۲۔کرنتھیوں

 

 

سوال:  ۲کرنتھیوں۱:۱ ، ۱  کرنتھیوں۱: ۲ ، ۱ تھسلنکیوں۱: ۱، اور ۲

تھسلنکیوں۱:۱ میں ، اُس وقت شہر میں صرف ایک چرچ تھا، کیا یہاں ہر شہر میں صرف ایک چرچ ہونا چاہیے؟

جواب:  یہاں مسیحی اتحاد کے اسلوبِ بیان کے تین مواقع ہیں: ایمانداروں کا یکساں مقامی اجتماع میں ہونا، ایماندار مختلف اجتماعات سے، اور مختلف کلیسیاوں کے درمیان اتحاد۔ یہ جواب صرف تیسرے موقع سے مخاطب ہے، اُن چار نقاط کے ساتھھ جنہیں جواب میں قیا س کیا جاتا ہے۔

 

۱۔   اِن چارایات کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں صرف ایک مِلنے کی جگہ ہونی چاہیے، خاص طور پرایک شہر میں  ہزاروں سیکنڑوں مسیحیوں کے ساتھھ۔

۲۔   انسانی نظم و نسق چلانےوالے حکم چلاتے ہوے کچھ نہیں کہتےکہ کیسے کلیسیایں منظم کی جاتی ہیں ۔ وہ بہت سی جغرافیاءی جگہوں میں ہو سکتی ہیں، اِس کے ذریعے کلیسیایں تعلیم و تربیت اور دوسری انقسام کی وجہ سے واجب نہیں ٹھہرتیں۔

۳۔   تمام خالص مسیحی پہلے ہی یسوع مسیح کی ایک سچی کلیسیا کا حصہ ہیں۔ اگر ایک مسیحی کی وفاداری اپنی مقامی کلیسیا یا عقیدے سے اپنی خداوند کی وفاداری سے زیادہ ہے ، پھر وہ مسیحی اپنی غلط وفاداریوں کو رکھتا ہے۔

۴۔   بد قسمتی سے ، بہت سے مسیحی راہنماسنجیدہ طور پر مسیحیوں کے درمیاں اتحاد پر احکامات اور تعلیمات کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔افسیوں۴ :۳۔۴، فلپیوں۱ :۲۷، ۲: ۱ ۔۴، ۴ :۲، رومیوں۱۵ : ۵۔۷، یوحنا ۱۷:  ۲۰ ۔۲۳کو پڑھیے۔ مزید بحث کےلیے اگلے سوالات اور سوالات کو۱ کرنتھیوں۱: ۱۰۔۱۴ ، اور افسیوں ۴ :۴ پر دیکھیے۔

 

سوال:   ۲کرنتھیوں۱: ۱ میں ، بایبل ہر شہر میں ایک چرچ کی مثال دیتی ہے، اور نہ گنی ہوی مثالوں کو ، پھر کیا مقامی چرچ کی تعلیمات کے طور پر مثال کو ہمارا حکمران ہونا چاہیے؟

جواب:   نہیں۔ اگر آپ کا یقین ہے کہ ہر مثال ، اِس کے بغیر آیا کہ یہ ایک حکم ہے یا گنِی ہوی مثال اِس کا اتباع کرنا چاہیے، پھر مسیحیوں کو اِسے رکھنا ہو گا :

الف )عمارات میں کبھی نہ مِلنا، صرف گھروں میں مِلنا( ۱ کرنتھیوں

۱۶: ۱۹ ، فلیمون۲)۔

ب)  کسی وجہ کےلیے مدعی کے طور پر کھبی عدالت میں نہ جانا ۔

ج)  آدمی کبھی پینٹ نہ پہنتے۔ سب صرف چپلیں پہنتے، نہ کہ جوتے۔

د)   نیی دُنیا سے کبھی آلو، اناج، جالا پینو مرچیں یا دوسری خوراک نہ کھاتے۔

ر)   بایبل کے اوقات میں وہ آیس کریم ، پیزہ، پوپ سلیس، یا مختلف کھانے کی چیزوں کو نہیں جان سکتے تھے۔

س)  عبادت میں انگریزی کو استعمال نہ کرتےجیسے کہ یہ بایبل کے لکھاریوں کےلیےاجنبی تھی۔

ش)  کبھی کاروں، سایکل ، جہازوں یا تربیتی مشنری میں سواری نہ کرتے۔

ص)  مسیح کے وقت کے بعد کبھی تربیتی اوزار اور کسی ایجاد کی ہوی مشین کا استعمال نہ کرتے۔

ض)  کبھی ریفریجریٹر، بجلی، گیس، ریڈیو ، یا ٹی وی کو نہ رکھتے۔

ط)    دوسرے انوکھے اصولوں کو۔

بلکہ ہمیں کلام کی مثالوں کی پیروی کرنی چاہیے، یہاں تک کہ حکم کے بغیر اگر :

۱۔ یہاں ذیلی مثال کےلیے اچھی وجہ ہے،

۲۔ اگر یہاں گِنی ہوی مثال نہیں ہے، اور

۳۔ یہاں گنی ہوی مثالیں سادہ طرح وقت ، ٹیکنالوجی ، تہذیب، غیر اخلاقی فطرت کے حالات کی وجہ ہے۔

اگر کوی چیز اِن تینوں آزمایشوں سے نہیں مِلتی ہیں ، پھرکیا ایسا کرنا غیر ضروری طور پرخود بخود درست ہے ؟  

ہمیں انصاف کرنا چاہیے کہ ہمیں  اقتباس کے علم کے ساتھھ معمور ہوتے ہویے کیا کرنا چاہیے اور پوچھناچاہیے کہ ،'' خدا ہم سے کیا کروانا چاہے گا؟"

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱: ۴ میں، کیا ہمیں مجرموں کو تسلی دینی چاہیے، ایڈز سے ہم جنس پرستی کی تکلیف کوبرداشت کرنے کی مشق کرتے ہوے، اور دوسرے جو ٹھیک طور پر تکلیف برداشت کرتے ہیں؟

جواب:   جی ہاں۔ ۲ کرنتھیوں۱ اِس کی حد مقرر نہیں کرتا کہ ہمیں کسے تسلی دینی ہے۔ جب ہم دوسروں کو تسلی دیتے ہیں جو راست طور پر اذیت برداشت کرتے ہیں ، ہمیں مندرجہ ذیل کو ذہن میں رکھنا چاہیے:

۱۔  اُنہیں ہمارے ذریعے خدا کی چمکتی ہوی محبت کو دیکھنےکی ضرورت ہے، اور یہ جاننے کی کہ خدا اُن سے محبت کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ وہ توبہ کریں اور اُس کے بچے بنیں۔

۲۔  ہمیں اُن کے جُرم میں بسنے کی ضرورت نہیں ، لیکن ہمیں معمولی یا غیر ضروری طور پر اُن کے جُرم سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں اُنہیں یہ کہتے ہوے بحھڑاوہنہیں دینا چاہیے کہ یہ بے انصافی ہے کہ وہ پکڑے گے،یاایسی زندگی یا نظام بےانصافی ہے۔

۳۔  جبکہ ہم اُن کے گناہ کو کم نہیں کر رہے ہیں ، ہمیں زور دینا چاہیے کہ مسیح ہمارے گناہوں کے لیے معافی اور شفا کو لاتا ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں۱: ۶ میں ، کیسے پولس اور تیمتھیس کی مصیبتیں کرنتھیوں کو تسلی اور نجات دیتی ہیں ؟ لوگ عموماً یہ سُننے سے تسلی نہیں پاتے ہیں جسے دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں ۔

جواب:   لوگ سُننے سے تسلی پاتے ہیں کہ ایک عزیز دوست مصیبت(تکلیف)کی وجہ سے گُزر گیا ٹھیک ہے۔ پولس کا انجیل کی خاطر تکلیف برداشت کرنا کرنتھیوں اور دوسروں کےلیےیسوع کی نجات کو لایا۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں۱: ۸۔۹ میں ، پولس کیوں خود زندگی سے مایوس ہوا، جب پولس نےفلپیوں۱: ۲۱ میں کہا ،"کیونکہ زندہ رہنا میرے لیے مسیح ہے اور مرنا نفع۔"؟

جواب:  فلپیوں۱: ۲۱ نے اُس رویے کو دکھایا جسے پولس قید میں رکھتا تھا اور وہ رویہ ہمیں رکھنا چاہیے۔ پولس تنہای کے لمحات کو رکھتے ہویے ایک انسان تھا، اور۲ کرنتھیوں۱: ۸۔۹ میں ، پولس راست باز تھا ،اور مختصر طو ر پر یہ بیان نہیں کر رہا تھا کہ اُس وقت کتنا کم تر اُس نے محسوس کیا۔

یہاں ایک نقطہ ہے جسے مسیحی اپنی ذاتی زندگیوں پر لاگو کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کسی چیز کے بارے محسوس کرتے ہوے درست طریقے سے سکھاتے ہیں، اب آپ نے اُس وقت مختلف طریقے سے محسوس کیا، ٹھیک ہے،اِسے قبول کرتے ہوہے دوسروں کے ساتھھ مخلص بننا جب آپ ایمان میں کمزور تھے۔ بے وفای کو رکھنےکی بجاے زیادہ اہم ایک دوسرے کےلیے :ہمیشہ خوش" رہنے والا چہرہ رکھنا ہے، تحقیق شُدہ بننا اور دوسرے بہن بھایوں کے ساتھھ پاسبانی نہ کرنے والے بننا۔

 

سوال: ۲ کرنتھیوں۱ :۱۵۔۲۰ میں کیا پولس نے یہ کہتے ہوے جھوٹ بولا تھاکہ اُسے دوبارہ آنا تھا اور پھر نہ آیا

