انجیل کے سوال خروج کی کتاب سے
سوال: خروج میں ہے کہ یہ کسے جان سکتے ہیں کہ خروج کی کتاب کو بائبل میں ہونا چاہیے تھا؟
جواب: دوسدی وجوہات کے درمیان کیونکہ یسوع اور درسرے بابئل میں پرانے عہر نامے کی صراقت کرتے ہیں اور توریت کی اس کتاب کا حوالہ مقدس کتاب کے لحاظ سےدیتے ہیں۔ مزید مطالعہ کے لیے اس باب کے آخر میں موجور سوالات کا حوالہ دیکھیے جو کہ یہودی اور ابتدائی مسیحی مزہبوں کےلیئے ہیں جو کہ خروج کا حوالہ دیتے ہیں۔ متی باب22 آیت23 اور لوقا باب 2 آیت 23 کے ےسوالات بھی دیکھیے۔
سوال: کتاب خروج کی کچھ اہمیت کیاہے؟
جواب: خروج کی کتاب کو صرف اسکے حقائق کو یاد کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مطالعہ اور عمل کےلیے ہے۔ جبکہ خروج اور استثناء دونوں دس احکام پیش کرتی ہیں، خروج مصرمیں ہونے والی آفتوں اور وہاں سے نجات حاصل کرنے کے بارے میں جوکچھ بھی بتاتی ہے اس لحاظ سے خروج منفرد ہے یہاں بہت سے اہم اور دلچسپ تاریخ وار واقعات ہیں وہ خداوند کا کردار اور کسکا لوگوں کے ساتھ معاملہ دیکھاتے ہیں۔ خداوند لوگوں کوآ زمائش کے وقت سے نجات نہیں دلواتا بلکہ وہ آزمائش کے ذریعے لوگوں کینجات کرتا ہے۔ خراوند قدرتی ذرائع استعمال کرتا ہے (دائی) قدرتی ذریعوں کو روحانی طاقتوں کے ذریعے ( کچھ آفتیں) جیسے روحانی طاقتوں کے ذدیعے ( دریائے نیل کو صحیح وقت پر دو حصوں میں تقسیم کرریا) لوگوں کی نجات کرنا ۔ خروج ریکھاتا ہے کہ خداوند کسطرح انفدادی طود پر موسیہارون اور حتی کہ فرعون سے تعلق پیداکرتا ہے۔ خداوند موسی کی قیادت کے غیر یقینی ہونے سے متعلق موسی کے ساتھ صبر تحمل سے رہا، جبکہ خداوند نے تمام اسرایئلوں کے سامنے اپنی برداشت کو کھودی اور موسی کے ساتھ سختی سے پیش آیا۔ خروج عملی تجربات اسرایئلوں کی شناخت کو خداوند کے متخیب کردہ لوگوں کے لحاظ سے کھول کر بیان کرنا محوری ہے۔ وہ مشکل کی گھڑی میں اکٹھے رہے، آزمائش زیارہ بڑی ہوتی ہے نجات اور برکتوں سے، لیکن سب سے زیارہ اہم بات وہ یہ ریکھ رہے تھے کہ خداوند کسطرح ان کی زنرگیوں کا کام کررہا ہے۔
خروج کے بغیر ہمیں یہوریوں کی عید کے بارے میں کوئی اشارہ نہ ملتا اور ہم خداوند کی آمد کے اشادات اور آخری کھانے کے بارے میں بہت کچھ گنواریتے۔ بھیڑ کے بچے کی خون کی بربادی کے سبب اسرایئلوں رخصت ہوگئے، اسطرح ہم بہھی بھیڑ کے بچے خون کے سبب رخصت ہو جایئں گے جو کہ رنیا کے گناہ اپنے ساتھ لے گیا۔
سوال: خروج میں کہ خروج کو ےمجھنے کے مختلف طریقے کیا ہیں؟
جواب: خروج کی کتاب بہت گہری ہے اور اسکا مختلف سطحوں پر مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اور سمجھا جاسکتا ہے۔
(1) مزید براں عام طود ہمارے کیمان کو مضبوط کرنے کے یئے بہت سے چھوٹےچھوٹے رازوں کو حل کرتی ہے، جیسے کہ مصر میں بہت سے سامی آثارات کیوں تھے۔ جو بعد میں ختم ہوگئے ، اسکے بعد تھیوٹومس فرعون نمبر ۴ کیوں بنا، جبکے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پہلے اس لاٰءن میں نہیں تھا اور بعد میں کون بنا
جس نے بعد میں کچھ کنعانی شہروں کو تباہ وبرباد کردیا۔
(۲) یہ اسرایءلوں کی ایک بہت صحیح تاریخ ہے اور کیسے وہ قبلیے سے ایک قوم بنے۔
(۳) یہ خداوند کے بارے میں کتاب ہے، جس میں خداوند اپنے کردار کو اسطرح پیش کرتا ہے کہ وہ کسطرح انسانیت کے ساتھ تعلق قاءم کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسطرح خداوند ماضی میں کام کرنے کے لیءے قدرتی اور روحانی ذریعوں کو استعمال کرتا ہے اور اپنے لوگوں سے اور انکے ظالموں سے کسطرح معاملات کرتا ہے۔
(۴) یہ قانوں کی کتاب ہے کہ خداوند احکامات دیتا ہے کہ وہ اسکی تابعداری کریں۔
(۵) نیہمیا کی طرح یہ خداوند کی قیادت پر ایک کتاب فوج کو ختم کر سکتا ہے۔ اور ۷۴ سال کامیابی سے بہت سے لوگوں کی قیادت کرتا ہے۔
یہ کتاب خداوند کے تما لوگوں کے لیءے ہے۔ جیسے کہ ہماری حوصلھ افزاءی کرسکتا ہے۔ کہ خداوند ہماری نجات کرے گا، اور ہم بھی اس سے عملی تجربہ اور مقابلہ کرسکتا ہے او خداوند ہمارے دل کے ڈیرے میں اپنا گھر بناے گا۔
(۷) یہ نمونون والی (خروج باب ۲۵ آیت ۴۰) کو خوش کر سکتی ہے اور ناخوش کرسکتی ہے۔
سوال: خروج میں ہے کہ اس کتاب کا خلاصہ کیا ہے؟
تاہم پیدائش کا مطالعہ مختلف طریقوں اے کیا گیا ہے اسکی مختلف قسم کی شرحیں ہیں اور اسکے بر عکس مختلف قسم کے خلاصے ہیں۔
یہاں عام قسم کے خلاصے ہیں۔
(۱) مصر میں غلامی ( خروج باب ۱ آیت ۱۴)
(۱) اسرایئل کی غلامی ( خروج باب ۱ )
(۲) ماسیٰ کا خوف ( خروج باب ۲ )
(۳) خداوند کا بلانا (خروج باب ۳،۴)
(b) میرے لوگوں کو جانے دو۔ (خروج باب ۵ آیت۱۴)
دومقابلے (خروج باب ۵ تا ۷ آیت ۱)
(۲)پہلی آفت۔۔۔ خون (خروج باب ۷ آیت ۱۴ )
(۳) دوسری آفت ۔۔ مینڈک (خروج باب ۸ آیت ۱ تا ۱۵)
(۴) تیسری آفت۔۔ جویئں (خروج باب ۸ آیت ۱۶ تا ۱۹)
(۵)چوتھی آفت۔۔ مچھر (خروج باب ۸ آیت ۲۰ تا ۲۳)
(۶)پانچویں افت۔۔۔ چوپاؤں کی موت (خروج باب ۹ آیت ۱ تا ۷ )
(۷) چھٹی آفت ۔۔۔ پھوڑے(خروج باب ۹ آیت ۸ تا ۱۲)
(۷) ساتویں آفت ۔۔ اولے اور آگ(خروج باب ۹ آیت ۱۳ تا ۳۵)
(۹) آٹھویں آفت۔۔ ٹڈیاں (خروج باب ۱۰ آفت ۱ تا ۲۰۔
(۱۰ٌ) نویں آفت۔ تین دن اندھیرا (خروج باب ۱۰ آیت ۲۱ تا ۲۹)
(۱۱) دسویں آفت۔۔ پہلوٹھے اور یہودیوں کی عید خروج باب ۱۱ آیت ۱ باب ۱۲ آیت ۳۰)
(۱۲) دریاے نیل کا عبور کرنا (خروج باب ۱۲ آفت ۳۱ تا باب ۱۴ آیت ۳۱)
ii(بیابان میں زندگی (خروج باب ۱۵ تا ۴۰
جواب: کوہ سینا کی طرف خداوند پر یقین کرنے کا سفر (خروج باب ۱۵ آیت ۱ تا باب ۱۸ آیت ۲۷)
مریم کے گیت۔۔۔ خداوند کی نجات کی یاد دہانی خروج باب ۱۵ آیت ۱ تا ۲۱)
(۲)مارہ اور ایلیم ۔۔ کیا خداوند خشک زمین میں پانی مہیا کرے گا۔ (خروج باب ۱۵ آیت ۲۲ تا ۲۷
(۳) کیا خداوند ویران جگہ پر کھانا دے گا؟ (خروج باب ۱۶)
(۴) مسہ ۔۔ ایمان کو آزمانے کی خطاء (خروج باب ۱۷ آیت ۱ تا ۷ )
(۵) کیا خداوند حفاظت کے گا؟ (خروج باب ۷ آیت ۸ تا ۱۵)
(۶) میں سب خود کر سکتا ہوں۔۔ بہت سے رویے تبدیلی چاہتے تھے(خروج باب ۱۸)
(b)سینا کے مقام پر خداوند کے ساتھ مقابلہ (خروج باب ۱۹ تا ۲۴)
(۱) خداوند کا عملی تجربہ (خروج باب ۱۹)
دس احکام قربانی، کاءی بت نہیں (خروج باب ۲۰)
اجتماعی قوانین (خروج باب ۲۱ تا ۲۳ آیت ۱۰)
(۴)ازام اور عبادت گاہ اور تہوار (خروج باب ۲۳ آیت ۱۱ تا ۱۹)
خداوند کی تابعداری کا عہد (خروج باب ۲۳ آیت ۲۰ تا ۳۳ )
خداوند کے ساتھ کھانا (خروج باب ۲۴ )
(c) عبادت کا شامیانہ اپنے آپ کو تیار کرنا کہ خداوند تمھارے درمیان ہو۔
(۱) اپنی سوچ کو تعمیر کرنا
(a) مادی اشیاء خداوند کو دینا (خروجباب ۲۵ آیت ۱ تا ۹ )
(b) صندوق۔۔ جہاں خداوند سے ملنا تھا (خروج باب ۲۵ آیت ۱۰ تا ۲۲)
(c) دسترخواں پر خداوند کی موجودگی (خروج باب ۲۵ آیت ۲۳ تا ۳۰)
(d) شمعدان ہماری زندگی میں خداوند کی روشنی (خروج باب ۲۵ آیت ۳۱ تا ۴۰ )
(e) مسکن ۔۔خدااوند کے ساتھ ذاتی دوستی (خروج باب ۲۶)
(f) قربانی کی راکھ پیش کرنا۔۔ خداوند کے لیءے چیزیں اٹھانا(خروج باب ۲۷ آیت ۱ تا ۸)
(g) مسکن کا صحن ۔ خداوند کے لیءے اکٹھا ترتیب دینا(خروج باب ۲۷ آیت ۹ تا ۱۹)
(h) اپنی عبادت کے شمعدان کو ہمیشہ جلاے رکھنا (خروج باب ۲۷ آیت ۲۰ تا ۲۱)
(0) خود کو الگ سے تیار کرنا
(a) خداوند کے کاہن کالباس (خروج باب ۲۸)
(b) خداوند کے کاہنوں کی نزرونیاز (خروج باب ۲۹)
(0) کاہن کیا کرتے ہیں۔
(a) خوشبو دار بور کی قربانی۔۔ کیا تمھاری نمایں خوشبو دار ہیں۔ (خروج باب ۳۰ آیت ۱ تا ۱۰ )
(b) مت بھولو کہ ہم نزر کے لیءے لاے گءے تھے۔(خروج باب ۳۰ آیت ۱۱ تا ۱۶)
(c) ہاتھ منہ دھونے کے لیءے پیتل کا ایک حوض ہماری روزمرہ کی صفاءی ضرورت (خروج باب ۳۰ آیت ۱۷ تا ۲۱)
(d) خوشبو دار تیل(خروج باب ۳۰ آیت ۲۲ تا ۲۳)
(e) خوشبو (خروج باب ۳۰ ٓیت ۳۴ تا ۳۸)
(f) مناع (خروج باب ۳۱ آیت ۱ تا ۱۱ )
(g) سبت کو قائم رکھنے کے نشان (خروج باب ۳۱ آیت ۱۲ ۱۸ )
(c) سرکشی توبہ اور تجدید(خروج باب ۳۲ تا ۳۳ )
(0) سونے کا بچھڑا۔۔ وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟ ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ (خروج ۳۲)
(1) تجدید کیا ہم کرسکتے ہیں؟ (خروج باب ۳۳)
(2) تابعداری کرنا اور دوبارہ مقابلہ کرنا (خروج باب ۳۴ )
(E) ندامت کے بعد مسکن کی دوبارہ عبادت کرنا
(F) خداوند تمھارے درمیان ہے کسطرح تمھارے مسکن تیار ہونگے؟ (خروج باب ۴۰)
اسرایئلیوں کے لیئے حویوت میں ایک بہت بڑی برکت ہوسکتی ہے۔ اس وقت کے دوران کنعان میں بہت سے جنگہیں ہوءی تھیں یہاں ان میں سے کچھ پیش کی جاتی ہیں۔
b.c۱۵۰۰ مصر نے ڈیبائر(Debir) کو تباہ برباد کیا ہیزور( Hazor) جیریٹکوJerido) ) اور دوسرے
b.c۱۴۰۰ مصر کے iiiتھیٹومس نے ph میں ارویڈ( Arvad) پر قبضہ کرلیا
۷۳۴۱تا ۳۸۴۱ b.c مصر کے iiiتھیٹومس کی ۱۷ فوجیں
۸۶۴۱تا ۳۸۴۱ b.c تھیٹومس iiiنے میگیڈو کے مقام پر کنعانیوں کو
شکست دی۔
b.c۴۵۴۱c. قیدیش نے مصر روگردانی کی۔
کیونکہ وہ مصر میں غلام اور چرواہے تھے اس لیئے ان سے بہت نفرت کی جاتی تھی، اور مصریوں نے بھی انھیں اپنے برابر نہ سمجھا۔ بیفلینگ بابئل سوال و جواب کا صفحہ نمبر ۴۹ اسکو اچھے طریقے سے بیان کرتا ہے۔ اکثر چیزیں جو ہماری زندگی میں بہت تکلیف دہ ہوتیں ہیں وہ خداووند کی طرف سے تکلیفوں کے بھیس میں برکتیں ہوتی ہیں۔ اور جب وقت گزرنے کے ساتھ وہ ہمارے ذہن میں خداوند کے مقصد کو بے نقاب کرتیں ہیں تب ہم ان کو پہچانتے ہیں۔
سوال: خروج باب ۱ آیت ۸ میں ہے آثار قدیمہ کے لحاظ سے ہیکوس حکمران اس پر کسطرح پورا اترسکتے ہیں؟
جواب: ہیکوس ( Hykosos) ایشائی لوگ تھے جنکے پاس ۱۶۴۰ تا ۱۷۶۰ تک بہت بڑی اور جدید جنکی گاڑیاں تھیں جنکی وجہ سے انھوں نے مصر کو فتح کیا۔ انھوں نے کچھ دیر حکومت کی اور ۵۵/ ۱۵۷۳ تا ۱۵۴۰ b.cتک آہستہ آہستہ وہاں سے چلے گئے۔ پیدائش باب ۴۶ آیت ۳۴ اور باب ۳۲ آیت ۳۲ کے مطابق جب یعقوب اور اسکے خاندان نے مصر کی طرف ہجرت کی تب جو مصری وہاں حکومت کررہے تھے وہ ہیکوس سے پہلے کے لوگ تھے۔ پیدائش باب ۴۶ آیت ۳۴ ہم سے کہتی ہے کہ مصری چرواہوں کے ساتھ نہیں تھے اور ہیکوس کو چرواہوں کا بادشاہ کہتے تھے۔ پیدائش باب ۳۲ آیت ۳۲ ہم سے کہتی ہے کہ یہ مصری (ایشائی لوگ) عبرانیوں کے ساتھ کھاتے نہیں تھے۔ پس جب یعقوب کا خاندان مصر آیا اگر اس وقت ہیکوس مصر کا حکمران نہیں ہوسکتے تھے تب فرعون ایک مشکوک ہستی ہوسکتی ہے ان لوگوں کے درمیان جو کہ پہلے فرعون کے زیر اثر بلند عہدوں پر فائز تھے۔ مذید برآں جب ہیکوس کو وہاں سے نکالا گیا تب مصری باشندہ تب تک غیر مصری ایشائی لوگوں کے لیءے متشبہ ہوسکتے تھے جیسے کہ عبرانی۔
سوال: خروج باب ۱ آیت ۸ تا ۱۰ میں مختصرأ یہ کہتی ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ یہاں کو ئی آثار قدیمہ کے شواہد نہیں ملتے جو اس بابت کا ثابت کرتے ہوئے اسرایئلی مصر میں کافر ( capella)تھے؟
جواب نہیں یہاں بہت زیادہ شواہد ہیں یہاں نہ صرف ہیبریو( Habiru) کے حوالے ہیں، بلکہ پائپرس بروکلائن ۱۴۴۶۔۳۵ ہمیں بہت سی ایسی مثالیں دیکھاتا ہے جس میں بہت سے ایشائی لوگوں کو مصری نام رکھے گئے کچھ ایشائی لوگ آشر اور آشکارہ کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اگلا سوال بھی دیکھیے اور مذید جامع جواب اور مباحثہ اور مذید معلومات کے لیئے دیکھیں خروج باب ۱۱ آیت ۵ تا باب ۱۲ آیت ۳۰
سوال: خروج باب ۱ آیت ۸ تا ۱۰ ہم سے بابئل سے الگ تھلگ ہوتے ہوئے کہتی ہے کہ یہاں کوئی ایسے شواہد ملتے ہیں کہ کیا اسرایئلی مصر میں غلام تھے یا مصر کے باہر ؟
