی ہی کی گئی – مگر اس پر عمل فورا نہیں ہوا تھا-
ایک اور مثال: ہم اس سے ملتی جلتی ایک مثال 1 سلاطین 2 باب 37 آیت میں پڑھتے ہیں جہاں ایسے ہی طریقے سے سلیمان سمی کو خبردار کرتا ہے جب وہ یروشلم چھوڑتا ہے اس کا پہلا جواب فیلو نے دیا ( 20/15 قبل مسیح سے 50 بعد مسیح ) اپنی کتاب آنسر اینڈ قوسچن آن جینیسس والیم 1 صفحہ نمبر 794 اور آلگوریکل انٹٹیر ئینس 1 33 ( 105) صفحہ نمبر 37 سے 46 جہاں روح کی موت کو ظاہر کیا گیا ہے-
ایک اور زمانہ قدیم کا منصف ہے جس نے مختلف سوالوں کے جوابات ریۓ ہیں وہ ایرنیس اے آگنیسٹ ہیرس بک 5 باب 23 ( 182 -186 بعد مسیح) صفحہ نمبر 551 سے 552 تک ایرنیس لکھتا ہے کہ خدا کا دن 1000 سال کے برابر ہے وہ خدا کے دنوں کیساتھ اس کی تشریح کرتا ہے اور وہ اس بات کو دیکھتا ہے پیدائش 5 باب 6 آیت کہ جب آدم مرا تو وہ 930 برس کا تھا جو کہ 1000 سال سے تھوڑا عرصہ ہے-
سوال: پیدائش 2 باب 18 آیت میں یہ کیوں کہا کہ انسان اکیلاتھا جب کہ خدا اور دوسرے کئی جاندار بھی اس وقت موجود تھے؟
جواب: آدم جانوروں پر حکمران تھا ، اور آدم خدا کی عبادت کرتا تھا، میں آدم جیسا کوئی اور خدا کی صورت پر نہ تھا وہ اکیلا تھا اور کوئی بھی اس کے برابر نہ تھا-
سوال: کیا پیدائش 2 باب سے 22 آیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ عورت بعد کی سوچ ہے جیسا کہ بورن اگین سکپڈک صفحہ نمبر 164 میں دعوی کرتا ہے؟
جواب: نہیں – یہ مکمل طور پر اس کے خلاف ہے خدا وقت کے ساتھ چلتا ہے جب آدم نے تمام جانداروں کو نام دئیے اس کو ایک ساتھی کی ضرورت تھی پیدائش 1 باب اور 2 باب میں کچھ اشیا سادہ وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں پہلے خدا جگہ تیا ر کرتا ہے اس لئی کہ آدم کو ساتھی چاہیے تھا اس لیے ہوا-
سوال: کیا پیدائش 2 باب 18 آیت یہ ظا ہر کرتی ہے کہ عورت کا درجہ آدمی سے کم ہے جیسا کہ حوا آدم سے مختلف بنائی گئی؟
جواب: نہیں اسکو سمجھنے کے لیے 6 نقطوں کو دیکھنا پڑے گا-
1: فرق غیر مساوی ہونے کو ظاہر نہیں کرتا:
بہت سارے لوگ بہت ساری زبانیں بولتے ہیں مگر اس کا ہی مطلب نہیں کہ کہ زبانیں ایک روسرے کے مساوی نہیں ہیں جیسا کہ ایک مسیحی کہتا ہے حوا آدم کے پاؤں سے نہیں بنائی گئی کہ وہ اس کے پاؤں نیچے رہے اور نہ اس کے سر پر کہ اس سے اوپر ہوں مگر ایک طرف سے تا کہ اس کے ساتھ رہے-
2: مدد گار چھوٹا نہیں ہوتا: کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ حوا آدم سے کم تر تھی کیونکہ وہ ہس کی مدد گار تھی پیدائش 2 باب 18 آیت خدا بھی ایک طرح ہمارا مددگار ( عبرانی لفظ) زبور 70 آیت 5 اس کا مطلب خدا ہمارا مددگا ہے وہ ہم سے کم تر تو نہیں ہے عبرانی زبان میں اسکا ترجمہ " وددگار " کے طور پر کیا گیا ہے- اس کا حقیقح ترجمہ " خدا اپنی طاقت لوگوں کو دیتا ہے" ہم یہ وائر کیسعر کی تعلیم میں بھی یہ وضاحت پڑھتے ہیں ( ھارڈ سے انگ آف بائبل ) صفحہ نمبر 92 سے 94 اس لیے عورت مرد کی پوری ساتھی ہے نہ کہ اسکی مددگار ہے-
3: پیدائش 1 باب 27 آیت یہ ظاہر کرتی ہے دونوں خدا کی صورت پر تھے: ایسا نہیں تھا کہ صرف آدم ہی خدا کی صورت پر تھا رونوں مرد اور عورت خدا کی صورت پر تھے خدا کی صورت جیسا ہو نا اسکا ہرگز یہ مطلب کہ خدا کے دو پاؤں دو ہاتھ ایک معدہ ہے ہاں ہو سکتا ہے کہ شبیہ کے خاکے سے مطابقت ملتی جلتی ہوں اور کچھ چیزیں مساوی ہوں-
4 : فطرت ، قدر اور خصو صیت وغیرہ: بائبل میں گلیتیوں 3 باب 28 آیت کہتی ہے نہ توں بائبل میں یہودی نہ کوئی یونانی ، نہ کوئی قیدی نہ کوئی آزاد نہ مرد نہ عورت ، تم سب مسیح میں ایک ہوں"
5 کردار میں فرق: افسیوں 5 باب 22 سے 24 آیات بیان کرتیں ہیں بیویاں اپنے شوہروں کے تابع رہے ، کیونکہ مرد عورت کا سر ہے ، مرد بھی اپنی بیوی سے ایسے ہی محبت رکھے جیسے مسیح نے کلیسیا سے رکھی افسیوں 5 باب 25 سے 26 آیات پولوس رسول کہتا ہے کہ عورت کو مرد تعلیم دینا روا نہیں یا کہ اس پر حکومت کرے 1 تیمتھیس 2 باب 12 آیت-
6 اس کام کو عمل میں کیسے لایا جاۓ:
1: دبورہ اسرائیل قبیلے کی سردار تھی ہم دیکھتے ہیں قضاۃ 4 باب 5 آیت – اس کی بنا مجھے یہ کہنے میں جھجک نہیں ہے کہ عورت صدارت کر سکتی ہے
2 : اس کا وراثت میں حصہ ہے- حتی کہ زمین میں بھی گنتی 36 باب 8 آیت-
3: اور زیردہ معلومات کے عورت کیسے مرد کی ساتھی ہے ، دیکھیں امثال 31 باب 10 سے 31 آیات-
وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتی ہے ( امثال 31 باب 13 اور 22 آیات) اور منافع کماتی ہے امثال 31 باب 14 آیت ) وہ دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھتی ہے امثال 31 باب 15 آیت-
وہ کھیت خریدتی ہے امثال 31 باب 16 آیت – وہ تاکستان لگاتی ہے امثال نہیں خریدتی وہ اپنی بچت میں سے خریدتی ہے جو کہ منافع کا ذریعہ ہے-
وہ جسمانی طور پر طاقتور ہے- امثال 31 باب 17 آیت-
وہ تجارت کرتی ہے ضرورت کے لیے نہیں بلکہ منافع کے لیے وہ غریبوں کو بھی دیتی ہے (اور پیسے پر اس کا اختیار ہے امثال 31 باب 21 آیت
وہ دانشمند ہے اور دانائی سکھاتی ہے امثال 31 باب 26 آیت
خلاصہ :
عورتیں درجے میں مردوں سے چھوٹی نہیں ہیں- نہ ہی فطرت ، میں نہ قدر اور نہ ہی خصوصیت ہیں- ان کا مردوں سے علحیدہ کردار ہے – اور یہ آپکو ایک ایسی عورت بتا سکتی ہے جو ماں بننے والی ہو- ضرور دیکھیں ٹوڈے ہینڈ بک فار سانو یک بائبل ڈ یکلٹس صفحہ نمبر 191 سے 193 اور یہ جانیں کہ کیسے عورت مرد کے برابر ہے یا کیسے اس جیسی خاصیت رکھتی ہے-
سوال: پیدائش 2 باب 19 آیت کیوں آدم وھاں سارے جانوروں کو دیکھنا چاہتا تھا؟
جواب: خدا نے آدم تمام جانودوں پر فوقیت بخشی پیدائش 1 باب 26 آیت اور خدا پیدائش 19 باب میں دیکھنا چاہتا تھا کہ آدم انہیں کیسے نام دیتا ہے-
اگے ہم دیکھے گے کہ ایک اور وجہ بھی ہے – حوا کو بنانے سے بھی زیادہ – خدا اس چیز کو بھرنا چاہتا تھا جو اس نے آدم میں خامیاں دیکھیں تھیں- مگر آدم نے نہیں کیا- لیکن پھر بھی آدم نے تین چیزیں سیکھی جو اس کی حالت پر اثر انداز ہوئیں-
خاندان:
الف) آدم کو یہ دکھانے کے لیے کہ سب بڑے جانور کے نر اور مادہ ہیں اور خدا نے کیسے اس کو تر تیب میں رکھا ہے-
ب) آدم نے ساری مخلوق کو دیکھا اور اس نے جانا کہ اس جیسا کوئی بھی نہیں ہے
ج) آدم نے دیکھا کہ اسے مکمل ہونے کے لیے کچھ اور بھی چاہیے-
آخر کو ہمیں بچوں کو یہ سکھانے کے لیے کہ کس طرح پودے دوبارہ پیدا ہوتے ہیں اور کس طرح جانور پھر تخلیق پاتے ہیں- یہ ایک بہتر طریقہ ہے جس سے آپ بچوں کو سکھا سکتے ہیں کہ خدا کیسے نظام چلاتا ہے-
معاشرہ:
الف) کتے اور ہرن جہاں وہ رہتے ہیں اپنے خاندان بنا کر رہتے ہیں –
ب) آدم نے دیکھا کہ اس معاشرے میں اس جیسا کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ وہ زندگی کو بانٹ سکیں ، لوگوں کو وسرے لوگوں کی ضرورت ہے-
قائدانہ طور پر:
الف) جیسا کہ خدانے آدم کو تمام زمین پر اختیار بخشیا تھا آدم کو اس لیۓ بھی جانوروں کے متعلق جاننے کی ضرورت تھی
ب) جب آدم کو اختیار بخشا کیا اسے یہ اعزاز دیا گیا کہ وہ جانوروں کے نام رکھے ( فیلو اسے اپنی کتاب ورک آف فیلو میں بیان کرتا ہے صفحہ نمبر 882)
سوال: پیدائش 2 باب 19 آیت اور 3 باب 19 آیت یہاں کچھ مورمنز کی کتاب یہ راۓ ہے کہ اور وہ جانتے ہے اور ان کا پاگل پن تک عقیدہ ہے کہ آدم خدا تھا؟
جواب: یہا ں سے کچھ باتیں ، مورمنز جنرل آف دسکورس سے ہیں اور یہ بارہ قسم کے دوسرے شواہد کے بارے میں بھی بات چیت کرتی ہیں-
الف) جنرل آف ڈسکورس والیم 1 صفحہ 50 ، سرمن باۓ یرہگم نیگ) اب اسے سنو اور زمین کی قوموں یہودیوں اور دوسری قوموں ، ایمانداروں اور گناہ گاروں جب ہمارا باپ آدم باغ عدن میں سے جسم کے ساتھ اور اس نے حوا کو لیا اپنی بیویوں میں ایک اس کو اپنے ساتھ لیا اس نے دنیا کو تشکیل دیا- وہ قدیم دنوں میں بہت طاقتور تھا وہ ہمارا باپ اور ہمارا خدا ہے – اور دھرتی پر رہنے والوں کا وہی خدا ہے مسیحوں اور وہ جو مسیحی نہیں ہے ان کو یہ سننا ہو گا اور ان کو جلد ہی اس کے بارے میں معلوم پڑ جاۓ گا-