جواب:  پولس نے اُن کے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ وہ آے گا ، اُس نے صرف اُن کو بتایا کہ وہ آنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ آج، ہمیں کسی کے وعدہ کرنے او ر سادہ طرح اپنے اِرادوں کو ظاہر کرنے کے درمیان تمیز کرنی چاہیے۔ جب صورتِ حال تبدیل ہوتی ہے، یہ اُن کے ارادے کے تبدیل ہونے کےیے اچھا ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱: ۱۷۔۱۹ میں کیا ایمانداروں کو ہمیشہ وعدے پر واپس جانا چاہیے؟

جواب: بایبل مندرجہ ذیل حالتوں کے سِوا، اشارہ نہیں کرتی ہے۔

۱۔     ایک عورت کو اپنے گھر میں رہتے ہوے اپنے باپ سے اجازت نہیں ملتی ہے (گنتی ۳۰: ۳ ۔۵ )

۲۔   ایک بیویٰ اپنے شوہر سے اجازت نہیں پاتی ہے(گنتی ۳۰: ۶۔۸ ، ۱۵)

۳۔   بےشک ، ہماری پہلی اولیت خدا کو خوش کرنا ہے۔ پس، آپ کو وعدہ نہیں کرنا چاہے اگر یہ گناہ کا اور خدا کی نافرمانی کا وعدہ تھا ۔

۴۔  اصولی طورپر ۳ کے ساتھھ ، بہت سے مسیحی دیکھتے ہیں کہ وعدہ کرنا ےا سچ بتانا ایک شخص کے قتل کےلیے مدد کرے گا ، پھر ہمیں اُن کی زندگی کی حفاظت کی تلاش کرنی چاہیے۔ اِسی لیے کچھھ مسیحوں نے نازس سے جھوٹ بولا جب نازس نے پوچھا کہ اگر وہ کسی یہودیوں کو چھپا رہے تھے۔ پچھلے سوال کو بھی دیھکیے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۲: ۵ میں ، کیا پولس "کسی شخص پر غصہ تھا جس نے پولس کو ناراض کیا تھا "  جیسے ایک شخس نے قیاس پیش کیا؟

جواب:   یہاں اِس قیاس کی کوی گواہی نہیں ہے۔ شخص نے کچھ غلط کیا ، اور ۲ کرنتھیوں نہیں کہتا جویہ تھا ۔ بہر حال ، زیادہ تر سوچتے ہیں کہ یہ وہی شخص تھا جو ۱ کرنتھیوں۵ :۱۔ ۱۳ مےں بد کردار تھا ۔

مزید براں، غصہ یہاں پولس کے احساسات کی درست وضاحت نہیں ہے، پولس نے محض ۲ کرنتھیوں  ۲:۴ میں کہا تھا کہ جو اُس نے لکھا تھا وہ " ٓانسووں کے ساتھ تھا" اِس طرح افسردگی اور مایوسی وہ تھی جسے پولس نے محسوس کیا ، با نسبت اُس غصے کے جو یہاں اِس شخص پر تھا۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۲: ۱۲۔۱۳ میں ، جبکہ پولس کےلیے ترواس میں خوشخبری کےلیے دروازہ کھُل گیا ، کیا اُسے وہاں ہی چھوڑ دینا چاہیے تھا اور مکدونیہ چلے جانا چاہیے تھا جیسے اُس نے کیا؟

جواب:  جبکہ ہم پولس کی خاص حالت کے بارے ساری تفصیلات کو نہیں جانتے ، کوی ایک عموماً دو چیزیں کہہ سکتا ہے۔

۱۔ سب سے اہم چیز خدا کی فرمانبرداری کرنا ہے، اور ہر کھُلے دروازے سے نہیں گُزرنا ۔

۲۔ جب ہم زیادہ دیر تک کسی ایک کو دیکھتے ہیں ، خدا رحمانہ طور پر ہمارے احساسات کو بھی سمجھتا ہے۔

سوال:  ۲ کرنتھیوں۲: ۱۴ میں ، جبکہ مسیحی ہمیشہ مسیح میں کامیاب ہوتے ہیں ، پھر کیوں مسیحی بعض اوقات گِرتےہیں؟

جواب:   ۲ کرنتھیوں ۲ : ۱۴ اِس مفہوم کی طرف اشارہ نہیں کرتی کہ مسیحی ہمیشہ ہر چیز پربے گناہ کے طور پر فتح یاب ہوتے ہیں ، مسیحیوں کے لیے ابھی تک گناہ ہے۔ بلکہ ، ہم صلیب پر مسیح کی فتح یابی کا حصہ ہیں۔ اور ہم عام طور پر زندگی پر فتح یا ب ہونگے، جب ہم فتح مند بہادروں کےدیوان میں داخل ہوتے ہیں : یہ کہ ، آسمان میں۔

 

سوال:   ۲ کرنتھیوں۲: ۱۷ میں، جبکہ بہتیروں نے خدا کے کلام کو بگاڑا، کیا ہم صرف خدا کے بگڑے ہوے کلام الفاظ کو رکھتے ہیں اور خدا کا سچا کلام زمین سے ختم ہو چُکا ہے؟

جواب:   نہیں ۔ دھوکے باز اُستاد اب بھی یقین رکھتے اور خدا کے بگڑے ہویے کلام کو سکھاتے ہیں ۔ بہر حال ، خدا کا سچا کلام کبھی غیر حاضر نہیں ہو گا ، اورخدا کا کلام کبھی کھویانہیں جاے گا جیسے یسعیاہ ۵۹:۲۱ وعدہ کرتا ہے ۔

 

سوال:  کیا ۲ کرنتھیوں۳ : ۱۳ کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ کا اپنے چہرے پر نقاب رکھنا اِس وجہ سے تھا کہ یہودی مسیح کے لیے اندھے تھے؟

جواب:  نہیں۔ پولس نے خروج ۳۴: ۳۳ ۔۳۵ کی بنیاد پر مطابقت کے طور پر اِسے ڈالا یہ تشریح کرنے کے لیے کہ کیسے لوگ خدا کے جلال کے اِتنے قریب تھے وہ اب بھی اتنے اندھے ہو سکتے تھے۔ پولس یہ بھی دکھاتا ہے کہ یہ کتنا ضروری تھا کہ پہلی مرتبہ خداوند کی طرف مُڑنا اندھا بننا نہیں تھا ۔

 

سوال:  کیا ۲ کرنتھیوں ۳ :۱۷کہہ رہی ہے کہ خداوند روح ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مسیح روح القدس ہے جیسے واحد پینٹیکاسٹل یقین رکھتے ہیں؟

جواب:  تثلیثی خدا روح ہے ، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ یسوع کےلیےجسمانی بدن بھی رکھنا ناممکن تھا، دونوں جی اُٹھنے کے بعد اور پہلے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں۴ :۳ ۔۴میں ، کیوں خدا اُن کے لیے خوشخبری(انجیل) پر پردہ ڈالنے کی اجازت دے گا جو ہلاک ہو رہے ہیں؟

جواب:   اُن کے لیے جو خدا کے بارےے سچای کو روکتے ہیں ، اُنہیں پہلے ہی دی جا چُکی ہے ، ( رومیوں ۱:۱۸۔۳۲)، خدا اِس احسان نیچے نہیں ہے کہ وہ اُنہیں مزید سچای دی ۔ بلا شُبہ، اگر کوی شخص خدا کو رد کرے گا ، ۲ پطرس ۲: ۲۰۔ ۲۲ دکھاتی ہے کہ وہ جنتا زیادہ کم جانتے ہیں یہ اُن کے لیے بہتر ہو گا ۔

 

سوال: ۲ کرنتھیوں ۴: ۴ میں اِس جہان کا خدا کون ہے؟

جوا:  یہ شیطان ہے ، جسے ۱ یوحنا ۵: ۱۹ کے مطابق اِس دُنیا پر قابض رہنے کی سند (ڈگری) دی جا چُکی ہے۔ اُسے یوحنا ۱۲: ۳۱ ، ۱۴ : ۳۰ اور ۱۶ : ۱۱ میں اِس دُنیا کا شہزادہ کہا گیا ہے۔ شیطان کو افسیوں ۲ :۲ میں ہوا کی بادشاہی کا حکمرا ن بی کہا گیا ہے۔ افسیوں ۶: ۱۲ اور کُلسیوں ۱ : ۱۳ کو بھی دیکھیے۔

حاشیہ کی تحریر کے طور پر ، لیہونز  کا بشپ آیرینیس ، تحریر ( ۱۸۲ ۔۱۸۸ عیسویٰ) پولس کی اِس آیت پر بحچ کرتے ہوے، اِس آیت کی فرق تشرہح رکھتا ہے۔ اُس نے سوچا کہ" اِس جہان کا خدا " سچا خدا تھا ، اور سچے خدا نے غیر ایمانداروں کواندھا کر دیا

  کی کتاب۳، باب ۷ ۔۱ صفحہ ۴۲۰ میں۔ Irenaeus Against Heresies

ابتدای کلیسیا کے لکھاری خدای ( پرہیز گار) آدمی تھے ، لیکن اُنہوں نے Irenaeus Against Heresies بھی غلطی کی۔ بہر حال،    

کتا ب ۳ باب ۶۔۲ میں وہ ذکر کرتا ہے کہ اقتباس جھوٹے خداوں سے مخاطب ہے جیسے خدا معنی خیز اضافے کے زریعے کہ وہ سچای میں ہیں بالکل خدا نہیں ہیں ۔ حصہ ۴۶ سفحہ ۵۷۵ میں  آیرینیس یہ بھی کہتا ہے کہ اِس جہان کا خدا شیطان ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۴ : ۷ میں "مٹی کے برتن " کونسے  ہیں جو خزانے کو رکھتے ہیں؟