جواب: کچھ تنقیدی مفکر ابھی تک اس پرانے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے تھے کہ اسرایئلی مصر میں تھے یا مصر سے باہر ۔ شاہد انھوں نے دیوار پر لکھا ہوا پڑھ لیا تھا۔ مصر میں بینی حسن ( Ben-Hasan) میں خونیم ہوٹیپ(b.c ۱۸۹۲ ) کے مقربے کی دیوار پر تصویر تھی جو ۳۷ ایشائی یا غیر مصری لوگوں کو جو کہ مشرق وسطیٰ سے تھے ظاہر کرتی تھی۔وہ بال نوک دار داڑھیاں مختلف رنگوں والے کالے چوغے، تیرکمان رکھتے تھے اور تیر پھنیکتے تھے۔ مسیحی مذہبوں ویکف ڈکشنری آف باسیلکل آرکیالوجی دی ایکسپوزر بابئل کمنڑی اور دوسری بہت سے کتابوں سے بہت زیادہ شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ کہ اسرائیل مصر میں تھے ۔ نیہ صرف مسیحی مفکر بتاتے ہیں کہ تقریبأ ۱۴۴۵ تا ۱۸۷۵ b.c اسرایئلی مصر میں تھے ، لیکن ایک بے دین ماہرے آثار قدیمہ ڈیویڈ۔ایم ۔روحل اپنی کتاب فرعون اور بادشاہ میں کہتا ہے۔ اے بابئیلکلکیوسٹ ( کرؤن پیلشرر ۱۹۹۵ ) کے دستاویزات کے شواہد بھی اسی بات کے موافق ہیں کہ اسرایئلی مصر سے باہر تھے۔ یہاں دس بڑے حقائق ہیں جو اس بات کا ساتھ دیتے ہیں کہ اسرایئلی مصر سے باہر غلام تھے۔
لمبے
بالوں والے
ایشائی
بھیڑوں کے
ڈھانچے اس بات
کو ظاہر کرتے
ہیں کہ یہ سب
سے پہلے یوسف
کے زمانے میں
مصر کے ڈیلٹا
کے علاقے میں
رہتے تھے یوسف
کا مصری نام zaphenath.paneahتھا zat.en.aph( جسکو
پکارا جاتا
ہے) ااور pianhu( پء کا
مطلب زندہ) piankhu
کانام اور
ناموں میں
تبدیلی یوسف
کے زمانے میں
بہت عام تھا
لیکن یوسف کے
زمانے سے پہلے
اور بعد میں
اتنا عام نہیں
تھا۔ بہت سے
عبرانی بروکلائن
عجائب گھر
(۱۴۴۶۔۳۵) کے
مصری پائپرس
میں پائے جاتے
ہیں۔ سوبیخوئپ
( Sobekhotep) iii(
تقریبأ ۱۵۴۰b.c میں)
کے ماتحت بہت
زیادہ غلام
تھیبس ( Thebes) کے علاقے
میں منتقل
ہوئے ۹۵ ناموں
میں سے ۵۰ فیصد
نام ایشچائی
نام تھے جنکو
بعد میں مصری
نانم دیئے گئے
بہت سے مصری
ناموں وہ / وہ
کون کہتا ہے
انکے نان کا
پہلا حصہ
تھا۔ ان میں
سے کچھ لوگوں
کے بارے میں
یہ بیان ملتا
ہے کہ ان کی
خصصیت سے تھی
کہ یہ آشر (
Asher)اور
اشکار (issacher)کے قبیلے
سے تعلق رکتھے
تھے۔ اسکے
علاوہ کچھ عبرانی
نام مینھم (Menahem)
اور سیفارا (
shiphrah) ہیں۔
( یہ سوچا جاتا
ہے ۱۰۰ سال
پہلے خروج باب
۱ میں سیفارا (
shiphrah) موجود تھا)
اسرایئل کی
تاریخ میں
والٹ کئیزر (
Walt Kaiser) اور دی
ایکسپوزر
بابئل کمنڑی
والیوم ۲ کے
صفحہ نمبر ۳۰۷
می
ں ہمیں دو
سامی ناموں کا
ذکر ملتا ہے۔
سیفارا غالبأ sp.ra))سیپ۔
را ( نہایت
گورا) اور غالبأ
لفظ پوھ ( puah)
یوگاریئک ugaritic))لفظ
سے اخذ کیا
گیا ہے جس میں (pgt)
پی جی ٹی کا
مطلب لڑکی یا
ایک عالیشان
کے ہیں یٹڈن
پائپرس ۳۴۸
بھی ہمیں
سپاہیوں کو
گندم کی خوراک
کو تقسیم کرتے
اور ایپرو ( Apiru)
جو کہ رمیس Rameses))
کے قدیم مصری
مندر کے اونچے
دروازے تک
پتھروں کو
منتقل کرنے کی
ترتیب دیتا ہے۔
(۹)ایک غیر مصری دوسرا حکم زیادہ بہتر احساس دیتا ہے۔ اگر یوسف باغی ہونا چاہتا تھا تو باقءی مصریوں کو ان کے پیچھے نہیں جانا چاہیے تھا۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ میری۔ را Meri.ra)) اور بین ۔ مت۔ اینا( Ben.mat.ana) جو کہ کنعانی تھے انھیں مصری عدالت میں کافی بلند مقام حاصل تھا۔ ایک سامی نام یا ہامو ( yanhamu) ایمینوہوئپ ( Amenhotep) iii کی وکالت کرتا ہے جو کہ زعزا کے مقام پر موجود ہے۔
(۸) کچھ مصری شہروں کو تعمیر کرنے کے لیءے انیٹیں استعمال کی گئیں جیسے کہ پتوم ۔ پتوم کے نچلے حصے میں جو اینٹیں استعمال کی گئیں وہ تنکوں کی بنی ہوئیں تھیں ۔ درمیانی حصے میں اینٹوں کا صرف چورا رہ گیا تھا۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق جو اینٹیں اوپر والی سچح پر پائی گئیں وہ کسی بھی چیز سے جوڑی ہوئی نہیں تھیں پندرھویں صدی b.cمیں تھیبس ( thebes) کے مقام پر ایک مصری جسکا نیک نام ریکہمیر ریک ۔می۔ ری۔( rehmere/rek.mi.re) تھا جسکے مقربے پر رنگوں سے مصوری کی گئی تھی جس میں غلاموں کو اینٹیں بناتے ہوئے دیکھایا گیا تھا۔
یہاں بہت بڑی بڑی آفتوں کے شواہد ملتے تھے جس میں گبھراہٹ کے عالم میں بہت سے اجسام کو دفنایا گیا تھا۔ تاہم بہت زیادہ اموات اس بات کو ثابت نہیں کرتیں یا جھٹلاتی ہیں کہ یہ سب کچھ راتوں رات اچانک حادثہکی وجہ سے ہوا تھا۔ ٹیکٹس tacitus) ) بھی تاریخ کتاب j میں یہودیوں کے بارے میں مختلف قسم کے گورو فکر کی فہرست دیتا ہے کہ وہ کریٹ ( crete) یا مصر یا ایتھوپیا یا آشوریہ سے تعلق رکتھے تھے اور پھر ان سے ایک بہت دلچسہپ کہانی کو منسوب کرتا ہے۔ تاہم بہت سے مصنف متفقأ طور پر اس بات کو بیان کرتے ہیں ایک دفعہ ایک بیماری نے پورے مصر کا دیوالیہ کر دیا اور انکے اجسام کو برے طریقے سے مسخ کردیا اس وقت کا بادشاہ بوکوریئس bocchris)) ایک ایسا معالج تلاش کررہا تھا جو کہ ہامون (Hammon) کے کاہن سے مشورہ کرتا اور اس نے اپنی شلطنت کے لوگوں کو صفائی کرنے سے منع کیا اور انھیں ایک غیر اجنبی علاقے میں بھیج دیا دیوتا ان لوگوں کی نسل سے بہت نفرت کرتے تھے ۔ وہ لوگ جنھیں انتھک مخت کے بعد تلاش کیا گیا انھوں نے اپنے آپ کو صحرا میں موجود پایا،اور وہ زیادہ دیر غم سے بے ہوش رہتے یہاں تک ان میںسے ایک جلاوطن ہوجاتا۔ مویس ( Moyses) انھیں نام لے کہ مطلع کرتا کہ کسی بھی قسم کی مدد کے لیءے خداوند یا انسان کی طرف مت دیکھو، جیسے کہ انھوں نے ان دونوں کو ترک کیا ہوا ہے۔ لیکن اپنے ساتھ جنت کی طرف لے کر جانے والے سردار پر اور خود پر یقین کرنا ہوگا کہ وہ پہلا شخص جو کہ ان کی مدد کرنا چاہیے گا وہ ان کی حالیہ آفت ہوگا۔۔ مویئس ( moyese)اپنے مقام کو آنے والے وقت میں اپنی قوم پر برقرار رکھنے کا خواہش مند تھا، اس نے انھیں لکھی ہوءی صورت میں عبادت کے صحیفے دیئے جو ان تمام عبادتوں کی مخالفت کرتے تھے جو باقی انسان کرتے تھے۔ وہ ہیمون ( Hammon) کا مذاق اڑانے کے لیے دبنے کو ذبح کرتے تھے اور بیل کی قربانی کرتے تھے کیونکہ مصری اسکو میمون کے طور پر پوجتے تھے۔ ( اس کا حوالہ دی اینول اینڈ دی ہڑوز جو کہ پی کورنیلٹس نے لکھی ہے۔ انسکلوپیڈیا برانیکیکا۔nc ۱۹۵۲)
(۶)ایک مصری دستاویز جوکہ تقریبأ ۱۳۵۰ b.c کے قریب قریب لکھا گیا وہ ابتدائی واقع کو عجیب لحاظ سے بیان کرتا ہے۔ سورج ڈھکا ہوا تھا اور انسان کو دیکھنے کے لیءے روشنی نہیں دیتا تھا ۔ جب سورج بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا اس لیءے زندگی کا وجود نہ تھا را (دیوتا) نے انسانیت سے اپنا منہ موڑ لیا تھا ۔ اگر وہ ہوتا تو صرف ایک گھنٹے کے لیءے سورج چمکتا ! کوئی نہیں جانتا تھا کہ کب دن آدھا ہوگا۔ ایک سایہ قابل اعتبار نہیں تھا آسمانوں میں سورج چاند کی سی مشابہت رکھتا تھا یہ اس بات کی طرف اشارہ کرسکتا ہے کہ زمین پر اندھیرا تھا یا یہ اس بات کہ طرف اشارہ کرتی ہے کہ تہراکی زمین پر آتش فشاں پھٹا تھا۔
(۵)تھیٹومس iv فرعون باظاہر پہلوٹھا لڑکا نہیں تھا ۔ ڈریم سٹیلا میں تھیٹومس ivشہر تھیں کی دیوی کے پنجوں کے درمیان (b.c ۱۴۲۱۔۱۴۱۰) غزا کے مقام پر پایا گیا ۔ دیوی ہرامکس( Harmakhis) نے تھیٹومس سے کہس کہ اگر وہ اس ریت جو شہر تھیس کی دیوی کے مخولف تعمیر کی گئی ہے تو وہ اسکو اگلا فرعون بنانے میں مدد کرےگا۔ غالبأ اگر وہ اپنے باپ ایمن ہوٹپ ii( Amenhotep) (۱۳۸۵/ ۱۴۰۱۔ ۱۴۴۷/ ۱۴۵۰) کا پہلوٹھا بیٹا تھا تو تب اس صورت میں اسے کسی خاص مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ اسرایئل کی تاریخ کے صفحہ نمبر ۹۰ میں والٹ کیئزر Walt Kaiser) ) کہتا ہے کہ تھیٹومس کے بڑے بھاءی کانام وبننیسو ( Webensenu) تھا۔ غالبأ ویبنیسو وہ تھا جو کہ دسویں آفت میں ہلاک ہوا تھا اور اسے شاہی مقربے میں دفنایا گیا تھا۔ ایمنوہوٹپ ( amenhotep) کا دوسرا بیٹا کہیم وسیٹ ( Khaemwaste) تھا جو شادی کرانے سے پہلے ہی مرگیا تھا۔ جیسے کے کیئزر( Kaiser) کہتا ہے پس جب سیفنیکس سٹیل ( sphinix stele) پہلوٹھے بیٹے کی موت کا کوئی براراست ثبوت نہ لا سکا، بہت سے ماہرین مصر خروج کی ابتدائی تاریخ اور روشن حقائق کے ثبوت لایئں ہیں جو اس بات کو سہارا دیتے ہیں کہ یقینأ تھیٹومسکو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اسکا باپ بادشاہت میں کامیاب نہیں ہوگا۔
(۴)ایم ٹی سینائی ( mt Sinai) کے غار کے قریب مصری اور عبرانی مکس لکھایئاں دریا کا دوحصوں میں تقسیم ہونا، موسیٰ اور تیتر کو پکڑنے کو بیان کرتیں ہیں۔ سب سے اہم اور دلچسپ بات اس پر لکھی ہوئی زبان جو کہ مصری اورعبرانی زبانوں کا آمیزہ ہے۔ تاریخ دان ڈاؤڈورس سکیولس( Diodorus siculus) بھی اس زبان کو جانتا تھا۔ سینا کے مقام پعر تابنے کی کان دہانے پر سیکنڑوں کی تعداد میں نقش موجود ہے۔ ان میں سے بہت سے مصری طرز تحریر کے حروف تھے لیکن ان میں ۴۰ نقش پندرھویں صدی b.cمیں موجود انتدائی حروف۔ کے طرح کے تھے تاہم یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ شواہد بھی قابل بحث ہیں کیونکہ یہاں کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے یہ بتایا جا سکے کہ کب کب لکھی گئں تھیں۔
(۳)مصری فوج جسکو اس وقت دوسرے درجے کی حثیت حاصل تھی جھنوں نے کنعان کے شہر پر قبضجہ کیا، وہ حیرت انگریز طور پر وہاں سے غائب تھی ہم نے فرعون سیٹی ( seti) کے دور حکومت تک مصری فوج کے بارے میں بہت زیادہ نہ سنا جس نے ۱۳۰۰ (b.c) میں ہازر( Hazor) کو تباہ وبرباد کیا تھا۔
(۲)جیٹیکومیں برینٹ۔ جی۔ وڈ ( brynat.G.wood) کو بہت سی مضبوط دیواریں اور بہت زیادہ مقدار میں غلہ ملا ( مطلب چھوٹا سا مخاصرہ) اور کسی قسم کی لوٹ مار نہ تھی ( تا ہم غلہ بھی وہی موجود تھا) جان گارسٹنگ ( john garstang) ان میں سے ایک تھا جسکو وافر مقدار میں جلا ہوا غلہ ملا۔ ہارڈسینگ آف دی بابئل کے صفحہ نمبر ۱۸۲ تا ۱۸۳ ایک زلزے کے جسکی ریکٹراسکیل پر مقدار ۸ تھی جسکی وجہ سےاس دیوار میں شگاف پڑ گئے۔ اندرونی مٹی کی دیوار بیرونی پتھریلی دیوار پر گر گئی، جسکی وجہ سے حملہ کرنے کاایک موزوں راستہ بن گیا۔ یہ قبضہ کب ہوا؟ سیئپرسcyprus) ) سے جو مٹی کے برتن لائے گئے وہ ۱۴۰۰۔۱۴۵۰b.c کے درمیانی وقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یوشع کے زمانے تک مصری تعویز موجودہ فرعون کے نام سے کندہ کیئے ہوتے تھے۔ ابتدائی صدی میں جان گارسنگ نے یوشع کے زمانے میں دیوار کی تاریخ کو بھلا دیا لیکن کیتھلین کینوں katheen Kenyon) ) نے گارسنگ کی غلطی کو ویلکف بابئل ڈکشنری صفحہ نمبر ۵۷۵ کے مطابق ثابت کیا۔ کاربن ۱۴ کے دورانیہ ۱۴۱۰ ۴۰b.c میں ۴۰ سال تک تباہی کا باعث بنے +/-۔
جیسے کہ کنعان میں کافی شہر تباہ و برباد ہوئے تھے جوشع صرف یہ کہتا ہے کہ مندرجہ ذیل شہر تباہ و برباد ہوئے تھے۔ دیبائر، ایگلون، ہازور، ہیبرون ،جیئریکو، لیکش، لیبینا، میکدیہی اور ایی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس وقت مندرجہ ذیل شہر تباہ و برباد ہوئے تھے ارڈ، دیبائر، ہازور، ایل، خلیل کا علاقہ (ہیبرون) جیئریکو، لیکش بیٹین کا علاقہ ( بیتھل؟) گیٹبون کا شہر خیریت کے علاقے چھوڑ دیئے گئے تھے۔ شائد ایی کے شہر کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا گیا تھا کہ وہ علاقہ کبھی بھی پایا نہیں گیا تھا۔ کس نے ان شہروں کو تباہ وبرباد کیا؟ اسیمرانہ کی دستاویزات ہمیں یہ بات بہت وضاحت سے بتاتی ہیں۔ یہ وہ خطوط تھے جوکہ کنعان سے مصری فرعون کو ۱۴۰۰ تا ۱۵۰۰ b.c میں لکھے گئے تھے اس میں انھوں نے کے خوف کو بیان کیا گیا ہے ۔ بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمیں سکم کے بادشاہ لیب ایو labayu)) کا ذکر بھی ملتا ہے جو کہ ایک باغی تھاس کیونکہ وہ ہیبئرؤ حملہ کرنے والوں کے ساتھ متخدہ ریاستوں میں تھا۔ سڑیل کے فرعون میرینپئا (b.c ۱۲۲۵) نے بھی بعد میں لوگوں کا ذکر کیا ہے جنکو شمالی کنعان میں اسریئل کہا گیا۔جویلئین افریقن (جو لکھتے ہیں ۲۳۵ تا ۴۵۲) سے الگ ہوتے ہیں جو خروج کے متعلق لکھتا ہے۔ پولیمو( polemo) شائد اپنی پہلی کتاب یونانی تاریخ میں کہتا ہے ایپوس کے وقت میں فرعونوں کے بیٹے مصری تقسیم شسدہ فوج مصر کو چھوڑ گئی اور فلسیطن میں جاکر بس گئی جسکو اب شام کہتے ہیں جو عرب سے پہلے بہت زیادہ دور نہیں ہے یہ ان کے شواہد ہیں جو موسیٰ اور ایپوں کے بیٹے اوسیڈیس poseidonius جو کہ زبان کی گرائمر سے خوبواقف تھا وہ اپنی کتاب یہودیوں کے خلاف اور تاریخ کی چوتھی کتاب میں کہتا ہے کہ اینکسinachus) ) کے زمانے میں آرگوں کا بادشاہ جب ایموس ( Amosis)نے مصر پر قبضہ کر لیا تب یہودی موسیٰ کی قیادت میں مصر سے بغاوت کر گئے ۔ ہیروڈوئس بھی یہودیوں کی اس بغاوت کا ذکر کرتا ہے، اور ایموسس( Amosis) اپنی دوسری کتاب میں یقینی طور پر یہودیوں کو ان لوگوں میں شمار کرتا ہے۔ جنکا ختنہ کیا گیا تھا شائد ابراہیم کے ذریعے اور انکو فلسیطن کا آشوریا کہا گیا۔ اینڈ پوٹولیمی مینڈیسین بھی ان ہی تمام چیزوں کو شمار کرتے ہوئے مصری ابتدائی تاریخ بیان کرتا اس لیئے واقعہ نگاری کے لحاظ سے ان کو کوئی اہم اور قابل ذکر فرق نہیں پایا جاتا۔ دی اینٹی ناٹسن فادرس والیوم ۶ جولیسن افریقن مریگمنٹس ۱۲۴۔p ۱۳۔
ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا کہ تنقیدی مفکر آثار قدیمہ سے لا علم تھے۔ مثال کے طور پر ماہرین آثار قدیمہ نے ۱۸۹۲ مہں حتیوں کو دریافت کیا۔ تاہم کچھ مفکر ابھی بھی شبہمیں ہیں کہ حتیوں کا وجود دس بعد تھا( ای۔ اے۔ ڈبلیوبج،۱۹۰۲)
نتجہ۔ لہروں کے مخالف تیراکی کرنا بہت مثکل ہوتا ہے جبکہ یہ شک پر منبی نظریہ حقائق کے سمندر میں غوط نیشن ہے۔ پس آج آثار قدیمہ کے بابئل کے دستاویزات بابئل کے قابل اعتبار ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بابئل بہت سے چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو ظاہر کرنے میں درست ہے اور جو یہ خود ظاہر کرسکتی ہے۔ اسے بھی ہمیں درست تسلیم کرنا چاہیے۔ خداوند کا ہم سے رابظ
اسرایئلوں کی مص میں آثار قدیمہ کی دلچسپ معلومات کے ذریعے یہ ہیں۔ دی انسکلوپیڈیا برٹینکا، کین آرکیالوجی پرو دی اولڈ ٹیٹمنٹ؟ جو ریلف او منیکئسرنے لکھی، انسکلوپیڈیا آف بابئل ڈیفکلٹیس جو گیلسون آرکر( زونڈ روین ) نے لکھی، ایوڈینس فار فیتھھ جو جان وروک مونٹوگیمری نے لکھی دی نیو انٹرنیشنل ڈکشنری آف دی بابئل جو کہ ڈوگیلس، جے ۔ڈی، اور میرلیسی۔ ٹینی، نے لکھی۔ ۷۳۵ بیفلنگ بابئل سوال وجواب صفحہ نمبر ۵۳ دی نیوایوڈینس ڈیٹ ڈیمانڈ اے ورڈکٹ بائے جوش میک ڈول اور بیلکل آرکیالوجی ریویو۔
سوال: ضروج باب ۱ آیت ۸ تا ۱۰ ہم سے کہتی ہے اور جیسے کہ ایک بے دین انسان دعوی سے یہ بات کرتا ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ مصریوں نے اپنے تمام شہر اور یادگار نشان خود رعمیر کیئے جو ابھی بھی قائم مقام ہیں؟
جواب: نہیں بالکل نہیں۔ اس سوال کے جواب کے لیئے پچھلا سوال ملا خط فرممایئں۔
سوال : خروج باب ۱ آیت ۸ تا ۱۰ میں کہ خداوند اپنے لوگوں کو ظلم کرنے کی اجازت کیوں دیتا ہے؟
جواب: خداوند بعض اوقات اپنے لوگوں پر مختلف وجوہات کے سبب دباتا ہے۔ نظمو ضبط (انصاف) اور وہ لوگ جو کہنا نہیں مانتے ان پچھوڑنا، جیسے کہ ملک بدر کردینا وغیرہ۔ ہم ایسا سوچ سکتے ہیں۔ لیکن صورت حال میں بابئل وضاحت سے کچھ نہیں کہتی فرض کریں کہ وہ لوگ جو معمار ہیں اور انھیں اس کام کا صحیح معادضہ مل رہا ہے اور ان سے اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ جب موسیٰ منظر عام پر آیا اور خداوند اس ان کی رہائی کا کہتا ہے۔ اگر فرعون ان کے ساتھھ دوستانہ تعلق رکھتا تھا تو اس صورت حال میں وہ موسیٰ کی پیروی کیوں کریں گے؟
حتیٰ کہ آزاد علاقہ کا وعدہ بہترین ہوسکتا ہے اور بہت سے اس آرام دہ زندگی کو چھوڑنا نہ چاہتے ہوں ۔ فرض ان میں سے کچھ اپنا سامونب بندہ کر اپنا گھر بار چھوڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں، اور جبکہ وہ اب صرف آرام دہ زندگی گزارتے آیئں ہیں اور اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ وہ اس خشک صحرا میں کسطرح زندہ رہ سکتے ہیں فرض کریں کہ صحرا میں کوئی نہ تھا اور وہ اپنے پانی اور خوراک کے لیئے خداوند پر بھروسہ کریں گئے اور جب وہ بہت آرام طلبی کی زندگی گزار رہے تھے تب وہ کسی بھی چیز کے لیئے خداوند پر یقین نہیں کرسکتے پس ہم کماز کم کچھ وجوہات دے سکتے ہیں کہ خداوند اپنے لوگوں کو تکلیفیں کلیوں دیتا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں کو اس بیابان میں بہت سی شکایات تھیں کچھ واپس مصر جانا چاہتے تھے اور کچھ موسیٰ کے مقام کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ہم ایسا سننا پسند نہیں کرتے ، لیکن بعض اوقات خداوند ہمیں تکلیفیں دیتا ہے اس سے پہلے کہ ہم جایئں اور وہ کریں جو خداوند ہم سے کروانا چاہتا ہے۔
سوال: خروج باب ۱ آیت ۱۱ ہم سے کہتی ہے کہ بابئل کے علاوہ ہم مصری غلاموں کے آقاؤں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
جواب: مصری لفظ ser سر ریکمائر ( rekhmire) کے تھیبس مقربے کی دیورا پر موجود مصوری کا اصطلاحی مطلب ہے۔ جو کہ ان لوگوں کی نگرانی کرتا تھاجو تھیوٹومس iii کے لیئے اینٹیں بناتے تھے۔ دیوار پر ایسی تصویر دیکھائی گئی ہے جس میں غلاموں کا اقا ان پر چابک ماررہا ہے۔ مصری طرز لکھائی بہت دلچسپ ہے۔ جس میں زرافے کا سرا اور گردن ہوتی ہے۔
سول: خروج باب ۱ آیت ۱۱ میں ہے کہ اسرایئلوں نے ذخیرہ کرنے کے لیئے شہر کیوں تعمیر کیئے؟
جواب: اس لفظ کا ترجمہ اگر اسطرح کیا جائے کہ باہم مہیا کرنے والے شہر یا جمع کرنے والے شہر تو زیادہ بہتر ہے۔ وہ ذخیرہ سونا یا چاندی کا نہیں بلکہ غلے اور دوسری خوراک کا تھا۔ خوراک بہم پہچانے والے شہر مصر کے مشرق میں موجود تھے اور وہ ان فوجی دستوں کو خوراک پہنچاتے تھے جو جنگی مہیم کے لیءے فلیسطن اور شام جاتے تھے
سوال: خروج باب۱ آیت ۱۱ ہم سے کہتی ہے کہ پتوم اور رعمیسیس کے شہر کہاں واقع تھے؟
جواب: پتوم (دیوتا ااوٹیم کا گھر) جو نیل کے ڈیلٹاس کے مشرقی جانب وادی تومیلت میں واقع تھا۔ یہ زوال پذیر ٹیل۔ ار۔ ریجی یاٹیل۔ ایل مسکوٹا ہوسکتا ہے جو مشرق سے ۸ تا ۹ میل موجود تھا ٹیل ۔ایل۔ مسکوٹا کے مقام پر جو اینٹیں پایئں گیئں وہ گھاس پھوس کی نہیں تھیں توریت کے یونانی متن کی روسے یہ شہر on آن جیسا شہر ہوسکتا ہے یا ہیلیوپولس۔ رعمیسیس کے شہر کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تبنیس/ زون( tahis/zoan) میں واقع تھا۔ بابلیکل آرکیالوجیسٹ ریویو والیوم۷ میں ( ستمبر۔اکتوبر ۱۹۸۱ ) میں ہنس گوڈایک ( hans goedicke) کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قنیطر( qantir) کے قریب واقع ہے۔ یہاں شامی فلسیطنی شواہد بھی ہیں جو ۱۵۰۰ تا ۱۷۰۰b.c رہے۔
سوال: خروج باب ۱آیت ۱۱ ہم سے کہتی ہے کہ فرعون کی اصطلاح کہا ں سے اخز کی گئی؟
جواب: الفاظ کے مطلب وقت کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ۲۰۰۰ سے ۲۵۰۰b.c تک فرعون کا اصلی مطلب بہت بڑے گھر کا تھا( جگہیں ) لیکن آہستہ آہستہ اسکا مطلب مصر کا بادشاہ ہوگیا جو اس گھر میں رہتا تھا۔
سوال: پیدائش باب ۱ آیت ۱۵ ہم سے کہتی کہ دوعبرانی دایئاں بہت سارے پیدا ہونے والے بچوں کی حفاظت کیسے کر سکتی ہیں؟
جواب: وہ ہر پیدائش میں مشغول نہیں ہو جاتی تھیں بلکہ وہ دوسروں کی صرف نگرانی کرتی تھیں ۔ بہت ھنرمندی سے نگرانی کرنے کی وجہ سے مصری معاشرے اسکا پابند ہو گیا تھا۔
سوال: خروج باب۱آیت ۱۵ تا ۱۹ ہم سے کہتی ہے کہ کیا بابئل کے علاوہ بھی ہمیں سفرہ اور فوہ کے ناموں کے کوئی شواہد ملتے ہیں؟
جواب: مجھے سفرہ کے بارے میں کسی ثبوت کا علم نہیں ہے ۔ لیکن ایک مصری پائپرس جو بروکلائن عجائب گھر میں موجود ہے۔ ( ۱۴۴۶۔۳۵) جو تقریبا ۱۵۴۰b.c کے لگ بھگ لکھا گیا اس میں سفرہ کے نام کا ذکر ملتا ہے یہ اس سفرہ سے سوسال پہلے رہتی تھی جسکا ذکر خروج میں ملتا ہے۔
سوال: خروج باب ۱آیت ۱۶ تا ۱۹ ہم سے کہتی ہے کہخداوند کیسے کیسے عبرانی دایئوں سفرہ اور فوہ کو برکت دے سکتا ہے جبکے انھوں نے فرعون سے جھوٹ بولا تھا؟
جواب: مسیحی مختلف قسم کے جواب دیتے ہیں۔
(۱)بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ خداوند نے ان پر برکت ان کے ایمان کی وجہ سے کی کیونکہ صحیح بات کے سامنے ڈٹی رہیں اور اسلیءے خداوند نے ان کا جھوٹ معاف کردیا۔ (تب ےک دس احکامات نہیں دیئے گئےتھے)
دوسرے کہتے ہیں کہ ایمان والوں کو زندگی اور موت کی صورت حال کے پیش نظر ظالم لوگوں کو سچ نہیں بتانا چاہیئے کیونکہ وہ اسکے قابل نہیں ہوتے۔
سفرہ اور فوہ خود ذاتی طور پر بچے نہیں پیدا کرواتی تھیں غالبأ وہ دایئوں کی اس فوج کی نگرانی کرتی تھیں جو یہ کام کرتی تھیں ۔ وہ دایئاں جو سفرہ اور فواہ کے زیر تحت کام کرتی تھیں وہ ہوسکتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتی تھیں یا جان باجھ کر دیر سے آتی تھیں۔
سوال: خروج باب ۱ آیت ۱۶ ہم سے کہتی ہے کہ وہ اسرایئل کے تمام لڑکوں کو مارنا چاہتا تھا حالانکہ وہ اس سے پہلے اچھے غلام بنا چکا تھا؟
جواب: غالبأ مصریوں کی کل آبادی ۱۔۴ ملین تھی( ملین+/-) ۔
ان کو اس خطرے سے اگاہ کرنا چاہتا تھا کہ اسرایئلوں کی شرح پیدائش مصریوں سے زیادہ تھی اور تقریبأ ۲ ملین کے لگ بھگ تھی۔ جیسے کہ ایک طرف فرعون نے تمام عبرانی لڑکوں کو ماردینے کا کہا تھا۔ خداوند طنزیہ طور پر اسکے گھر میں ہی ایک لڑکے کو پروان چڑھانا چاہتا تھا۔
سوال: خروج باب ۱آیت ۱۶ کہ موسیٰ اس خطرے میں کیوں تھا کہ فرعون اسے مار ڈالے گا، جبکہ اس کے بھائی ہارون کا باظاہر ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا؟
جواب: اے ہسڑی آف اسرایئل کے صفحہ نمبر ۸۹ میں والٹ کیئزر کے مطابق اگر موسیٰ ۱۵۲۶ میں پیدا ہوا تھا ( خروج سے ۸۰ سال پہلے) تو ممکن ہے کہ موسیٰ تھیٹومس I کے دور حکومت کے پہلے سال پیدا ہوا ہو، اور باظاہر اسی فرعون نے یہ فرمان جاری کیا تھا۔ ایک طرف یہ بھی ممکن ہوسکتا ہےکہ یہ فرعون تھیٹومس iii (۱۵۱۲تا ۱۵۲۶b.c) تھا جو مصریوں کو مارنے کے بعد موسیٰ کا مارنا چاہتا تھا۔ کوئی فرعون اتنے لمبے عرصے نہ رہا، یاتو خروج کے اعداوشمار درست ہیں۔ یا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی زمانی مطابقت ہوسکتی ہے کہ صرف فرعون اتنے عرصہ رہا اور اسی دوران اس نے بادشاہی کی۔
سوال: خروج باب ۱ آیت ۱۷ ہم سے کہتی ہے کہ کیا ایمان والوں کو خداوند کاخوف ہونا چاہیے؟
جواب جی ہاں خروج باب ۹ آیت ۳۰ کے جواب کا دوسرا حصہ دیکھیں ۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۱ ہم سے کہتی ہے کہ موسیٰ کا ٹوکری والا واقعہ سارگون کی کہانی کسطرح ایک جیسی ہوسکتی ہے؟
جواب: داستان کے مطابق آکاد (Akkad) کے سارگون کو (b.c ۲۲۷۹۔۲۳۵۵c.) میں نرسل سے بنی ہوئی ٹوکری میں تارکول سے دھانپ کر دریا میں چھوڑ دیا گیا۔ آمائی جو کہ باغبان تھا اس نے اسکو بچایا اور اسکی اپنے بیٹے کی طرح پرورش کی۔ تاہم موسیٰ کی ماں نے بھی بادشاہ کے قانون کی وجہ سے ایسا ہی کیا کیونکہ وہ اسکو خود چھوڑ نہیں سکتی تھی اس لیئے اس نے مریم کو موسیٰ کو دیکھینے کے لیئے بھیجا۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۳ ہم سے کہتی ہے کہ اگر خداوند موسیٰ سے محبت کرتا تھا تو اس نے اسکو کھلا ہوا مگرمچھوں میں اور ڈوب جانے کے خطرے میں کیوں رکھا؟
جواب: خداوند تمام چیزوں کو دیکھتا ہے اور یہ ایک یقینی بات ہے کہ خداوند کچھ چیزوں کو اسطر
ح نہیں دیکھتا جسطرح ہم دیکھتے ہیں۔ خداتعالیٰ جو کہ سب سے طاقتور اور اسکو اتنا یقین تھا کہ موسیٰ بچ جائے گا۔ اگر ہم ایک بہت ہولناک سیلاب کے درمیان میں ہوتو ہمارے لیے سب سے زیادہ محفوظ جگہ خداوند کی خواہش کا مرکزی نقط ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ عملی تجربات نے موسیٰ کی مدد کی ہوگی اور وہ ایک مخصوص مقصد کے لیے بچایا گیا تھا۔ دوسرے یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اگر خداوند موسیٰ کو بچا سکتا ہے تو وہ ہمیں بھی بچا سکتا ہے۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۵ ہم سے کہتی ہے کہ فرعون کی بیٹی نیل میں نہانے کے لیئے کیوں گئی اور مگرمچھ کی کیا بات ہے؟