ب) جنرل آف ڈسکورس والیم 1 صفحہ نمبر 51 بھی اسی سے مشابہت رکتھا ہے یسوع ہمارا بڑا بھائی ہے اور وہ بھی ایسے ہی پیدا ہوا جیسے کہ عدن کے باغ میں پیدائش ہوئی تھی – آسمان پر ہمارا باپ کون ہے
نوٹ: مورمنز کہتے ہیں کہ غلطی اشاعت میں ہے یہ بہت د لچسپ ہے کہ وہ جلدیں جب ایک بڑے مسیحی استاد چارلس ایچ سپرجن نے اسی وقت شائع کروادیں اس میں کوئی غلطی نہیں تھی – نیچے دیۓ گۓ مورمنز شواہد ہے جو مورمنز نبی کہتے ہیں-
1) ولفورڈ وڈرف حنرل انڈر 2/19/1854
( د یکھیں بی – واۓ- یو لا ئیبر یری)
2 ) ڈسرٹ ایوننگ نیوز 6 / 14 / 1873
3) ڈ سرٹ ایوننگ نیوز 6 / 18/ 1873
4 ڈائری آف ہو سیا سٹاوٹ آن فور نیئر جلد 2 صفحہ نمبر 438
5 دی ملنیل سٹار جلد 16 صفحہ 543
6 دی ملنیل سٹار جلد 15 صفحہ نمبر 769 سے 770 تک اس کے ڈیڑھ سال بعد
7 دی جنرل آف جان ینوئل جلد 1 صفحہ 18 سے 21
8 ڈائری جنرل آف ابراہام ایچ کنان جلد 11 صفحہ نمبر 39 ( 50 سال تک پڑھایا گیا)
9 سیکرڈ ھائیمنز اینڈ سپور چوئل سونگ فا ردی چرچ آف جیسیس کرائسٹ آف لیئر ڈے سینٹ 1856 صفحہ نمبر 375
10 وومن آف مورموندم صفحہ نمبر 179
11 جنرل آف ڈسکورس جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1 ( صدر – ھیبر – سی- کیمبل اس بارے میں راۓ دیتا ہے 1856/29/6)
---------- اور میں یہ جانتا ہوں کہ اگر ہم اپنے بھائی برگھم کے ساتھ ایک نہیں ہے ، جو کہ ہمارا رہنما ہے، ہم مسیح کے ساتھ بھی ایک نہیں ہیں- ہاں میں جانتا ہوں اور میری نیک تمنا ئیں بھائی برگھم کے ساتھ ہر وقت ہیں- میں نے سکھا ہے کہ ایک خدا نے لوگوں کو تخلیق کیا ہے اور خدا ہی نے اس دھرتی پر پہلے انسان کو اتارا- اس نے اپنا پہلا بیٹا بھیجا کہ وہ دھرتی کو اور لوگوں کو سنبھالے-
12 آخر میں ایک اور کتاب
دی پوزیشن آف ایڈم ان ایل – ڈی – ایس سکریپچر اینڈ تھیالوجی) جس میں خدا اور آدم کی شناخت کروائی گئی ہے اور صدر برگھم ینگ کی حقیقت کو بھی دکھایا گیا ہے"صفحہ نمبر 58
سوال: پیدائش 2 باب 20 آیت میں آدم نے کیسے تمام جانوروں کو نام دیۓ اگر نہیں تو کیسے نافرمانی والا پھل سیب تھا مکنیٹوش کمپیوٹر؟
جواب: کچھ لوگ آرا دیتے ہیں ( جو کہ 1.5 ملین رینگے والے اور چلنے والے ہیں) اور 24 گھنٹوں میں ہوا یعنی چھے دن پر اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ نافرماکنی والے پھل کو بھی نام دیا گیا تھا اور ہر چیز صاف تھی-
دوسری طرف ، پال ایس – ٹیلر نام دینے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ " تمام جانداروں " کو جو دھرتی پر ہیں نام دینے کا مطلب یہ نہیں تمام جانوروں –پرندوں کو جیسا کہ پیدائش 2 باب 20 آیت میں لکھا ہے سب کو نام دیۓ گۓ – اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ان کے خاندانوں اور نسل کو نام دیۓ گۓ اور یہ آدم نے ایک ہی وقت میں کیا اور اسے مکمل بھی کر لیا-
وہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہر معمولی چیز کو نام دیا گیا ہے کل 26000 سمندری مخلوق جانور اور پرندے ہیں – 9500 ایسی مخلوق ہے جو نمو نہیں ( ان میں آدھے پرندے ہیں اور 1000 کے برابر ہے اور باقی رینگنے والے ہیں-
تقریبا 5،600 دھرتی کے رہنے والے جانوروں کی نسلیں ہیں جن میں 1900 پرندے بھی شامل ہیں جن میں 6500 ایسے ہیں جن میں نمو نہیں اور ان میں 1000 پرندوں کی نسل اور 1500 رینگنے والے جاندار شامل ہیں-
سوال: پیدائش 2 باب 21 سے 23 آیت کیا حوا کے خلق ہونے سے پہلے آدم میں مرد اور عورت دونوں طرح کی خصو صیات تھیں؟
جواب: کلام ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتاتا- پیدائش 3 باب 16 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کا سر ہے ان کو عدن سے نکالے جانے کے بعد آدم حوا سے کیسے مختلف تھا کسے چیز کی ہمیں جانکاری نہیں – بہر حال کلیسیا اختیار کو دیکھتے ہوۓ جیسے پولوس رسول کہتا ہے کہ آدم حوا سے معتبر بنایا گیا- 1 تیمتھیس 2 باب 13 آیت – اگر آدم میں دونوں خصوصیات ہوتیں تو پھر پولوس کا یہ نقطہ غلط رہنمائی کرتا-
سوال: پیدائش 2 باب 21 سے 23 آیات کیا حوا پسلی ہی سے لی گئی تھی یا یہ قدیم زبان سمیری سے اخذ کیا گیا ہے؟
جواب: ہمیں پہلے کچھ ماضی میں سے جانکاری لینی پڑے گی پھر جواب نظر آۓ گا اور ہم جواب سے دو سبق سیکھے گے کہ خدا کی کلام سے کتنی محبت تھی-
1: سموئیل فوج کارمر ان دی سمیرنیز ( یونیورسٹی آف شگاگو 1963) وہ بتاتا ہے کہ پسلی کے لیے سمیری زبان کا لفظ کا مطلب " بھی زندہ ہونا ہے" اور سمیری زبان میں یمن پویم عورت کو پسلی سے نکالا گیا مطلب عورت کو زندہ کیا گیا اور اسے دیوتا اینکی کی پسلی سے لیا گیا اور اسکا نام نن تی تھا-
2 : یہ سمیری زبان میں موجود ہے مگر عبرانی میں نہیں – یہ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتتے ہیں ان کا آتس میں کوئی تعلق نہیں –
3: وہ عورت جو دیوتا کی پسلی سے اور وہ جو آدم کی پسلی سے نکالی گئی ایک طرح کی کہانی کے علاوہ ان کے درمیان اور کوئی کہانی مساوی نہیں ہے-
4: اس دلمن کہانی کی ابتدا 2400 قبل مسیح یا اس کے بعد کی ہے اور ابراہام نے 2050 قبل از مسیح میں سے پہلے عور کو چھوڑ دیا تھا-
5 : یہ کہا نی قدیم زمانے میں بہت مشہور تھی-
جواب: اس جواب کو سمجھنے کے لیے چار نقطے ہیں-
1 : یہ صرف ان ہی مثالوں سے اخذ کی ہوئی کہانی ہے جو پیدائش میں بتا ئی گئی باتیں ہیں ایک اور مثال طوفان اور سیلاب کے بارے میں بھی پوری رنیا میں 200 سے زیادہ کہانیاں موجود ہیں-
2 : پسلی کے مطابق کہانیاں یہ بتاتی ہیں کہ شروع کے کلچر انسانیت کے بارے میں زیادہ علم موجود نہ تھا-
3: اس سے بھی زیادہ پیدائش کے دوسرے حصوں سے کہانیاں سمیری زبان میں لکھی گئی ہیں – آکا دین مسودے تیار کیے گۓ تھے- جن میں لکھا ہے کہ تخلیق کے دوران دیوتا لوگوں میں لڑائی تھی ، جب کہ پیدائش کے مطابق خدا کی روح پانیوں / ابیس پر حنبش کررتی تھی اور اسکے پاس پورا اختیار تھا-
4: پیدائش کی آیات اور دوسری دلمن کہانیوں میں پائی جانے والی خصوصیات یہ ضاہر کرتی ہیں کہ ان کا علم ایک ہی جگہ سے لیا گیا تھا- اب یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک نے دوسری جگہ سے نقل کی ہے کیونکہ ایک ہی طرح کی باتیں بہت زیادہ نہیں ہیں مگر ان دونوں کے مطلب میں فرق ہے-
جواب سے سیکھنے والا سبق: پیدائش خلا میں نہیں لکھی گئی خدا ہم پر سچائی ظاہر نہیں کرنا چاہتا- وہ وطت سے عاری سچائی دیتا ہے عملی طور پر وہ روایت اور وقت کو دہراتا ہے-
ایک وجہ یہ ہے: ( مگر بڑی وجہ یہ نہیں ) پیدائش کی کتاب خدا نے اس لیے دی ، کہ وہ انسان کے غلط نظریات کو درست کر سکے اور غلط چیزوں کے متعلق علم فراہم کیا گیا تا کہ وہ ٹھیک ہو سکیں-
سبق 2: خدا ثقافت کو استعمال کرتا ہے حتی کہ خدا لوگوں کے غلط اعمال کو بھی اپنے جلال کے لیے استعمال کرتا ہے ( پیدائش 50 باب 20 آیت ) ہم کیسے خدا کی نافرمانی کر تے اپنی ثقافت کو استعمال کرتے ہوۓ – موسی ایک ذہین آدمی تھا اس نے کہانی پڑھی اور خدا نے موسی کو استعمال کیا اور اسے بتایا کہ سچ کیا یا جھوٹ کیا ہے-
سبق 3 : خاص طور پر یہ باتیں سکھیں یہ جملہ مت بولیں کلام غلطیوں سے مبرا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل ایک مشین کے کام کرنے کے انداز میں لکھی ہے- 1 پطرس 1 باب 21 آیت کہتی ہے کہ آدمیوں کی نگہبانی روح القدس نے کی – اس لیے بائبل کے مختلف حصے مختلف لوگوں نے لکھیں جن کے انداز مختلف تھے اور ان کی لکھاوٹ مختلف تھی- اور وہ الہاہی مصنف تھے خدا نے مختلف لوگوں کے انداز کو لیا جو وھاں ٹھیک لگا اور اس نے ایسے اپنا کام سرانجام دیا-
سوال: پیدائش 2 باب 22 آیت لیلتھ اس وقت کون ہے؟
جواب: لیلتھ کا نام بائبل میں ایک مرتبہ بھی نہیں آیا یہ غلط طور پر کہا گیا ہے- کہ ایک لیلتھ تھی جو کہ آدم کی پہلی بیوی تھی اور اس نے آدم کے ساتھ رہنے سے انکار کیا تھا اور پھر خدا نے حوا کو بنایا اور لیلتھ پھر اک چڑیل بن گئی اور اس نے پیدا ہونے والے بچوں کو مارنا شروع کر دیا-