جواب:  اِس سوال کا جواب دینے کے لیے، ہمیں پہلے یہ جاننا ہے کہ خزانہ کیا ہے ، اورآیات پر پہلے اور بعد میں غور کرنا ہے۔ " یہ خزانہ" ۲ کرنتھیوں ۴ : ۶ کے مطابق خاظ طور پر"یسوع کے چہرے پر خدا کے جلال کی پہچان کا نور ہے" ۲ کرنتھیوں ۴ : ۸ ۔ ۱۰ دکھاتی ہے کہ ہم ہر طرف سے مصیبت تو اُٹھاتے ہیںلیکن لاچار نہیں ہوتے(۴: ۸ )

حیران تو ہوتے ہیں مگر نا اُمید نہیں ہوتے (۴ : ۸ )

ستاے تو جانتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے( ۴ : ۹ )

گِراے تو جاتے ہیں مگر ہلاک نہیں ہوتے ( ۴ : ۹ )

ہم ہر وقت اپنے بدن میں یسوع کی موت لیے پھرتے ہیں تاکہ یسوع کی زندگی بھی ہمارے بدن میں ظاہر ہو۔( ۴ : ۱۰ )

کیونکہ ہم جیتے جی یسوع کی خاطر ہمیشہ موت کے حوالے کیے جاتے ہیں تاکہ یسوع کی زندگی بھی ہمارے فانی جسم میں ظاہر ہو ( ۴ : ۱۱)

پس موت(شہادت) تو ہم(پولس اور اُس کے ساتھی) میں اثر کرتی ہے اور(اِس طرح) زندگی( ابدی) تُم میں(کرنتھیوںمیں)۔ (۴: ۱۲ )

 

اضافہ کرتے ہوے مٹی کے برتنوں کو اُس مقصد کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے مالک چاہتا ہے( یرمیاہ ۱۸ :۱ ۔۱۰)، کچھ برتن عزت کے مقاصد کےلیے اور کچھ ذلت کےلیے ہوتے ہیں( ۱ تیمیتھیس۲ : ۲۰ ۔۲۱ )

یہ دلچسپ ہے کہ ۲ کرنتھیوں ۴ : ۸ ۔ ۱۰ بالکل کوی سمجھ نہیں بناے گا ۲ کرنتھیوں ۴ :۶ کے بعد رکھے جانے کے لیے جب تک کہ ۲ کرنتھیوں ۴ : ۷ درمیان تھی، پُر تجسس طور پر دو کو مِلاتے ہوے۔

مٹی کے برتن " ہم" (۴ : ۸۔ ۹ ) ہمارے بدن(۴ : ۱۰ ) اور ہمارے فاجی جسم ہیں ( ۴ :۱۱ )۔

خدا اِس بڑے خزانے کو ہممیں رکھنے کا انتخاب کر چُکا ہے، جنہیں غیر خوشامدانہ طور پر مٹی کے برتن کہا گیا ہے۔ مٹی کے جار بہت واضح دکھای دیتے ہیں ، اور برتن زیادہ مضبوط نہیں ہوتے ، اِسی ٹکڑے ٹکڑے کر دالنا ہر ایک کے لیے آسان ہے۔ اِس کے باوجود ، مٹی کا برتن کار آمد ہو سکتا ہے ، اور یہ بغیر ٹپکنے کے اپنے اندر وفاداری سے پانی جیسی چیزوں کو رکھ سکتا ہے۔

بایبل میںیہ بنیادی طور پرنیا تجربہ ہےکہ خزانہ جسے خدا نے ہمیں دیا جمع شُدہ ہے، جو نہ کسی ڈبے میں ےا کسی صندوق مہں ہے، بلکہ ہمارے اندر ہے۔ پُرانا عہد نامی اِس کی پیشن گوی کرتا ہے جب اِس نی کہا ، " بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اسرایل کے گھرانے سے باندھو گا ۔ خداوند فرماتا ہے میں اپنی شریعت اُن کے باطن میں رکھوں گا اور اُن کے دل پر لکھوں گا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور میرے لوگ ہونگے ۔ اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھای کو یہ کہہ کر تعلءم نہیں دیں گے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک سب مُجھے جانیں گے خداوند فرماتا ہے۔ یرمیاہ ۳۱ : ۳۳ ۔ ۳۴ )

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۵ :۲ میں ، پولس کیوں یہاںاِس زمین پر رہتے ہوے اتنا بیزار تھا ؟

جواب:  بالکل اُنہی وجوہات کے لیے جیسے کوی شخص جوبہت مہینوں سے سڑک پر ہے وہ مشتاق ہو سکتا ہہے جب وہ گھر واپس آنے اور اپنے خاندان کو دیکھنے کے قریب ہوتا ہے۔  ہم مسیحی مسیح کو رو برو دکیھنے کے لیے بیقرار ہیں ، اور اُن تمام ایمانداروں سے مِلنے کے لیے جو ہم سے پہلے جا چُکے ہیں ۔ کچھ دیکھیں گےکہ پولس کا ارادہ تھا ، لیکناچانک خیمےسےلباس کے استعارے کی تبدیلی ہو سکتی ہے کیونکہ ، خیمے بنانے والے کے طور پر ، پولس نے سمجھا کہ اُسی کپڑے کو بعض اوقات دونوں کپڑے اور خیمے بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۵ : ۲ میں ، کیسے یسوع گنا ہ بنا؟ کیا شیطان نے یسوع کے بدن میں مداخلت کی ، جیسے بہت سے جھوٹے اساتذہ نے ریورنڈ۔ مُون کوشامل کرتے ہوے سکھایا ۔ الہی اصول میں چاند ( پانچواں ایڈیشن ۱۹۷۷ ) صفحہ ۱۴۷۔ ۱۴۸ ، ۳۳۰؟

جواب:   نہیں ۔ یسو ع نے ہم پر گناہ کی سزا کو لے لیا ، اور خدا باپ کی علیحدگی کو محسو س کیا جس کے ہم سب مستحق تھے ۔ اِس کا ذکر کیاجانا چاہیے کہ ہم خیال کلیسیا کے ایک رُکن نے ایک مباحثے میں انکار کر دیا کہ یسوع کا بدن شیطان سے مداخلت شُدہ تھا ۔ بہر حال ، یہاں وہ ہے جسے ریورنڈ مُون نے اپنے الہی اصول ( پانچویں ایڈیشن ۱۹۷۷ )میں سکھایا۔

الہی اصول صفحہ ۱۴۸" یسوع جسمانی نجات کی دور اندیشی کے مقصد کو سرانجام نہیں دے سکتا تھا کیونکہ اُس کا بدن شیطان سے مداخلت کیا ہوا تھا ۔ بہر حال ، وہ صلیبی خون کے ۔۔۔ ذریعے ۔۔۔ روحانی نجات کی بنیادوں کو قاءم کر سکتا تھا ۔ "

الہی اصول صفحہ ۳۳۰ " اِس ( موسیٰ کو دو مربتہ چٹان کو مارنا) امکان کی پیشن گوی کہ جب یسوع، ذاتِ حق چٹان ، آے گی ، اُس کا جسم مصلوب ہونے کے ذریعے شیطان سے مداخلت کیاجاے گا ، لوگوں کی بے یقینی کی وجہ سے ۔۔۔۔''

الہی اصول صفحہ ۱۴۷ ۔ ۱۴۸ :" کیونکہ یہودی لوگوں نے یسوع کا یقین نہ کیا اور اُسے مصلوب کونے کے لیے حوالے کر دیا ، اُس کا بدن شیطان سے حملہ آور ہو چُکا تھا ، اور وہ مارا گیا تھا ۔ اِسی لیے ، یہان تک کہ جب مسیحی ایمان رکھتے ہیں اور یسوع میں ایک بدن ہوتے ہیں ، جس کا بدن شیطان سے مداخلت شُدہ تھا ، اُن کے بدن ابھی تک شیطان کے تصرف کے محکوم ہیں ۔"

الہی اصول صفحہ ۵۱۰، " ا،س کے باوجود ،۔۔۔ یسوع کے جسمانی بدن کو شیطان کے ہاتھوں میں سپر د کر دیا گیا تھا یہودیوں کی تجدید اور تمام بنی نوع انسان کے واپس خدا کی گود میں آنے کے لیے چھٹکارے کی شرط کے طور پر ، اُس کا بدن شیطان سے حملہ آور تھا ۔ فطرتی طور پر ، انسان کی جسمانی نجات کو پورا کیے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا ، اور یسوع مرا، وعدہ کرتے ہویے کہ اِسے پورا کیا جاے گا جب خداوند دوبارہ آے گا ۔" ( نوٹ کیجے یہ" خداوند" کہتی ہے نہ کہ 'وہ' ےا ' یسوع')

بایبل میں، اِسےاعمال ۲ : ۳۱ ۔ ۳۲ کے ذریعے غلط ثابت کیا گیا ہے ، زبور ۱۶ : ۱۰ کا حوالہ پیش کرتے ہوے ، کہ کہتے ہوے کہ یسوع کا بدن خرابی(سڑنے) کو نہ دیکھے گا ۔ جب یسوع یوحنا ۲۰ : ۲۴۔ ۲۸ میں  توما اور دوسرے شاگردوں پر ظاہر ہوا ، یسوع نے کیلوں کے نشانات اور پسلی میں سوراخ کے وسیلے ثابت کیا کہیہ وہی بدن ہے جو زندگی کے لیے جی اُٹھا۔ یوحنا ۲ : ۱۹ ۔ ۲۱ میں ، یسوع نے اِس کا بھی ذکر کیا کہ اُس کا بدن جی اُٹھے گا ۔ یسوع قایم مقامانہ طور پر ، ہمارے لیے گناہ بنا ، لیکن وہ ذاتی طور پر کبھی گناہگارنہ تھا ۔