جواب: آج کل شمالی آسان (Aswan) میں مگرمچھھ نہیں پائے جاتے ، لیکن قدیم زمانے میں شمالی حصے میں پائے جاتے تھے جیسے کہ میمفس(meonphis)میں ہوسکتا ہے کہ شہزادی شمالی طرف کے دیٹا حصے مین نہانا چاہتی ہو ( جہاں عبرانی رہتے تھے) وہاں مگرمچھھ بالکل نہین تھے غالبأ ایسا ہو سکتا ہے کہ فروری نہیں کہ فرعون کی بیٹی نیل کی مرکزی جھیل میں نہائی ہو بلکہ اس نے دریا کے اس حصے میں غسل لیا ہو جہاں جھیل کا دھارا گرتا ہے۔ یہ غسل ایک عام صفائی کے لیئے نہیں تھا نلکہ رسمی پاکیزگی کے لیئے تھا۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۱۰ ہم سے لہتی ہے کہ موسیٰ عبرانی نام ہے یا مصری؟
جواب: موسیٰ کا نام ایک غیر معمولی اہمیت کا حمل ہے کیونکہ یہ دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔ عبرانی میں ( moseheh) موسیس (masah) مسح سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے نکالا ہوا مصری زبان میں فصل mes/ms کا مطلب ہے باہر نکالا ہوا پیدا یا (جیسے اور دیوتا) پیدا ہوا۔ دی ایکسپوزرس بابئل کمنسڑی کے صفحہ نمبر ۳۱۰ کے مطابق قوائد کی روسے پرانے مصری اسم کی تکیمل کرنا ۔ تھموس تھیٹومس، اہموس اور ریموس میں ( ms) مشترک آخری لفظ مس (ms) ہے ۔ مصری نام (ms) مس کا مطلب ایک بچہ یا بیٹا ہو سکتا ہے۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۱۴ ،۱۵ ہم سے کہتی ہے کہ موسیٰ نے مصر بادشاہ کے غصے سے خوف زدہ ہو کر چھوڑا عبرانی باب ۱۱ آیت ۲۷ کے مطابق موسیٰ نے بادشاہ کے غصے سے خوف زدہ ہوکر مصر نہیں چھوڑا؟
جواب: خروج باب ۲ آیت ۱۴،۱۵، کے مطابق جب موسیٰ ۴۰ سال کا تھا تب اس نے بادشاہ کے غصے سے خوف زدہ ہوکر مصر چھوڑا۔ خروج باب ۱۳ تا ۱۴ کے مطابق جب وہ ۸۰ سال کا تھا تب موسیٰ نے دوسری مرتبہ بادشاہ کے غصے سے خوف زدہ ہوکر مصر نہیں چھوڑا اور عبرانی باب ۱۱ آیت ۲۷ دوسری بار کے واقع کو بیان کرتی ہے۔ موسیٰ دوسری بار اس خوف کا سامنا کرنے کے لیے مصر سے گیا، لیکن اس دفعہ وہ جانتا تھا کہ اسکو ایک مقصد کی تکمیل کرنی تھی اور اس کے لیے خداوند اسکی حفاظت کرے گا۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۱۸ ہم سے کہتی ہے کہ موسیٰ کے خسر کا نام رعوایل کیسے ہوسکتا ہے، جبکے خروج باب ۳ آیت ۱ اور باب ۴ آیت ۱۸ کے مطابق اسکا نام یترو تھا؟
جواب: میرے نہیں خیال کہ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ میرے خسر کے بھی دو ایسے نام ہیں جو آہس میں نہیں ملتے۔ ( چائینز اور انگلش میں) غالبأ اس لحاظ سے بھییہ غیر معمولی بات نہیں ہے کہ ابراہام / ابراہیم ، ساری/ سارہ، یعقوب/اسرایئل /benone بنمین یوسف/ zaphenath.paneah
Gideon/jerubbal,Hoshea/Joshua
Hananiah/shadrach
Moshael/Meshach
اورAzariah/Abednego
Daniel/Belteshazzar
اکثر لوگوں کے مختلف زبان میں مختلف نام ہوتے ہیں۔ اور باظاہر بعد وہ ان ناموں سے بھی زیادہ عام نام اختیار کرلیتے ہیں۔ جیسے کہ Gideon/jerubbaal اورHashea/joshuaآپ کو یہ بتا سکتے ہیں اے ہسٹری آف اسرایئل کے صفحہ نمبر ۹۲ میں والٹ کیئرز اسے صورت حال کے مطابق یوگریٹک ٹیکسٹ بک جو کہ سائرس۔ ایچ۔ گورڈون(۱۹۶۵) مین لکھی کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یترو کا لفظ یوگریٹک زبان میں پایا جاتا تھا۔ رعوایل کا مطلب دوست یا خداوند کا چراوساہا کے ہیں۔ دوسرے تہزہبوں میں بھی ایک آدمی کے مختلف نام ہونا بات تھی۔ مصر میں اوسائرس (osiris)وینیوفر( wennofer)اور کھینت ایمنیو(khent-anetiu) ایک ہی بت کے مختلف نام تھے ۔سبیک۔ کہیو ( sebek-khu) اور ڈجا (djaa) ایک ہی آدمی کے نام تھے ۔ میسوپوٹامیا میں اییکر( Ahigwr) ایک ہی آدمی تھا جیسے کہ آبا انیلل۔ داری ( Abaenlil-dari) اور تیغلت۔ پلاسر ( Tiglath- pileser) پاؤل(pul) ہیں۔ لیٹپی۔ایسٹر ( lipil-lshter) کا قانون ایک دیوتا کو نینمیری(nunamair) اور انیلل کہتے تھے اور ہمیوریپ Hammurapi) ) کے قانون کی رو سے اسے اینان / ایسٹر / تیلتم اور تینیو/ماما کہتے تھے۔ دی بابئل ایکسپوزرس کمنسڑی والیوم ۲ کا صفحہ نمبر ۳۱۳ کہتے ہے کہ ایک آدمی کے دہرے نام عرب ذریعوں سے بھی ملتے ہیں۔ اینینٹ اور نیٹ اینڈ اولڈ ٹیٹمینٹ (I vp1966) کے صفحہ ۱۲۴۔۱۲۱ میں کینتھھ کیچن بیان کرتا ہے کہ دہرے نام کنعان ، پرانا جنوبی عرب ، حرین اور حیتوں میں پائے جاتے تھے۔ جوزف (jesephus) ایک متادل وضاحت بیان کرتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے رعوایل اسکا نام تھا اور یترو اسکا خطاب تھا۔
سوال: خروج باب ۲ آیت ۲۱ تا ۲۲ ہم سے کہتی ہے کہ ہمیں موسیٰ کی طرف کیوں دیکھنا چاہے، جو ( جیسا کہ کہا جاتا ہے ) ایک ناجائز بچہ تھا؟
جواب: مقدس کتاب یہ بالکل نہیں کہتی کہ موسیٰ ایک ناجائز بچہ تھا۔ جبکہ خروج باب ۲ آیت ۲۱ ہم سے کہتی ہے کہ راعویل نے اپنی بیٹی صفورہ موسیٰ کو دے دی، اس نے اپنی بیٹی کو موسیٰ کی بیوی بنایا۔ خروج باب ۴ آیت ۲۰ میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ صفورہ موسیٰٰ کی بیوی تھی اورخروج باب ۴ آیت ۲۵ میں اسکی بیوی نے موسیٰ کو اپنا خونی دولہا ٹھہرایاتھا۔
سوال: خروج باب ۳ آیت ۲ ہم سے کہتی ہے کہ جلتی ہوئی جھاڑیوں میں خداوند کا حقیقی فرشتہ کون تھا؟
جواب: لفظ فرشتے کا مطلب پیغامبر کے ہیں۔ یہاں تین امکانات ہیں آیئں ان سب ا مطالعہ کرتے ہیں۔
ایک اچھا فرشتہ جسکو خداوند تخیلق کیا۔
خروج باب ۳ آیت ۲ ہم سے لہتی ہے خداوند کا فرشتہ تاہم موسیٰ نے وہاں اپنے جوتے کیوں اتارے کیونکہ خروج باب ۳ آیت ۶ کے مطابق وہ مقدس زمین تھی؟
خداوند تثلیث یا باپ
پھر اس نے کہا میں تیرے باپ کاخدا یعنی ابراہام کا اضحاق کا اور یعقوب کا خداہوں پرانے عہد نامے مے مطابق خدا کی انسان پر ظہوری کو تھیاضینی کہا گیا ہے۔
یسوع مسیح
ابتدائی کلیسیاء نے اسے یکساں طور پر یسوع کی ظہوری سمجھا ہے خداوند کے الفاظ اسکے زمین پر تجسم سے پہلے یسوع کہہ سکتا ہے کہ میںح خدا ہوں ۔۔۔ اور یسوع اپنے آپ کو پیغامبر کہہ سکتا ہے یا خدا باپ کے الفاظ پرانے عہد نامے میں خداوند کے بیٹے کی اسطرح کی ظہوری کو کرسیٹوضینی کہا گیا ہے۔
سوال: خروج باب ۳ آیت ۸ ہم سے کہتی ہے کہ حتیٰ موسیٰ اور یوشع کے زمانے میں فلسیطن میں کیسے ہو سکتے ہیں؟
جواب: اسکے جواب کے لیے پیدائش ۲۳ کے بیابات ملا خط فرمایئں ۔
سوال: خروج باپ ۳ آیت ۸ ،۱۷ اور یوشع باب ۲۵ آیت ۶ ۶ میں کنعان کو دودھ اور شہد کی زمین کیوں کہا گیا ہے؟ اسرایئل کے چرواہوں کے لیے اس زمین کے پہاڑ اور وادیاں سرسبز تھیں جو مویشوں کے لیے اچھا کھانا اور شہد مکھیوں کے لیے پھول مہیا کرتے تھے۔
سوال: خروج باب ۳ آیت ۱۰ اور خروج باب ۶ آیت ۱۰ تا ۱۳ کے مطابق خداوند نے موسیٰ کو مدیان میں پکارا یا مصر میں؟
جواب: پہلی دفعہ موسیٰ کو خداوند نے مدیان مین پکارا جب موسیٰ مصر واپس گیا تو اسے اس بات کے بارے میں شک گزرا اور خداوند نے مصر میں موسیٰ کو بلاکر مدد بہم پہنچائی ۔ آج بھی بعض اوقات لوگوں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ویہ جانتے ہیں کیا ہوتا ہے اور وہ سچ بھی ہوتا ہے۔
سوال: خروج باب ۳ آیت ۱۸ ہم سے کہتی ہے کہ کیا موسیٰ نے فرعون کو دھوکہ دیا تھا جب اس نے تین دن کے سفر کی اجازت مانگی اپنے خداوند خدا کی قربانی لے لیے؟
جواب: نہیں اس لے لیے چھ نکات فرض کیے جا سکتے ہیں پھر ایک معقول وجہ دی جاے گی کیوں ۔
(۱) خداوند نے کیا وہ ہمیشہ ہمیشہ لے لیے اسرایئل کو وہاں سے لے جائے گا خروج باب ۳ آیت ۱۳) اور بتدریج خداوند نے ایسا کیا
(۲) یہ موسیٰ کا اپنا فیصلہ نہیں تھا بلکہ خداوند نے اسے اسکا حکم دیا تھا، اس وقت موسیٰ فرعون سے مصر کو چھوڑنے کی اجازت کی بجائے صرفتین دن کے سفر کی اجازت مانگے گا( خروج باب ۳ آیت ۱۸)
(۳) خداوند یقینی طور پر جانتا تھا اور اس نے موسیٰ کو بتایا تھا کہ فرعون کمازکم اسک بھی اجازت نہیں دے گا(خروج باب ۳ آیت۹)
(۴)اگر یہ کہنا فرض کر لیا جائے کہ اگر فرعون اس درخواست کو مان بھی لیتا تب بھی ایسے کوئی آثار نہیں ملتے جو یہ ظاہر کرتے ہو کہ وہ فرعون کو دھوکہ دے گا اور واپس نہیں آئے گا۔
(۵) اگر یہ بات فرضی طور پر بولی جائے کہ اگر وہ چلے گئے اور واپس نہ آئے تب بھی وہ دوبارہ مستقل طور پر مصر کو چھوڑنے کی بات کے بارے میں درخواست سے بچ نہیں سکتے تھے۔
(0) اس معاملے پر خاموش رہنے کا مطلب کہ جھوٹ نہیں ہے ۔ مخصوص طریقے سے چھوٹی درخواست کو کہنا اور بڑی درخواست کے لیے خاموش رہنا جسکا تم بعد میں سوال کرؤ گے جھوٹ نہیں ہے۔ خداوند نے پہلے موسیٰ کو چھوٹی درخواست پیش کرنے کا کیوں کہا؟ غالبأ اسکا مطلب دھوکہ یا فریب نہیں ہیں بلکہ گزت افزائی ہے۔ خداوند فرعون اور مصریوں کو اس چھوٹی درخواست کو ماننے کا موقع دینا چاہتے تھے اور آہستہ آہستہ اس ترکیب کو اسرایئل کے جانے میں رکاوٹ کے چور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ تاہم اسیوقت خداوند یقینی چور پر فرعون کی آزادانہ معرفیت کے نتجیے کو جانتا تھا اور اس لیے خداوند نے فرعون کو ایک موقع دیا آج بھی خداوند نجات کے لیے حیرت انگیز مواقع فراہم کرتا ہے لیکن خداوند پہلے سے ہی ہر کسی کے آزاد معرفت کے نتجیے کو جانتا ہے۔
سوال: خروج باب ۳ آیت ۲۲ اور خروج باب ۱۲ آیت ۳۳ تا ۳۶ ہم سے کہتی ہے کہ خداوند کیسے اسرایئلوں کو مصریوں سے چیزیں مانگنے کا کہہ سکتا تھا؟
جواب: عبرانی لفظ (sa,al) سال کا مطلب کہنے کے ہیں ادھار کے نہیں اس سوال کے جواب کے لیے تین نکات فرض لیے جاسکتے ہیں۔
دھوکہ فریب نہیں۔
مصری جانتے تھے کہ اسرایئلی جاتے ہوئے اپنے ساتھھ یہ چیزیں رلھنا چاہتے تھے۔ خروج باب ۲ آیت ۶۔۔۔۔۔۔۳۱ دی ایکسپوزر بابئل کمنڑی وایلوم ۲ صفحہ نمبر ۳۲۴ کہتی ہے کہ لوٹ مار کے لیے عبرانی لفظ جو مخصوص طور پر نہ نہیں کہتی کہ اسکا مطلب چوری کرنے فریب یا دھوکے کے نہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جن دنوں زبان اتنی جانی پہچانی نہیں ان دنوں کی بدترین متراجم کے اثرات کی وجہ سے اسے قومی قرض ادھار یا جیسے کہ آج عقلی تعصب کی وجہ سے اسے ادھار سمجھا گیا ہے۔
زبردستی نہیں۔
خروج باب ۱۲ آیت ۳۳ کے مطابق مصری اپنی خوشی سے انھیں چیزیں رہے تھے اور خود انھیں مصر چھوڑنے پر مجبور کررہے تھے۔
کوئی ناانصافی۔
وہ تمام چیزیں مصریوں کی طرف سے اسرایئل کو ۴۰۰ سال تک غلام بنانے اور طفل کشی کرنے کا ہرجانہ تھیں یہ نظریہ اور پہلے دوبالواسط یہ بیان نیر ٹیولین نے اگینسٹ مرکسبک ۲ کے باب نمبر ۲۱ کے صفحہ نمبر ۳۱۳ تا ۳۱۴ میں بیان کیا ہے جسے ۲۰۸/ ۲۰۷b.d میں لکھا گیا یہ جواب آرینیس ( جسکو ۱۸۲۔۱۸۸a.b) میں آگینٹ ہیرسس بک ۵ باب ۳۰ آیت ۲ میں لکھا گیا۔
خلاصہ۔ اسرایئلوں نے ان سے درخواست کی اور مصریوں کو اب ان سے ہمدردی ہو چکی تھی اسلیے انھوں نے انکی یہ درخواست مان لی۔
سوال: خروج باب ۳ آیت ۲۲ اور خروج باب ۱۲ آیت ۳۳ تا ۳۶ ہم سے کہتی ہے کہ خداوند اسرایئلوں کو کیسے( جیسے کہ کہا جاتا ہے) بد دیانتی اور چوری کرنے کا کہہ سکتا؟ (ایک بے دین یہ سوال پاچھتا ہے)
جواب: کیا تم ہمیشہ کسی چیز کا سوال کرتے ہو؟ اگر ایسا ہے تو کیا یہ تمھیں چور بنادے گا؟ یقینأ نہیں یہ ایک ایسی ہی احمقانہ بات ہے۔
(۱)مصری جانتے تھے کہ اسرایئلی مصر چھوڑ کر جارہے ہیں۔ خروج باب ۱۲ آیت ۳۳ کے مطابق مصری اسرایلئلوں سے خود کہہ رہے کہ وہ جلدازجلد مصر کو چھوڑ دیں۔
(۲)اسرایئلوں نے مصریوں سے ان چیزوں کا سوال کیا تھا (خروج باب ۱۲ آیت ۳۵ تا ۳۶)
مصری خود بخود اسرایئلوں کی طرف مائل ہوگے اور جو چیزیں انھوں نے مانگیں ادھار نہیں انھیں دے دیں (خروج باب ۳ آیت ۲۲ ، باب ۲۱ آیت ۳۶)