لیلتھ سمیری متھالوجی میں ایک چڑیل ہے " دی سمیری" صفحہ نمبر 198 اور 258 کے مطابق – سیوی لائنر یشن آف دی اینشینٹ نیر ایسٹ صفحہ نمبر 1890 یہ بیان کرتی ہے کہ وہ کنوارے جو ایک خاص بدروحوں کے وقت میں مرتے ہیں اس میں مرد کنوارے کو لیلو اور عورت کو لیلتھ کہا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شادی کرو اور دولت کہ وعدہ کرتے ہیں مگر اگر وہ اکیلے رہیں تو وہ وقت سے پہلے مر جاتے ہیں-
بائبل میں ، اور نہ ہی کسی یہودی اور نہ ہی کسی مسیحی کے پاس اس کے متعلق کوئی اشارہ ہے یہ صرف ایک ہنسانے والا نقطہ ہے-
سوال: پیدائش 2 باب 22 آیت خدا نے پسلی سے حوا کو کیسے بنایا؟
جواب: خدا قادر مطلق چاہتا ہے اگر اس نے ایک پسلی استعمال کی ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ اس نے ساری پسلیاں استعمال کی ہیں تو پھر مثال کے طور پر سوچیں کہ ہر صبح کو حوا آدم کی پسلیوں کو گنتی کرتی ہو گی-
اصل میں خدا کو پسلی اکھٹی نہیں کرنا پڑیں ایک ہی خلیہ کافی تھا-
اور اگر خدا اسے مٹی سے بناتا، تو پھر عورت مرد سے مختلف ہوتی- یا پھر آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس سے کم تر ہوتی- جب عورت بنائی نہیں گئی تھی اس کی شناچت مرد کے برابر ہی تھی-
سوال: پیدائش 2 باب 22 سے 23 آیات کیہ آدمی کی ایک پسلی عورت سے کم ہے؟
جواب: اگر کسی آدمی کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جاۓ تو اس کے بعد آنے والے بچے یا پھر اسکے پوتے ایک ہاتھ والے نہیں ہونگے اگر آپ کسی شخص کا ایک چلیہ نکال لیں – بچوں اور ماں باپ کے ایک ہی جیسے خلیے ہونگے-
ترتالینر : مسودے لکھے گۓ ہیں 200 سے 240 بعد مسیح اور وہ بتاتے ہیں کہ خدا نے پسلی ادھار لئی اتنی کتاب ترتا لینر آن ایگسوریشن ٹو چیسٹی 5 باب صفحہ نمبر 53 – وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ وہ اور بھی پسلیاں لے سکتا تھا مگر اس نے ایک ہی عورت بنائی تا کہ کثرت ازدواج کی مثال نہ بن جاۓ-
سوال: پیدائش 2 باب 25 آیت کیا مرد اور عورت ننگے خلق ہوۓ تھے اور کیا انہوں نے بعد میں کپڑے پہنے؟
جواب: ہاں وہ ننگے خلق ہوۓ تھے اور انہیں کسے بھی طرح کی کوئی شرم نہیں تھی ، مگر جب وہ بر گشتگی میں پڑے – خدا نے انہیں انہیں کپڑے دیۓ اور اس کے بعد انہوں نے ہمیشہ کپڑے پہنے رکھے-
سوال: پیدائش 3 باب کیا خدا نے انسانوں کو فرشتوں سے اضل بنایا ہے یا کہ اس میں شیمان کی نافرمانی کا کوئی کردار شامل ہے؟
جواب: کلام اس بارے میں کچھ نہیں کہتا مگر یہ ممکن بھی ہو سکتا ہے-
سوال: پیدائش 3 باب گدم اور حوا کی رنگت کیسی تھی سفید ، کالی ، بھوری ، پیلی ، یا پھر لال؟
جواب: بائبل مکمل طور پر اس کے بارے میں خاموش ہے جیسا کہ ہم آدم اور حوا کی نسل ہیں اس لیۓ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ کیونکہ ہم نسلی طور پر سب برابر ہیں-
سوال: پیدائش 3 باب خدا نے کیوں آدم اور جوا کو آزماۓ جانے کے لیے چھوڑا؟
جواب: بائبل اس کے بارے میں نہیں کہتی خدا صرف یہ ہی نہیں چاہتا کہ لوگ اسی سے محبت کریں – بلکہ خدا چاہتے کہ ان کے پاس متبادل ہواور وہ پھر خدا سے محبت کریں-
سوال: پیدائش 3 باب کیا یہ ایک غلط آزمائش نہ تھی ، کیا اس سے پہلے آدم اور حوا کو اچھائی اور برائی کے بارے میں معلوم نہ تھا ایک دہریہ کپلا یہ دعوی کرتا ہے؟
جواب: نہیں یہ ایک غلط آزمائش نہیں ہے کہ کسی کو کہا جاۓ وہ منشیات جیسے کو کین استعمال نہ کرے اور اس کو پہلا موقع بھی نہ دیا جاۓ – بلکہ نہیں اس لیۓ اچھائی اور برائی کی آزمائش سے پہلے ان پر پابندی غلط تھی اس لیے وہ اچھائی اور برائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے وہ جانتے تھے کہ ان کے حکمران نے کہا ہے کہ اسے مت کھانا اور یہی علم ان کے پاس آزمائش پر اترنے کے لیے کافی تھا-
آج ہم ایک بھی سبب نہیں جانتے کہ کیوں ہم خدا کی نافرمانی کرتے ہیں – اگر ہم نے کہا ہے کہ ہم نے یہ نہیں کرنا ہم جانتے ہیں کہ ہمیں خدا کی فرمانبرداری کرنی ہے –
سوال: پیدائش 3 باب پھل کھانے میں اصل غلطی تھی؟
جواب: وہ برائی کا درخت نہیں تھا – شاید وہ بعد میں اسے کھاتے رہے ہو نگے- تھفلیس بشپ آف اینٹوک ( 168 سے 188/181 بعد از مسیح ) اسکی آٹو لکس بک میں لکھتا ہے جلد نمبر 2 باب نمبر 25 ، صفحہ نمبر 104 ، وہ ایک درخت نہیں تھا جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں مگر وہ نہفرمانی تھی جس کے اندر موت چھپی ہوئی تھی اینٹی نائسی فادرز جلد نمبر 104 وھاں اچھائی امور برائی نہیں تھی- بلکہ اچھائی برائی کہ بتایا گیا تھا-
سوال: پیدائش 3 باب ، کیا یہ آزمائش اس قسم کی تھی جیسے والدین 40000 واٹ کی بیٹری گھر میں رکھے اور اپنے بچوں کو کہیں کہ اسے ھاتھ مت لگانا؟
جواب: نہیں خطرہ ان کی نافرمانی میں تھا- تا کہ درخت میں اسی جواب کو سمجھنے کے لیے چار نقطے ہیں-
1) بیٹری کی طرح وہ موت کا درخت نہ تھا یہ خدا کی نافرمانی تھی جس نے انہیں مارنا تھا یہ اس وقت ان کی روحانی موت کی وجہ بنی اور بعد میں خدا نے انہیں وہ پھل کھانے دیا ہوں-
2 ) آدم اور حوا بچے نہ تھے وہ سمجھدار تھے وہ اس بارے میں پوری طرح آگاہ تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور خدا ان کو اس کا نتیجہ بھی بتا چکا تھا
3) آدم اور حوا کو ضرورت کی ہر شے ملتی تھی اور ان کے پاس اسکے علاوہ نافرمانی کرنے کی کوئی راہ نہیں تھی کہ وہ پھل کو کھاۓ چاہے ہم اسے پسند کرے یا نہ کرے- کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ خدا کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا خدا نے ہمیں روبوٹ جیسا بنایا ہے اور ہم نافرمانی نہیں کر سکتے " اسکی کوئی قدر نہیں ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں خدا جو چاہے وہ کرتا ہے اور خدا نے انسان کو نافرمانی کرنے کی کھلی آزادی دی ہے اور نافرمانی اور فرمانبرداری کے سارے نتائج بتاۓ ہیں
4) بالاخر انہیں وہ پھل کھانا ہی تھا-
تھیفلس بشپ آف ایٹوک ( 168 سے 188 / 181 بعد از مسیح ) وہ لکھتا ہے اگر آدم اور حوا گناہ نہ کرتے ، وہ کامل ہو جاتے ، اور وہ آسمان پر ہمیشہ کے لیے رہتے ، اور انسان ایک درمیانی فطرت رکھتا ہے- نہ ہی فانی اور نہ ہی ابدی جنت آسمان اور زمین کے درمیان تھی-
تھفلیس ٹو آٹو لائی کس بک 2 باب صفحہ نمبر 24 اور صفحہ 104
سوال: پیدائش 3 باب لارا شیو سنکر کہتی ہے کیا ہم اس بات پر فخر نہ کرے کہ حوانے وہ پھل کھابا؟
جواب: نہیں ڈاکٹر لارا سچلنگر بہت ساری چیزوں میں ٹھیک ہے- مگر یہاں پر وہ شلص ہے مہ ماڈرن میٹوریٹی 1999 صفحہ نمبر 67 میں کیا کہتی ہے" مجھے اس بات پر بہت فخر ہے کہ اس نے علم کے درخت سے پھل کھایا- کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتی ہمارے باغ میں جانوروں جیسے ہوتے- خدا نے وہ درخت وہاں ساۓ کے لیے نہیں لگایا تھا ہم نے اس ایک قدم کے ساتھ انسانیت کو تلاش کیا- سب سے پہلے وہ علم کا درخت نہیں تھا- بلکہ اچھائی اور برائی کے علم کا درخت تھا – سچلنگر ٹھیک کہتی ہے کہلوگ ایسے نہ ہوتے- قتل غارت ، لزائی ، اور غیر ذمہ داری اسی عمل کے بعد ہوئی- تاہم لوگ آسمان میں ا بھی بھی انسان ہیں- جب کہ انہوں نے پر گناہ بھی نہیں کیا- یہ بہت مشکل ہے کہ انسان ہو اور گناہ نہ کرے – جیسے آدم اور حوا نے کیا اور انہوں نے وہ پھل کھایا اور جیسا کہ مسیح بھی ہے-
بعد کے ایک انٹرویو میں، جب ڈاکٹر لارا سچلنگر نے کہا کہ آدم غلط تھا اگر وہ حوا پر الزام لگانے کی کوشش کرتا- سخلنگر ٹھیک کہتی ہے کیونکہ پیدائش 3 باب آیت کہتی ہے آدم اس کے ساتھ تھا جب حوا نے پھل کھایا-
سوال: پیدائش 3 باب کیا وہ درخت کا پھل روحانی جنسی یکجہتی کو ظاہر کرتا ہے جو حوا اور شیطان کے درمیان ہوئی- جیسا کہ مون آف دی یو نیفکشن چرچ ( مونیز) اپنی کتاب ڈی وائن پر نسپلز 1977 صفحہ نمبر 75 سے 79 میں لکھتا ہے-
جواب: نہیں اس کو جنسی یکجہتی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا نہ پھل کے ساتھ اور نہ شیطان کے ساتھ جیسا کہ تہریر ہمیں بتاتی ہے پر دوسرے درخت کے بارے میں کیوں مکمل آزادی تھی ؟ حوا نے اس وقت وقت شیطان کو نظر انداز کر دیا وہ پھل کھا رہی تھی-