 

سوال:  کیا ۲ کرنتھیوں ۵ : ۷ میں، " کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر"کسی آلہ کے میوزک سے تعلق رکھتا ہے؟

جواب:   بالکل نہیں، نفرت جو چرچ آف کرایسٹ کا مصنف سکھاتا ہے۔ اِس کا تعلق مزید کسی آلہ کے میوزک سے نہیں ہے بلکہ اِس آیت کا تعلق گانے اوریا تالیاں بجانے سے ہے۔ چرچ آف کرایسٹ کا کتابچہ عبادت میں آلاتی میوزک صفحہ ۲۸ کہتا ہے کہ عبادت میں آلاتی میوزک "۱۔ یمان کی شریعت کی بے حُرمتی کرتا ہے( ۲ کرنتھیوں ۵ : ۷، عبرانیوں۱۱ :۶ ، رومیوں ۱۰ : ۱۷ )۔ اِسی طرح دی گی دوسری دو آیات آلاتی میوزک کو مدد دینے کے طور پر ایمان کی شریعت کی بے حُرمتی کا کچھ بھی تعلق میوزک سے نہیں ہے ۔ "

صفحات ۳ ۔۵ پر مصنف ، جیمس  ایم۔ ٹولے، یہ کہنے کی کوشش کر تا ہے کہ کوی عبادت جسے الہی کلام میں آشکارہ نہیں کیا گیا ایمان سے نہیں ہے ، اور مسیح کے مکاشفہ کی جزیات کا خیال رکھتے ہوے تحقیق آلاتی میوزک کی عبادت میں ایک لفظ کو منظِر عام پر نہیں لاءے گی ۔ بہر حال ، پُرانا عہد نامہ خدا کا کلام ہے ، اور مکاشفہ کی کتا ب درحقیقت یسوع مسیح کا مکاشفہ ہے۔ نیا عہد نامہ منبر کا ذکر نہیں کرتا ۔ اگر ہم جُزوی طور پر پُرانے عہد نامے کو نظر انداز کرتے ہیں جیسے کہ نحمیاہ۸: ۴ ، کوی ایک مضبوط تر معاملہ بنا سکتا تھا کہ ہممیں چرچ میں منبر نہیں رکھنا چاہیے اِس کی بجاے کہ ہمیں کبھی آلاتی میوزک نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ دےیکھنا افسوس ناک ہے کہ کیسے لوگ مکمل طور پر غیر مناسب آیات کو اپنی خاص جماعت کی مدد کے  لے استعمال کرتے ہیں ۔

اب مبشرانِ انجیل ممسیحی نہیں کہتے کہ کلیسیاوں کا لازماً میوزیکل آلات رکھنے ہیں ، یا کہ ایک شخص خالص مسیحی نہیں بن سکتا اگر وہ اِس نقطے پر غلط ہیں ۔ بہر حال ، یہ معاملہ میوزک کی بجاے مزید سنجیدہ ہو سکتا ہے، جیسے شریعت لوگوں کو فضل اور آزادی کا تجربہ کرنے سے جاری رکھ سکتی ہے جو مسیح میں ہیں ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۵: ۱۰ میں ، کیا غیر ایماندار مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے آتے ہیں ؟

جواب:  نہیں ، یہاں دو عدالتیں ہیں ۔

۱۔   پہلی عدالت مکاشفہ ۲۰: ۱۱۔ ۱۶ میں بڑے سفید تخت کی عدالت ہے، جہاں ایمانداروں کا یسوع کے وسیلے راستباز ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگرچہ کچھ مسیحی سوچتے ہیں کہ ایماندار بڑے سفید تخت پر موجود نہیں ہیں ، تمام مسیحی متفق ہیں کہ ایماندار بڑے سفید تخت کی عدالت کا کوی خوف نہیں رکھتے۔

۲۔   ۲ کرنتھیوں ۵ :۱۰ دوسری عدالے کے بارے بات کر رہی ہے جسے " بیمہ تختِ عدالت " کہتے ہیں ، محض ایمانداروں کے انصاف کیے جانے کےلیے جو اُنہوں نے مسیح کے لیے کیا اور مناسب طور پر اُن کا اجر۔ مزید تفصیلات کے لیے ۱ کرنتھیوں ۳ : ۱۲ ۔۱۵ پر کی گی بحث کو دیکھیے۔

 

سوال:    ۲ کرنھیوں۵ :۱۱ میں ، کیا مسیحیوں کو " خدا کے خوف" کو جاننے کی ضرورت ہے؟

جواب:    جدید ترجمے کہتے ہیں" خدا کا خوف" ہم مسیحیوں کو خدا کے خوف کو جاننا ہے ، خدا کے لیے عزت اور احترام کے موزوں طریقے سے، اور اُن کے لیے بھی خوف جو خداوند کو نہیں جانتے ۔ دوسری آیات جو ہمارے موزوں خدا کے خوف کے بارے بات کرتی ہیں وہ پیدایش ۲۲: ۱۲، امثال ۱: ۷، ۱ سیمویل ۱۲: ۱۴ ، ۲ تواریخ ۶: ۳۳، ۱۹ : ۷ نحمیاہ ۵ :۹ ، زبور ۱۹: ۹، ۲۲ : ۲۵ ، ۳۳ : ۸ ، ۱۱۹: ۷۴، ۱۲۸ :۱ ، واعظ ۸ : ۱۳ ، ۱۲ : ۱۳ ، یسیاہ ۱۱: ۳ ، یرمیاہ ۵: ۲۲، میکاہ ۶ : ۹ ، ملاکی ۳ :۵۔

 

سوال:   ۲ کرنتھیوں ۵: ۱۳ میں ، کیا پولس ذہنی طور پر باولا( بیخود) تھا؟

جواب:   یہ نہیں کہتی کہ پولس بہت بیوقوف( دیوانہ) تھا ۔ پولس یہاں کہہ رہا ہے کہ اگر وہ " اپنے نزدیک" یا " اپنے ذہن سے باہر" ظاہر ہونے کو رکھتا تو یہ تمہارے واسطے تھا ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۵ : ۱۷ میں ، جب کوی مسیح میں نیا مخلوق بنتا ہے ، کیا وہ اپنی نجات کو کھو سکتے ہیں اور "ناموزوں" نیی مخلوق؟

جواب:  خالص مسیحی آپ کی نجات کے کھونےکے امکان سے غیر متفق ہیں ۔ مزید تفصیلات کے لیے افسیوں ۱ : ۱۴ اور عبرانیوں ۶ : ۴ ۔ ۱۰ پر مباحثے کو دیکھیے۔

 

سوال:   ۲ کرنتھیوں ۵ : ۱۷ میں ، کیسے مسیحی مسیح میں نیی مخلوق ہیں َ

جواب:  الف۔ مندرجہ ذیل طریقوں میں :

الف ۱ ۔  حسبِ موقع:  ہمیں ابدی زندگی کے موثر وعدے دیے گیے ہیں ۔

الف ۲۔  تجرباتی طور پر:  ہم اپنے اندر سکونت پذیر روح القدس کو رکھتے ہیں ، اور ہم پاک کیے جانے کے عمل میں ہیں ۔

ب ۔ ہم ابھی تک مندرجہ ذیل طریقوں میں ہیں :

ب۱ ۔  جسمانی طور پر ، ہم ابھی تک ویسے ہی بدن رکھتےہیں ، جو بیماری ، زخم اور موت کے محکوم ہیں ۔

ب۲۔  ہم ابھی تک گناہ آلود فطرت رکھتے ہیں ۔

ب۳ ۔ ہم اب بھی گناہ سرزد کرتے ہیں ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۵ : ۲۱ میں ، کیسے یسوع " گناہ بن " سکتا تھا ، جبکہ یسوع عبرانیوں ۴ : ۱۵ میں گناہ کے بغیر تھا ؟

جواب:  جواب خود ۲ کرنتھیوں ۵ : ۲۱ میں موجود ہے۔ خدا نے اُسے بنایا جو گناہ نہیں رکھتا تھا ہماری قُربانی کے لیے گناہ بنا ۔ ہمارے سارے گناہوں کے قصور کا وزن اُس بے گنا ہ پر لاد دیا گیا تھا۔ مزید تفصیلات کے لیے عبرانیوں ۴ : ۱۵ پر دیکھیے۔

 

سوال:   ۲ کرنتھیوں ۶ : ۱ میں ، کیسے لوگ خدا کے فضل کو بے فایدہ حاصل کر سکتے ہیں ، یا اعمال ۷ : ۵۱ میں روح القدس سے مزاحمت کرتے ہیں ؟

جواب:  تین کُلیدی نقاط قیاس کیے جاتے ہیں :

۱ ۔ خدا ہر چیز اور کوی بھی چیز کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

۲ ۔ اگر وہ چناو کرتا ہے، خدا کے ہاتھ بے فایدہ کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ، رومیوں ۱۰ : ۲۱ ، یہ کہتے ہویے یسعیاہ  ۶۵ : ۲ کا حوالہ دیتی ہے، " میں( خدا) نے سرکش لوگوں کی طرف جو اپنی فکروں کی پیروی میں بُری راہ پر چلتے ہیں ہمیشہ ہاتھ پھیلایے۔"

۳۔ باوجود یہ کہ ، خدا کا کلام کبھی بے انجام نہیں ہوتا ، لیکن خدا کا کلام ہمیشہ پورا ہوتا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے ( یسیاہ ۵۵: ۱۰ ۔ ۱۱)