جیسے کہ پچھلے جواب میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ دی ایکسپوزرس بابئل کمنڑی وایلوم ۲ صفحہ نمبر ۳۲۴ ہم سے کہتی ہے کہ لوٹ مار کے لیے عبرانی لفظ ہے جو خصوصی طور پر یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اسکا مطلب چوری دھوکہ یا فریب کے ہیں۔
سوال: خروج باب ۴ ہم سے کہتا ہے کہ جیسے کہ موسیٰ نے خداوند کی پکار کا جواب دیا تو ہم اس سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں؟
جواب: خروج باب ۳ آیت۲) کے مطابق خداوند نے پہلے موسیٰ کو اپنی عجیب وغریب طاقت دیکھائی تب (خروج باب ۴ آیت ۱ تا ۱۳) کے مطابق موسیٰ نے بہانا پیش کیا کہ وہ ایمان والا نہیں اور خداوند نے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ وہ موسیٰ سے کام کروانا چاہتا تھا اور آخرکار خداوند کا قہر موسیٰ پر بھڑکا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خوف بغاوت یا اپنے اندر ایمان کی کمی کی وجہ سے خداوند کی نافرمانی نی کریں بلکہ جب خداوند ہمیں پکاریں تو ہم اسکی تابعداری کریں۔ اس سے پہلے کہ اگر تم خداوند کی پکار کو سن چکے ہو تو یقینأ تم خداوند کے قہر سے نجات حاصل نہ کر پاؤ گئے۔ جب موسیٰ نے کہا کہ وہ اس قابل نہیں ہے تب ہم اسمیں دو قسم کے سچ اور ایک بے اعتقاد جھوٹ کو دیکھتے ہیں۔
(۱)موسیٰ نے سچ کہا تھا غالبأ لوگ ایک اجنبی کی بات پر یقین کرنا نہیں چاہیں گئے اور یہ کہ وہ بولنے میں اتنا صحیح نہیں ہوں۔
(۲)موسیٰ یہ سچائی جانتا تھا کہ وہ قدرتی طور پر اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس مقصد کا کامیابی حاصل کرے گا۔
(0) موسیٰ اس بے اعتقاد جھوٹ پر یقین کرتا تھا کہ خداوند اتنا بڑا نہیں ہے کہ وہ موسیٰ کے اندر کوتاہی کے باوجود اس سے اپنی خواہش کے مطابق کام کرواسکے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اگر تمھارے دل میں بھی ایسا جھوٹا اعتقاد ہے تو تمھیں اسے بے نقاب کرتے ہوئے ہمیں یہ تسیلم کرنا چاہیے کہ یہ خداوند پر جھوٹ ہے اور تمھیں یہ فصیلہ کرنا چاہیے کہ خداوند کی عظمت و برتری تمھاری بدترین کمزوری سے کئی گنا بڑی ہے۔
سوال: خروج باب ۴ آیت۳ تا ۵ ہم سے کہتی ہے کہ کیسے ایک بے جان لاٹھی سانپ بن سکتی ہے؟
جواب: خروج باب ۷ آیت ۱۲ کے مطابق یہ صرف ایک کاری گری نہیں تھی بلکہ وہ سانپ نگل بھی سکتا تھا۔ خداوند کی طاقت ہر قدرتی طبعی حیاتیاتی قوانین سے بڑی ہے۔
سوال: خروج باب ۴ آیت ۱۱ ہم سے کہتی ہے کیا خداوند اسکی اجازت نہیں دیتا لیکن لوگوں کو گونگا بہرا اور اندھا بنا سکتا ہے؟
جواب: ایسا ہے بھی اور نہیں بھی کیونکہ خداوند ہر برائی اور معزوری جو وقوع پزیر ہوتی اسکو جان بوجھ کر ہونے اجازت دیتا ہے۔ اسکے علاوہ بہت دفعہ خداوند ایک مخصوص مقصد کے تحت لوگوں کو ایک طریقے سے بناتا ہے۔ تاہم موسیٰ نے بہت سے معجزات کیے تھے ، تب بھی خداوند نے دونوں کو اسلیے نہیں متخیب کیا کہ وہ کند زبان ( خروج باب آیت ۱۰ تا ۱۳ ،خروج باب ۶ آیت ۱۲ ،۳۰) تھا اور خداوند اسے ٹھیک کردے گا۔ اسطرح ۲ تواریخ باب ۱۲ آیت ۷ تا ۹ کے مطابق پاؤل نے بھی بہت سے معجزات کیے تھے لیکن خداوند نے اسے اس لیے متخیب نہیں کیا کہ وہ اسکا کانٹا نکال دے گا۔
سوال: خروج باب ۴ آیت ۱۸ کے مطابق یترو کے نام کے حروف مختلف کیوں ہیں؟
جواب: کچھ زبانیں بشمول عربی میں بھی ایک ہی نام کا مختلف حروف سے اختتام کیا جاتا ہے اور یہ اس بات پر منصر ہوتا ہے کہ وہ اس فقرے میں کسطرح استعمال ہورہا۔ یترو کا نام ایک زبان کے الفاظ کی مدد سے دوسری زبان کے حروف میں ایک جگہ عبرانی میں مکمل کیا گیا ہے۔ اور دوسری جگہوں دوسری زبان کے حروف سے مکمل کیا گیا ہے۔ اسطرح نحمیاہ باب ۲ آیت ۱۹ ۶ آیت ۱ تا ۲،۶ میں عرب نام جشم / جشمتو کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔ اب خروج باب ۴ آیت ۸ خصوصی دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی آیت میں دونوں ناموں کی مختلف اختتامی الفاظ سے تکمیل کی گئی ہے۔ باظاہر مصنفین نے ان ناموں کے حروف یکساں ہونے کے بارے میں اتنی چھان بین نہیں کی ہے اور ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: خروج باب ۴ آیت ۱۸ ہم سے کہتی ہے کہ موسیٰ نے ایسا کیوں کہا کہ وہ مصر جانا چاہتا ہے دیکھوں کہ وہ اب تک جیسے ہیں؟ جواب: موسیٰ نے مصر جانے کے لیے بات کو گول مول کیا اور اسکی اہم وجہ کو چھپایا چاہیے اسکی یہ وجہ غلط یا درست ۔ بابئل موسیٰ کے اسطرح جانے کا ساتھھ نہیں دیتی ، صرف اسکو بیان کرتی ہے۔
سوال: خروج باب ۴ آیت ۲۲ ہم سے کہتی ہے کہ اسرایئل کسطرح خداوند کا پہلوٹھا ہوسکتا ہے؟ جواب: پہلوٹھے کے پاس مخصوص حقوق اختیارات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسرایئل خداوند کے متخیب لوگ تھے جنکے ذریعے خداوند کے احکامات اس پوری زمین پر پھیلے وہ تھے لے پالک بیٹے (رومیوں باب ۹ آیت۴) خداکا کلام ان کے سپرد ہوا(رومیوں باب ۳ آیت ۲ ) شریعت کا حصول ((رومیوں باب ۹ آیت۴ ) خاندان بزرگ(رومیوں باب ۹ آیت۵) انسانی شجرہ نسب کے لحاظ سے مسیح ببھی ان ہی میں سے ہے(رومیوں باب ۹ آیت۵)
سوال: خروج باب ۴ آیت ۲۲ ہم سے کہتی ہے کہ خداوند موسیٰ تقریبأ کیوں مرچکا تھا؟
جواب: اس سوال کے جواب کے لیے چارنکات پر غور کیا سکتا ہے۔
حالات۔
خداوند جانتا تھا کہ موسیٰ نہیں مرئے گا یہ چیزیں موسیٰ اور صفورہ کو برے لوگوں کی طرح دیکھاتیں ہیں ۔
وجہ۔
ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ موسیٰ مرنے کے قریب کسطرح پہنچا، شائد بیماری کی وجہ سے لیکن وہ جانتے تھے کہ خداوند ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا، لیکن جان بوجھھ کر ایسا کیا
ادب۔
موسیٰ اور صفورہ نے ابراہیم سے کیے گئے خشے کے عہد پر عمل نہیں کیا تھا اور خداوند ان کو یہ سیکھانا شاہتا تھا کہ موسیٰ ایسا کرئے یا مرئے۔
خبردار کرنا۔
جیسے کہ موسیٰ کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ اس سے عظم تر اور کوئی نہیں ہے اس لیے اسکو خداوند کی تابعداری نہیں کرنی چاہیے۔
سوال: خروج باب ۴ آیت ۳۰ ہم سے کہتی ہے کہ کیا لوگوں کو معجزات کی وجہ سے یقین کرنا چاہیے
جواب: لوگوں کو معجزارت کی وجہ سے خداوند پریقین نہیں کرنا چاہیے۔ معجزات صرف خداوند کے پیغمبر کے ایمان کو جانچنے کے لیے موزوں چیز ہوتیں ہیں۔ یہ معجزات اس چیز کا ثبوت پیش نہیں کرتیں کہ خداوند ان میں قیام پذیرہے بر عکس معجزات صرف یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کہ موسیٰ زندہ و جاوید خدا کی طرف سے ہے۔
سوال: خروج باب ۴ آیت ۳۱ اور باب ۶ آیت ۹ ہم سے کہتی ہے کہ کیا لوگوں نے موسیٰ پر یقین کیا یا نہیں؟
جواب: خروج باب ۴ آیت ۳۱ کے مطابق پہلے انھوں نے موسیٰ پر یقین کیا لیکن خروج باب ۶ آیت ۹ کے مطابق تب فرعون نے انکا کام بڑھا دیا یا تب انھوں نے موسیٰ کے عہدے پر شک کیا۔
سوال: خروج باب ۵ آیت ۲ کے مطابق مصر کا فرعون کان تھا اور خروج کب سے تھی؟
جواب: وہ فرعون جو یہاں مرگیا تھا غالبأ وہ تھیٹومس iii تھا۔ اسکی حاکم ملکہ ہیش پسیٹ منیرایئری تھی( وہ اپنی مشہور ماں ہیش پسیٹ سے مخلف تھی) خروج ۱۴۴۵/۱۴۴۶ b.c کے لگ بھگ لکھی گئی ۔ اس تاریخ ۱۴۴۵/ ۱۴۴۶ کی وجہ یہ ہے کہ سلاطین ۱ باب ۶ آیت ۱ کہتی ہے کہ جب چار سواسی (۴۸۰) سال کے بعد اسرایئل مصر سے نکل آئے تب سلیمان نے خداوند کا گھر بنانا شروع کیا اور ماہرین آثار قدیمہ اس بات پر پر یقین ہیں کہ یہ ۹۶۶b.c کی بات ہے ایک طرف پریپرٹوایونیجیکا کے ۹۔۷ میں یوبنیس کہتا ہے کہ فرعون کی وہ بیٹی جس نے موسیٰ کو دریا سے باہر نکالا تھا اس کا نام میرس تھا۔میرس تھا۔ جوزف تھرمیوتیں ان اینٹی کیویٹس۔ ۲۲۲۴ (۹۵) میں اوی بک آف جوبیس (۴۷:۵ میں کہتا ہے کہ اسکانام تھریتھھ تھا ۔ یہ شاہیے تو تھیٹومس iii کے زیادہ امکان ہے کہ فرعون تھیٹومسii( b.c ۱۳۸۵/۱۴۰۱۔۲۰/ ۱۴۵۰) کے ماتحت تھا۔ اسکی حاکم ملکہ کا نام تائی ( tai) تھا بہت سے مسیحی سوشتے ہیں کہ خروج بہت زیر تحت قیام میں آئی ۔ ۱۴۴۵/ ۱۴۴۶ کی تاریخ اس پر پوری اترتی ہے کیونکہ
(۱) سلاطین ۱ باب ۶ آیت کہتی ہے سلیمان کے گرجا گھربنانے سے ۴۸۰ سال پہلے۔
(۲)ایمنیوٹوپii کی زیر حکومت سامیوں سے زیادہ زبردستی اینٹیں بنوائی جاتی تھیں
(۳) تھیوٹومسiv کا ڈریم سٹیلا۔ خروج باب ۱۲ آیت ۲۹ کا مباحثہ دیکھیں۔ قضاۃ باب ۱۱ آیت ۲۶ کہتی ہے jephthah سے تین سوسال پہلے۔
(۴) تہرھویں صدی کے بعد ہازور کے کوئی مسکن نہیں تھے۔
(۶) ۱۴۰۰ b.c میں امارنا الواح خوفزدہ Habiruo Abiru ( running amoke
بیان کرتی ہیں۔
سڑومیٹا ۲۱: ۱ (۱۸۳ تا ۱۲۷) میں مکیمنٹ آف الیگزینڈریا ۴۵۰ سال یوشع سے داؤد کا وقت بیان کرتا ہے۔
رعمیس کا نام تہرھویں صدی سے پہلے استعمال ہواتھا۔ ایمنیٹوپiii کے زمانے ایک شریف آدمی کا نام رعموس تھا۔ جب کے بہت سے کہتے ہیں کہ خروج (۱۴۴۹b.c) میں قیام پزیر ہوتی جبکہ یہ بات سوچنے کے قابل نہیں ہے۔ جبکے کاربن ۱۴ کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے۔ تقریبأ ۱۴۱۰b.c میں جریٹکو کی تباہی ہوئی۔ تھیٹومس iii سے چالیس برس پہلے فرعون وہاں حکومت کرتا تھا ۔
سوال: خروج باب ۵ آیت ۲ کے مطابق یہ وہی فرعون تھا جسکا ذکر خروج باب ۱۵ میں ہے؟ دی بابئل کمنڑی اولڈ ٹیٹمنسٹ صفحہ نمبر ۱۱۵ تا ۱۱۶ کے مطابق یہ دونوں ایک نہیں تھے ۔ خروک باب ۱ کا فرعون تھیٹومس iii تھا جو کہ اسرایئلی کی آبادی کو جڑ سے مٹا دینا چاہتا تھا یا کم کرنا چاہتا تھا۔ خروج کا فرعون غالبأ ایمینوٹپ( Amenhotep) ii ۱۴۲۰/ ۱۴۵۰۔۔۔ ۱۳۸۵/ ۱۴۰۱ تھا جو انھیں غلام کی طرح استعمال کرتا تھا۔ یاد رکیھں کہ خروج باب ۱ اور باب ۵ میں ۸۰ سال کا فاصلہ ہے
سوال: خروج باب ۵ آیت ۳ خروج باب ۸ آیت ۲۶ تا ۲۷ اور خروج باب ۱۰ آیت کے مطابق کیا موسیٰ صرف جانے کا بہانہ بنارہا تھا؟
جواب: کتاب مقدس ہمیں نہیں بتاتی کہ کداوند نے موسیٰ سے کہا کہ وہ جانے کے لیے فرعون کے سامنے یہ وجوہات رکھے، یا سگر موسیٰ نے انھیں ایسا کہا تو یہ اسکا اپنا ارادہ تھا۔ اگر یہ بعد میں ہوتا تھا تو اس لحاظ سے کہ موسیٰ نے ہر بات صحیح صحیح تو غور کریں کہ کتاب مقدس اس بارے میں خاموش ہے۔
سوال: خروج باب ۵ آیت ۶ ہم سے کہتی اینٹیں بنانے کے لیے بھس کا استعمال کیوں کیا گیا ؟
جواب؛ بھس اینٹوں کو مضبوط تر بناتا ہے، کیونکہ بھس مٹی کو اچھی طرح چکنیے میں مدد دیتا ہے اور آسانی الگ ہونے نہیں دیتا۔
سوال: خروج باب ۵ آیت ۶ تا ۷ ہم سے کہتی ہے کہ اسرایئلی کسطرح اینٹیں بنانے کے لیے خود سے بھس اکٹھا کریں گئے؟
جواب: پہلے تم یہ بات سمجھ چکے ہو کہ بھس اینٹیں بنانے کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اینٹوں کو جوڑنے میں مدد دیتا ہے اور اس چیز کو کم کرتا ہے کہ اینٹیں الگ الگ نہ ہو۔ مصر کی نسبت میسوپوٹامیا میں اینٹیں بہت عام یقین اور مصر کے کچھ شہر جیسے کہ پتوم بھی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ پندرھویں صدی b.c میں تھیبس ( thebes) کے مقام پر مصری نیک نان ریکخمر اریک۔ می۔ ری ( rekhmere/rek.mi.re) کے مقربے پر مصوری ہے جس میں غلام اینٹیں بنا رہے تھے ۔ اسی کی ایک تصویر دی نیو انٹرنیشنل ڈکشنری آف دی بابئل صفحہ نمبر ۱۷۴ میں موجود ہے۔ پتوم کی تباہی یہ بات ظاہر کرتی کہ اس شہر نچلے حصی میں بھس والی اینٹیں درمیانی حصے میں صرف اینٹوں کا چورا اور اوپر والی سطح میں ریشہ دار مادہ استعمال نہیں کیا گیا تھا اینڑیں مختلف لمبائی کی تھیں ۔
سوال: خروج باب ۶ آیت ۱ ہم سے کہتی ہے کہ خصوصی طور پر یہاں خداتعالیٰ کا زور آور ہاتھھ کیوں بیان کیا گیا ؟
جواب یہ ایک بہت دلچپ تجزیہ ہے کہ ان دنوں مصری فرعونوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے نام کے ساتھھ زور دار (بڑا) ہاتھھ کا ہونا خطاب کے طور پر لگاتے تھے۔ خروج باب ۶ آیت ۱ ہم سے کہتی ہے کہ انکا گھمنڈی زور دار ہاتھھ خداوند کے زوردار ہاتھھ خداوند کے زور دار ہاتھھ کے سامنے کچھ بھی نہیںہے۔