پیدائش 3 باب 13 آیت ، حوا سارا قصور شیطان کے سر پر ڈالنا چاہتی تھی اور کہا یہ شیطان نے محھے رھوکہ دیا- اس نے یہ نہیں کہا کہ شیطان نے میرے ساتھ کچھ کیا ہے-
یہ جاننے کے لیے پچھلے سوالات دیکھیں-
سوال: پیدائش 3 باب کیا کسی اور ثقافت کے ابتدائی لوگوں کے ساتھ ایسی کوئی کہانی پیش آئی، وہ باغ میں ہوں اور پھل کھانا کر نافرمانی ہوں؟
جواب: ہاں یہاں پر تقریبا تین مقدمات ہیں-
ساگا کرین برما کے لوگ: قادر مطلق جو سب جانتا ہے " یوا" نے ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے- اس نے دو لوگوں کو بنایا – مرد کا نام تھنائی اور عورت کا نام ایو اور ان کو ایک باغ میں رکھا گیا اور وہاں سات اقسام کے پھل دار درخت تھے ان میں سے ایک قسم وہ نہیں کھا سکتے تھے پھر ایک شیطان مکالی نے انہیں دھوکہ اور انہیں یہ بتایا کہ ان کے پاس معجزانہ قوت آجاۓ گی اور وہ آسمان پر بادشاہی کرے گے – مکالی نے انہیں اکسایا کہ وہ اس آزمائش کے درخت میں کھا ئیں- انہوں نے نے اسے کھایا اور وہ بدکار بن گۓ اور مر گۓ-
ڈان رچرسن واضح کرتا ہے کہ ممکن ہے ہو سکتا ہے کہ یہ رومن کیتھولگ یا نسطورین خیالات ہوں اور ان کو شامل کیا گیا ہوں یا پھر یہ نہیں بھی ہو سکتا کیو نکہ رچڑسن ایسا نظریہ نہیں رکھتا کہ کوئی آدمی میرے اور وہ مردوں میں سے زندہ ہو یا پھر اسکی کوئی روحانی موت ہوں-
دیکھیں اٹرنٹی ان دیر ھارٹس صفحہ نمبر 77 سے 83 اور زیادہ معلومات کے لیے-
سینٹال آف انڈیا: وہ " ٹھاکر جیو" پر ایمان رکھتے ہیں ( ٹھاکر = اصل، جیو – خدا ) جس نے پہلا جوڑا بنایا ، ایک آدمی جس کا نام ہرام اور ایک عورت نام ایو ان کو ھائیری پیری میں رکھا ہے جو کہ انڈیا کے مغرب ہے- ایک بدکار لیتا نے انہیں آزمایا اور ان کو مے پلائی جس طرح شیطان نے ان دونوں کو آزمایا تھا-
جب وہ بیدار ہوۓ انہوں نے دیکھا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے شرم محسوس کی- پھر بعد میں ان کے ساتھ بیٹے اور سات بیٹیاں پیدا ہوئیں اور ان کی نسل برباد ہوگی- ٹھاکرجیو نے ایک مقدس جوڑا بنایا تھا اور وہ ماونٹ ہراثہ پر تھے اور وہ اس نے سیلاب سے برباد کر دی-
آخرکار ان کی نسل نے مشرق کی طرف سفر کیا اور جنگل جنگل گھومیں- یہاں تک کہ وہ بڑی پہاڑیوں کے قریب پہنچ گۓ- جہاں ان کا رستہ رکاوٹوں سے بھر گیا پھر وہ چلے ( شاید خیر پاس سے) اور وہ اپنے وطن پہنچے جو کہ کلکتہ کے قریب ہے-
سمیرین: دی سمیرین یقین رکھتے ہیں کہ وہ دلمن سے آۓ ہیں جو کہ جنت ہے اور کوئی ہمارے پاس باغ عدن جیسی مثالیں نہیں ہیں- جبکہ نلمن ایک کیسی جگہ تھی جس میں تمام دیوتے رہتے تھے جیسے کہ زایو سدہ جو کہ فانی نہیں تھا- دلمن پویم کی تاریخ 2400 قبل از مسیح کی ہے-
سوال: جیسا کہ آدم اور حوا کامل تھے کیسے کامل لوگ بدکاری کر سکتے ہیں؟ حیسے کہ گناہ؟
جواب:کاملیت کو واضح کرنا آسان نہیں ہے کوئی ایسا نہیں کر سکتا بائبل نہیں کہتی کہ آدم اور حوا کامل تھے اور نہ یہ گروہ نہیں کر سکتے تھے-
جبکہ بائبل صرف یہ بتاتی ہے کہ وہ صرف اچھے تھے اور وہ بے گناہ تھے کیونکہ انھوں نے گناہ نہیں کیاتھا- وہ مکمل صور پر اور عملی طور پر آزادنہ تھے اور وہ اس قابل تھے کہ گناہ کو پرکھ سکیں-
کیلمنٹ آف الیگزینڈا ( 193 سے 220/217 بعد مسیح لکھا گیا) اسکی سٹورمٹبیا بک جلد 6 باب نمبر 12 صفحہ نمبر 502 اس میں پہلی دفعہ اس سوال کا جواب دیا گیا – دوسری اشیاء کے درمیان آدمی اپنی غلطی میں کامل تاکہ وہ نیکی کی طرف سے غیر زمہ داری صرف نیکی نہیں – جیسا کہ میں بیان کر چکا ہو کہ نیکی کی آئین سازی کر دی گئی ہے"
سوال پیدائش 3 باب کیا کامل خد کامل چیزیں نہیں بناتا پھر آمد اور جوا نے گناہ کیوں کیا؟
جواب اسکے جواب کو سمجھنے کے لیے 5 نقطے دیکھنا ہوگۓ- ترتالین جواب دیتے ہیں اس سوال کا 207 بعد مسیح میں اگنیسٹ میری کون کی کتاب میں 2 باب صفحہ نمبر 5 سے 9 ترتالین کے بڑے جواب کو خلاصہ کی شکل دی گئی ہے – اس لیے یہ ٹھیک ہے کیونکہ آدمی کو انسان کی شکل پر پیدا کیا گیا ہے اور وہ ذہنی طور پر مکمل ازاد ہے اس لیے آزادنہ سوچ اور پورا اختیار اس خدا جیسا ہونا ظاہر کرتا ہے- اس لئے یہ کہنا زیادہ ٹھیک ہو گا کہ کاملیت ککا مطلب یہ ہے کہ خدا مخلوق کو اپنے جیسا بناۓ اپنے مکمل ازادی دیتے ہوۓ یہ کاملیت کو ظاہر کرتا ہے –
تھفلس بشپ آف اینٹوک (168 سے 188/ 181 بعد از مسیح ) اسی سے ملتے جلتے ایک سوال کا جواب دیتےہیں – کیا آدم اور حوا فانی تھے یا نہیں) اس بات کو ظاہر کرتے ہوۓ کہ وہ کسی بھی راستے پر جا سکتے ہیں ( تھفلس آف آٹو لائی کس بک جلد 2 باب نمبر 27 صفحہ نمبر 105)
روبوٹ کے جیسے بالکل نہیں : کیا آپ کے پاس ایک ایسا کامل خدا ہے جو آپ روبوٹ نہ بناۓ – اور تخلیق کرنے والے ذہنوں کو آزادی نہیں ہے ؟
خدا نا ممکنات کا خدا نہیں ہے- خدا نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور ان کو مکمل آزادی دی ہے کہ وہ اس سے پیار کریں – خدا نے انھیں پیار نہ کرنے کی بھی آزادی دی ہے اور کرنے کی بھی ) بائبل ایسا کبھی بھی نہیں کہتی کہ آدم اور حوا کامل تھے اور وہ گناہ نہیں کر سکتے تھے جبکہ بائبل یہ کہتی ہے کہ وہ اچھے اور انھوں نے کبھی گناہ نہیں کیا تھا-
خدا کی کاملیت : انسانیت اور بدروحوں کفے درمیان ، بائبل مکمل طور پر واضح کرتی ہے کہ خدا کی کاملیت اسے محدود نہیں کرتی وہ آزادنہ سوچ کے ساتھ پیدا کرتا ہے چاہے وہ نافرمانی ہی کریں –
کونسی تعریف : اگر کوئی یہ تعریف کرتا ہے کہ مکمل خدا وہ ہے جو لوگوں کو آزادنہ سوچ کیساتھ پیدا نہیں کر سکتا- یہ ثبوت دینے کا بوجھ اسکے اوپر ہے کہ وہ بائبل میں سے ایک بھی ایسی آیت واضح کرے اپنے نظریے کے لیے اگر نہیں تو پھر اسکی تعریف بائبل کے خدا کے لنیے ٹھیک نہیں ہے – بنیادی مسائل یہاں درج ہیں –
الف) کیا آپ اپنی بعریف کے مطابق خدا کی کاملیت کو کیا کہے گے بائبل کے خدا کے لیے یا
ب) بائبل میں خدا خود کلامی بھی کرتا ہے وہ کیسے کامل ہے اور اس تخلیق کو کیسے چنا-
خدانے کیوں مشکل کی طرف جانا پسند کیا آدم اور خوا کو بنا کر ، یہ جانتے ہوۓ کہ وہ گناہ کرے گے پیدائش 1 باب پر کی گئی گفتگو کو دیکھیں-
سوال پیدائش باب 3 آیت 1 آیت اور 2 کرنتھیوں 11 باب 3 آیت ، کیوں آدم اور حوا شیطان سے آزماۓ گۓ جو کہ سانپ کی شکل میں تھا وہ کیوں شیر یا خرگوش کے ذریعے نہیں آزماۓ گۓ؟
جواب: کلام اسی بارے میں کچھ نہیں کہتا – میں ہم فرق دیکھ سکتے ہیں بڑے جانور خطرناک ہوتے ہیں – اور آدمی اپنی حفاظت کرتا ہے جب کہ چھوٹے جانوروں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے – ایک سانپ چھوٹا ہے اور رینگتا ہے- کچھ لوگ معاشرے میں کھلے طور پر گناہ کرے اور کچھ گھبراتے ہیں کہ یہ غلط ہے –
بائبل ڈیفکلس اینڈسمینگ کونٹراڈکشن صفحہ نمبر 96 یہاں ایک دلچسپ نقطہ ہے سانپ بہت تیز جانور ہے وہ اپنے شکار کے لیے گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور اچانک جھپٹتا ہے – متی 10 باب 16 آیت کہتی ہےکہ سانپ کی مانند ہوشیار اور کبوتر کیمانند بھولے بنو-
سوال: پیدائش 3 باب 1 آیت ،کیسے ایک بے سمجھ ، نہ بولنے والا جانور جیسے سانپ آدم اور جوا کو آزما سکتا ہے ؟
جواب: وہ ایک عام سانپ نہیں تھا شیطان نے سانپ کا روپدھارا تھا اور شیطان بول سکتا ہے اور وہ بہت ذہین ہے –شیطان کو ابلیس کہا گیا ہے مکاشفہ 12 باب 9آیت ، 14 باب 15 آیت اور مکاشفہ 20 باب 2 آیت ،یہاں تین راستےہیں جن سے شیطان کو ابلیس کہا جاسکتا ہے اور یہ ان کا مطلب واضح طور پر درستہے –
جسمانی تبدیلی: شیطان خود کو تبدیل کر سکتا ہے اور وہ جسمانی شکل میں آسکتا ہے جیسے کہ سانپ اور وہ بات چیت بھی کر سکتا ہے
مثال: یہ خاص نہیں ہے کہ ابلیس کیسا تھا – حوا نے اسے شیطان کے طور دیکھا یا پھر سانپ کے طور پر – شیطان اس کے پیچھے بول رہا تھا اور یہ سانپ کا وار کرنے کا طریقہ ہے –
متبادل: شیطان سانپ کے طور آیا تاکہ وہ حوا کے طریب آ سکیں اس کو جاننے کے لیے پچھلے سوالات کو دیکھیں –
سوال: پیدائش 3 باب 1 سے 16 آیات کونسی بڑی ایسی چیزیں ہیں جو ہم اس مثال سے سیکھتے ہیں ؟
جواب : گناہ کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں-خدا نے معاف کر دیا،مکر وہ مردہ رہے اور وہ واپس زندگی کے درخت کی صرف نہیں جا سکتے ( جب تک مکاشفہ پورا نہ ہو)