خلاصہ:  خدا کے احکام کبھی بے فایدہ نہیں ہوتے ہیں ، لیکن خداوند بعض اوقات چیزوں کے انتخاب کرنے کی اجازت دیتا ہے جو بے فایدہ ہوتی ہیں اور خدا کے دل کو توڑ تی ہیں۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۶ : ۸ ۔ ۱۰ میں ، کیا یہ تردیدوں کاانبار دکھای دیتا ہے؟

جواب:  ہاں اور نہ ۔ پولس کے ارادےکا استعمال لغوی طریقہ کارکا مخالف ہے جسے آکسیمورن کہتے ہیں ۔ وہ عارضی ، زمینی حالات کا ابدی اور روحانی حقیقت کے درمیان فرق پر زور دے رہا ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۶ : ۱۴ ۔ ۱۸ اور  افسیوں ۵ : ۷ میں ، بے ایمانوں کے ساتھھ جوءے میں ہونے کے بارے اِس کا کیا مطلب ہے؟

جواب:  یہ بہت فٹ ہوتی ہوی مطابقت ہے۔ بہتر نیاج کے لیے ، دو بیلوں کے اکٹھے وزن اُٹھانے کے لیے ایک جیسی قوت کی ضرورت ہے اور دونوں کو درست طور پر ایک ہی سمت میں کھینچنا ہے۔

مسیحی بھی اِس آیت کو شادی کے لیے لاگو کر سکتے ہیں ، ایک کے بعد ایک تاریخ رکھتے ہوے، اور کاروباری حصہ داری رکھتے ہوے۔ وہ عموماً اِسے ایک کمپنی میں ملازمت پر لاگو کرتے ہوءے یقین نہیں رکھتے، پبلک سٹاک حسہ داری میں ، اور لادین سماجی کلبوں میں ، اور تنظیموں اور سخاوت میں ۔

تصور کیجے اگر ایک مسیحی اور غیر مسیحی شادی شُدہ ہیں ، اور ایک مسیحی قُربانی کے طور پر پیسے کی بڑی مقدار کو ایک مسیحی مشن کو  یا چرچ کو دینا چاہتا ہے۔ وہ کیسے ایک غیر مسیحی کے ساتھھ چل سکے گا؟ اکثر ( اگرچہ ہمیشہ نہیں) غیر ایماندار بیویاں ایمانداروں کو خدا سے دور کینھچ لیتی ہیں ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۷ :۱ میں ، ہم کیسے اپنے آپ کو پاک کر سکتے ہیں ، جبکہ صرف خدا ہمیں پاک کر سکتا ہے؟

جواب: ہمارے اپنے اوپر: ہم نہ ہی اپنے آپ کو پاک کر سکتے ہیں یا سو فیصد مخلصانہ طو ر پر پاک صاف کیے جانے کی خواہش رکھ سکتے ہیں ۔

روح القدس کے ساتھھ:  ہم خدا کی اطاعت اختیار کر سکتے ہیں ، اپنی زندگی کو یسوع کی جانب موڑ سکتے ہیں ، اور خدا کی زندگی کو  رکھتے ہوے اپنی زندگیوں کے ہر اندھیر کونے کوچھوسکتے اور بھر سکتے ہیں ۔ فلپیوں ۲ : ۱۲ ۔ ۱۳ کے لیے اشارے کنایے میں کہتے ہوے ، تمام ایماندار نجات کے لیے کام کرنے کی ذمہ داری کو رکھتے ہیں جو اُن میں ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۷ :۲ میں ، کیسے پولس کہہ سکتا تھا کہ اُس نے " کسی سے بے انصافی نہیں کی " ، کیونکہ اُس کے مسیحی بننے سے پہلے ، پولس نے بہت ساروں کو مارا تھا ؟

جواب:  ۲ کرنتھیوں ۵ : ۱۷ اِس کا جواب دیتی ہے:" اگرکوی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ پرانی چیزیں جا تی رہیں ۔ دیکھو وہ نی ہو گیں۔"

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۷ : ۱۰ میں ، خدا پرستی کے غم اور دُنیا کے غم میں کیا فرق ہے ؟

جواب:  دُنیاوی غم میں پکڑے جانے پر پچھتانا ، اور اپنے لیے اور دوسروں کے نتایج پر رنجیدہ ہونا شامل ہے۔ خدا پرستی کے غم میں شاید یا شاید نہیں پچھلا شامل ہے ، لیکن شامل ہے ۔

۱) گناہ کی سنجیدگی کو سمجھنا اور خدا ہی پہلا شخص تھا جس کے خلاف آپ نے گناہ کیا ( زبور ۵۱ : ۴ )

۲)  خدا کی طرف شکستہ دل ( زبور ۵۱ : ۱۷ ) ، خدا کی رحمانہ معافی اور پاک صاف کیے جانے کے لیے خدا کے سامنے ہمارے چِلانے کیضرورت کی پہچان کو شامل کرتے ہوے۔ ( زبور ۵۱ : ۱ ۔ ۲ )

۳) دوبارہ ایسا کبھی نہ کرنے کی پابندی ( زبور ۵۱:۱ ۔ ۲ )

۴) درست طریقے سے خدا کے ساتھ تعلق کو جاری رکھنا ، اور دوبارہ کبھی اُس گناہ آلود رستے پر نہ جانا ( زبور ۵۱: ۱۳ ۔ ۱۵ ، ۱۸ ) ، اب یہ سمجھنا کہ ہماری قُربانی کی اتنی خوشنودی نہیں جتنی ہماری دل کی فرمانبرداری کی ہے ( زبور ۵۱ : ۱۶ ۔ ۱۷ )

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۷ : ۱۱ میں ،یہ کیوں درست تھا کہ مسیحی " انتقام" کو رکھتے تھے؟

 کو " انتقام" یا" انتقام لینے" کے ekgikusin جواب:   اِس یونانی لفظ

طور پر ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن اِس کا " کیے گیے انصاف کو دیکھنے کی آمادگی"یا " پشت پناہی" کے طور پر بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔

 

سوال:  ۲ کرننتھیوں ۸ : ۹ میں ، کیا کفارہ ہمیں مالی خوشحالی دیتا ہے، جیسے کچھ لفظی ایمان والے اُستاد کہتے ہیں؟

جواب : نہیں ۔ پولس کہتا ہے کہ اگرچہ یسوع دولتمند تھا ( آسمان میں) ،ہماری خاطر وہ غریب بن گیا تاکہ ہم دولتمند بن سکیں ۔ کیسے کوی شخس پریشان ہو سکتا تھا ، ابدی زندگی کی دولت کی اِس زمین کی بے حقیقت مادی دولتمندی حیران کُن ہے ۔ اگر کوی شخص اِس پرزمینی دولت کی ضمانت کے طور پر دعویٰ کرتے ہویے اصرارکرتا ہے، میں قءاس کرتا ہوں کہ کوی شخص معاملے کو بنا سکتا تھا کہ مسیحی اُتے مالی دولتمند ہو سکتے تھے جنتا پولس تھا ۔ ( پولس بالکل بہت زیادہ امیر نہیں تھا ،  زمینی دولت کے اعتبار سے)

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں۸ : ۱۳ ۔ ۱۵ میں ، کیسے مسیحی معاشی(مالی) مساوات کو رکھتے ہویے قیاس کیے جاتے ہیں؟

جواب: جواب کے لیے اعمال ۳ : ۳۲ ۔ ۳۵ پر کی گی بحث کو دیکھیے۔

 

سوال: ۲ کرنتھیوں ۹ : ۶ میں ، اِس بونے کے اصول کا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم خد ا کو پیسے دیتے ہیں ، ہم مالی طورپر کامیاب ہونگے ؟

جواب: نہیں ۔ بونا اور کاٹنا ضروری طور پر ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ بد قسمتی ہو گی کہ اگر اِس زندگی میں خدا کو دینا ہمیں اِس زندگی میں اُس کا صِلہ دیتا ہے اور آسمان پر نہیں ۔ صلہ جو مسیحی آسمان میں حاصل کریں گے وہ زمین پر اِس زندگی میں بہت تھوڑا صلہ حاصل کرتے ہیں۔

یہ افسوسناک ہے کہ بہت سے صرف خدا کے ساتھ اِس لیے تعلق کو دیکھتے ہیں جسے وہ زمین پر اِس زندگی میں دیکھتے ہیں ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۹ : ۸ ، کیسے خداوند ہر طرح کی اچھای،بکثرت فضل کرنتھیوں اور ہمارے لیے کر سکتا ہے؟

جواب:  یہاں خدا کے حصےپر کوی تنگی نہیں ہے خداوند ہر اُس چیز کو دے رہا ہے جس کہ ہمیں اِس زندگی میں ضرورت ہوتی ہے۔ خدا وندشاید  ہمیں ہمیشہ وہ نہ دے جس کی ہم خواہش کرتے ہیں ، لیکن اگر ہمارے پاس اُس چیزکی قلت ہےجسکی ہمیں ضرورت ہے، یہ خدا کا قصور نہیں ہے بلکہ انسان کا ہے۔ ہمیں یہ یقین کرنا چاہیے ہم اپنی ذمہ داری پر رہ رہے ہیں خدا ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کے لیے دیتا ہےجسکی اُنہیں ضرورت ہوتی ہے ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۹ : ۱۵ میں ، کیسے یہ تحفہ ناقابلِ بیاں یا مبہم ہے ، جبکہ پولس اِس بارے بہت زیادہ بات کر سکتا تھا ؟