سوال: خروج باب ۶ آیت ۳ اور دوسرے پیراؤں کے مطابق (jepd) جے ای پی ڈی کے نظریے میں کیا دقتیں ہیں؟
جواب: jepd کانظریہ انیسویں صدی میں سوچا گیا ان عالموں سے پہلے جو یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ موسیٰ کے زمانے میں عام آدمی لکھ سکتا تھا یہ کہتی ہے کہ بابئل کی پہلی پانچ یا (بعضاوقات چھھ) کتابیں چار مختلف ذریعوں سے درست کرکے شائع کی گئیں جنکو جے کے لیے (یہوواہ) ای (ایلوم) پی کے لیے (پرسیلی) اور ڈی کے لیے (استثناء)
یہاں jepdکے نظریے کے ساتھھ مختلف مسائل درپیش ہیں لیکن یہاں ان میں دو کا ذکر کیا جاتا ہے۔
(۱)آزاد سوچ رکھنے والے مفکر وہ آیتیں جو j,e,p, اورD سے تعلق رکھتی ہیں ان پر متفق نہیں ہیں۔
(۲) بہت سے آیتیں درمیان سے تقسیم ہیں۔ ایوڈینس ڈیٹ ڈیمانڈس اے ورڈیکٹ والیوم iiصفحہ نمبر ۱۳۴ انٹر پیریٹس ون والیوم کمنڑی جو کہ japed کے نظرے پر بابئل متراجم مختلف آیتیوں کو دو یا اس سے زیادہ ذریعوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پیدائش باب ۲ آیت ۴ باب ۷ آیت ۱۶،۱۷،۱۳،۳،۲:۸ ۱۰:۱ ۱۲:۴۔ ۱۱،۱۲:۱۳۔ ۱۶:۱۔ ۱۹:۳۰ ۔ ۶،۲،۱:۲۱ ۔۱۱،۲۶:۲۵۔ ۳۱:۱۸ ۔ ۳۲:۱۳ ۔۳۳: ۱۸ ۳۵:۲۲ ۔ ۳۷:۲۵،۲۶ ۔ ۴۱:۴۶ ۔۴۲:۲۸ ۔۴۵:۱،۵ ۔۴۶:۱۔ ۴۷:۵،۶،۲۷۔ ۴۸:۹،۱۰۔۴۹:۱،۲۸ خروج ۱:۲۰۔ ۲:۲۳ ۔۳:۴۔ ۴:۲۰ ۔۷:۱۵،۱۷،۲۰،۲۱ ۔۸:۱۵ ۔ ۹:۲۳،۲۴،۳۵ ۔۱۰: ۱،۱۳،۱۵۔ ۱۷:۱،۲،۷۔ ۱۹:۲،۳،۹،۱۱،۱۳ ۲۴: ۱۲،۱۵،۱۸ ۲۵:۱۸ ۔۳۱:۱۸ ۔۳۲:۸،۳۴،۳۵ ۔۳۳:۵،۱۹ ۔۳۴:۱،۱۱،۱۴
گنتی۔ ۱۳:۱۷،۲۶ ۔ ۱۴: ۱ ۔۱۶:۱،۲،۲۶،۲۷ ۲۰:۲۲ (استثناء کا ذکر نہیں کیا گیا اسکو پورا ڈی فرض کیا گیا ہے)
اس نظریے کے مطابق اور کتنی آیتیوں کو تقسیم ہونے کی ضرورت ہے اس نظریے سے پہلے اسطرح کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی؟ غرضیکہ ۹۰ آیتیں بہت زیادہ ہیں۔
سوال: خروج باب ۶ آیت ۳ سے پہلے ۱۹۷ پیرؤں میں یہواہ کا نام استعمال کیا گیا ہے۔ جبکہ خروج باب ۶ آیت ۳ کہ خداوند ابراہام پر اضحاق اور یعقوب پر اس نام سے ظاہر نہیں ہوا تھا؟
جواب: پہلا جواب نہیں ہے جبکہ دوسرا جواب ہے
(۹)سچے حقائق جو کہ جواب کا حصہ نہیں ہے
(۹۱) یعقوب نے نہیں بلکہ موسیٰ نے اپنے وقت میں پیدائش لکھی تھی تو موسیٰ جو چاہے نان استعمال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر لوگ صحیح طور پر لکھتے ہیں کہ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا جبکے کولمبس امریکہ کے نام کو نہیں جانتا تھا۔ یہ ایک ہی مثال سب کچھ بیان کرتی ہے لیکن ۵۳ جگہیں ایسی ہیں جو براہ راست ایک جیسا حوالہ دیتی ہیں
(۹۲) توریت یونانی اور موسوی متن کی مطابقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ لکھنے والے آزادانہ طور پر خداوند کے لیے نام تبدیل کرسکتے تھے۔
(b) خروج باب ۶ آیت ۳ خود جواب دیتی ہے
(b1) خروج باب آیت ۳ ہرگز یہ نہیں کہتی کہ یہ موسیٰ کے وقت سے پہلے نازل ہوئی یہ صرف کہتی ہے ابراہیم اضحاق اور یعقوب کا۔
(b2) خروج یہ نہیں کہتی کہ وہ خدائی نام سے ناواقف تھے صرف یہ کہتی ہے کہ میں ظاہر ہوا۔۔۔ لیکن اپنے یہوواہ نام سے ان پر ظاہر نہ ہوا۔ خداوند نے ابراہیم اضحاق اور یعقوب سے باب کی یا ان ۱۵ دفعہ ظاہر ہوا لیکن خداوند ان لوگوں پر اس مخصوص انداز سے ظاہر نہ ہوا جیسے کہ خداوند اپنے خدائی نام سے موسیٰ پر ظاہر ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیدائش باب ۳۲ آیت ۲۹ میں یعقوب نے کشتی کے بعد جب خداوند کا نام پوچھا تو انھیں صاف صاف کوئی جواب نہ دیا گیا۔ (o.v) یا خروج باب ۶ آیت ۳ میں یانانی لفظ ( kurros) ۔ پچھلا بھی ملا خط فرمایئں ۔
سوال: خروج باب آیت تا ۲۰ ہم سے کہتی ہے کہ اسرایئلی مصر میں ۴۳۰ سال تک کیسے ہوسکتے ہیں۔ جبکہ موسیٰ اور لاوی کے درمیان صرف تین نسلوں کا ذکر ملتا ہے؟
جواب: یہاں تین سے زیادہ نسلیں تھیں جیسے کہ شجرہ نسب لکھنے والوں ان میں اکثر فاصلہ رکھا ہے۔ جیسے بچے کا مطلب نسل اور باپ کا مطلب جد ہوسکتا ہے۔
سوال: خروج باب ۶ آیت ۲۰ ہم سے کہتی ہے کہ عمرام نے اپنے باپ کی بہن یوکبد سے شادی کیوں کی جبکہ احبار باب ۱۸ آیت ۱۱ کے مطابق ایسا کرنے سے منع کردیا گیا تھا؟
جواب: اس جواب کے لیے دونکات فرض کیے جا سکتے ہیں
(۱) احبار تب تک لکھی نہیں گئی تھی۔
(۲) بابئل اس پر افسوس کا اظہار نہیں کرتی بلکہ دیانت داری جو ہوا اسے بیان کرتی ہے
سوال: خروج باب ۶ آیت ۲۰ ہم سے کہتی ہے کہ کیا یوکبد اور عمرام لاوی کے پوتے تھے موسیٰ کے والسین؟
جواب: ایسا ہونا ضروری نہیں خروج باب ۲ آیت ۱ تا ۹ میں ہمیں یوکبد کا ذکر نہیں ملتا جبکے بیٹے کا مطلب نسل ہے اس سے قبل ( گنتی باب ۳ آیت ۲۸) کے مطابق موسیٰ کے دور میں قہات کے ۸۶۰۰اولاد نرہنہ تھیں ممکن ہے کہ یہ عمرام ہو ،قہات کا بیٹا عمرام ، موسیٰ کا باپ ۔ ایسی ہی وضاحت کے لیے وین کریٹکل آسک صفحہ نمبر ۶۹ تا ۷۰، انسکلوپیڈیا آف بابئل ڈفیکٹیس صفحہ نمبر ۱۱۱ دی بابئل نولج کمنڑی پرانا عہدانامہ صفحہ نمبر ۱۱۷، ۲۴۷ اور دی n1v سٹڈی بابئل کا صفحہ نمبر ۹۴ ملا خط فرمایئں۔
سوال: خروج باب ۶ آیت ۲۶ تا ۲۷ ہم سے کہتی ہے کہ کیا موسیٰ نے یہ کتاب لکھی تھی، جبکے اس میں موسیٰ کو تیسرا آدمی کے طور پر لکھا گیا ؟ جواب: اس میں شک کی کوئی گنجائچ نہیں کہ یہ موسیٰ نے لکھی ہے قدیم کتابوں میں تیسرے آدمی کے طور پر لکنا ایک غیر مومولی بات نہیں تھی اسکے لیے مندرجہ بالا مثالیں پءیش کی جاتی ہیں۔
(۱) جولیس کیئزر کوگیلک وار کے طور پر لکھا گیا
(۲) جولیس کیئزر نے civil war لکھی
(۳) ژینوقون نے اینا بیس لکھی
(۴) جوزف نے یہودی کی جنگ لکھی۔
(۵)ایپوٹسل جان نے گوسیل آف جان لکھی۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۱۱ ہم سے کہتی ہے کہ خداوند نے مصریوں پر پہلے ہی آفت کیوں بھجی اسکی بجائے کہ وہ مصریوں پر اخلاقی برتری کے لحاظ سے اظر انداز ہوتے کہ وہ انھیں جانے کی اجازت دے دیتے۔
جواب: خروج باب ۹ آیت ۱۶ (اور رومیوں باب ۹ آیت ۱۷ یہ کہتی ہے کہ خداوند نے اپنی طاقت دیکھانے اور اپنے نام کو پوری زمین پر پھیلانے کے لیے ایسا کیا۔ اس سوال: کے جواب لے لیے چھھ نکات فرض کیے جاسکتے ہیں۔
(۱) خداوند اقتداراعلیٰ ہے اور جسکو یہ حق حاصل ہے کہ اسکا کوئی بھی مطلب لے سکتا ہے۔
(۲) خداوند مصریوں سے کوئی ناانصافی نہیں کی تھی جنھیں عبرانیوں کو چار سوسال تک غلام بنانے کا ثقافتی نمونہ حاصل تھا
(۳) بیت دفعہ لوگوں کو اپنے سرداروں کے لیے لیے گئے فیصلے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
(۴) خداوند انھیں موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ ان غلاموں کو جانے دیں۔ تاہم انھوں نے ان سے اچھا سلوک کیا جائے اپنے اقتصادی ضافع کو چنا اور انھیں مزید غلام بنالیا۔
(۵) یہ نہ صرف مصریوں کی آزمائش تھی بلکہ ان کے دیوتاؤں کی بھی یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ ان کے تمام تمام باطل پوتا غلط تھے اور خداوند ہی وہ خدا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔
(۶) خداوند کی حمدوثنا پوری زمین پر کی جائے گی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مصری آج بھی موسیٰ کو ایک ہیرو اور خدا کے نبی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۱ ہم سے کہتی ہے کہ موسیٰ فرعون کے ساتھھ خداوند کسطرح ہوسکتا ہے؟
جواب: یہ تشبہیہ ہرگز یہ ظاہر نہیں کرتا کہ موسیٰ خدا تھا بلکہ خداوند تمام ربط اور بات چیت موسیٰ لے ذریعے فرعون کی جس میں ہارون نے ایک نبی کی طرح مدد کی ۲ تورایخ باب ۳ آیت ۲۰ کو ملا خط فرمایئں جس میں خداوند نے دوسروں کو خطوط بھجیے۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۱۱ ،۲۲ اور خروج باب ۸ آیت ۷ ہم سے کہتی ہے کہ فرعون کے جادو گر کسطرح جادوئی طاقت کا مظاہرہ کر سکتے تھے؟
جواب: ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی تین کپوں کو گیندسے ڈھانپ کر ایک ترکیب کی جاتی ہے۔ جوکہ قدیم مصر میں بہت زیادہ عام تھی۔ تاہم لوگ دوسروں کو اپنی چالاکی اور غیر ماقوق الفطرت چالوں سے بیوقوف بناسکتے ہیں۔ جیسے کہ ۲ تھسیلینکیوں باب ۲ آیت ۹ اور مکاشفہ باب ۱۳ آیت ۱۳ کے مطابق شیطان کے پاس جادوئی طاقت تھی یہ ہوسکتا ہے کہ ان جادوگروں نے شیطان کی جھوٹی تاثیر کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایسا کیا ہوگا۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۱۷ تا ۲۲ کے مطابق پانی کسطرح خون میں تبدیل ہوسکتا ہے؟
جواب: تاہم مصری پہلے ہی ایتھوپیا سے آنے والے سرخ رنگ کے پتھریلے مادے سے واقف تھے، تاہم سرخ مٹی جار میں پتھریلی ٹوکریوں میں موجود پانی پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔ یہاں دوقسم کے نظریے ہیں۔ تاہم خداوند کے لیے کچھ بھی کرنا ناممکن نہیں ، یہ پوچھنا ایک نامعقول بات ہے کہ خداوند نے ایسا یا ویسا کیوں کیا۔ اسکے برعکس تم یہ سوال کرسکتے ہو کہ کون سے شواہد اس بات کا ساتھھ دیتے ہیں۔ کہ خداوند نے اسے کس کے کام کے لیے منتخب کیا۔
(۱) خون اصلی خون تھا۔
(۲) جیسے کچھھ سمندروں اور نیل میں زہریلی الججی سرخ لہویں بناتی ہے اس وجہ سے پانی سرخ تھا الجی مچھلیوں کو مارڈالتی ہے اور پانی کے قابل نہیں رہتا۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۱۹ اور خروج باب۸ آیت ۱۶ ۲ ۲۴ کے مطابق آفتیں تمام لوگوں پر اور پورے مصر پر آیئں یا خروج باب ۸ آیت ۲۰،۲۲ کے مطابق جشن کے لوگوں پر آیئں۔ ؟
جواب: خروج باب ۹ آیت ۶ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے کہ کب کہا گیا تمام مصر اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جشن اس سےمبرا تھا۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۲۰ کے مطابق جادوگر کیسے کچھ پانی کو خون میں بدل سکتے ہیں۔ جبکے ان ہی دریاؤں کے پانی کو خون میں بدل چکا تھا؟
جواب: خروج باب ۷ آیت ۲۰ کے مطابق اس سے پہلے کہ فرعون پانی دیکھتا فورأ ہی خون میں تبدیل پوگیا۔ جبکے باقی پانی ہوسکتا کچھ دیر بعد تبدیل ہوا ہو۔
بعض اوقات شیطان کو خداوند کے کلام کرنے کی ترتیب کا پتہ ہوتا ہے۔ اور اس بات اعزاز لینے کی کوشش کرتا ہے کہ خداوند کیا کر سکتاس ہے۔ کروج باب ۱۲ آیت ۲۹ پر مباحثہ دیکھیے یا دوسری ممکن مثال ایک مختلف نظریے کے لیے تمام کا مطلب پانی کا زیادہ تر حصہ تھا، وین کریٹکل آسک صفحہ نمبر ۷۳ اور ہیلس الیگڈ ڈسکریپنیں آف دی بابئل صفحہ نمبر ۴۳۴ تا ۴۳۵ ملاخط فرمایئں۔
سوال: خروج باب ۷ آیت ۲۲ اور کروج باب ۴ آیت ۴ کے مطابق کس نے فرعون کا دل سخت کیا؟
جواب: فرعون وہ پہلا تھا جس نے ایسا کیا تھا تو خداوند نے بھی اسکا دل سخت کر دیا۔ مندرجہ ذیل آیاتیں بتاتی ہیں کہکس نے فرعون کا دل سخت کیا۔
خداوند موسیٰ کا دل سخت کرئے گا۔ خروج ۴ آیت ۲۱ فرعون نے خود اپنا دل سخت کرلیا۔ خروج باب ۸ آیت ۱۵،۳۲ خروج باب ۹ آیت ۳۴ سمویئل ا باب ۶ آیت۶۔
خود بخود سخت ہوگیس ( اسکا مطلب ہے کہ فرعون کا دل خود بخود سخت ہوگیا) خروج باب ۷ آیت ۱۳ تا ۱۴ ،۲۲ باب ۸ آیت ۱۹ باب ۹ ایت ۷ باب ۹ آیت ۳۵ خداوند نے اسکا دل سخت کیا خروج باب ۹ آیت ۱۲ باب ۱۰ آیت ۱،۲۰،۲۷ باب ۱۱ آیت ۱۰ باب ۱۴ آیت ۴ تا ۱۷:۵
حاصل کلام : کلیمنٹ آف رومی ( جس نے کلیمنٹ باب ۵۱ ۹۷/۹۸ a.d لکھی) جیسے مسیحی اس کو اس لحاظ سے نہیں لیتے کہ دونوں میں سے ایک یا حالات لیکن ان کے مطابق دونوں چیزیں اس میں شامل ہیں۔ رومیوں باب ۱ آیت ۲۱ تا ۳۲ میں بھی ایسی صورت حال جس کے مطابق وہ لوگ جو خداوند کے احکام کو جانتے ہوئے بداخلاقی کرتے ہیں۔ تو خداوند بھی انھیں گمراہیوں کی ناپاکی میں چھوڑدیتا ہے۔ حزقی ایل باب ۶۳ آیت ۱۷ کے مطابق خداوند نے اسرایئلوں کا دل بھی سخت کردیا تھا۔ مزید معلومات کے لیے رومیوں باب ۹ آیت ۱۸ پر مباحثہ ملا خط فرمایئں یوشع باب ۱۱ آیت ۲۰ پر بھی غور کریں جس میں خداوند نے کنعانیوں کے دل سخت کردیا تھا۔