2) کلام ہمیں نہیں بتاتا کہ کہیں انھوں نے خدا کو کسی جانور کو مارتے دیکھا ہو اور پھر ان کو چمڑے کے کپڑے پہناۓ ہوں گناہ پتوں سے نہیں ڈھانپا جاتا کیونکہ وہ اگلے سال پھر نکل آۓ گے - یہ صرف خون سے ہی چھپایا جا سکتا ہے جب تک ایک جانور نہ مر جاۓ-
3)وہ باغ میں سے ہر شے کھا سکتے تھے – مگر وہ جانتے تھے کہ خدا نے سختی کے ساتھ ایک درخت سے منع کیا تھا – گناہ کے بعد خدا مہربان تھا اور اس نے انھیں معاف کیا – اور انکو چمڑے کے کپڑے پہناۓ - مگر زمین پر ان کے لیے مشکلات تھیں اور زمین بھی ان کی وجہ سے معتبر نہ رہی –
4 ) ان کے گناہوں کے نتائج کے باوجود خدا کی طرف سے رحم موجود تھا – ہیدن روبیسن بیان کرتا ہے کہ دل کا درد گستاخ دل کو صاف کردیتا ہے-
5) حتی کہ گناہ کے بعد خدا نے اپنے منصوبے کو بدلہ – حتی کہ ہم نے نافرمانی کی، رومیوں 8 باب 28 آیت کا وعدہ بالکل سچا ہے – حتی کہ تاریکی میں بھی خدا کا وعدہ پیدائش 3 باب 15 آيت
پیدائش 3 باب کے بارے میں جاننے کے لیے آرڈر کریں
سرمن باۓ گیری بریڈن برگ آپ یہ حاصل کر سکتے ہیں ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو – ایف بی سی ڈلاس – آرگ-
سوال: پیدائش 3 باب 1 آیت اور 14 آیت جب سانپ کو لعنت دی گئی کہ وہ پیٹ کے بل چلے گا ، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سانپ ٹانگیں استعمال کرتا تھا؟
جواب: نہیں کچھ رینگنے والوں کے ہاتھ نہیں ہوتے ٹانگیں نہیں – یہ وہ نہیں جس بارے میں یہاں بات چیت ہو رہی ہے – کلام اس بارے میں اتنا صرف نہیں ہے کہ جب شیطان کو لعنتی کیا گیا تو اس کے چلنے پھرنے میں سے کچھ کم ہوا یا اس مصیبت اٹھانا پڑی شیطان نے ایک سانپ کا جسم دھارا تھا – خدا نے سانپ کو لعنتی قرار دیا – اور اس سانپ کو سزا دی کیونکہ وہ اس کے ساتھ تھا-
جب لوگ کناہ کرتے ہیں اس عمل کے لیے معافی ہی ان کے مسلے کا حل ہے – گناہ کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمارے دل میں اندر گھس جاتا ہے اور وہ صرف معافی سے ہی معاف ہو سکتا
سوال: پیدائش 3 باب 1 آیت 14 سے 15 آیات کیا سانپ کی ٹانگیں اس وقت موجود تھیں جب تک اسے لعنتی قرار نہیں دیا گیا تھا؟
جواب: یہاں دو بڑے نقطے
یہ خاص " سانپ " جو باغ میں تھا وہ شائد ایک بڑی چھپکلی کی طرح تھا جیسا کہ چھپکلیوں کا پیٹ زمین سے اوپر ہوتا ہے – اور خدا نے اس مخلوق کی شکل بدلی اور اسکی ٹانگیں ختم ہوگئیں اس کا مطلب ہے صرف اسی کی ، جیسا کہ مگر مچھ آج بھی اپنے پیٹ سے بھی رینگتا ہے ، سانپ کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کیونکہ اس کی ٹانگیں موجود نہیں –
دی نیلسن سٹڈی بائبل صفحہ نمبر 10 میں لکھا کہ اس سے پہلے سانپ کا جسم کسی اور انداڑ کا تھا-
نہیں دی نیو انٹر نیشنل بائبل کمنٹری صفحہ نمبر 117 ہمیں سانپ کی سزا کے متعلق بتاتی ہے ( جلد نمبر 14 ) اسکا مطلب نہیں سمجھا گیا – کہ اس کی ٹانگیں تھیں – دی ایکسپوزیر با ئبل کمنٹری جلد نمبر 1 صفحن نمبر 55 میں لکھا ہے- لعنت اس بات کو واضح نہیں کرتی کہ سانپ کی اس سے پہلے ٹانگیں تھیں- جیسے کہ دھرتی کے دوسرے جانوروں کی ہیں-نقطہ یہ ہے کہ اس کی زندگی پر لعنت کا اثر ہوا- سانپ نے زمین پر رینگنا شروع کہا جیسے سانپ چلتے ہیں ، اس نے مٹی کو کھایا – یہ بات زیادہ زور اس کے مٹی چاٹنے پرزور دیتی ہے اس کا مطلب ہے وہ ہار گیا ( یسعیاہ 65 باب 25 آیت میکاہ 7 باب 17 آیت)
بے بنیاد :نقطہ سانپ کیسے لیا تھا ( پیدائش 3 باب 1 آیت ) پھر وہ لعنتی ہوا 3 باب 14 آیت ) شبد لعنت سانپ کے لیے استعمال ہوا ہے –نہ ہی مرد کے لیے اور نہ ہی عورت کے لیے
سوال: پیدائش 3 باب ؛ 3 سے 24 آیات آدم اور حوا کو آج کے لوگوں سے زیادہ سزا کیوں ملی؟
جواب: خدا نے ان کے کام کی سزا ان کو نہیں دی – وہ ہر درخت سے تو پھل کھا سکتے تھے خدا نے انھیں سزا اس لیے دی کہ انھوں نے بے گناہ ہو کر خدا کی نافرمانی کی –
سزا کی وجوہات جیسا کہ ہم سوچتے ہیں کہ خدا ایسے دیتا ہے جیسے لوگ جانتے ہیں یا یہ کہ وہ کیا کر سکتے ہیں – آج کے لوگ مکمل طور پر خدا کی حضوری میں نہیں ہیں- اس لیے وہ نہیں جانتے کہ خدا ان سے کیا کرنا چاہتا ہے اور جیسا کہ آج کے لوگوں کی فطرت گناہ سے عاری نہیں ہے – اور وہ اسے ہمیشہ گناہ پر اکسانے کی کوشش کرتی ہے –
دیکھیں ٹو ڈے ہینڈ بک فار سانویک بائبل ڈیکلٹس صفحہ نمبر 193 سے 195 میں بالکل مختلف جوابات ہیں اسی سے ملتے جلتے نتائج کے بارے میں-
سوال: کیا آدم اور حوا نے سیب کا پھل کھایا تھا؟
جواب: کلام یہ نہیں کہتا کہ انھوں نے سیب کھایا- وہ نافرمانی کا پھل تھا- اچھائی اور برائی کے علم کا پھل ، جو کہ اب تک زمین پر دیکھا نہیں گیا-
کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ پرانے دور میں تھا کیونکہ لاطین 5 لفظ برائی کے لیے مطم ہے – اور یہی لفظ سیب کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے – تاہم ہو سےکتا ہے کہ ایسا ہی ہوں – مگر بائبل میں ایسی شہادت موجود نہیں – مگر آپ اسے پرکھ سکتے ہیں –
سوال: پیدائش کیا آدم آسمانی روح تھی اور حوا زمینی روح ، اور سانپ لوگوں کو ظاہر کرتا ہے – ایک بہائی اپنی کتاب میں انسر قوسچن صفحہ نمبر 123 میں تعلیم دیتا ہے ؟
جواب: نہیں لوگ سالوں سے پیدائش کی کتاب کے روحانی مطلب لینے کی کوشش کررہے ہیں مگر اس کا مطلب سادہ ہے – آدم ایک مرد کو ظاہر کرتا ہے – اور حوا ایک عورت ہے- اور ان کے مطلب کی کوئی گارنٹی نہیں ہے – جیسا کہ کہا گیا ہے کہ آدم " آسمانی روح " ہے-اور عورت " زمینی" جبکہ مرد اور عورت خدا کی نظر میں برابر ہیں ( گلیتیوں 3 باب 28 آیت )
سوال: پیدائش 3 باب 5 آیت اور 22 آیت اگر آدم اور حوا دیوتے تھے اور انھوں نے وہ پھل کھایا ،کیا ایک خدا سے زیادہ خدا ہیں جیسا کہ مورمنزتعلیم دیتے ہیں ؟
جواب: وہ صرف اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے لگ پڑے – پیدائش 3 باب 5 آیت بیان کرتی ہے خدا کیطرح عبرانی میںایلو ہم خدا کے لیے یہ نام استمعال کیا گیا ہے – اس لیے پیدائش 3 باب 5 ایت حمع کے لفظ کو کبھی ظاہر نہیں کرتے-
سوال: پیدائش 3 باب 5 آیت 22 آیت کیا لوگ خدا کی طرح ہر چیز کے بارے میں جان سکتے ہیں؟
جواب :نہیں ، نہیں ، شیطان بھی خدا کی طرح نہیں ہو سکتا ( عبادت، قادر ، اور تثلیث ) یہ صرف خدا کے لیے ہی ہیں یہاں تک کہ شکطان نے ان سے وعدہ کیہ کہ وہ خدا کی طرح ہو جاۓ گے اور وہ اچھائی اور برائی کو جانیں گۓ-یقینا وہ پھل کھانے سے پہلے وہ صرف اچھائی ہی کے بارے میں جانتے تھے جب انھوں نے پھل کھایا وہ اجھائی اور برائی دونوں کے بارے میں جاننے لگ پڑے – جب انھوں نے پھل کھایا اور آدم اور حوا رد کیے گۓ اور سنپ نے جو کہا ویسا ہی ہوا-یہاں پانچ اور پیرے جو اچھائی اور برائی کے جاننے کو ظاہر کرتے ہیں – استشناء 1 باب 39 آیت ، 2 سموائیل 14 باب 17 آیت ، 19 باب 35 آیت 1 سلاطین 3 باب 9 آیت اور یسعیاہ 7 باب 5 آیت یہ آیتیں یتاتی ہیں کہ خدا وہ ہے جو آچھائی اور برائی کو جانتا ہے اور اسی طرح شیطان نے بھی ان سے کہا کہ تم آزاد ہو جاؤ گے اور پھر انھوں نے سوچا کہ اچھائی اور برائی کیا ہے اور اسی چيز نے انھیں نافرمانی کرنے پر مجبور کیا-
شیطان آج بھی ایسے وعدے کرتا ہے جیسا کہ ہندو ، مقصد خدا سے رابطہ رکھہ نہیں ہے یا کہ " اچھا" ہونا جبکہ مقصد یہ ہے کہ اچھائی اور برائی دونوں کا تجربہ کیا جاۓ-
جیسا کہ کچھ لوگ ہندو گرو کو دیکھکر جیران ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایماندار نہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے وہ مذہب کے ساتھ اچھا ہے ،اچھائی اور برائی دونوں کو جاننا ضروری ہے-
سوال پیدائش باب3 آیت 6 کیوں حوا کو دانائی کو جاننے والا پھل کھانے پر سزا ملی ،جب کہ دانائی حاصل کرنا اچھا امر ہے ؟
جواب: دانائی خود سے حاصل کرنا ٹھیک نہیں ہے- ہمیں خدا سے دانائی سیکھنی چاہیے مکر نافرمانی کرکے دانائی حاصل کرنا اچھا نہیں ہے – مسیحیوں نے عام طور پر نہیں سیکھا اور نہ ہی اسکا تجربہ کیا ہے کہ گناہ کتنی اقسام ہیں – اوروہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے –
جیسا کہ تھفلیس بشپ آف اینٹوک ( 168 سے 188/181 بعد مسیح ) اپنےایک خطلیٹو ٹو آٹو لکس باب 2 صفحہ نمبر 250 میں لکھتا ہے وہ ایک درخت نہیں تھا جیسا کہ کچھ لوگ سوچتے ہیں وہ ایک نافرمانی تھی جس کے اندر موت تھی- وہ پھل نہیں بلکہ علم تھا اور علم اس وقت ہی ٹھیک رہتا ہے جب کوئي اس سیدھے رستے سے حاصل کرتا ہے مگر اس وقت آدم کا اس عمر میں وہ علم حاصل کرنا ضروری نہیں تھا- انٹی نایکنی فادرز 2 باب صفحہ نمبر 104-
سوال: پیدائش 3 باب 6 آیت کیسے شیطان کی وہ آزمائش جو اس نے حوا کے لیے تیار کی متی 4 باب 1 سے 11 اور لوقا 4 باب 1 سے 13 آیت مسیح کی آزمائش کے ساتھ ملتی ہے؟
جواب :جب تک وہ اسے پہچان نہ لیں شیطان بہت سارے حربے استعمال کرتا ہے اور یہ اس لیے کہ وہ اپنے کام کو روکنا نہیں چاہتا-
حوا- اس نے اس پھل کو دیکھا
1) کھانے کے لیے اچھا ( جسمانی خواہش )
2) دیکھنے کے لیے اچھا ( آنکھوں کی حوس)
3) دانائی پانے کے لیے تمھاری آنکھیں کھل جائیں گیں اور تم خدا کی مانند بن جاؤ گے)
مسیح جب وہ روزے سے تھا آزمایا گيا
1) پتھر روئي بن جائيں ( جسمانی چواہش )
2) اپنے آپ کو نیچے گرا ( دکھاوا)
3) ساری زمین پر بادشاہت ( بلکہ خدا جیسا اختیار )
1 یوحنا 2 باب 16 آیت بیان کرتی ہے کہ زمین پر تین طرح کا گناہ ہے جسمانی گناہ آنکھوں کی حوس اور مغروری-
سوال: پیدائش 3 باب 8 آیت ، حیسا کہ خدا ہر طرف ہے ( زبور 139) کیسے آدم اور حوا اس کی حضوری سے دور ہو گۓ-؟
جواب: خدا کی ظہوری کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چیزوں سے روکتی ہے خدا ہم سے ہر وقت سیدھے طور پر رابطہ رکھتاہے اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جہاں خدا نے اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے مختلف چیزوں کے ذریعے سے، جب ابرام کو تین لوگ ملتے آۓ ( پیدائش 18 باب 1 سے 33 آیات) جلتی ہوئی جھاڑی میں خروج 3 باب : 2 سے 22 آیات ) بادل کی گرج میں سے ( خروج 19 باب 9 آیت ) کوہ سینا خروج 19 باب 11 سے 12 آیات ) ہیکل چھڑنے کے وقت حزقی ایل 10 باب 3 سے 18 آیات) اور مسیح جو کہ دنیا میں آیا-
سوال: پیدائش 3 باب 8 آیت ، جب کہ خدا ہر طرف موجود ہے پر آدم اور حوا نے کیسے سنا کہ خدا باغ میں چل پھر رہا ہے ؟
جواب: خدا ہر طرف ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے ہر چیز اس کی حضوری میں ہے خدا تثلیث میں ہے مگر پہلے کے مسیحی جیسا کہ تھفلس آف اینٹوک ( 168 سے 188/ 181 بعد مسیح ) اپنے خط لیٹر ٹو آٹو لکس 0 جلد نمبر 2 باب نمبر 22 صفحہ نمبر 103 میں کہتا ہے کہ وہ مسیح تھا – اور وہ کنوارے پن کے ذریعے سے پیدا ہوا
سوال: پیدائش 3 باب 9 اور 11 آیات جب کہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے پھر اس نے کیوں کہا کہ آدم کہا ہے اور اس نے کیا کیا؟
جواب: خدا ہر چیز جانتا ہے جیسا کہ والدین بچوں کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں خدا بعض اوقات ایسے سوال پوچھتا ہس جن کے جواب وہ پہلے ہی سے جانتا ہے تاکہ لوگ اس کے سامنے اعتراف کریں-
واپسی خدا ان سے چار سوال پوچھتا ہے –
1)تم کہاں ہو –
2) تمکو کس نے بتایا ( تم نے یہ کہا سے سیکھا)؟
3 ) کیا تم نے اسے کھایا ( نافرمانی)
4) تم نے یہ کیا کیا ؟
خدا کے سوالات ان کو جلد ہی معافی کیطرف لے گۓ خدا نے انھیں معاف کردیا مگر وہ تکلیف میں رہے کیوں کہ وہ حیات کے درخت کا پھل نہیں کھا سکتے تھے –
آج بھی خدا لوگوں سے ایسے ہی چار سوال کرتا ہے
1) تم کہاں ہو ں- لوگ گناہ میں ہوتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں جب کہ خدا اور لوگ جانتے ہیں کہ یہ کیسی قابل رحم زندگی گزار رہے ہیں کسی وقت میں ہم بیوقوف ہوتے ہیں نافرمان ہوتے ہیں دھوکہ دیتے ہیں اور طرح کے مزے میں رہتے ہیں – ہم غصے اور بدحواسی میں رہتے ہیں اور دوسرے کے ساتھ نفرت کرتے ہیں مگر جب خدا جو کہ ہمیں بچانے والا خدا ہے اپنا پیار بھیجتا ہے ہم بچ جاتے ہیں ( ططس 3 باب 3 سے 4 آیات)
2) تمھیں کس نے بتایا: ( تم نے یہ کہا ں سے سیکھا)
لوگ آج کے دور میں بہت سارے جھوٹے عقائد کے پیچھے لگے ہوۓ ہیں – بجاۓ اس کے کہ وہ خدا سےسچ سیکھیں مکر میں ڈرتا ہوں کہ جیسے حوا نے شیطان کے ذریعے سے دھوکہ کھایا آپ بھی اپنے حقیقی طور مسیح سے آۓ اور وہ کچھ پڑھاۓ جو مسیح نے نہیں پڑھایا اور وہ روح دے جو حقیقی نہیں ہے اور وہ کلام دے جو ٹھیک نہیں تم نے کے ساتھ تعلق نہ رکھو – ( 1 کرنتھیوں 11 باب 3 سے 4 آیات )
3) کیا تم نے کھایا ( نافرمانی ) تم نے نافرمانی کہاں سے سکیھی اور یہ تجربہ کیسے کیا اور دل بری چیزوں کی طرف لگایا روح القدس ہم سے یہ پوچھتا ہے کیا آپ نافرمانی کر رہے ہیں ؟
4) تم نے یہ کیا کیا خود کے بارے میں دکھ ( روحانی اور جسمانی ) یہ اچانک واقع نہیں ہوتا جیسے کہ غبارے میں ہوا بھر دی جاۓ بلکہ گناہ کی بنیاد پر بہت وقت لگتا ہے جیسے غبارے میں سے ہوا نکل رہی ہو
یعقوب 1 باب 15 آیت خواہش حملہ ہو کر گناہ کو جنم دیتی ہے اور جب بڑھ جاتی ہے تو موت پیدا کرتی ہے اور پھر بھی آدمی کے پاس ایسی صورتیں ہیں جن سے وہ اپنا رویہ تبدیل کر سکتا ہے –
شروع کے مسیحی مصنف خدا کے سوالوں کا مطلب یہ تھا کہ وہ واپس آئیں اور توبہ کریں
تھفلیس ( بشپ 168 سے 188 /181 بعد مسیح ) اپنے خط لیٹر آٹو لکس میں اس سوال کا جواب دیتا ہے جب خدا نے انھیں بلایا اور کہا آدم تو کہاں تھے ؟ خدا نے یہ کہا وہ ان سے عاری نہ تھا وہ زیادہ سزا نہ پائیں اس لیے اس نے اعتراف کرنے کا موقع دیا ( انٹی ناکنی فادرز صفحہ نمبر 105 )
ترتالین اپنی کتاب اگنیسٹ میر کون ( 207 بعد مسیح ) میں اس سوال کا جواب دیتا ہے ---- خدا ان کے گناہ سے بے پرواہ ہے نہ ہی آدم سے کہ وہ کلہاں تھا بلکہ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ کون گناہ کو سمجھتا ہے اور خود کو خدا کی حضوری میں لانا چاہتا ہے یہ نہیں کہ صرف وہ ہی بلاۓ بلکہ خود جو گناہ کرتا ہے اس میں یہ پیاس ہونی چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے ہم اس کو سوالیہ طرز میں نہیں لے سکتے ، کہ آدم تو کہاں ہے؟ بلکہ ایک جگانے والی اور اپنی طرف کھنچنے والی آواز کے طور پر اسے لینا چاہیے – اے ادم توں کہاں ہے کہ تو وھاں نہیں جہاں تجھے ہونا چاہیے تھا یہ ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے نافرمانی کی وہ اس بات پر ندامت محسوس کریں ( اگنیسٹ میرکون جلد 2 باب 26 )
سوال: پیدائش 3 باب 14 سے 15 آیات ،خدا نے سانپ کو لعنت دی ، کہ وہ ساری ڑوندگی مٹی کھاۓ " اگر ہم اس کو زولوجی علم کے ذریعے سے دیکھے سانپ کارینورس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ مینڈک اور پرندوں کو کھاتے ہیں اور مغیرہ مغیرہ – میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ خدا غلط ہے میں خاہتا ہوں کہ وہ ہر شے پر قادر ہے مگر آپ اس کی وضاحت کرے کہ اصل میں اس آیت کا مطلب کیا ہے یا اس کا کوئی متبادل مطلب ہے ؟
جواب: پہلے ہم سانپ کو دیکھتے ہیں اور پھر متبادل پر غور کرے گۓ سانپ مٹی کے بغیر اپنی خوراک حاصل نہیں کر سکتے انھیں مٹی کھانا پڑتی ہے کچھ ایسے ہیں جو مٹی سے اوپر کی خوراک کھاتے ہیں ان کیخوراک وہی ہے جو زمین پر گرتی ہے ان کا کھانا نہيں ان کی زندگی ہی پست ہے اور وہ گندگی میں رہتے ہیں اور عبرانی لفظ جو سانپ کے لیے استعمال ہوا ہے وہ ہے " نکاش " جیسا کہ مطلب کھسر پھسر ہے – اور پیدائش میں جو نئی بیا ن کی گئی ہے ان دونوں کا مطلب مٹی میں کھسر پھسر کرنا ہے –
دی نیو گنیوا اسٹڈی بائبل صفحہ نمبر 13کہتا ہے کہ مٹی کا مطلب " بے عزتی " ہے مٹی موت کے مطلب کے لیے بھی استعمال کیجاتی ہے-
اب وہ سانپ جس نے ادم اور حوا کو آزمایا وہ عام سانپ نہیں تھا وہ شیطان تھا – یہاں دو آپشن ہیں یا شیطان سانپ کی شکل میں آیا یا پھر اس نے کسی سانپ کے جسم کو استعمال کیا ہو سکتا ہے پیدائش باب3 آیت 14 سے 15 سب طرح کے سانپوں کے متعلق ہو – یا پھر چھپکلی نما سانپ کے متعلق یا اس کی ساری نسل یہ سب اس لیے ہوا کہ شیطان نے سانپ کے جسم کو دھارا اور اسے استعمال کیا –