پولس کے لیے یا کسی اور کے لیے زمین پر زندگی دا دورانیہ اِتنا زیادہ نہیں ہے ، مکمل طور پر اور تشریحی طور پر اُس عظمت کو بیان کرنے کے لیے جسے خدا نے ہمارے لیے کیا جب یسوع صلیب پر مرا۔ لیکن ہم کوشش کر سکتے ہیں ۔ مسیحی ہوتے ہوے ہم اپنی پوری زندگی کو " خدا کا اُس ناقابلِ بیاں تحفے کے لیے شُکرگزاری کرتے ہوے بسر کرنا چاہتے ہیں ۔

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۰: ۱۲ میں ، کیسے ہمیں اپنے آپ کا اپنے ساتھ موازنہ نہیں کرنا ہے، جبکہ ہم ایسا گلتیوں ۶: ۴ ۔ ۵ میں کرتے ہیں ؟

جواب: ۲ کرنتھیوں ۱۰ : ۱۲ اُس ایک پر تنقید کرتی ہے جو اپنے آپ کی اپنے ساتھھ نسبت رکھتا ہے ۔ اگر آپ صرف اپنا موازنہ اپنے ساتھ کرتے ہیں ، پھر میں قیاس کر تا ہوں کہ آپ ہمیشہ پہلی جگہ پر ہونگے ! گلتیوں ۶ : ۴ ۔۵ کہتی ہے ہمیں اپنا دوسروں کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا ہے، اور ہمیں اپنے اعمال کی آزمایش کرنی ہے ، لیکن یہ اپنی نسبت اپنے ساتھ رکھنے کے لیے نہیں کہتی۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۰ : ۱۳ ۔ ۱۵ میں ، جبکہ پولس نے بھی فخر نہیں کیا سواے گلتیوں۶ : ۱۴ میں صلیب پر، پولو یہاں کیا کر رہا تھا اور ۲ کرنتھیوں ۱۱ : ۱۸۔ ۱۲ : ۶؟

جواب:   جواب میں چار جواب قیاس کیے جاتے ہیں:

۱ ۔ ۲ کرنتھیوں ۱۰ : ۱۳ ۔ ۱۵ کہتی ہے کہ پولس اپنی مناسب حد سے زیادہ فخر نہیں کرے گا۔

۲ ۔  جبکہ یہ پولس کا مناسب رُتبہ تھا ( ہمارا نہیں) کہ وہ رسول کے طور پر اپنے ذاتی نیکنامی کو قاءم کرتا ہے، پولس ایسا کرنے کے لیے نا رضا مند تھا ، جیسے ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۱۱ دکھاتی ہے۔

۳ ۔ ۲ کرنتھیوں ۱۱ : ۱۸ ۔۱۲ : ۶ میں ، پولس خارجی طور پر کرنتھیوں کو ایک خاص آدمی کے بارے بتا رہا تھا ۔ اگر آپ دھیان سے پڑھتے ہیں ، آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ آدمی خود پولس ہے۔

۴۔ پولس غالباً ایسا کرنے کے لیے رضا مند نہیں تھا ، کیونکہ اِس طرح اُس کی نیک نامی کو قایم کرتے ہوے ، کچھ لوگ دوروں کے لیے فخر کو اِس مثال کے اندر دیکھھ سکتے ہیں ، اگر پولس نے ۲ کرنتھیوں ۱۰ : ۱۷ ۔۱۸ میں بھی نہیں لکھا تھا ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۰ : ۱۳ ۔ ۱۵ میں ، کیا صلیب شیطان کی فتح تھی اور خدا کی نہیں ، جیسے ریورنڈ موُن کا ہم خیال " چرچ" دعویٰ کرتا ہے؟ ( الہی اصول پانچویں ایڈیشن( ۱۹۷۷) کے لیے گھر پر مطالعاتی کورس صفحہ ۳۰ الہی اصول صفحہ ۱۴۳۔ گفتگو صفحہ ۱۶۱)

جواب : یہ براہِ راست تردید ہے نا صرف ۲ کرنتھیوں ۱۰ : ۱۳ ۔ ۱۵ میں پولس کے رویہ سے ، بلکہ کُلسیوں ۱ : ۲۰ اور کُلسیو ۲ : ۱۳ ۔ ۱۵ سے ۔ گلتیوں ۶ : ۱۴ کہتی ہے ،" لیکن خدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سوا اپنے خداوند یسوع مسیح کی صلیب کے جس سے دُنیا میرے اعتبار سے مصلوب ہوی اور میں دُنیا کے اعتبار سے۔"

فلپیوں ۳: ۱۸ ۔ ۱۹ میں  پولس فریاد کرتا ہے کہ بہت سارے مسیح کی صلین کے دُشمنوں کے طورپر زندہ ہیں ۔ پولس اور ابتدای مسیحیوں نے اپنے آپ کو مسیح کی صلیب کا دُشمن قیاس نہ کیا ، جیسے کوی شخص توقع کرے گا کہ اگر اُنہوں نے ایسا سوچا کہ یہ شیطان کی فتح تھی ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۱ : ۴ میں ، دوسرے یسوع کون ہیں ؟

جواب:  یہاں بہت سے جھوٹے یسوع ہیں ، لیکن صرف ایک حقیقی یسوع۔ اگر ایک شخص یسوع کا یقین کرنے اور فرمانبدار ہونےکا دعویٰ کرتا ہے ، یہ بہت اچھا نہیں ہے ۔ آپ کو بایبل کے حقیقی یسوع پر اایمان رکھنا اور فرمانبردار بننا ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۱ : ۳۲ میں ، کیا یہاں اسوریہ کے گورنر ، اَرتاس کے لیے  زاید بایبل کی گواہی ہے؟

جواب :  نہیں ۔ ہم نہیں جانتے کہ اُس وقت اسوریہ کے گورنر کون تھے ایسا اعمال ۹ : ۲۴ ، ۲۵ میں رونما ہوا ۔ جبکہ پولس اعمال  ۱۷ : ۲۸ میں اَرتاس سے حوالہ پیش کرتا ہے، یہ  فرق ارتاس تھا ، جو ۲۴۰ قبل از مسیح میں مرا۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۲ میں ، یہ ۱۴ سال پہلے کب رونما ہوا؟

جواب:  ایسا غالبا  رونما ہوا جب پولس عرب میں تھا ، تقریبا ۳۴ ۔ ۳۶ عیسوی میں اُس کی گفتگو کے درمیان۔ اور اُس کے پہلے مشنری سفر میں ، جو  ۴۶ ۔ ۴۷ عیسوی میں شروع ہوا۔

 

سوال:  کیا ۲ کرنتھیوں۱۲ : ۲ تیسرے آسمان کو دکھاتی ہے ، مورمن تعلیم کے ساتھ پہچان رکھتے ہوے؟

جواب :  نہیں ۔  پولس کا تیسرے آسمان میں پکڑے جانا مورمن کے تصور میں اِسے جاءز قرار نہیں دیا جاتا ، جو کہ انسویں صدی کے لیے مکمل طور پر اجنبی تھا ۔ خاص طور پر ، مورمن ، ٹیلی سٹیل آسمان "جسے زمین سے تھوڑاسا بد ترین کہا گیا ہے اور جہاں بہت سے لوگ جاتے ہیں ، یہ مسیحی یا یہودی کے لیے بالکل آسمان کی مانند نہیں ہو گا۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۷ میں ، کیوں پولس کو کانٹا چبھویا گیا تھا ؟

جواب:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۷ میں پولس ایک وجہ کو جانتا تھایہ کہ وہ پھول (مغرور) نہ جاے۔ اگر خدا اضافی وجوہات رکھتا ، وہ نہ کہتا۔

بعض اوقات مسیحی صرف ایک چیز رکھتے ہیں ، اپنی آپ میں شخصی وصف ، ذاتی موجودگی ، حالات باتے ہوے۔ اپنی بیوی ، یا دوسروں کے لیے ، جسے وہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، اور خدا ایسا نہیں کرتا ہے ۔ جب خدا داعا میں ہماری درخواستوں کی طرف نہیںا ہے ، وہ ہمیں ہمیشہ نہیں بتاتا کہ کیوں ۔ وجہ کوءی بھی ہو ، خداوند ہم سے نہیں چاہتا کہ ہم ا،س زندگی میں مطمین ہوں جسے ہم اپنی بے تاب آرزوں کے لیے کھو دیتے ہیں ۔ یاد رکھیے ، کچھ لوگ خدا کے لیے استعمال کے جانے کے لیے بہت بڑے ( اپنی نظروں میں ) ہوتے ہیں ، لءکن کوءی بھی اتنا چھوٹا نہیں ہو سکتا ۔ جواب کو اگلے دو سوالات میں بھی دیکھیے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲: ۷ میں ، کانٹا کیا تھا ؟ جسمانی تکلیف، موجودگی ، ہم جنس پرستی ، کوی اور بُری آزمایش ، یا دباو؟

جواب:  اقتباس ایسا نہیں کہا ، غالباً کیونکہ ہمیں جاننے کی ضرورت نہیں ۔ جب لوگ پُر تکبر طور پر کہتے ہیں، یہ ایک موثر چیز تھی ، اِس بارے پولس کی بجاے دوسرے لوگوں کو مزید بتایا جا سکتا ہے۔

بہت سے مسیحی کانٹے کو رکھتے ہیں ، نمبر ایک چیز کے ساتھ وہ جدوجہد کر رہے ہیں یا قبول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اگر آپ کانٹے کو رکھتے ہیں ، یاد رکھیے کہ پولس بھی ایک رکھتا تھا ، اور خدا اب بھی پولس کو زور آور طریقے سے استعمال کر سکتا تھا ، جتنا زیادہ پولس نے خدا کی قدرت پر انحصار کیا تھا ، اور اپنے آپ پر نہیں ۔ آخر کار ، اگر یسو ع دوسرے مسیحیوں کو کانٹوں کے ساتھ قبول کر سکتا ہے ، پھر میں ہو سکتا ہوں ( رومیوں ۱۵: ۷ دیکھیے۔)