سوال: خروج باب ۸ آیت ۱۰ کے مطابق فرعون نے موسیٰ سے میڈکوں کو کل دور کرنے کو کیوں کہا اسی دن کیوں نہیں کہا؟
جواب: ایسا ہوسکتا ہے کہ دن گزر چکا ہو تاہم وہ اسے اسی وقت بھی دور کرسکتے تھے۔ یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ فرعون کا دل کس حد تک سخت تھا۔ وہ اس بات کے بارے میں پر یقین ہونا چاہتا تھا کہ موسیٰ سے بات لیے بغیر مینڈک دور نہیں ہونگے۔ سوال: خروج باب ۸ آیت ۱۶ تا ۱۹ کے مطابق یہ جویئں کیا تھیں؟
جواب: یہ وہیں جنھیں ہہم جویئں کہتے ہیں جو کسی کے لیئے تکلیف دہ تو ہوتی ہیں لیکن کاٹتی نہیں ہیں ۔ دوسری طرف یہ مچھروں کی طرح بھی ہو سکتیں ہیں۔ لوگ عبرانی لفظkinnim کے ٹھیک ٹھیک مطلب سے واقف نہیں ہیں کیونکہ دی بابئل نولج کمنڑی ۔ پرانا عہد نامہ کا صفحہ نمبر ۱۲۲ یہ بتاتاہے کہ بابئل میں صرف اسی جگہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔
سوال: خروج باب ۸ آیت ۱۹ ،خروج باب ۳۱ آیت ۱۸ استثناء باب ۹ آیت ۱۰، ps باب ۸ آیت ۳ کے مطابق کیا خداوند ہاتھھ رکھتا ہت؟
جواب: نہیں یہ صرف نظریہ تجسمیت کا اظہار جو خداوند کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف زبانی طور پر کسی چیز کے جز کو مکمل چیز کے معنی لیا جاتا ہے۔ جیسے ہاتھھ کو ایک مکمل کل کہا گیا ہے ۔ اس کی مزید معلومات کے لیے psباب ۹۱ آیت ۴ کا مباحثہ ملاخط فرمایئں۔ اسطرح کی اور مثال مشہب اسلام کی بخاری حدیث جلد۹ ،کتاب ۹۳ باب ۲۶ نمبر ۵۴۳ صفحہ نمبر ۴۰۹ میں بھی اللہ کے ہاتھھ ذکر کیا گا ہے
سوال: خروج باب ۸ آیت ۹ ،خروج باب ۳۱ آیت ۱۸ استشناء باب ۹ آیت ۱۰ ،ps باب ۸ آیت ۳ ہم سے کہتی ہے کہ بابئل خداوند کے لیے تجسمیت کا استعمال کیوں کرتی ہے جبکہ خداوند کی کوئی شبہیہ بنانا غلط ہے۔ جیسے کہ خداوند کا ہاتھھ ہے وغیرہ وغیرہ ( بہت سال پہلے جان ایل میکنیزی نے ایسا کہا) ؟
جواب: ان دونوں کے درمیان کا فرق بات چیت اور عبادت کا فرق ہے ۔ خداوند لوگوں سے بات چیت کا وہی راستہ اختیار کرتا ہے جس میں وہ بات کو سمجھھ سکیں اور اسکے لیے شاعری اور تجسمیت کے اظہار سے جیسے کی اسکا سیدھا ہاتھھ۔
تاہم خداوند بہت خاص ہے اور وہ ہم سے یہ نہیں چاہتا کہاس کہ عبادت اور عزت وتوقیر کے لیے اسکی تصویریں یا مجسمے بنایئں۔
سوال: خروج باب ۸ آیت ۲۰ تا ۳۲ کے مطابق یہ کس قسم کے مچھر تھے؟
جواب: یہاں دو قسم کے نظریات ہیں۔ دی بابئل نولج کمنڑی پرانا عہد نامہ صفحہ نمبر ۱۲۲ تا ۱۲۳ کے مطابق ان کو ہم کہہ سکتے ہیں۔ یہ مصری دیوتا(re) ری کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری طرف یہ طغیلی کیڑے بھی ہوسکتے ہیں جو دیوتا کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کیڑے بے مردہ مینڈکوں کو اپنی غذا بناتے ہیں
سوال: خروج باب ۹ آیت ۴، خروج باب ۱۱ آیت ۲۳ اور خروج باب ۱۲ آیت ۱۳ کے مطابق یہ آفتیں مصریوں پر اثر انداز کیوں ہویئں جبکے اسرایئلوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوا؟
خداوند ہر ویہ چیز جس سے خوشی ہو اسکی کرنے کی طاقت رکھتا ہے خروج باب ۱۵ آیت ۲۶ میں خداوند نے اسرایئلوں سے کہا کہ وہ اسکے حکموں کا مانیئں اور خروج باب ۱۵ آیت ۲۶ میں ان سے وعدہ کیا کہ آنے والے وقت میں انھیں وہ بیماریاں نہیں ہونگہئں ۔
سوال: خروج باب ۹ آیت ۶،۱۹،۲۰ ہم سے کہتی ہے کہ جیسے تمام مویشی اور گھوڑے مرگئے تھے تو خروج باب ۱۴ آیت ۹ کے مطابق گھوڑے کیسے بچ سکتے ہیں؟
جواب: خروج باب ۹ آیت ۶ ان تما م مویشیوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو پورے مصر میں تھے یا وہ مویشی جو مصر کے کھتیوں میں تھے یا دونوں خروج باب ۹ آیت ۱۹ تا ۲۰ اور خروج باب ۹ آیت ۶ کے منمون کا آپس میں تعلق مصنف کی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسکا ارادہ ہر مویشی کو سمجھانے کا نہیں جو اندر تھا یا باہر لیکن وہ مویشی جو کھیت میں تھے۔
سوال: خروج باب ۹ آیت ۶ ۱۹ تا ۲۰ کے مطابق مصر میں بڑھنے پالنے والے مویشیوں کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں۔ ؟
جواب: مصر میں جب سیلاب آتا اور تمام سبزہ اس پانی میں ڈوبا رہتا تو مصری اپنے مویچیوں کو مئی سے دسمبر تک اصطبل میں رکھتے تھے۔ دی ایکسپوزرس بابئل کمنڑی والیوم نمبر ۲ صفحہ نمبر ۳۵۷ یہ بیان کرتا ہے کہ یہ آفت جنوری میں آئی ہوگی، جب کچھھ مویشی چارا کھانے لے لیے باہر گئے ہونگے
سوال: خروج باب ۹ آیت ۶،۱۹ تا ۲۰ کے مطابق مصر میں بڑھنے پالنے والے مویشوں کے بارے میں کیسے جان کستے ہیں؟
جواب: مصر میں جب سیلاب آتا اور تمام سبزہ اس پانی میں ڈوبا رہتا تو مصری اپنے مویشوں کا مٹی سے دسمبرتک اصبطل میں رکھتے تھے۔ دی ایکسپوزرس بابئل کمنڑی والیوم نمبر ۲ صفحہ نمبر ۳۵ یہ بیان کرتا ہے کہ یہ آفت جنوری میں آئی ہوگئ، جب کچھ مویشی چارا کھانے لے لیے باہر گ۴ے ہونگے۔ اگر مرئے ہوئے منڈکوں کی وجہ سے وہ منہ اور کھر کی بیماری سے مرئے ہونگےتب اس بیمارینے ان مویشیوں کو جو میان میں تھے برےطریقے سے متاثر کیاتھا۔
سوال: خروج ۹ آیت۱۶، خروج باب ۱۱ آیت ۹ کے مطابق کیا خداوند نے فرعون کو سزا دہنے کے لیے قائم رکھا؟
جواب: نہیں کتاب مقدس ایسا کچھ نہیں کہتی ۔ یہ کہتی ہے کہ خداوند نے فرعون کو اسکی سرکشی اور خباثت کے ساتھ زندہ رکھا تاکہ خداوند اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ کرسکے کہ وہ اسرایئلوں کو غلامی سے باہر نکال سکتا ہے۔ خداوند پہلے ایک عرصے کے لیے برائی کو چاقت دیتا ہے اورخداوند یہ دیکھتا ہے کہ اس سے کیا کام لیا۔ پھر اس برائی کو استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت اوراپنے فیصلے کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔
سوال: خروج باب ۹ آیت ۱۹ اور خروج باب ۹ آیت ۲۷ کے مطابق اولے والی جھلک آفت موسیٰ فرعون کی بات سنتے کیسے باہر جا سکتا تھا؟
جواب: یقینأ اولے اس وقت ہر جگہ نہیں برس رہے تھے۔ حتیٰ کہ طوفانی. ہوسکتا ہے جب. بارش میں
اولےپورے مصر پر تھوڑی دیر کے لیے روکے ہو تب موسیٰ فرعون کے پاس گیا ہو۔ دوسری طرف ، ہوسکتا ہے کہ جب موسیٰ فرعون کے پاس گیا تب خداوند نے اسکی حفاظت کی ہو۔
سوال: خروج باب ۹ آیت ۲۰، زبور باب ۲۸ آیت ۵ ،حزقی ایل باب ۴ آیت ۹ کے مطابق کسان ان دنوں میں کس قسم ؟
جواب: اس زمانے میں لوگوں کی خوراک آج کی صنعتی معاشرتی کی خوراک سے بہت مختلف اور زیادہ تر قدرتی غزایت والی خوراک پر مشتمل ہوتی تھی۔ قدیم زمانے مئکی یا الو نہیں تھے بلکہ یہ امریکہ سے آتے تھے۔ اس زمانے میں لیکن وہ دوسری فصلیں زیادہ مقدار میں اگاتے تھے۔ جیسے کہ ہم کچھ قدیم فصلیںصرف مخصوص مقدار میں اگاتے اور معمولی قسم کا گھہیوںان کو چھپی ہیں۔ مثال کے طور پر
ہوئی گندم کہا جاتا ہے ان کی ایسے صفائی نہیں کی جاتی جیسے کہ گندم کی کی جاتی ہے۔ ہلکے درجے کی گندم ،ارزن( گھاس کی ایک قسم اور باجرہ گندم کی نسبت غزایئت سے بھر پور نہیں ہوتے حتیٰ کہ ارزن اور باجرہ کو ابھی تک افریقہ میں مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال جسکا ذائقہ بہت مزیدار ہوتا ہے وہ بھی اگائی.کیا جاتا ہے۔ اور امر پھول تھے ان کے پاس اور قسم جاتی تھی باقی قدیم اناج
گندم اور ارزن کو آپس میں ملا کر تیار کیا کے اناج نہیں تھے
جانے والا اناج تھا، کیونکہ یہ پہلی دفعہ ۱۸۷۵ میں سکاوٹ لینڈ میں اگایا
گیا اسکی مزید معلومات کے لیے دیکھی۔
http://www.hort.purdue.edu/newcrop/proceeding 1996/v.3-156. html# einkopn.origin.
میٹھے کے لیے ایک طرف یورپ میں چقندر اور گرم مرطوب ممالک میں گنا ہوتا تھا۔ جیسکے بنیادی طور پر لوگ شہد کا استعمال کوتے تھے۔ شہدمیں مختلف قسم کے کیمائی مادے موجود ہوتے ہیں اور ہر کھیپ میں جنگلی شہد ایک دوسرے سے مختلف ہوتاتھا کیونکہ یہ ان شہد کی مکھیوں کے رس پر انحصار کرتا تھا جو پھولوں سے رس چوس کر لاتی تھیں ۔ کسی نے ایک دفعہ کہا اگر ایک خوراک جو جب بھی بنتی ہے اس میں ہزاروں ناواقفچیزیں اور مختلف کیمائی مادے موجود ہوتے ہیں تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے خوراک اور دوا کے طور پر مکمل منظوری دے دی جاتی ہے۔
سوال: خروج باب ۹ آیت ۲۳ کے مطابق اولوں میں آگ کسطرح مل سکتی ہے؟
جواب: قدرتی طور پر جب بھی شدید طوفان آتا ہے تو بادل کی گرج اور چمک اولوں کے ساتھ ملتی ہے۔ یہ یقینأ خروج باب ۹ آیت ۲۹ کے مطابق کہ آگ کس وجہ سے بنی۔ تا ہم خداوند جیسا چاہے اسے اس طریقے سے کرسکتا ہے۔
سوال: خروج باب ۹ آیت ۳۰ کے مطابق لوگ کیسے خداوند کے ڈر کا تصور کر سکتے ہیں؟
جواب: ہم خداوند سے اسطرح نہیں ڈرتے جیسے کوئی جابر حاکم اور خبیث شخص سے ڈرتے ہیں۔ تاہم خداوند سے دو طریقوں سے ڈرنا چاہیے۔
(۱)جو لوگ ایمان نہیں رکھتے انھیں خداوند کے حساب و کتاب اور غیظ و غضب سے ڈرنا چاہیے۔
(۲) ڈر کا مطلب عزت بھی ہوتا ہے۔ سبکو خداوند کی عزت کرنی چاہیے،جس نے ہمیں ایک مقصد کے تحت وجود دیا ہے اور وہی ایک سب سے انصاف کرنے والا ہے اور لوگوں کو ابدی زندگی دے گا۔ ان کی قسمتوں میں دوزخ کی ابدی سزا لکھ دے گا جو کہ ہوری کائنات کی ایک ذلیل ترین جگہ ہے۔ کچھ غیر مسیحی یہ محسوس کر سکتے ہیں
اصلی خدا اپنے کردار کو پختہ کرتا ہے اس بات کی پرواہ کیئے بغیرکہ تم اسکو معیار تک پختہ دیکھنا چاہتے ہو۔ خروج باب ۲۰ آیت ۲۰کا جواب بھی دیکھیے۔
سوال: خروج ۱۰ آیت ۲۱ تا ۲۲ کت مطابق صرف پورے مصر پر اندھیرا کیسے ہوسکتا تھا؟
جواب: : خداوند نے ہی روشنی بنائی ہے اور وہ ہی اسے قابو بھی کر سکتا ہے۔ تاہم یہ سقرج میں عارضی تبدیل، قدرتی قانون ،یا سیاہ بادل ،آتش فشاں کی راکھ، دوسری بہت رکاوٹیں یا ان میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا، خداوند جیسا چاہیے وہسا کام کرسکتاہے۔
سوال: خروج باب ۱۰ آیت ۲۱ تا ۳۳ کے مطابق کیا پورے مصر پر تاریکی کے آثار قدیمہ کے کوئی شواہد ملتے ہیں؟
جواب ہوسکتا ہے دی باسیلکل آرکیالوجی رویو جنوری ۔فروری ۱۹۹۱ کا صفحہ نمبر ۵۰ کہتا ہے۔
کے آخری دور کی(C.1350.c)Dynasty×Viii thایک مصری مضمون
تاریخ دیتے ہوئے اس آفت کو مندرجہ ذیل طریقے سے بیان کرتی ہے۔ سورج ڈھکا ہواتھا اورآدمی کو دیکھنےمیں مدد دینے کے لیے چمکتا نہ تھا۔ سورج بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا اس لیے زندگی کا مذید وجود ممکن نہیں تھا۔ (دیوتا) نے انسانیت سے منہ موڑ لیا تھا۔ اگر یہ صرف ایک گھنٹے کے لیے چمکتا تو کوئی نہ جانتا کہ اب آدھا دن ہے۔ ایک دفعہ سایہ بنا دن کے فرق کو بیان نہیں کرتا تھا۔ ااسمانوں میں کھڑا سورج چاند کی طرح ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔:" یہ زمین کی تاریکی کی طرف اشارہ کرتی ہے یا یہ تھرا کی جزیرے پر آتش فشاں کے پھٹنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
سوال: خروج باب ۱۰ آیت ۲۹ کے مطابق موسیٰ کہتا کہ دوبارہ موسیٰ کے سامنے نہیں جائے گا۔ جبکے خروج باب ۱۱ آیت ۳۱ کے مطابق فرعون نے خود موسیٰ اور فرعون کو طلب کیا ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا خروج باب ۱۰ آیت ۲۹ کے مطابق غلط تھا اگر ایسا ہو، کیا اس نے خداوند کے کہنے کے مطابق ایسا کہا یا اسکی اپنی کہی ہوئی بات تھی؟
جواب: خروج باب ۱۰ آیت ۲۰ کے مطابق فرعون موسیٰ کا منہ دیکھ دیکھ کر تھک گیا تھا اور پھر موسیٰ کا ارادہ یہ ہی تھا کہ وہ فرعون کے سامنے دوبارہ نہ آئے ۔جب فرعون اسکو بلانے کا حکم دیا تب وہ اسکے پاس گئےچلیں اسکو تین طریقوں سے دیکھتے ہیں۔
اگر یہ پیش گوئی تھی ،تب یہ سچ نہیں تھا۔ (a)
موسیٰ کا اپنا ارداہ تھا، تب یہ سچ تھا۔ موسیٰ اپنی اضا مندی اگریہ(b)
سے نہیں آیا تھا بلکہ اسے بلایا گیا تھا۔
اگر یہ ایک وعدہ تھا، تب یہ انسانی وعدہ خدائی نہیں فرعون کے حکم(c)
سے مقدم تھا کہ اس پر عمل کیا جاتا۔
مختصر یہ کہ موسیٰ جھوٹا یا دغا باز نہیں تھا، لیکن واضح طور پر یہ قبول کیا کہ وہ فرعون کے سامنے کبھی نہیں آئے گا اور موسیٰ یہاں غلط تھا۔