پیدائش 3 باب 14 سے 15 آیات خاص طور پر شیطان کیعدالت کے بارے میں ہے جیسے شیطان کو پیٹ کے بل رینگنا تھا – وہی کھانا تھا جو کہ مٹی میں شامل تھا ،یہ شیطان کے بارے میں تھا نہ توں وہ رینگتا ہے اور نہ ہی مٹی کھاتا ہے وہ تو آسمان پر اونچے مقاموں میں ہے –
دی بائبل نالج کمنٹری اولڈ ٹیسٹمینٹ صفحہ نمبر 33 یہ اس لیے تھا کہ لوگ سانپ کو رینگتے دیکھیں اور مٹی کھاتا ہوا بھی اور جانیں کہ بدکاری کا انجام کیا ہے –
ہزار سالہ دور کے وقت یسعیاہ 55 باب 25 آیت بھیڑیا بکری اور دوسرے جانورکو برکت دی گئی – مگر سانپ نے ہمیشہ خاک ہی چاٹی – جبکہ کسی کو تقصان نہیں پہنچا اور کوغيگوشت خور خدا کی پہاڑی پر نہیں جا سکتا اور سانپ ہمیشہ خاک چاٹے گا – مکاشفہ 20 باب 1 سے 10 آیات کہ ایماندار 1000 برس کے لیے مسیح کے ساتھ حکمرانی کرے گۓ مگر ان 1000 برس کے بعد شیطان کو سزا ملے گی کیونکہ وہ خدا کی قوم کے خلاف تھا-
سوال: پیدائش 3 باب 15 آیت اس کا مطلب یہ ہے کہ کنواری مریم بے گناہ ہو گی جیسا کہ کیتھولکز دعوی کرتے ہیں ؟
جواب: نہیں دو وجوہات کی بنا پر
حوا کے بارے میں بات چیت ہے نا کہ مریم کے بارے میں کیونکہ حوا بے گناہ نہ تھی مگر یہاں کوئی مسلہ نہیں ہے جیسا کہ یہ آیتیں نہیں کہتیں کہ وہ بے گناہ تھی-
بنیاد مسیح ہے ،جو کہ اس آیت کا مرکز ہے تو یہاں پر اور نہ ہی کسی اور جگہ پر پوری بائبل میں یہ بات نہیں ہے کہ مسیح کی ماں بے گناہ ہو گی- اور کوئي ریکارڈ موجود نہیں ہے – پری نیکی کرسچن یہ کہتے ہیں کہ وہ بے گناہ تھی-
سوال: پیدائش 3 باب 15 آیت شیطان کی اولاد کون لوگ ہیں ؟
جواب: یوحنا 8 باب 41 اور 44 آیات جو یسوع کو در کرتے ہیں وہ شیطان کی اولاد ہیں-
سوال: کیا پیدائش 3 باب 16 آیت " تو درد کے ساتھ جۓ گی" یہ عام الفاظ تھے " میں تیری اولاد بڑھاؤں گا" یا پھر یہ اس کا مطلب ہے کے لیے استعمال ہوا تھا؟
جواب: عبرانی میں یہ صوتیہ ادائیگی کو ظاہر کرتا ہے – واولز بہت مختلف ہیں مگر یہ واولز مسیح کے کئی سال بعد شامل کۓ گے ہیں – مگرمن صوتیہ الفاظ میء ایک فرق یہ ہے کہ اس روایتی ترجمے میں دونوں صوتیہ الفاظ نہیں ڈالا گيا – اور یہ صوتی الفاظ کا نہ ہونا ایک غلطی ہے اور دوسرا توجمہ ٹھیک ہے –
اگر دوسرے ترجمے کو دیکھا جاۓ " سیز" شیطان کو بھی ظاہر کرتا ہے بچوں کی بڑھوتری کوئي پاپ نہیں ہے یہ خدا کی ان کے لیے مرضی تھی (پیدائش باب 1 آیت 28) اور نافرمانی اسے بدل نہیں سکتی تھی-
سوال: پیدائش 3 باب 16 آیت جبعورت کو لعنت دی گئی مہ مردکی طرف رغبت کرے گی کیایہ اسکی جنسی حالت کی زیادتیکوظاہر کیا گیا ہے یا رغبت کا لفظ خواہشکے لیے استعمال کیا گیا ہے- ؟
جواب: اس لفظ کا مطلب کچھ اور ہے – حوالہ اشارہ کرتا ہے رغبت دھیان، اور حاکمیت کے مطلق 120 مرتبہ انگریزیکا لفظ خواہش کونا استعمال ہوا ہے جسکا مطلب خواہش ہے – اور یہ پرانے عہدنامے میں120 مرتبہ استعمال ہوا ہے – عبرانی میں خواہش کے لیے خاص شبد " ٹشکا" ( سٹرانگ 8669)یہ تین مرتبہ استعمال ہوا ہے – پیدائش 3 باب 16 آیت – پیدائش 4 باب 17 آیت اور غزل الغزالات 7 باب 10 آیت ، غزل الغزالات میں اپنی پیاری کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے – اور پیدائش 4 باب 4 آيت میں خدا کہتا ہے وہ قائن کو خبردار کرتا ہے کہ ایسا گناہ نہ کرے –
والٹ کیسعر دی چرچ فادرز آف کلمینٹ آف روم ، ارینوس ،ترتالین ، آرگین 225 سے 254 بعد مسیح ایپیفیس ، اور یوروم اور فیلو جو کہ ایک یہودی تھا وہ کہتے ہیں کہ " رغبت " کا مطلب خواہش ہونا نہين ہے
اس پیرے کا مطلب یہ ہے کہ عورت نے خدا پر سے امید چھوڑ دی اور مرد پر رکھی –کیسعر بیان کرتا ہے کہ کیتھرین سی بشنل اس نے خواہش کے استعمال کو پہلی بار دریافت کیا اس پیرے میں سے جو اٹالین ڈومنک مونک جسکا نام پگا نینو جن کا انگریزی ترجمہ ہوا جس میںکنگ جیمس اشاعت بھی شامل ہے اسکا ترجمہ خواہش کیا گیا-
پانچ وجوہات : جو اشارہکرتی ہیںکہ رغبت ، دھیان حاکمیت جنسی خواہش کے خلاف ہیں-
1)تو اپنے شوہر کی طرف رغبت کرے گی- اور وہ تجھ پر حکمران ہو گا
2 ) اس طرح کا ایک جیسا مطلب پیدائش 4 باب 7 آیت میں بھی ہے –
3) اگراسکا مطلب جنسی خواہش ہےتو آدمی کے بارے میں کیوں نہیں کہا گیا کہ وہ بھی اسکی طرف جاۓ گا-
4) نیا عہدنامہ کہتا ہےکہ عورتیں اپنے شوہروں کیعزت کریں اور شوہر بھی اپنی بیوی سے محبت رکھے جیسی محبت مسیح نے کلیساء سے رکھی افسیوں 5 باب 22 سے 33 آیات ، 1 تیمتھیس 2 باب 11 سے 14 آیات اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورتوں کو اجازت نہیں کہ وہ مردوں پر حکمرانی کرے کیونکہ حوانے دھوکہ کھایا تھا-
5) ماضی کی خامیاں ، مرد نے عورت پر پر اسطرح سے حکمرانی کی ہے جب کوئی سیمرین یا چائنیز بادشاہ مرتا ،بعض اوقات ان کی بیوی کو بھی اس کے ساتھ مار دیا جاتا تھا – برطانوی حکومت آنے سے پہلے جب کوئی ہندو مرتا اسکی بیوی کو بھی اس کے ساتھ ہی جلا دیا جاتا تھا – ( اور اسے ستیکہا جاتا)یونانی لوگوں نے بھی عورتوں کو زیادہ درجہ نہیں دیا جیسا کہ عرب کے مسلمانوں نے نہیں دیا – ابن ماجہ جلد نمبر 3 عدد 1918 اور صفحہ نمبر 157 پر لکھا ہے جب کسی کو عورت ، نوکر یا پھر مویشی دیا جاۓ وہ خداکا شکر ادا کرے –مسلمانوں کی شریعیت کے مطابق عورت کی گواہی مرد سے آدھی ہے کیونکہ اس کیعقل کو مرد سے بالا تر نہیں دیا گیا – ( سورۃ بکرا جلد نمبر 3 عدد 826 صفحہ نمبر 502 )
سوال: پیدائش 3 باب 16 آیت جبعورت بچہ جمتی ہے تو اسے بہت تکلنیقف ہوتی ہے یا بچے اک نعمت ہیں ؟
جواب: دونوں ٹھیک ہے – تین نقطے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے
بدکاری سے بہتر ان کے لیے برکت کے طور حوا اور آدم کو اولاد سے نوازا گیا اور یہ امر جسمانی درد سے بہتر تھا –
بدکاری کے بعد ،پیدائش 3 باب 16 آیت کہتی ہے کہ وہ درد کیساتھ بچہ جنے گی اور یہ درد اسکے گناہ کی وجہ سے ہے اس نے یہ قائن اور ھابل کی پیدائش کے وقت بھی محسوس کیا اور بعد مین-جننے کے وقت تو تکلیق کم تھی مگر جب قائن نے ھابل کو مارا وہ تکلیف گہری تھی-
تاہم مکر برکت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بچے آج بھی خدا کی نعمت ہیں ( 127 زبور 3 سے 5 آیات )
سوال: پیدائش 3 باب 16 آیت ، ہر چیز کا قصوروار حوا کو کیوں ٹھرایا گیا ( ایک مسلمان یہ پوچتا ہے ) ؟
جواب: ہر چیز کا قصور حوا پر نہیں ڈالا گیا جب عورت نہیں پہلے پھل کھایا اسی لیے سزا دی گئي – آدم کو بھی سزا ملی کہ وہ اپنے خون پسینے کی کمائی کھاۓ گا اور اسے وہ سہولت نہ رہی جو کہ پہلے اس کے پاس موجودتھی- بائبل کی تعلم میں کوئی ایسا " اشاوہ " نہیں ملتا جس سے حوا کو زیادہ بیو قوف کہا جاۓ – تاہم شروع کے مسلمان علم الہیات کے استاد اور تاریخ دان اور ہی طرح کی تعلیم دیتے تھے- میں ہے کہ حوا بہت سمجھدار تھی- الطبری اللہ نے اسے بیوقوف بنایا ( آدم کو نہیں ) حوا کو بدکاری کرلنے کے بعد – آل تباری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 280 اور281 اور محمد بھی ایک حدیّ میں کہتے ہیں کہ مرد بچے کا پیشاب عورت سے زیادہ صاف ہے – ابن ماجہ جلد نمبر 1 عدد 522 ، 525 526، صفحہ نمبر 284 ، 285 ، 286 وجہ یہ ہے کہ –
" رسول کہتا ہے اللہ نے آدم اور حوا کو خلق کیا اور مرد کا پیشاب پانی سے اور عورتکا جسم اور خون سے بنایا"
یہ سب بدکاری کے لیے نہیں لکھا گیا بلکہ یہ حوا کی ابتدائی تخلیق کے بارے میں ہے –
سوال: پیدائش 3 باب 20 آیت جیسا کہ مختلف طرح کے لوگ ہیں پھر کیسے تمام نسلیں آدم اور حوا سے آئیں ہیں ؟
جواب: پیدائش 3 باب 20 آیت کہتی ہے حوا سب کیماں ، چاہے ، قد ، بال اور جلد کی کتنی بھی تبدیلی کیوں نہ ہو- صرف انسان ہی نہیں جانوروں ، کتے بلیاں اور گھوڑے ان پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے – پیدائشی طور پر سب لوگ برابر ہیں پیدائشی خوبیوں کے جون 1997 میں کتے کی نسلوں کا مشاہدہ کیا گیا اور سائنس بتاتی ہے کہ سب نسلوں کے اندرونی اور بیرونی اعضا ایک ہی جیسے ہیں-