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۸ میں ، جبکہ پولس فخرنہ کیے جانے کی اہمیت کو سمجھا ، کیوں خدا نے پولس سے کانٹے کو نہ لیا پولس کے اِس باے دعا کرنے کے بعد ؟

جواب: یہاں پیغام نہ سُننتے ہوے مغرور نہ ہونے اور کسی چیز کو رکھنے کے درمیان بہت بڑا فرق ہےجوضمانت دیتا ہے کہ آپ کو اِس لڑای(جنگ) کو نہیں لڑنا ہے۔ پچھلے دو سوالات کے لیے جواب کو بھی دیکھیے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۹ ۔ ۱۰ میں ، جب میں کمزور ہوتا ہو ، اُسی وقت میں زور آور ہوتا ہوں کا کیا مطلب ہے؟

جواب:  جب آپ اپنی پشت پر ہموار ہوتے ہیں  ، اوپر دیکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی ذاتی کوتاہی میں بہت آگاہ ہوتے ہیں ، یہ اکثر ہے کہ ہم مضبوط طور پر خدا پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہمار ی بہترین کوششیں ، ہماری اپنی طاقت میں ، اِن کا اُس کے ساتھھ کچھ مقابلہ نہیں جسے خدا ہمارے ذریعے کر سکتا ہے لاپرواہی سے تشریح ہڈسن ٹیلور، جب ہم اپنے ساری منصوبوں کو خدا کے ہم میں کام کرنے کے بغیر پورا کر سکتے ہیں ، پھر ہمارے منصوبے بہت بڑے نہیں ہو سکتے ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۱۰ میں ، کیا پولس یہاں اجنبی تھا ؟

جواب:  بالکل نہیں ۔ بلکہ ، پولس نے عقلمندانہ طور پر سمجھا کہ چیزیں جو اُسے دُنیاوی نقطہ نظر سے تکلیف دینے کا سبب بنیں وہ ایسے اوزار تھے جسے خدا نے پولس کو مسیح میں مضبوط رکھنے کے لیے استعمال کیا۔

مسیحیوں کے طور پر ، یہ صرف فطرتی ہے کہ اپنے بچوں اور دوسرے عزیزوں کو تمام زندگی کی آزمایشوں اور طوفانوں سے پناہ دینا چاہتا ہے۔ ہم یہ کبھی مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ کیسے خداوند اُن کی زندگی میں کام کر سکتا ہے ، لیکن اگر ہم ہر چیز موثر طور پر کرتے ہیں اُن کے بڑھتے ہوے تجربےکے موقع کی حد بندی کرنا، پھر ہم اپنے بچوں کا ساتھ نہیں دے رہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیو ں ۱۲ : ۱۲ میں ، رسول ہونے کی کیا علامتیں تھیں؟

جواب:  جبکہ دوسرے نبوت کر سکتے اور معجزے بھی کر سکتے ہیں ، رسول اِن تحاءف کو بہت شاندار حد تک رکھتے تھے ، جیسے اعمال ۲ : ۴۲ ، ۳ : ۳ ۔ ۹ ، ۵ : ۴ ۔ ۱۲ ، ۱۴ ۔ ۱۶ دکھاتی ہے۔

 

سوال:  کیا پولس کرنتھیوں کے لیے اپنے آپ کو خرچ کرتا ہے خوشی سے کیتھولک تعلیم کو بیان کرتے ہوے؟

جواب :  نہیں ۔ پولس سادہ طرح کہہ رہا ہے کہ وہ خوشی سے " ہر چیز خرچ کرنا چاہتا ہے جسے وہ رکھتا ہے" ( نقدی سے اور مادی طور پر ) اور کرنتھیوں ک لیے " اپنے آپ کو خرچ " کرتے ہوے ( وقت اور مادی زندگی کو ) ۔

اگر اِ س نے نفس پروری کی تعلیم کو ثابت کیا ، پھر تب پولس ابھی مُردہ نہیں تھا ، ایک شخص زمین پر دوسرے لوگوں کے لیے نفس پروری کو مہیا کر سکتا تھا ۔

 

سوال:   ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۱۶ میں ، پولس کیسے مکار بنا تھا ؟

جواب:  پولس یہاں طنز کرنے والا بنا تھا اور ۲ کرنتھےوں ۱۲ : ۱۳ میں ۔ پولس ظاہری طور پر مکار اور اُن سے فایدہ حاصل کرنے کے لیے قصور وار ٹھہرا جب سچای کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اُن سے راست طور پر نقدی مدد کے لیے پوچھ سکتا تھا لیکن اُس نے پوچھنے کے لیے انتخاب نہ کیا ۔ مسیحی کے طور پر ، بعض اوقات ہم دوسروں کے لیے زاید کوشش کر سکتے ہیں ، صرف اِسے واپس اپنے چہرے پر پُر تجسس لوگوں سے رکھتے ہوے۔ ہمیں اُن سے محبت کرنا جاری رکھنا ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۲۰ میں ، بد گوی اور غیبت کیا ہیں اور کیوں وہ غلط ہیں ؟

جواب:  بد گوی کسی کو کسی کے بارے کچھ بتانا جسے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اگر یہ سچ ہے۔ بد گوی اعتماد کو کو ظاہرکرنا ہے ، جیسے امثال ۱۱ : ۱۳ ، ۱۶ : ۲۸ اور ۲۰ : ۱۹ کہتی ہے۔ امثال ۱۸ : ۸ ، ۲۶ : ۲۲ کے مطابق بد گوی ایک آزمایش ہے ، جیسے کھانے والے چیزوں انتخاب کی مانند۔

رومیوں ۱ : ۲۹ ، ۱ تیمتھیس ۵ : ۱۳ میں بد گو لوگ نوعی حثیت سے ملامت کیےجاتے ہیں ۔

بہر حال ، مسلنے والے نہ بنیں جب لوگ حسد کے ساتھ آپ کے بارے بد گوی کرتے ہیں ، اُنہوں نے یوحنا ۳ : ۱۰ میں یوحنا رسول کے ساتھ ایسا ہی کیا ۔

غیبت  قریبی طر ر پر اِس سے تعلق رکھتی ہے، یہ دوسروں کے بارے منفی چیزیں کہنا ہے جو خواہ جانتے ہوے جھوٹی ، یا دوسرے بولنے والے پرکھنے کے لیے تکلیف دیتے ہیں اگر وہ سچے یا جھوٹے تھے ۔ غیبت کسی کے ےقےن کرنے سے مختلف ہے جو سچ کہہ رہے ہیں اور غلطی پر ہیں ۔ خوشامد میں دوسروں کے بارے جھوٹی مثبت چیزیں کہنا شامل ہے ۔ بایبل ہمیں صرف اِس لیے کبھی نہیں بتاتی کہ ہمیں غیب والی چیزوں کو جنہیں کم کہتے ہیں کم کرنا ہے ، بلکہ ہمیں اپنی زبان سے کبھی کوءی بہتان نہیں باندھنا ہے جیسے زبور ۱۵ : ۳ ، طیطس ۳ : ۲ اور یعقوب ۴ : ۱۱ دکھاتی ہے۔ مکاشفہ ۱۳ : ۶ میں غیبت حیوان کا پسندیدہ ہتھیار ہے۔ اِس پر حیران نہ ہوں جب لوگ آپ کی غیبت کرتے ہیں ، یسوع اور ایمانداروں پر زبور ۳۸ : ۲۰ ، ۵۴ : ۵ ، ۱۰ ، ۱۱ : ۲۳ ، ۱ پطرس ۳ : ۱۶ میں غیبت کی گی تھی۔ بہر حال ، جبکہ دوسرے مسیحیوں پر غیبت کر یں گے ، مسیحی بیوہ کو اور دوسری مسیحیوں کو غیبت کے لیے معقو دینے کی ضرورت نہیں ، جیسے تیمتیھس ۵ : ۱۴ دکھاتی ہے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۲ : ۲۱ میں ، پولس کیسے کرنتھیوں کے سامنے عاجز بن سکتا تھا ؟

جواب:  اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کے سامنے مغرور تھا ۔ بلکہ ، پولس بیمار ہوتے ہوے اُن کی عزت میں عاجز بن سکتا تھا ، جیسے پولس گلتیہ میں بیمار ہوا ( گلتیوں ۴ : ۱۳ ) ۔ یہ ان کے لیے عجیب دکھای دے سکتا تھا کہ آدمی جس بارے اُنہوں نے سُنا کی وہ دوسروں کو شفا دیتا تھا خود بیمار ہے ۔ درحقیقت ، پولس کی بیماری نے دکھایا تھا کہ شفا پولس کی طاقت سے نہیں ہوتی تھی ، بلکہ خدا کی قدرت سے ہوتی تھی ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۳ :۲ اور ۱ کرنتھیوں ۴ : ۲۱ میں ، کیا ہمیں کبھی لوگوں کو دھمکانا چاہیے، اپنے ساتھی مسیحیو ں کو شامل کرتے ہوے ، جیسے پولس نے کیا ؟

جواب:  یہاں تین طریقوں میں لوگوں کو خبرداری کرنے کے لیے مناسب وقت اور جگہ ہے۔

۱۔ ہمیں دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری میں کبھی ناکام نہیں ہونا چاہیےاُس کے لیے جو خدا لوگوں کی سر پر منڈلاتی قسمت کے بارے کہہ چُکا ہے اگر وہ مسیح کی جانب اپنی زندگیاں موڑنے سے انکار کرتے ہیں ۔