ایک اہم نقطے پر غور کریں کہ بنی انسان ہوتے ہیں اور وہ غلط باتیں کہی اور کر سکتے ہیں۔ اسکے لیے ایک معیاری مثال پیش کی جاتی ہے جس میں ناتن نے داؤد سے کہا کہ وہ خداوند کے لیئے گھر تعمیر کرسکتا ہے اور تب خداوند نے ۲ سموایئلباب ۷ آیت ۳ تا ۱۷ میں ناتن کی اصلاح کی۔ خداکابنی صرف اس صورت میں غلطی سے مبرا ہوتا ہے جب وہ بنی کی یا اسکی طرح)طرح بات کررہا ہوتا ہے۔ یعنی
جب موسیٰ نے اپنی اسرایئلوں سے کہا کہ وہ سرکش ہیں۔، ممکن ہے یہ الفاظ انھوں نے افسوس میں کہے ہونگے۔
سوال: خروج باب ۱۱ آیت ۳ اور گنتی باب ۱۲ آیت ۳ کے مطابق کیا موسیٰ خود لکھا تھا کہ وہ بہت بزرگ اور خاکسار ہے؟
جواب: یہاں تین مختلف نظریات ہیں
موسیٰ حقسئق کے پیش نظر اپنی پچھلے کردار کے بارے میں بتاناچاہتا(a)
تھا۔
جیسے کہ موسیٰ کے کاتب نے اسے موسیٰ کے لیے تھا ،تو کاتب کے (b)
خدائی تاثیر کے تحت اسکا اضافہ کیا ہوگا۔
یہ کاتبوں کا بعد میں کیا گیا اضافہ جسکو خداوند نے آنے والے نسلوں تک محفوظ رکھنے کی اجازت دی گنتی باب ۱۲ آیت ۳ پر مباحثہ (c)
دیکھیں۔
سوال: خروج باب۱۱ آیت ۵ تا باب ۱۲ آیت ۳۰ بابئل سے علحیدہ کرتے ہوئے کیا ایسے شواہد ملتے ہیں کہ اس وقت کے دوران مصر پر کوئی آفت آئی تھی؟
جواب: غالبأ ایسا ہوسکتا ہے ڈیوڈ ایم ۔ روحل ان فرعون اینڈ کنگ: اے بابیلکل کیوسٹ ( ۱۹۹۵) کا صفحہ نمبر ۲۷۸ تا ۲۷۹ میں یہ بیان ملتا ہے کہ اسی طرح کی بڑی آفت کے شوہد ملتے ہیں جس میں جلدی جلدی مردہ اجسام کو دفنایا گیا تھا۔ تاہم زیادہ اموات کو ثابت نہیں کرتی یا تردید کرتی ہے کہ یہ راتوں رات کسی اچانک کے حادثے کی وجہ سے ہوا تھا۔ یہ
نے دریافت کیا تھا یہManfred bietak at tell ed.Daba
Avaris and pramesse: Arhcaeelgical Exploration of the میںصفحہ نمبر ۲۹۵ پر موجود eastern niel delta(London) 1979
ہے۔
اس بات کا حوالہ دیتا ہے کہ خداوند ( josephu Manetho)اسکے علاوہ
نے ایک گرم ہوا کا جھونکا ہم پر مارا تاہم یہ بات مشرق سے مصر پر حملہ کرنے والوں کے نفس مضمون میں موجود ہے ۔ تب یہ ایک ایسا واقع ہے جیسے اس سے منسلک نہیں کیا ھاسکتا ہے یا ایسا ہوسکتا ہے۔ کہ موسیٰ کے دور میں مصرپر کسی نے حملہ کیا ہو اور اسکے بارے میں خروج کچھھ نہیں کہتا۔
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۱۹ کے مطابق کیا اسرایئل کی جماعت سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ کا مطلب یہ ہے کہ اسے جماعت سے باہر کردیا جائے گا اور ممکنا طور پر موت ہو جائے گی۔ یا پھانسی دے دی جائے گی۔
جواب: دی ایکسپوزرس بابئل کمنڑی والیوم ۲ صفحہ نمبر ۳۷۵ کے مطابق مسیحی عالم اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ دی بابئل نولج کمنڑی پرانا عہد نامہ صفحہ نمبر ۱۲۸ ۔ دی بیلیورس بابئل کمنڑی کا صفحہ نمبر ۹۸ یہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت سے نکالنے کا حق ہے۔ کچھھ کچھھ کتابوں میں اس بیان کا کاٹ دینا کا مطلب موت کی سزا ہے۔
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۲۹ کے مطابق کیسے ایک ہمیشہ محبت کرنے والا خداوند (جیسے کہ کہا جاتا ہے) جو حد درجہ محبت کرتا ہے کیسے مصریوں کے پہلوٹوں کو مارسکتا ہے؟
جواب: بابئل کی کوئی بھی آیت یہ نہیں کہتی کہ خداوند ہمیشہ محبت کرتا اور نہ کوئی آیت یہ کہتی ہے کہ خداوند حددرجہ محبت کرتا ہے۔ خداوند کی محبت اسکی باقی خصوصیات کے طرح متوازن ہے۔ تو پھر کیسے بابئل کا خداوند مصریوں کے پہلوٹھوں کو مار سکتا ہے، اسکے لیئے اگلے سوال کا جواب دیکھیے ۔
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۲۹ تا ۳۰ ہم سے کہتی ہے کہ خداوند نے فرعون کو مارنے کی بجائے مصریوں کے پہلوٹھوں کو مار کر نا انصافی کیوں کی جبکے فرعون گناہ گارتھا؟
جواب: اس جواب کے لیے تین نکات فرض کیے جاسکتے ہیں
تمام مصریوں نے اسرایئلوں کو غلام بنایا تھا۔ فرعون خود غلوموں کو ایساکرتے تھے۔۴۰۰ سال تک کوڑا نہیں مارتا تھا بلکہ
مصری معاشرے کے لیے عبرانی غلاموں سے نفع حاصل کرنا ایک عام بات تھی۔
لوگ اکثر دوسروں کے اعمال کے نتائج کی سزا بجگتے ہیں۔
کونین کی عادی مایئں چھوٹے دماغ والے بچوں کو جنم دیتی تھیں ، جو کونین کے عادی ہوتے تھے۔ ملین لاگ ہٹلر اور دوسروں کے
کی وجہ سے مار جاتے تھے ان چیزوں نے اس
جابر دنیا کو مشید پستی میں گرا دیا۔ اگلا نقط بھی غور فرمایئں مکمل انصاف روز حساب کے دن تک ملتوی کردیا گیا ہے۔۔ مثال کے طور پر لوقا باب ۱۳ آیت ۱ تا ۵ جس میں یسوع نے گلیلیوں کے بارے میں بتایا تھا جسکا خون پیلاطس نے ان کے ذبیحوں کے ساتھھ ملا دیا تھا یسوع نے بتایا انھوں نے ایسا دکھ اس لیے نہیں پایا کہ وہ باقی گلیلیوں سے زیادہ گناہ گار تھے، لیکن بلکہ اگر تم توبہ نہ کوؤ گے تو سب اسی طرح ہلاک ہے ۔ کچھ لوگوں اسی چیز کی دوسروں سے زیادہ سزا ملے گی۔ تاہم حساب کے دن خداوند سب کا انصاف سے فیصلہ کرے گا اوت سب کچھھ ٹھیک ہوجائے گا۔
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۲۹ ہم سے کہتی ہے کہ کیا آثار قدیمہ کے شواہد اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ فرعون کا بیٹا خروج سے پہلے ہی مر گیا تھا؟
( ۱۴۱۰۔۱۴۲۱) ڈریم سٹیلا میں غزا کے مقام پر چار پاؤں والی دیوی سنفیکس کے درمیان پایا، دیوتا پر ماحس ivجواب: تھیٹومس
نے تھیٹومس کو اگلا فرعون بنانے کے لیے خاص مدد دینے کا وعدہ کیا اگر وہ بنفیکس دیوی کے گردا گرد کی ریت کو ختم کردے گا۔ اگر وہ اپنے باپ ایمنسوٹوپ ( ۱۳۸۵،۱۴۰۱۔۱۴۴۷،۱۴۰) کے نسلی تسلسل کا اگر پہلوٹھا تھا تو اسے اس قسم کی خاص مدد کی ہرگز ضرورت نہیں بڑے بھائی کا نام وبینیسو تھاivتھی۔ والٹ گیزر کہتا ہے کہ تھیٹومس
۔ وبنسیو غالبأ دسویں آفت کے دوران مر گیا تھا اور اسے شاہی مقربے میں ( Amenhotep)ii کے iiدفنایا گیا تھا۔ ایمنوہٹوپ ( webenseneo)
تھا جو اپنی شادی ( Khemwaset)کے دوسرے بیٹے کا نام پیم ویسٹ
سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ تاہم بفینکیس شیلی پہلوٹھے کی موت کے براہراست شواہد پیش نہیں کرتی ، ماہرین مصر نے بہت سے شواہد اس روشنی میں لاتے ہیں جو اس جو خروج کی ابتدائی تاریخ اور اس حیویت کو یہ بات نا منظور تھی کہ اس کا تختivکو سہارا دیتی ہے کہ تھیٹومس
و تاج پر کامیاب ہوتا"
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۲۹ تا ۳۰ کے مطابق کہ وہ خداوند جو بہت کرنے والا ہے وہ کیسے مصری پہلوٹھوں کو مار سکتا ہے کیا اسے فرعون کی گمراہی کو قابو نہیں کر سکتا تھا؟
جواب: اس سوال کے جواب کے لیے چار نکات فرض کیے جا سکتے ہیں۔
(۱) مصریوں یا ان کے جانوروں کی موت یہ بات ثابت نہیں کرتی کہ انھیں فرعون کی غلطی کی سزا ملی ےھی ۔
(۲) خروج باب ۱۲ اایت ۳۳ کے آنے تک مصریوں نے ظاہری تک ظلم وستم اور طفل کشی کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا۔ جبکے خروج باب ۱۴ آیت ۵ کے مطابق مصری لوگ اسرایئلوں کو دوبارہ غلام بنانا چاہتے تھے۔
(۳) یہ بہت اہم ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو جائے، کیونکہ لوگ جن میں بچے بھی شامل ہوتے ہیں ان کو اپنے سیاسی لیڈروں کے غلط کاموں کے نتائج کا خمیازہ بھگتنا پٹتا ہے۔
(۴) اس زندگی میں بہت کچھ غلط ہوتا ہے لیکن روز حساب بھی آنے والا ہے جس دن سب کچھ صاف صاف ہوجائے گا۔ خداوند انصاف پسندہے امیر اور غیریب ظالم اور مظلوم، نازی کمبوڈین سیدینسی ،اور ہر کسی سے روز حساب انصاف کیا جائے گا۔ تاہم کون کہہ سکتا ہے کہ وہ سب انصاف چاہیں گے کسی بھی رحم کے بغیر ہے؟ دوسرے جوابات کے لیے انسکلوپیڈیا آف بابئل ڈفیکلیئی صفحہ نمبر ۱۱۳ تا ۱۱۴ اور وین کریٹکل آسک صفحہ نمبر ۷۴ تا ۷۵ ملا خط فرمایئں ۔
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۳۰ کے مطابق ایسا کیوں تھا کہ اسرایئل کا کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں کوئی مرا نہ ہو، حالانہ پہلے ہی اسرایئلی تعداد میں بہت کم تھے؟
جواب: مضمون کے مطابق یہ مصر کے ان گھرؤںکی طرف اشارہ کیا جارہا جس میں فسح کی عید کی خوشی نہیں کی گئی تھی۔
سوال: خروج باب ۱۲ آیت ۳۵ ہم سے کہتی کہ خداوند نے اسرایئلوں کو مصریوں سے ادھار مانگنے کا کیوں کہا جبکے انھوں نے ان کی چیزیں واپس نہیں کانی؟
جواب: اس عبرانی لفظ کا ترجمہ پوچھنے کا کہا جا سکتا تھا ( واپس کرنے کے ارادے کے بغیر) اور جیسے توریت کے یونانی متن اسکا ترجمہ کیاگیا اس لحاظ سے اسکا ترجمہ کیا جاسکتا تھا اور سمجھا جا سکتا تھا۔ جیسے کہ کیوں اسرایئلوں نے مصریوں کی چیزوں کو لے جانے کا سوال کیوں کیا، اس جواب کے لیے خروج باب ۳ آیت ۲۲ بیانات ملاخط فرمایئں۔
سوال: خروج باب ۱۳ آیت ۲،۱۳ کے مطابق کیا اسرایئلی پہلوٹھے بچے کو (بیٹا یا بیٹی ) کو مقدس ٹھہراتے تھے یا خروج باب ۲۲ آیت ۲۹ کے مطابق صرف پہلوٹھے بیٹے کو؟
جواب: عبرانی اور تمام جدید تراجم نے اسکو بیٹا ہی کہا۔ خروج باب ۱۳ آیر ۲ کے مطابق
خروج باب ۱۳ آیت ۱۳ کے مطابق تمھارے بیٹوں میں ہر آدمی کا پہلوٹھا ۔
پرانے بادشاہ کے ترجمے کے مطابق صرف پہلا بچہ ہے۔
سوال: خروج باب ۱۳ آیت ۴ کے مطابق یہ ابیب کا پہلا مہینہ تھا یا نحمیاہ باب ۲ آیت ۱ کے مطابق نیسان تھا؟
میں اسرایئلوں کو ابیسب میں کہا گیا تھا۔( 1445b.c)جواب: اس وقت
ایران کے زیر تحت انھیں نٓیسان کہا گیا۔
سوال: خروج باب ۱۳ آیت ۱۹ کے مطابق ( c 500b.c)بہت صیوں بعد
یوسف کے ہڈیوں کو محفوظ کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے، اور جیسے کہ کچھ کتھلیک مسیحی کہتے ہیں کہ مسیحیوں کو مقدس شخصیت کی جسم کی ہڈیوں کی عزت وتوقیر کرنی چاہیے؟
جواب: نہیں ہر دفعہ دفنانے کے لیے ہڈیوں کو محفوظ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہڈیوں کی عزت و توقیر کی جاتی تھی۔ بابئل میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے جس میں یوسف یا کسی اور کی ہڈیوں عبادت کی غرض مقدس سمجھھ کر نہیں رکھا گیا۔ دوسرے حکم کے مطابق خداوند کے چامنے کوئی مجسمہ نہیں ۔تقریبأ پورے درمیانی زمانے میں بہت سے کتھولک بہت سی اقسام کے گناہ کر چکے ہیں۔ جن میں
بہت مشہور ہیں۔ ان کی بہت سی فہرستوں کے متعلق سب سے
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریبأ وہ سب دوسرا حکم بھول گئے تھے۔
سوال: خروج باب ۱۳ آیت ۲۱ تا ۲۲ خروج باب ۱۴ آیت ۱۹ تا ۲۰ خروج باب ۴۰ آیت ۳۸ کے مطابق خداوند کیسے اسرایئلوں کے ساتھھ بادل اور آگ کے ستوں میں چل سکتا تھا؟
جواب: تاہم خداوند پہلے ہی تین ملاقاتیوں کی صورت میں ابراہیم پر اور جھاڑی میں آگ کی صورت میں موسیٰ پر ظاہر ہوچکا تھا، خداوند کے لیے بادل یا آگ کے ستون میں ظاہر ہونے کی مشکل بات نہیں۔ غالبأ ہمارے لیے یہ بہت مشکل ہے ہم اپنی سوچ کے سانچے کو توڑنا چاہیے جس کے مطابق ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ خداوند جسطرح چاہیے ظاہر ہو سکتا ہے یا نسبت اسکے کہ ہم یہ سوچیں کہ خدا کیا کر سکتا ہے۔
سوال: خروج باب ۱۳ آیت ۲ تا ۲۲، خروج باب ۱۴ آیت ۱۹ تا ۲۰ ہم سے کہتی ہے کہ فرعون کیسے صرف چھھ سو رتھوں کے ساتھھ اسرایئل کا پیچھا کر سکتا تھا؟
جواب: تا ہم قدیم زمانے میں رتھوں کو جنگ کے لیے ہیبت ناک ہتھیار سمجھا جاتا تھا، اور بہت سے اسرایئلوں کے پاس ہتھیار نہیں تھے جواب یہ ہے کہ خروج باب ۱۴ آیت ۷ یہ کہتی ہے کہ فرعون نے چنے ہوئے چھھ سو رتھھ اور دوسرے سب رتھھ ساتھھ لیے اور خروج باب ۱۴ آیت ۱۹ کہتی ہے تمان لشکر خروج باب ۱۵ آیت ۴ میں بھی فرعون کے تمام رتھوں اور لشکر کا ذکر ملتا ہے۔
سوال: خروج باب ۱۴ آیت ۶ تا ۷ میں ہے کہ اس وقت مصری رتھھ کسطرح کے تھے؟
جواب: شمالی میسوپوٹامیا کے ماہرین آثار قدیمہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اس وقت کے رتھھ ایک ریڑھی کی طرح ہوتے تھے جس میں تین یا ۴ لوگ b.c نے (Hykose)اور ۴ گدھے یا