یہ آیتیں بتاتی ہیں ہم سب آدم اور حوا سے پیدا ہوۓ ہیں مٹی 19 باب 4 سے 5 آیات رومیوں 5 باب 12 سے 19 آیات ، اور 1 تمتیھیس 2 باب 13سے 14آیات-
سوال: پیدائش 3 باب 20 آیات، اگر آدم اور حوا گناہ نہ کرتے کیا وہ ابھی تک بچے ہی رہتے (میری بیوی یہ پوچھتی ہے )
جواب: ہم آدم اور حوا کی جسمانی عمر کے بارے میں نہیں جانتے کہ کیا تھی جب انھوں نے گناہ کیا 0 وہ بچے تھے جوان تھے یا پھر سنجیدہ عمر کے تھے مکر حقیقت یہ ہے کہ وہ بدکاری سے پہلے بچے نہ تھے خدا نے انھیں ایسے تخلیق کیا تھا کہ وہ گناہ سے پہلے بچوں
جیسے تھے –
دو مختلف طرح کے کلام یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ گناہ کرنے سے پہلے بچوں جیسے تھے-
پیدائش 1 باب 28 آیت : بدکاری کرنے سے پہلے خدانے انہیں حکم دیا کہ خوب بڑو، خدا ان کو حکم دے رھا تھا کہ ان کے بچوں کے بارے میں ، کہ وہ بچے پیدا کریں-
پیدائش 3 باب 16 آیت: حوا کو لعنت دی گئی کہ وہ تکلیف کے ساتھ بچے چنے گئی اور وہ بچے پیدا کرنے میں اسے تکلیف ہو گی وہ خود بچے کے جیسی نہیں تھی-
سوال: پیدائش 3 باب 21 آیت، خدا نے آدم اور حوا کو جانور کے چمڑے کے کپڑے کیوں پہناۓ؟
جواب: کلام خاص طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہتا مگر ہم اسی پہلی قربانی کو سمجھ سکتے ہیں جو اس نشان کے لیے دی گئی کہ آدمی قربانی کے ذریعے سے اپنے گناہ ڈھانپ سکتا ہے-
سوال: پیدائش 3 باب 21 آیت کیوں خدا کو آدم کو بنانے کے لیے زمین سے مٹی کی ضرورت پڑی یا پھر ، حوا کو بنانے کے لیے پسلی کی ضرورت کیوں پڑی-؟ہم اسے پڑھتے ہیں بارن اگین سکیپٹک – صفحہ نمبر 192؟
جواب: بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا نے ان کو چنا تھا نا کہ اسے مٹی اور پسلی کے خلیوں کی ضرورت تھی – خدا وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے-
سوال: پیدائش 4 : 3 سے 6 آیات ، خدا نے قائن کی قربانی کو کیوں ٹھکرا دیا؟
جواب: دی واٹے کلف بائبل کمنٹری صفحہ نمبر 284 میں لکھا ہے جبکہ ہم شاید یہ جانتے کہ ہابل اچھا نذرانہ لایا اور قائن نے ایسا نہیں کیا اس کے بارے میں پیدائش کے اندر کوئی علامت نہیں ہے-
عبرانیوں 11 باب 4 آیت کہتی ہے کہ ہابل نے ایمان کے ساتھ نذرانہ پیش کیا جب کہ دوسری طرف قائن کا رویہ ٹھیک نہیں تھا( جیسے کہ اسکا غصہ والا رویہ ظاہر کرتا ہے) یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ خد ا خون کی قربانی چاہتا ہے نہ کہ پھلوں سبزیوں کی ، اور یہ بات مسیح کی موت کو بھی ظاہر کرتی ہے- یہ فرق تھا ہابل کی حقیقی پرستش اور قائن کی ناقص پرستش میں، ہابل نے موٹا حصہ پیش کیا تھا اور وہ بھی پہلوٹھے میں سے – قائن کچھ سبزیاں لایا تھا نہ کہ پہلا پھل-
سوال: پیدائش 4 باب 10 آیت ہابل کا خون کیسے پکار سکتا ہے؟
جواب: یہ ایک متبادل صحیفہ استعمال ہوا ہ جو کہ ہابل کے ساتھ زیادتی کو ظاہر کرتا ہے اور قائن کی خقا کو بھی ظاہر کرنے کے لیے یہ علامت ہے- بائبل کے کچھ حقیقی معنوں کو تحریر کرنے والوں نے اپنے انداز کے ساتھ لکھا ہے- اس انداز سے عاری ہو کر لکھا جانا بائبل ہاغیپر کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بائبل میں حقیقی معنوں کو ظاہر کرتا ہے اور سب الفاظ ایک ہی جیسے ہیں جیسے مسیح نے استعمال کیے تھے-
سوال: پیدائش 4 باب 12 آیت ، قائن کو قتل کرنے کی سزا کیوں نہیں ملی؟( میری بیوی مجھ سے یہ پوچھتی ہے)
جواب: بڑی سزا پرانے عہدنامے میں موجود ہے صرف دس احکام میں ھی موجود نہیں مگر سیلاب کے بعد ہی سے موجود ہے مگر یہ سب کچھ قائن اور ہابل کے دور کے بعد ہوا، خدا سارے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے اور خدا ہمارے لیے ہی اپنی شریعت کو تشکیل دیتا ہے اور اس وقت جبکہ سزا موجود نہیں تھی خدا نے خود اسے سزا دی اور اسے آواز کردیا-
سوال: پیدائش 4 باب 13 آیت ، قائن یہ کیوں سوچتا تھا کہ اسے ملے گا اسے قتل کر دے گا؟
جواب: یہ بہت د لچسپ بات ہے بائبل نہیں بتاتی- کہ خدا نے یا کسی اور نے قائن سے یہ کہا تھا ایک غیر اخلاقی قتل کی وجہ سے لوگوں نے اپنے اندر سوچا اور اسے کہا کہ تو نے یہ غلط کیا ہے – قائن نے شاید سوجا کہ اکر اس نے ایک اپنے جیسے آدمی کو مارا جاۓ کا- پیدائش 4 باب 15 آیت ، خدا اسکو سبب کے بارے میں آگاہی دیتا ہے، اسی لیے خدا زیادہ احتیاط کرتا ہے وہ قائن کو قصور وار ٹھراتا ہے تا کہ دوسرے لوگ جانیں کہ ایسا نہیں ہے-
اک قلم سیر یز کروینک کڈز گاڈ وے جو کہ کیزی اور اینی میری ایزو نے بنائی ہے حصہ نمبر 6 اس کے اندر انسانی ذہن کے بارے میں بہت ساری چیزیں واضح کی گئی ہیں-
سوال: پیدائش 4 باب 13 سے 16 آیات حدا نے قائن پر کیسا نشان لگایا؟
جواب: کنام اسی بارے میں حاموش ہے – ماسواۓ اسی کے لوکوں نے اسے پہجانا تا ہم ٹو ڈے ہینڈ بک فار سانویک بائبل ڈ یکلٹس صفحہ نمبر 202 سے 203 میں اس بات کا مشاہدہ ہے کہ یہ قائن کی لعنت کا حصہ نہ تھا- یہ خدا کے رحم کا حصہ تھا کہ کہیں قائن کو دوسرے لوگ مار نہ دیں-
سوال: پیدائش 4 باب 13 آیت ، کیا دھرتی پر آدم حوا اور قائن کے علاوہ بھی کوئی تھا؟
جواب: یہ حوالہ نہ صرف بیٹیوں کے بارے میں تھا – جیسا کہ قائن نے بیوی تلاش کی، مگر قتل کے بعد اور بھی بہت لوگ پیدا ہوۓ جب لوگ آدم اور حوا کے پاس آۓ
( پیدائش 3 باب 20 ایت ، اعمال 17 باب 26 ایت ، رومیوں 5 باب 14 سے 15 ایت ) آدم اور حوا کی پیدائش 5 باب 4 آیت کے مطابق اور بھی بیٹے بیٹیاں تھیں-
سوال: پیدائش 4 باب 16 سے 22 آیات ادم اور حوا کے بیٹوں نے بیویاں کہاں سے حاصل کیں کیا یہ نافرمانی نہیں تھی؟
جواب: پیدائش 5 باب 4 آیت یہ بتاتی ہے کہ ادم اور حوا کے اور بھی بیٹے بیٹیاں تھیں اور آپس میں شادی اس وقت نافرمانی نہیں تھی ایسا صرف آج کے دور میں ہی ہے اس وقت ایسا کبھی نہ تھا-
سوال: پیدائش 4 باب 16 سے 17 آیات قائن نے نود کی سر زمین سے اپنے لیے بیوی کیسے تلاش کی؟
جواب: اس جواب کو سمجھنے کے لیے دو نقطے ہیں-
1) جو بیوی قائن نے نود کی سرزمین کی سے حاصل کی وہ آدم اور حوا کی آدم میں سے ہی ایک تھی سب لوگ آدم سے پیدا ہوۓ ہیں( اعمال 17 باب 26 آیت) اور حوا تمام لوگوں کی ماں ہے پیدائش 3 باب 20 آیت-
2 ) بائبل یہ نہیں کہتی کہ قائن اپنی بیوی سے نود میں ملا- قائن پہلے ہی شادی کر چکا تھا اور اسکی بیوی نے قائن کے ساتھ نود تک سفر کیا-
سوال: پیدائش 4 باب 17 سے 24 آیات کیا آدم کا سلسلہ نسب ہے یا پیدائش 4 باب 25 سے 32 آیات یا یا آدم کا سلسلہ نسب ہے پیدائش کے مختلف مصنف ہیں اس لیے بارے میں شکوک پاۓ جاتے ہیں؟
جواب: پیدائش 4 باب 17 سے 24 آیات یہ قائن کا سلسلہ نسب ہے سیت کو بیان نہیں کیا کیا اور بعد میں فورا اپنی پیدائش 4 باب 25 آیت اور 5 باب 32 آیت وہ سیت کے سلسلہ نسب کو ظاہر کرتا ہے جس میں قائن کا کوئی ذکر موجود نہیں- اب یہاں کوئی بھی شک موجود نہیں
اگر یہ پھر بھی واضح نہیں ہے اپ دوسری مثال پر غور کر سکتے ہیں-1 تواریح 5 باب 1 سے 10 ایات یہ ہمیں روبن کے سلسلہ نسب کے بارے میں بتاتا ہے جو کہ یعقوب کے بیٹوں میں سے ایک تھا اور پھر بعد میں 1 تواریح 5 باب 11 تو 22 آیات یہ جد کے سلسلہ نسب کے بارے میں بتاتا ہے- جو یعقوب کا بیٹا تھا-
سوال: پیدائش 4 باب 22 آیت دھاتیں کب سے استعمال ہونا شروع ہوئیں ؟
جواب: کا نسی 4500 قبل از مسیح تھا ئی لینڈ میں دریافت کی گئی--- یو گو سلاویہ میں 4000 قبل از مسیح -----شام 3000 ، اور انطولیہ 3000 قبل از مسیح سے پہلے – مصری ان دھاتوں محتلف اشیا میں استعمال کرتے 3000 قبل از مسیح سے بھی ذیادہ کے عرصے سے پہلے ایشو نونا کے شہر میں با بل کے پاس ہے، ماہو اثار قدیمہ نے 2700 قبل از مسیح میں لوہے کا بلیڈ دریافت کیا تھا-
سوال پیدائش 4 باب 23 سے 24 آیات لمک کو آدمی نے زحمی کیوں کیا؟
جواب: اس آدم کے متعلق تین قسم کی آرا ہیں-
رضا کارانہ طور پر قانون نافذ کرنے والے ایک آدمی نے سوجا کہ قائن کی اولاد کو قتل کرنے کی کوشش کرے لیکن خدا پیدائش 4 باب 15 آیت میں بیان کرتا ہے کہ کوئی اس سے با اسکی اولاد سے بدلہ نہ لے-
ایک سزا یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی چور لمک کی چیزیں چرانا چاہ