۲ ۔ جیسے عقلمند والدین اصولوں کو ترتیب دیتے ہیں اور اپنے بچوں کے نتایج کے لیے، اور مستند منظم کرنے والے اپنے ملازموں کے لیے مقاصد، محرک ترتیب دیتے ہیں، وہ جو چرچ کی راہنمای کرتے ہیں اُنہیں واضح کرنا چاہے جس کی وہ اُن لوگوں سے جن کے ساتھھ وہ کام کرتے ہیں توقع رکھتے ہیں ۔

۳ ۔  یہاں تک کہ مزید اِس طرح، ایک رسول کے طور پر  ، پولس حکم دینے، خبردار کرنے ، اور دوسرے مسیحیوں کو ملامت کرنے کا خاص اختیار رکھتا تھا ۔

بد قسمتی سے ، کچھ مسیحی کلیسیایں ایسے راہنماءوں کو رکھ سکتی ہیں جو لوگوں کی خدا کی طرف رہنمای نہیں کرتے ہیں ، اور ارکان جو اُن کی پیروی نہیں کریں گے یہاں تک کی اگر اُنہوں نے کیا ۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۳ : ۶ میں ، کیا ہم جان سکتے ہیں کہ اگر کوی اور شخص نامقبول ہے؟

جواب:  لفظ " نامقبول کنگ جیمس ورژن میں "نالایق قرار دینا" یا " ناپسند" ( خدا کی طرف سے) بہتر ترجمہ ہے۔ مزید معلومات کے لیے اگلے سوال کو بھی دیکھیے۔

 

سوال:  ۲ کرنتھیوں ۱۳ : ۶ میں ، پولس نے کیوں کہا کہ ، " لیکن میں اُمید کرتا ہوں کہ تۃم معلوم کر لو گے کہ ہم تو نا مقبول نہیں"، جبکہ ہم حقیقت میں نہیں جانتے کہ اگر دوسرے نجات یافتہ ہیں ؟

جواب:  پولس کلام کی روشنی میں اپنی زندگیوں کے آزماے جانے کے بارے بات کرتا ہے ۔ جبکہ کوی مسیحی اِس زمین پر بے گناہ نہ ہو گا ، خالص مسیحی آہستہ آہستہ مسیح کی پسند یدگی کی جانب قریب قریب آ رہے ہیں ۔ پولس کا مطلب یہ امتحان ہے۔

 

سوال:  کیا ۲ کرنتھیوں ۱۳ : ۱۴ تثلیث کو سچ ثابت کرتا ہے ؟

جواب: یہ اِس مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تثلیث سچ ہے، لیکن یہ مسلمہ طور پر اِسے ثابت نہیں کرتی ۔ باپ ، بیٹے اور روح القدس کی " تثلیث" اِس آیت اور ا،س کے ساتھ متی ۳ : ۱۶ ۔ ۱۷، ۲۸ : ۱۹ ، یوحنا ۱۵ : ۲۶ ، رومیوں ۱۵ : ۱۶ ، ۱ کرنتھیوں ۱۲ : ۴ ۔ ۶ ، افسیوں ۲ : ۱۸ ، ۳ : ۱۴ ۔ ۱۷ ، ۱ تھسلنکیوں ۱ : ۳ ۔ ۵ ، عبرانیوں ۹ : ۱۴ ، یہودہ ۲۰ ، ۲۱ ، ۲ تھسلینکیوں ۲ : ۱۳ ۔ ۱۴ ، ۱ پطرس ۱ : ۲ ، اور مکاشفہ ۴ : ۸ سے ثابت کیا گیا ہے۔

تین ہونا تثلیث کی تعلیم کا حصہ ہے ، لیکن یہاں تک کہ مورمن تثلیث پر ایمان رکھنے کے بغیر تین اشخاص پر  ایمان رکھتے ہیں ۔ ( نوٹ کیجیے کہ جبکہ ایل ڈی ایس چرچ قانونی طور پر تثلیث کا انکاری ہے، میں بہت سے مورمن سے مِلا ہوں جو یہ کہتے ہوے مخلصانہ غلطی کرتے ہیں کہ تثلیث پر یقین رکھتے ہیں ۔ وہ ایسا اِس لیے کہتے ہیں کیونکہ تثلیث کی تعلیم کو نہیں سمجھتے ہیں ، اور وہ سادہ طرح یقین رکھتے ہیں کہ اِس کا مطلب تینوں محبت ، روح اور مقصد میں متحد ( اکٹھے) ہیں )تثلیث کی تعلیم کی وضاحت کے لیے ، متی ۲۸ : ۱۹ پر کی گی بحث کو دیکھیے۔

       

سوال:  ۲ کرنتھیوں میں ، ہم کیسی جانتے ہیں کہ کلام کوآج مناسب طریقے محفوظ رکھا گیا جسے خالص طور پر لکھا گیا تھا ؟

جواب:  ہمارے پاس کم از کم تین اچھی وجو ہات ہیں :

۱۔ خدا نے یسعیا ۵۵ : ۱۰۔۱۱ ، یسعیاہ ۵۹ : ۲۱ ، یسعیاہ ۴۰ : ۶ ۔ ۸ ، ۱ پطرس ۱ : ۲۴ ۔ ۲۵ ، متی ۲۴ : ۳۵ میں اپنے کلام کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا ۔

۲۔  ابتدای کلیسیا کی گواہی ۔ یہاں چند لکھاری ہیں جو ۲ کرنتھیوں میں آیات کا حوالہ پیش کر تے ہیں ۔ ڈیوگنٹس کو خط  ۱۳۰ عیسوی۔ آیرینس ۱۸۲۔ ۱۸۸ عیسوی ۔

 ۲ کرنتھیوں پر آگینسٹ ہریسس کتاب ۲ ، ۲۲ : ۷ کہتی ہے ، "اِس کے لیے یہاں روحانی مخلوقات ہیں ، تمام اقتباسات بُلند آواز سے اعلان کر تے ہیں ، اور پولس تاکید سے تصدیق کرتا ہے کہ یہاں روحانی چیزیں ہیں جب وہ مشہتر کرتا ہے کہ وہ تیسرے آسمان پر تھاما گیا تھا ،۔۔۔"

 ٹرٹولین ۲۰۰۔ ۲۴۰ عیسوی نے کہا ۲ کرنتھیوں پولس کے وسیلے تھا بدن کی قیامت پر ۔ باب ۴۰۔ کلیمنٹ الیگزنڈیا نے لکھا ۱۹۳ ۲۱۷ ، ۲۲۰ عیسوی

آریجن  ۲۲۵ ۔ ۲۵۴ عیسوی

اتھینسس ۳۲۶ ۔ ۳۷۳ عیسوی

سایپرین ۲۴۸ سے اِس شہادت کے لیے ۲۵۸ عیسوی میں کارتھیج کا بشپ تھا وہ " کوتھیوں کے دوسرے خط میں سے حوالہ" دیتا ہے۔ ٹریٹین ۱۲ کی تیسری کتاب  ۲میں سے۔

 

After Nicea

( ۳۶۷ عیسوی) جشن کے خط  ۳۹ صفحہ ۵۵۲ میں نیے Athanasius

عہد نامے کی کتابوں کی فہرست دیتا ہے۔

 

John Chrysostom

  ( ۳۹۲۔ ۴۰۷ عیسوی) نے ۲ کرنتھیوں پر ۳۰ واعظ لکھے

وہ کہتا ہے کہ ۲ کرنتھیوں پولس کی وجہ سے تھا۔

 

The Muratorian Canon

 

  ( ۱۷۰ عیسوی) وہ پولس کے کرنتھیوں کو لکھے

گے دو خطوط کا ذکر کرتا ہے ، اِس کے ساتھ ساتھ پولس کے دوسرے ۱۱ خطوط کا ۔ ہم اُن سب کوآج بھی رکھتے ہیں ۔

بنیادی رسم الخط ہم ۲ کرنتھیوں کو رکھتے ہیں یہ دکھانے کے لیے کہ یہاں چھوٹے رسم الخط کی کمی بیشی ہے، لیکن الہیاتی غلطیاں صفر ہیں ۔

صفحہ ۴۶  چیسٹر بیٹی سیکنڈ  ۱۰۰۔ ۱۵۰ عیسوی ۲ کرنتھیوں ۱ :۱ ۔ ۱۱ : ۱۰ ، ۱۱ : ۱۲ ۔ ۲۱ ، ۱۱ : ۲۳ ۔ ۱۳ : ۱۳ اور پولس کے خطوط اور عبرانیوں کے دوسرے خطوط ۔ خوبی اور منظوم مکالمہ دکھاتا ہے کہ کسی پیشہ ور کاتب نے اِس لکھا تھا۔

 صفحہ ۳۴ ۔ ۱ کرنتھیوں ۱۶ : ۴ ۔ ۷ ، ۱۰ ، ۲ کرنتھیوں ۵ : ۱۸ ۔ ۲۱ ، ۱۰ : ۱۳ ۔ ۱۴ ، ۱۱ : ۲ ، ۴ ، ۶ ۔ ۷ ( ساتویں صدی ) الیگزنڈرین عبارت۔

 

  ۳۲۵۔ ۳۵۰ عیسویVaticanus

 

  ۳۴۰۔ ۳۵۰ عیسوی Sinaiticus

 

  تیسری ، چوتھی صدیBohairic Coptic

 

  تیسری چوتھی صدی Sahidic Coptic

 

   ۴۹۳ ۔ ۵۵۵ عیسوی Gothic

 

   پانچویں صدی Ephraemi Rescriptus